کیا ہمارا قرآن مجید کے ساتھ تعلق صرف تلاوت تک محدود ہے یا تدبر اور عمل تک بھی ہے؟قرآن مجید کا اصل مقصد نزول کیا ہے: صرف تلاوت یا سمجھنا اور اس پر عمل کرنا؟قرآن مجید میں تدبر (غور و فکر) کی اہمیت کیا ہے؟قرآن کی آیات انسان کے دل پر اثر کیوں نہیں کرتیں؟صرف حفظ یا تلاوت کرنے کے باوجود قرآن پر عمل نہ کرنے کا انجام کیا ہو سکتا ہے؟ہم نے اپنی زندگی میں قرآن کو سمجھنے کے لیے کتنا وقت دیا ہے؟کیا ہم قرآن کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھتے ہیں یا خواہشات کو قرآن پر؟
اسی سے متعلقہ
علم کی اہمیت
علم کی اہمیت
تزکیۂ نفس: نجات کا راستہ
تزکیہ نفس کا مطلب ہے اپنے آپ کو گناہوں سے بچا کر نیکیوں سے آراستہ کرنا۔ یہ انسان کی روحانی ترقی اور...
منت اور نذر و نیاز کی شرعی حیثیت
منت اور ندر و نیاز کی شرعی حیثیت
غسل کو واجب کرنے والی چیزیں اور غسل کا طریقہ
غسل کو واجب کرنے والی چیزیں اور غسل کا طریقہ
اسلام: مکمل ضابطہ حیات
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو قرآن و سنت کی روشنی میں ہمیں زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی فراہم...
نماز کے متعلق نبی کریم ﷺ کے فرامین
نبی کریم ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف روانہ فرمایا اور ارشاد فرمایا:“تم اہلِ کتاب کے...
مصنف/ مقرر کے بارے میں
الشیخ حماد امین چاولہ حفظہ اللہ
آپ نے کراچی کے معروف دینی ادارہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی سے علوم اسلامی کی تعلیم حاصل کی اورالمعہد الرابع مکمل کیا ، آپ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں گریجویشن کیا، اب دعوت کی نشر و اشاعت کے حوالےسے سرگرم عمل ہیں اور المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی میں ریسرچ اسکالر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔
