خطبہ اول:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم پر ظاہر و باطن میں اپنا بھرپور انعام کیا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، ایسی گواہی جو آگ سے رکاوٹ اور ڈھانپنے والا پردہ ہوگی۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ نے آپﷺ کے ذریعے کفر کو مٹایا جبکہ کفر چھایا ہوا تھا۔ درود و سلام نازل ہو آپ پر اور آپ کی آل و اصحاب پر، ایسا درود جس سے ہم پورا پورا بھرپور ثواب پائیں۔
اما بعد!
اے مسلمانو !اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو اس لیے کہ وہ بھیدوں اور پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ اور قیامت کے لیے اور یومِ آخرت کے لیے تیاری کرو۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ1
اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
مسلمانو! آپ پر گرمی سخت ہو گئی ہے، آپ پر حرارت شدید ہے۔ آپ کا دن شعلہ اگل رہا ہے، گرمی اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے، اور آپ پر یہ شعلہ بار گرمی نازل ہو چکی ہے جس کے اثرات دنیا میں عام ہو گئے ہیں اور جس کا زہر زمین پر پھیل گیا ہے۔ لہٰذا اس شعلہ زن حدت سے جہنم کی شدت کو یاد کرو اور اس جہنم کی آگ سے اپنا بچاؤ کرو۔ جس کی تمازت شدید ہے، اس کی گہرائی انتہائی ہے، اس کے انگارے بڑے ہیں اور یہ اس شدید شعلہ بار سخت گرمی کے انگارے سے کہیں زیادہ سخت گرم اور شعلہ بار ہیں۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا ۚ لَّوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ2
کہہ دیجیے کہ دوزخ کی آگ بہت ہی سخت گرم ہے، کاش کہ وہ سمجھتے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ فرمان یاد رکھیے، اور گرمی کی شدت جہنم کی لپٹوں میں سے ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الحَرِّ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ3
آگ نے اپنے پروردگار سے شکایت کی، اے میرے رب! میرا ایک حصہ دوسرے حصے کو کھائے جا رہا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو مرتبہ سانسیں لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردی کے موسم میں اور دوسری گرمی کے دنوں میں۔ اس وجہ سے تمہیں موسمِ گرما میں سخت گرمی اور موسمِ سرما میں سخت سردی محسوس ہوتی ہے۔
اے وہ شخص جو سخت گرمی سے بچاؤ کرتا اور اس سے بچتا ہے! اللہ کا تقویٰ اختیار کر کے اور اس کی معصیتوں سے بچ کر جہنم کی آگ سے بھاگ۔ اے وہ شخص جو گرمی سے اپنے بدن کو بچاتا اور اس سے اس کی حفاظت کرتا ہے! تو اپنے رب کی طرف کیوں نہ لوٹا قبل اس کے کہ موت تجھ پر حملہ کرے اور اس کا منادی تجھے پکارے؟
عمر بن عبدالعزیزؒ جبکہ ایک جنازے میں جا رہے تھے، ایسے لوگوں کو دیکھا جو گرد و غبار اور دھوپ سے اٹے ہوئے تھے اور سائے کی طرف جا لگے تھے، تو رو پڑے۔ “اے اللہ کے بندے! تمہارے سامنے جو آنے والا ہے اس کے لیے بیدار ہو، اس کے لیے تیار ہو جو تم پر حملہ آور ہونے والا ہے۔
اور گویا کہ تیری بساطِ عمر لپیٹی جا چکی ہے، تیری صحت کا پودا مرجھا چکا ہے، تیری شان و شوکت کی عمارت گر چکی ہے اور موت قریب آچکی ہے۔ اور کل آدمی وہ دیکھے گا جو اس نے کیا ہے، کسان وہی کاٹے گا جو اس نے بویا ہے۔ اگر اس نے اچھا کیا ہے تو کیا ہی اچھا اس نے جمع کیا ہے، اور اگر اس نے برا کیا ہے تو کیا ہی برا اس نے کیا ہے۔ اور کامیاب وہ ہے جسے نصیحت فائدہ پہنچائے اور جو آخرت کے لیے تیاری کرے۔
میں وہ کہہ رہا ہوں جو تم سن رہے ہو، اور میں ہر گناہ سے اللہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں، تم بھی اس سے مغفرت طلب کرو اور کیا ہی کامیابی ہے استغفار کرنے والوں کے لیے۔
خطبہ ثانی:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، اس نے اسے پناہ دی جس نے اس کے کرم کی پناہ لی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اپنے فضل سے اس کو شفا دی جو اپنی بیماری میں دوا سے مایوس ہو چکا تھا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جس نے آپﷺ کی پیروی کی وہ ہدایت پر گامزن ہوا، اور جس نے آپﷺ کی معصیت کی وہ گمراہی و تباہی کی راہ پر چلا۔ دائمی درود نازل ہو آپ پر اور آپ کی آل و اصحاب پر اور متواتر سلامتی نازل ہو۔
اما بعد!
اے مسلمانو !اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، اس سے خوف کھاؤ، اس کی فرمانبرداری کرو اور اس کی نافرمانی نہ کرو۔
اللہ کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ4
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔
مسلمانو! گرمی کی اس شدت، تمازت، سختی اور لپٹ میں پانی پلانا مستحب ہے۔ اور اس شدید لپٹ، شعلہ بار گرمی میں پیاسوں کو سیراب کرنے، انہیں ٹھنڈک پہنچانے، اور ایسے پیاسوں تک پانی قریب کرنے سے زیادہ نیک عمل نہیں، جنہیں دھوپ نے اپنی گرمی سے پگھلا دیا ہو، اپنے شعلوں کے جھونکوں سے جھلسا دیا ہو۔ پانی پلانے پر ابھارا گیا ہے، شدید پیاسے آدمی کو پانی پلانے میں تاخیر کرنے سے روکا گیا ہے۔ اور یہ یاد دلایا گیا ہے کہ اسے پانی پلانے میں ذخیرہ شدہ اجر اور بھرپور ثواب ہے جو پلانے والا ربِ کریم کے پاس پائے گا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ:
إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي قَالَ يَا رَبِّ كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تَسْقِهِ أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي5
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: “اے ابنِ آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا، تو نے مجھے پانی نہیں پلایا۔” وہ شخص کہے گا: “میرے رب! میں تجھے کیسے پانی پلاتا جبکہ تو خود ہی سارے جہانوں کو پالنے والا ہے؟” اللہ تعالیٰ فرمائے گا: “میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا، تو تو نے اسے پانی نہ پلایا۔ اگر تو اس کو پانی پلا دیتا، تو اس کو میرے پاس پا لیتا۔”
مسلمانو! اس سخت گرمی میں ایک دوسرے پر رحم کرو۔ فقیروں کی خبر گیری کرو، ان کمزوروں کی مدد کرو جو بھوک، پیاس، گرمی، شدت اور سخت تمازت پر صبر کرتے ہیں اور جن کے پاس کولر اور اے سی نہیں۔ ان سے گرمی کی حدت و لپٹ کم کریں، ان کے دل، گھر اور بچوں تک صدقات، امداد اور احسان سے ٹھنڈک پہنچائیں۔ راستوں، بازاروں اور مسجدوں میں پانی بانٹیں، کنواں کھودیں، پانی پلانے کی اور کولر کی سبیلیں لگائیں۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
مَنْ حَفَرَ مَاءً لَمْ يَشْرَبْ مِنْهُ كَبِدٌ حَرِيٌّ مِنْ جِنٍّ وَلا إِنْسٍ وَلا طَائِرٍ إِلا آجَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ6
جس نے پانی کا کنواں کھودا، اس سے انس و جن اور چرند پرند میں سے کوئی جاندار نہیں پیے گا مگر قیامت کے دن اللہ اسے اجر سے نوازے گا۔
درود و سلام بھیجو تمام مخلوقات کے شافع و رہنما احمدﷺ پر، کہ جس نے آپﷺ پر ایک مرتبہ درود بھیجا اللہ اس کے بدلے دس مرتبہ درود بھیجے گا۔ اے اللہ درود و سلام نازل ہو ہمارے نبی اور سردار محمدﷺ پر اور اے اللہ تو راضی ہو جا آل و اصحاب سے اور انہی کے ساتھ ہم سے بھی اے کریم و وہاب۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا کر، شرک اور مشرکین کو پست کر، دین کے دشمنوں کو تباہ کر۔ ہمارے اور مسلمانوں کے ملکوں کی سازش کرنے والوں کی سازش سے، اور مکر کرنے والوں کے مکر سے حفاظت فرما، اے رب العالمین۔
اے اللہ! ہمارے سربراہ اور ولی الامر خادمِ حرمین شریفین کو اس بات کی توفیق دے جو تیری مرضی اور منشا کے مطابق ہو اور انہیں بھلائی اور تقویٰ کی راہ پر چلا۔ اے اللہ! انہیں، ان کے ولی عہد اور بقیہ تمام مسلم سربراہوں کو اس بات کی توفیق دے جس میں اسلام کا غلبہ اور مسلمانوں کی درستی ہو۔
اے اللہ! ہمارے مریضوں کو شفا دے، آزمائش میں پڑے لوگوں کو عافیت دے، ہمارے مردوں پر رحم فرما۔ فلسطین میں ہمارے بھائیوں کی مدد کر، ان کے شکستہ کو جوڑ دے، انہیں جلد غلبہ دے، اے رب العالمین۔ اے اللہ ہماری دعا کو مقبول کر، اور ہماری پکار کو بلند کر، اے کریم، اے عظیم، اے رحیم۔
خطبہ جمعہ، مسجد النبوی
تاریخ 17 صفر 1448 ہجری، بمطابق 31جولائی 2026 عیسوی
موضوع:گرمی کی نصیحت
خطیب: فضیلۃ الشیخ صلاح بن محمدالبدیر حفظہ اللہ
