انسانی زندگی نشیب و فراز کا مجموعہ ہے، جہاں خوشیوں کے ساتھ ساتھ آزمائشیں بھی قدم قدم پر اس کا امتحان لیتی ہیں۔ ایک عام انسان اور ایک صاحب ایمان کے رد عمل میں بنیادی فرق یہی ہے کہ مومن مشکلات کے طوفان میں اپنا توازن نہیں کھوتا؛ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو مزید نکھارنے اور اس کے ایمان کو جلا بخشنے کا ایک موقع ہوتی ہیں۔
جب ایک مومن کا سامنا کٹھن حالات سے ہوتا ہے، تو وہ صبر، دعا اور توکل جیسے سنہرے اصولوں پر کاربند رہتا ہے جو اسے نہ صرف ان حالات سے نکالتے ہیں بلکہ اسے خالق کائنات کے مزید قریب کر دیتے ہیں۔
آزمائش کے وقت مؤمن کا طرز عمل کیا ہونا چاہیے اور کن اعمال کے ذریعے وہ اللہ کی مدد اور رحمت کا حق دار بنتا ہے، ذیل میں مؤمن کے اسی کردار کو نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
1- مصیبت میں اللہ کو پکارنا اور نیک اعمال کو وسیلہ بنانا قبولیتِ دعا اور نجات کا مؤثر ذریعہ ہے۔1
2- صبر اور نماز مؤمن کو مضبوط اور ثابت قدم رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی خاص مدد، نصرت اور قلبی سکون عطا کرتے ہیں۔2
3- تقویٰ اور کامل توکل دل میں اللہ کا خوف اور بھروسہ پیدا کرتے ہیں جو بند دروازوں میں بھی غیبی دروازے کھول دیتا ہے۔3
4- توبہ اور استغفار گناہوں کی معافی، مصیبتوں سے نجات اور اللہ کی رحمت حاصل کرنے کا طاقتور ذریعہ ہیں۔4
5- مسنون اذکار دل کو اطمینان، فکر کو توازن اور روح کو قوت بخشتے ہیں، اور مؤمن کو آزمائش میں ثابت قدم رکھتے ہیں۔5
حاصلِ کلام یہ ہے کہ ایک مؤمن مصیبت کے وقت گھبرانے یا شکوہ کرنے کے بجائے صبر، دعا اور بہترین تدبیر کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ آزمائش کا یہ دور عارضی ہے اور اس پر ثابت قدم رہنے کا اجر دائمی ہے۔ درحقیقت، ایمان کا تقاضا ہی یہ ہے کہ کڑے حالات کو اللہ کی طرف سے ایک پیغام سمجھا جائے، جو بندے کے تزکیۂ نفس اور اسے اللہ کے قرب کی بلندیوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ جو شخص ان قرآنی و نبوی اصولوں کو اپنا لیتا ہے، اس کی دنیاوی پریشانیاں، آسائشوں کا روپ دھار لیتی ہیں۔
اللہ۔ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے، آمین
________________________________________________________________________________-
