خطبہ اول:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنی اطاعت میں دلوں کی سعادت اور اپنے ذکر میں نفسوں کا اطمینان و سکون رکھا، اور اپنے اوپر ایمان کو کامیابی کا سب سے بڑا ذریعہ بنایا۔ میں اس پاک ذات کی حمد بیان کرتا ہوں، اس کا شکر ادا کرتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ایسی گواہی جو گواہی دینے والے کے لیے دنیا میں سعادت اور آخرت میں نجات کا سبب بنے۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ ﷺ سعادت مندوں کے پیشوا اور پرہیزگاروں کے لیے نمونہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ درود و سلام اور برکتیں نازل فرمائے آپ پر، آپ کی آل و اصحاب پر، اور ان لوگوں پر جو قیامت تک آپ کے طریقے پر چلیں اور آپ کے نقشِ قدم کی پیروی کریں۔
امابعد!
اللہ کے بندو، میں آپ سب کو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ تقویٰ ہر بھلائی کی کنجی اور ہر سعادت کی بنیاد ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: “اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
اللہ کے بندو! بلاشبہ سعادت ایک عظیم مقصد ہے اور ایک ایسا ہدف ہے جس کی تلاش ہر انسان کرتا ہے۔ اللہ نے نفسوں میں فطری طور پر اس کی محبت اور تڑپ رکھی ہے، لیکن جب حقیقی سعادت محض تمناؤں سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ ان اسباب کو اختیار کرنے سے حاصل ہوتی ہے جو اس تک پہنچاتے ہیں، تو ایسے میں شریعتِ حکیمہ نے اس کے راستوں کی رہنمائی فرمائی، اس کے ذرائع بتلائے اور اس کے اسباب اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ اور یہ ایک ایسا بدلہ ہے جو ایمان اور اطاعت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَالْعَصْرِ٘ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍں إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ٘1
زمانے کی قسم! یقیناً انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، اور جنہوں نے آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔
لوگو! سعادت ایسا مقصد ہے جس پر سب کا اتفاق ہے، اور ایسا مطلوب ہے جس پر سبھی متفق ہیں، اور جس کو پانے کی کوشش ہر انسان ہر زمانے میں اور ہر جگہ کرتا ہے۔ لیکن بسا اوقات وہ اس کی حقیقت کو سمجھنے میں اور اس کے جوہر کو پہچاننے میں غلطی کر دیتا ہے، اور بسا اوقات وہ راستہ بھٹک جاتا ہے اور وہ اس کے ذرائع سے دور ہو جاتا ہے جبکہ وہ اس کا متلاشی ہوتا ہے۔ ایمان اور عملِ صالح کے سوا سعادت کا کوئی راستہ نہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ2
جو کوئی نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔
اور اس کے برعکس جو شخص اللہ تعالیٰ کے تقویٰ سے منہ موڑ لے اور اس کی اطاعت کا راستہ چھوڑ دے، وہ بدبخت اور محروم ہو جاتا ہے اور بدبختی، فکر و غم اور مشقت کے دلدلوں میں جا گرتا ہے۔ اسے افسردگی، بے چینی، اضطراب، ذہنی تناؤ، بے اطمینانی، پریشانی، تنگی اور غم گھیر لیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ3
اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا، اس کے لیے یقیناً تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔
اللہ کے بندو! سعادت اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مدد ہے، جس سے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے۔ جس کے نتیجے میں سعادت مند شخص شرحِ صدر، رضا و قناعت، دلی اطمینان، ذہنی سکون اور راحت محسوس کرتا ہے۔ اور اس کے سب سے اہم ذرائع میں سے ایمان اور عملِ صالح ہیں۔ ایمان ہی سعادت، رضا، کامیابی اور امن کا محور ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور یہی دنیا و آخرت میں نجات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اسی کے ذریعے مصیبتیں دور ہوتی ہیں، فکر و غم اور مشقتیں ختم ہوتی ہیں، پریشانیاں ٹلتی ہیں، امن و امان حاصل ہوتا ہے، گناہ معاف ہوتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔ ایمان ہی نجات اور بچاؤ کا سرچشمہ ہے، کامیابی کا راستہ اور فلاح کی شاہراہ ہے۔ اور جب ایمان کے ساتھ مخلوق سے حسنِ سلوک، بھلائی کرنا اور لوگوں کو فائدہ پہنچانا بھی شامل ہو جائے، تو یہ سعادت کا عظیم ترین ذریعہ بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “جو کوئی نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔”
سعادت کے عظیم ترین ذرائع میں سے ایک فرائض اور واجبات کی پابندی ہے، اور ان میں سرفہرست نماز ہے۔ جو بندے اور اس کے رب کے درمیان کا ایک تعلق ہے۔ نماز دل کو اطمینان، نفس کو سکون عطا کرتی ہے اور بے حیائی و برائی سے روکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ4
بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے، نیک اعمال کیے، نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے اور نہ انہیں کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
اسی طرح ان ذرائع میں سے جن میں سعادت پنہاں ہے، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآنِ کریم کی تلاوت کی پابندی ہے۔ کیونکہ دلوں کو حقیقی سکون اور راحت صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے حاصل ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ٘ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ طُوبَىٰ لَهُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ5
یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں۔ آگاہ رہو، اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، ان کے لیے خوشخبری ہے اور بہترین ٹھکانہ ہے۔
اور قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جو ہر ہدایت اور ہر سعادت کا سرچشمہ ہے۔ اس میں دلوں کے امراض کے لیے شفا ہے اور اہلِ ایمان کے لیے سراپا ہدایت اور رحمت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ ٘ وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ6
پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس کوئی ہدایت آئے، تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبخت ہوگا۔ اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا، اس کے لیے یقیناً تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔
سعادت کے ذرائع میں سے قضا و قدر پر ایمان رکھنا بھی ہے۔ جو ایمان کے ارکان میں سے ایک رکن اور اسلامی عقیدے کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول ہے۔ اس کے ثمرات میں سے ہے کہ آزمائش کے وقت بندہ صبر سے کام لیتا ہے، اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہتا ہے، ناراضگی اور جزع فزع سے بچتا ہے، دلی سکون اور نفسیاتی اطمینان حاصل کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ ۗ7
تاکہ تم نہ اس پر غم کرو جو تمھارے ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس پر پھول جاؤ جو وہ تمھیں عطا فرمائے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجَزْ وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا وَلَكِنْ قُلْ قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ8
جس چیز سے تمہیں (حقیقی) نفع پہنچے اس میں حرص کرو اور اللہ سے مدد مانگو اور کمزور نہ پڑو (مایوس ہو کر نہ بیٹھ) جاؤ، اگر تمہیں کوئی (نقصان) پہنچے تو یہ نہ کہو: کاش! میں (اس طرح) کرتا تو ایسا ایسا ہوتا، بلکہ یہ کہو: (یہ) اللہ کی تقدیر ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے،اس لیے کہ (حشرت کرتے ہوئے) کاش (کہنا) شیطان کے عمل (کے دروازے) کو کھول دیتا ہے۔
اللہ کا فرمان ہے:
مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَا ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ9
کوئی مصیبت نہ زمین پر پہنچتی ہے اور نہ تمھاری جانوں پر مگر وہ ایک کتاب میں ہے، اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں۔ یقیناً یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو قرآنِ عظیم میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں اس کی آیات اور حکمت بھری نصیحت سے نفع پہنچائے۔ میں وہی کہتا ہوں جو آپ سنتے ہیں اور میں اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں، بس آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں، بے شک وہ بہت بخشنے والا، بڑا رحم فرمانے والا ہے۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے اس کے احسان پر، اور اسی کا شکر ہے اس کی توفیق اور انعام پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس کی عظمتِ شان کا اعتراف کرتے ہوئے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جو اس کی رضا کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔ اللہ آپ پر، آپ کی آل و اصحاب پر بے شمار درود و سلام نازل فرمائے۔
اللہ کے بندو! سعادت نعمتوں اور آسائشوں میں زندگی گزارنے، خواہشات میں ڈوب جانے، لذتوں میں کھو جانے یا جسمانی راحت میں پنہاں نہیں، بلکہ حقیقی سعادت دل کی نعمت، نفس کے اطمینان اور باطن کی درستی کا نام ہے۔ یہی وہ سعادت ہے جس کے اثرات دنیا اور آخرت تک دراز ہیں۔
بندے کو سعادت سے محروم کرنے والی سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے دلوں کی بیماریاں ہیں، جیسے حسد، کینہ، بغض، نفرت، تکبر اور ریاکاری۔ کیونکہ دل تمام اعضاء کا بادشاہ ہے، ایمان کا مقام ہے اور سعادت کا سرچشمہ ہے۔ جب دل درست ہو جاتا ہے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور جب دل بگڑ جاتا ہے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ 10
خبردار! اللہ کی مقرر کردہ حدود اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ اور سن لو! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے، اور جب وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ جان لو! وہ دل ہے۔
سعادت سے روکنے والی چیزوں میں فرائض و واجبات سے غفلت برتنا، حرام کاموں میں ڈوبنا، اور خواہشات و شبہات کے پیچھے بھاگنا ہے۔ یہ سب دلوں پر پردہ ڈالتے ہیں اور انہیں سخت بناتے ہیں، ہر چیز سے محروم کرتے ہیں، اور انسان کو فکر و غم کی تنہائی اور ندامت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ11
کیا وہ لوگ جنہوں نے برے اعمال کا ارتکاب کیا، یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم انہیں ان لوگوں جیسا کر دیں گے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، کہ ان کی زندگی اور ان کی موت یکساں ہو؟ بہت برا فیصلہ ہے جو وہ کر رہے ہیں۔
اور اسی طرح سعادت کو ختم کر دینے والی بڑی چیزوں میں سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی ہے۔ اور وہ ساری چیزیں ہیں جو بندے کو اللہ کی رحمت سے مایوس کرتی ہیں، اس کے فضل سے ناامیدی کی طرف لے جاتی ہیں، اور بندہ وسوسوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے، بدشگونی لینے لگتا ہے، مستقبل کے بارے میں خوف و پریشانی میں مبتلا رہتا ہے، اسے نعمتوں کے زوال کا خطرہ لگا رہتا ہے اور وہ ہمہ وقت مصیبتوں اور آزمائشوں کے اندیشے میں رہتا ہے۔
لہٰذا اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن رکھو کیونکہ مومن یہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر تدبیر خیر پر مبنی ہوتی ہے۔ صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کا ہر معاملہ بہتر ہے، اور یہ خصوصیت مومن کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ اگر اسے خوشحالی نصیب ہو تو وہ شکر ادا کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے، اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔
اللہ کے بندو! سعادت سے محروم کرنے والی نمایاں ترین رکاوٹوں میں سے ہے وقت کو ضائع کرنا، فرائض و واجبات میں کوتاہی برتنا، لہو و لعب اور غفلت میں ڈوب جانا، موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال کرنا، اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر موجود مواد اور ریلز کے مسلسل مشاہدے کی لت میں پڑ جانا۔ یہ عادتیں وقت کو برباد کرتی ہیں، ذہن کو منتشر کرتی ہیں، توجہ اور یکسوئی کی صلاحیت کو کمزور کرتی ہیں، اور دوسروں سے موازنہ کرنے کے باعث فکر، بے چینی، افسردگی اور نفسیاتی صحت کی خرابی کا سبب بنتی ہیں۔ لہٰذا دل اپنا اطمینان کھو بیٹھتا ہے اور رضا و قناعت کی لذت سے محروم ہو جاتا ہے۔
چنانچہ اللہ کے بندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سعادت حاصل کرنے کے لیے سعادت کا راستہ اختیار کرو۔ اور ایسے راستے نہ اختیار کرو جو سعادت تک نہیں پہنچاتے بلکہ سعادت سے مزید دور اور اس کی حقیقت سے محروم کر دیتے ہیں۔ حقیقی سعادت کا راستہ تو اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑنا اور اس کے رسول محمد ﷺ کے طریقے کی پیروی کرنا ہے، کیونکہ انہی دونوں میں ہدایت و رحمت ہے اور یہی دونوں کافی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت سے نوازا اور یہی عقل و دانش والے ہیں۔
پھر نبی کریم ﷺ پر درود و سلام بھیجو، جن پر درود و سلام بھیجنے کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا12
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجا کرو۔
اے اللہ! درود و سلام اور برکتیں نازل فرما اپنے بندے اور رسول محمد پر، اور ان کی آل و اصحاب پر۔ اے اللہ! آپ ﷺ کے خلفائے راشدین سے راضی ہو جا اور ان تمام لوگوں سے بھی راضی ہو جا جو قیامت تک اچھی طرح ان کی پیروی کرتے رہیں۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت و سربلندی عطا فرما، اپنے موحد بندوں کی مدد فرما، اور اے اللہ! اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن و اطمینان کا گہوارہ بنا۔ اے اللہ! ہمارے ملک میں ہمیشہ امن و امان اور استحکام قائم رکھ، اسے ہر برائی اور ہر ناگوار امر سے محفوظ رکھ، اور چال بازوں کی چال اور فریب کاروں کے فریب کو اس سے دور رکھ۔
اے تمام جہانوں کے رب! اے اللہ! ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما، ہماری سرحدوں پر مامور فوجیوں کو توفیق یاب کر، ان کے نشانے درست کر، ان کے قدم ثابت رکھ، انہیں مضبوط ڈھال بنا، اور انہیں ان کے دشمنوں پر غلبہ عطا فرما۔ اے اللہ! مسلمانوں کے حالات سنوار دے، اے اللہ! مسلمانوں کے حالات سنوار دے، اے اللہ! ان کے باہمی تعلقات کی اصلاح فرما، اور انہیں حق پر متحد کر دے اے رب العالمین!
اے اللہ! ہمیں ہمارے وطنوں میں امن و امان عطا فرما، ہمارے سربراہان اور حکمرانوں کی اصلاح کر۔ اے اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو اپنی توفیق سے نواز، اپنی تائید و نصرت سے ان کی مدد فرما، اور اے رب العالمین انہیں صحت و عافیت عطا فرما۔ اے اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق دے جنہیں تو پسند فرماتا ہے اور جن سے تو راضی ہو۔
اے دعاؤں کو سننے والے! اے اللہ! ہم سے ہماری عبادتیں قبول فرما، بے شک تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔ اور ہماری توبہ قبول فرما، یقیناً تو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ اے اللہ! محمد ﷺ، آپ کی پاکیزہ آل پر، اور آپ کے نیکوکار صحابہ پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما۔ اور ہمیں بھی اپنی رحمت سے ان کے زمرے میں شامل فرما، یا عزیز و یا غفار
خطبہ جمعہ مسجد النبوی۔
تاریخ: 24 صفر 1448 ہجری، بمطابق 7 اگست 2026 عیسوی۔
موضوع: سعادت کے اسباب اور اس میں درپیش رکاوٹیں۔
خطیب: فضیلۃ الشیخ عبداللہ البعیجان حفظہ اللہ۔
