جب لوگ کسی ظالم کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟”وَاتَّقُوا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا مِنْکُمْ خَاصَّۃً” کی آیت کی روشنی میں کیا سمجھایا ہے؟ کیا اللہ کا عذاب صرف ظلم کرنے والوں پر ہی آتا ہے؟معاشرے میں ظلم پر خاموش رہنے والے لوگوں کی ذہنیت کیا ہوتی ہے، اور اس کا انجام کیا ہوتا ہے؟کیا ہم صرف دوسروں کو ظالم سمجھتے ہیں؟قیامت کے دن اعضاء کی گواہی کا تصور کیا ہے؟انفرادی اصلاح کا معاشرتی انصاف میں کیا کردار ہے؟اجتماعی عذاب کی وجہ کیا ہے؟
اسی سے متعلقہ
دینِ اسلام کی معرفت اور اس پر عمل پیرا ہونا
دینِ اسلام کی معرفت اور اس پر عمل پیرا ہونا
غزوہ بدر کا واقعہ اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق
مسلمان مدینہ سے کس نیت سے نکلے تھے؟ کیا ان کا ارادہ ابتدا ہی سے جنگ کا تھا یا وہ ابو سفیان کے...
اب پاکستان چھوڑ دیں!؟
کفار ممالک کی ظاہری ترقی اور دنیا داری پر بحیثیتِ مسلمان ہمارا کیا رویہ ہو؟ موجودہ حالات میں...
ھم و حزن اور مستقبل کا خوف
اللہ کے نبی ﷺ اکثر اللہ تعالیٰ سے مختلف شرور و فتن سے پناہ مانگا کرتے تھے، اور ان میں سے ایک دعا یہ...
فضائل عشرہ ذوالحج کا مستحق کون
قرآن کریم کی سورۃ الفجر کی ابتدائی آیت “والفجر” میں اللہ تعالیٰ نے “فجر” کی...
اللہ پر حسنِ ظن اور توکل
انسان اللہ سے دعا مانگتے ہوئے بدگمانی اور بے یقینی کا شکار کیوں ہو جاتا ہے؟ اللہ سے اچھا گمان (حسنِ...
مصنف/ مقرر کے بارے میں
الشیخ عبداللہ شمیم حفظہ اللہ
آپ نے کراچی کے معروف دینی ادارہ المعہد السلفی سے علوم اسلامی کی تعلیم حاصل کی اورالشھادۃ العالیہ کی سند حاصل کی، بعد ازاں اسی ادارہ میں بحیثیت مدرس خدمات دین میں مصروف ہیں، آپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں گریجویشن کیا، اب دعوت کی نشر و اشاعت کے حوالےسے سرگرم عمل ہیں اور المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی میں سینئر ریسرچ اسکالر اور الھجرہ آن لائن انسٹیٹیوٹ میں بحیثیت مدرس کام کررہے ہیں۔
