جب لوگ کسی ظالم کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟”وَاتَّقُوا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا مِنْکُمْ خَاصَّۃً” کی آیت کی روشنی میں کیا سمجھایا ہے؟ کیا اللہ کا عذاب صرف ظلم کرنے والوں پر ہی آتا ہے؟معاشرے میں ظلم پر خاموش رہنے والے لوگوں کی ذہنیت کیا ہوتی ہے، اور اس کا انجام کیا ہوتا ہے؟کیا ہم صرف دوسروں کو ظالم سمجھتے ہیں؟قیامت کے دن اعضاء کی گواہی کا تصور کیا ہے؟انفرادی اصلاح کا معاشرتی انصاف میں کیا کردار ہے؟اجتماعی عذاب کی وجہ کیا ہے؟
اسی سے متعلقہ
سیرتِ نبی ﷺ میں یتیمی کا سبق
اللہ کے نبی ﷺ کی پیدائش یتیمی کی حالت میں ہوئی، اور ابھی بچپن ہی میں والدہ ماجدہ بھی وفات پا گئیں،...
حقوقُ العباد کی اہمیت
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان بہت سے حقوق مقرر فرمائے ہیں، جن کی ادائیگی نہ صرف دین کا حصہ ہے...
اللہ تعالیٰ آزمائش میں کیسے ڈالتا ہے
اللہ تعالیٰ آزمائش میں کیسے ڈالتا ہے؟
قرآن سے ہمارا تعلق: تدبر اور عمل
کیا ہمارا قرآن مجید کے ساتھ تعلق صرف تلاوت تک محدود ہے یا تدبر اور عمل تک بھی ہے؟قرآن مجید کا اصل...
مصیبتوں پر صبر اور استقامت
زندگی میں آزمائشیں ایمان کا حصہ ہیں۔ جو بندہ صبر اور استقامت سے کام لیتا ہے، وہ اللہ کے نزدیک بلند...
دینِ اسلام کی معرفت اور اس پر عمل پیرا ہونا
دینِ اسلام کی معرفت اور اس پر عمل پیرا ہونا
مصنف/ مقرر کے بارے میں
الشیخ عبداللہ شمیم حفظہ اللہ
آپ نے کراچی کے معروف دینی ادارہ المعہد السلفی سے علوم اسلامی کی تعلیم حاصل کی اورالشھادۃ العالیہ کی سند حاصل کی، بعد ازاں اسی ادارہ میں بحیثیت مدرس خدمات دین میں مصروف ہیں، آپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں گریجویشن کیا، اب دعوت کی نشر و اشاعت کے حوالےسے سرگرم عمل ہیں اور المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی میں سینئر ریسرچ اسکالر اور الھجرہ آن لائن انسٹیٹیوٹ میں بحیثیت مدرس کام کررہے ہیں۔
