عبادات پر ہمیشگی اور دوام!

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اُس اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اُس کی رہنمائی کی۔اور اُس ذات نے دلوں کو نور و ہدایت عطا کی۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں۔اور میں گواہی دیتا ہوں ہمارے نبی و سردار محمد ﷺاُس کے بندے اور رسول ہیں۔

اللہ تعالیٰ درودو سلام نازل فرمائےآپ ﷺ پر آپ ﷺ کی آل پر اور آپ ﷺ کے اصحاب پر۔

حمد و ثنا کے بعد!

اللہ کے بندو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ1

اے ایمان والوں اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس طرح کے اُس سے ڈرنے کا حق ہے۔اور ہر گز نہ مرو مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔

اطاعتِ الٰہیہ کے بعد خیر و بھلائی کےموتی پے در پے ہمارے اوپر آتے رہتے ہیں،مختلف مواقع اور مناسبتیں میسر آتی رہتی ہیں۔عقلمند انسان سنجیدگی سے کمربستہ ہوکر ہمت باندھتا ہے،فضیلتوں کی معراج چڑھتا ہے،اپنی روح کے ساتھ پرواز کرتاہے،اپنے ایمان کو غذا فرہم کرتا ہےاپنے توشہ آخرت کو قوی و مضبوط کرتا ہے،چھوٹ جانے والی اشیاء کا تدارک کرتا ہے،آنے والی اشیاء کے لئے مستعد ہوتا ہے،غفلت و نسیان کی بھینٹ چڑھ جانے والی اشیاء کی کمی کو پورا کرتا ہے،کہیں کمی و کوتاہی کا اندیشہ ہو تو اصلاح کرتا ہے۔

کتنے ہی ایسے لوگ ہیں کہ موسم کے ختم ہوتے ہی اُن کی چستی اور ہوشیار ماند پڑھ جاتی ہے،اُن کا جوش و خروش جاتا رہتا ہے،اُن کی ہمت جواب دے جاتی ہے۔جیسا کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ہر عمل کےلئے رغبت و حرص اور  جوش و خروش ہوتا ہے ،اور اُس حرص و رغبت کے لئے سستی ہ کاہلی اور فطور بھی ہوتا ہے۔تو جو اِس فطور و سُستی میں میری سنت کی جانب لپکے گاوہ کامیاب ہوجائے گااور اُس کے علاوہ کسی اور جانب جائے گاوہ تباہ و برباد ہوجائےگا۔مسند امام احمد۔

یہ ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ ہم سال بھی عمل کرنے کےلئے دور ترین راستے اور صحیح طریقے کے بارے میں ایک دوسرے سےپوچھیں۔ یقیناً اس کا کافی جواب اور اس کے بارے میں کافی و شافی معلومات نبی اکرم ﷺ کی سیرت مطہرہ سے معلوم ہوں گی۔ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب کسی نے پوچھا کہ جب علقمہ نے اُن سے پوچھا کہ نبی اکرم ﷺ کا عمل کیسا ہوا کرتا تھا؟ کیا کچھ مخصوص ایام میں خاص ہوا کرتا تھا؟ سیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نہیں بلکہ آپ ﷺ کا اعمال ہمیشہ دائمی ہوا کرتے تھے۔ صحیح بخاری

تو واضح ہوا کہ آپ ﷺ کا عمل بغیر کسی انقطاع کے مسلسل جاری رہتا تھا۔ اسی طرح نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ: اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے۔ اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔متفق علیہ

یہ نبوی طریقہ کار ہے۔ اس طرح عبادت انسان کو ہمیشہ اپنے خالق کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے اور وہ اپنے پروردگار کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ہمیشگی والی تھوڑی چیز اعتدال و میانہ روی میں رہتی ہے۔ دل پر بھی میانہ ولطیف رہتی ہے، آپ اُسے بوجھ نہیں سمجھیں گے،نفس بھی شوق کے ساتھ اُس کی طرف لپکےگااور دل تنوع کی وجہ سےاُس کی جانب متوجہ رہے گا۔اسی طرح تھوڑا عمل ہمیشگی کے ساتھ بہت زیادہ ہوجاتا ہے۔اور نیت بھی خالص ہو تو وہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔طبیعت اور نفس پر اُس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

جان لیجئے! آپ کی زندگی کی یہ گھڑیا ں جنہیں آپ قلت کی نظر سے دیکھتے ہیں،اگر عمل میں تسلسل کے ساتھ آپ اِن سے فائدہ اُٹھا لیں تو  یقیناً آپ نے اپنی زندگی میں بہت کچھ حاصل کرلیا۔یہ بات آپ کی توجہ حاصل کرے گی کہ کسی بھی کام پر ہمیشگی صرف اُس کام کو کرنے سے اہم اور افضل ہوتی ہے۔لہٰذا ہونا یہ چاہیئے کہ جب آپ کسی کام کو شروع کریں تو اُس پر ہمیشگی بھی کریں۔کیوں کہ جو تسلسل کے ساتھ کام کرتا ہے وہ عزت و شرف کی بُلندیوں تک پہنچ جاتا ہے۔ مستقل طور پر کیا جانے والا کام اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

یہ نبی اکرم ﷺ کا وہ عالی شان  فرمان ہے کہ جس پر نبی کریم  ﷺ کے صحابہ کرام نے عمل کیااور فضائل کے چشموں سے مستفید ہوئےقابلِ افتخار بُلند مقامات پر فائز ہوئے،قابلِ تقلید راستوں کے راہی بنے۔ اُن سب نے نوافل کے مواقع کو غنیمت سمجھا،اطاعت و طاقت کے مطابق اعمال کا انتخاب کیا،ایسی اطاعت والے اعمال کئے کہ جن کے ساتھ اُن کا دل معلق رہے ،ایسی عبادات کہ نفس جن کی طرف مائل رہے،مثلانماز ،صدقہ،نیکی، صلہ رحمی وغیرہ  جیسے اعمال جن کے ساتھ وہ تقربِ الٰہی کو حاصل کرسکیں،اُن پر ہمیشگی کو اختیار کرسکیں اور لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بن جائیں۔

اُم المؤمنین سیدۃ اُمِ حبیبہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہےرسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص دن و رات میں بارہ رکعات ادا کرلیتا ہےتو اُس کے لئے جنت میں ایک گھر بنادیا جاتا ہے۔ سیدۃ اُمِ حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سناتو اِنہیں کبھی نہیں چھوڑا ۔صحیح بخاری

اور سیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ  ﷺ جب کوئی عمل شروع کر لیتے تھے تو اُس پر ہمیشگی اختیار کیا کرتے تھے۔صحیح مسلم

اسی طرح سیدنا ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے نمازِ فجر کے وقت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے بلال! مجھے اپنا کوئی ایسا پسندیدہ عمل تو بتاؤ جو آپ نے اسلام میں کیا ہو؟ کیوں کہ میں آپ کے قدموں کی آہٹ  اپنے آگے جنت میں سنی ہے۔تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نےعرض کیا، میرا سب سے پسندیدہ عمل یہ ہے کہ میں دن رات میں جب بھی طہارت حاصل کرتا ہوں تو اُس طہارت کے ساتھ جتنی ہوسکے نماز ادا کرتا ہوں۔صحیح مسلم

اور اسی طرح سیدنا عمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کررہے تھے کہ اچانک لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا:

اللہ اکبر کبیرا،والحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ واصیلا،

اللہ بہت بڑا ہے ،اللہ تعالیٰ کے لئے بہت زیادہ تعریفات ہیں،صبح و شام اللہ تعالیٰ کے لئے ہی پاکیزگی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ فلاں فلاں کلمات کس نے ادا کئے ؟ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ میں نے کہے ہیں۔ تو آپ  ﷺ نے فرمایا: مجھے ان کلمات کی وجہ سے تعجب و حیرانگی ہوئی کہ اِن کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئے گئے۔ابنِ عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تو میں نے اِنہیں کبھی نہیں چھوڑا۔ صحیح مسلم

آپ کی آنکھ آپ کے اِرد گِرد رہنے والے کامیاب  لوگوں کو اور آپ کے نمایاں مقام رکھنے والے لوگوں کو کبھی نذرانداز نہیں کرسکتی،جنہوں نے اپنے دینی اعمال میں اور دنیاوی کاموں میں اپنے اہداف و مقاصد کو تھوڑے سے وقت میں ہمیشگی اور دوام اختیار کر کے حاصل کرلیا۔اگر انسان روٹین کے ساتھ اپنا تھوڑا سا وقت نکال کرقرآن کریم حفظ کرنے کے لئے یا علم کے حصول کے لئے یا سیرت نبوی ﷺ کے لئے یا کوئی مفید علم حاصل کرنے کے لئے ،اولاد کے ساتھ بیٹھ کر اُن کی تربیت کرنے کے لئےیا کوئی بھی نفلی کام کرنے کے لئے یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کرنے کے لئے یا نفع بخش دنیاوی کام کرنے کے لئے ،کوئی بھی انسان روٹین کے ساتھ توڑا سا وقت نکال لےتو عنقریب وہ اپنی مراد کو پالے گا، اپنے اہداف کو حاصل کرلے گا اور عنقریب آگے اُس کی زندگی میں اِس کے اثرات بھی نمایا ہوتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ اُسے فکری راحت نصیب  ہوگی اور وہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں آگے بڑھتا ہوا نظر آئے گا اور یہ چیز اُسے اُ س عمارت کا رُکن بنادے گی جو معاشرے کی ترقی اور اپنے وطن کو عروج دلانے میں کردار ادا کرے گا۔

آپ کے لئے یہ جان لینا ہی کافی ہے کہ جس شخص نے ہمیشگی کے ساتھ کوئی نیک کام کیاپھر وہ بیمار پڑ گیایا کہیں سفر پر چلا گیاتو وہ ایسے ہی شمار ہوگا گویا کہ وہ اس وقت بھی اُس عمل کو انجام دے رہا ہے۔جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب انسان بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اُس کے لئے اُسی طرح عمل لکھ دیا جاتا ہے کہ جس طرح اُس نے حالتِ اقامت  اور تندرستی کی حالت میں کیا ہوتا ہے۔ صحیح بخاری

اللہ تعالیٰ میرے اور آپ کے لئے قرآن کریم کو باعثِ برکت بنائے،مجھے اورآپ کو اِس کی آیات اور ذکرِ حکیم سے فیض پہنچائے ۔ میں یہ بات کہتا ہوں جو تم نے سنی۔ میں اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے اور آپ سب کے لئے استغفار طلب کرتا ہوں ۔ آپ بھی استغفار طلب کرو۔یقیناً وہ بہت زیادہ بخشنے والا اور بہت زیادہ مہربان ہے۔

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں کہ جس کی نعمتیں بے شمار ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ اُسی کے لئے اچھے اچھے نام ہیں اور اُسی کے لئے بُلند و بابرکت صفات ہیں۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار و نبی محمد ﷺ اُس کے بندے اور رسول ہیں۔جو ہدایت اور رحمت کے ساتھ مبعوث کئے گئے۔اللہ تعالیٰ اُن پر درود و سلام نازل فرمائے،اُن کی آل پر اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر۔

حمد و ثنا کے بعد!

اللہ کے بندو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔

ہر حال میں اور ہر عمل میں میانہ روی مطلوب ہے عبادت میں تکلف کرنااور اپنی جان پر سختی کرناکمزوری اور عدم ِ تسلسل کا باعث بنتا ہے۔ پھر بے زاری اور اُکتاہٹ تک بات جاپہنچتی ہے۔اور کبھی راستہ افراط و تفریط کی وجہ سے ٹیڑھا ہوجاتا ہے۔تباہ کن کاہلی کمزوری تک لے جاتا ہے یا معاملہ ہلاکت خیز غلو تک جاپہنچتا ہے۔تو ایسے میں نبوی تعلیمات ہی لوگوں کی دُرست طور پر رہنمائی کرتی ہے،چنانچہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی   ہےکہ تین شخص نبی اکرم ﷺ کی ازواجِ مطہرات کی طرف آپ ﷺ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے ،جب اُنہیں نبی اکرم ﷺ کا عمل بتایا گیاتو جیسے اُنہوں نے سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی اکرم ﷺ سے کیا مقابلہ آپ ﷺ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں اللہ تعالیٰ نے معاف کردی ہیں۔ پھر اُن میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا۔دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے رکھوں گا اور کبھی ناغہ نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کرلوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔پھر جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اور اُن سے پوچھا کہ کیا تم نے یہی باتیں کہیں ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم میں تم میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں، تم سب سے زیادہ پرہیز گار ہوں۔میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں،رات میں نماز اداکرتا ہوں تو سوتا بھی ہوں، اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ تو میرے طریقے سےجس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔

خبردار اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے پیکر ہمارے پیارے نبی اکرم ﷺ پر درود پڑھنے کا حکم دیا ہے۔جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا2

اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجا کرو ۔

اے اللہ !  تو چاروں خلفائے راشدین  ابو بکر ،عمر ،عثمان ،علی  سے راضی ہوجا اور اُن کی احسان کے ساتھ پیروی کرنے والوں سے راضی ہوجا اور اُن کے ساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہوجا۔

اے اللہ ! تو اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل ورسواکر، کافروں اور ملحدوں کو ناکام و نامراد کر دے۔

اے ہمارے رب ! ہماری مدد فرما،ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ کرنا،ہماری تائید و نصرت فرما ،ہمارے خلاف کسی کی تائید و نصرف نا کرنا،ہمارے حق میں تدبیر فرما،ہمارے خلاف تدبیر نہ کرنا،ہماری رہنمائی فرما  اور ہدایت کو ہمارے لئے آسان کردے۔

اے اللہ ! ہم تیری نعمت کے زائل ہونے سے ،تیری دی ہوئی عافیت کے پھر جانے سے ،تیری نگہانی گرفت سے اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

 اے اللہ ! تو ہمارے اور تمام مسلمان کے فوت شدگان کو معاف کر دے، ہمارے اور تم مسلمانوں کے مریضوں کو شفا عطا فرما، ہمارے اور تمام مسلمانوں کے امور کو آسان فرما، مصیبتوں اور تکلیفوں کو دور فرما، ہمارے ملک اور اس کے سپاہیوں کی حفاظت فرما۔ اے رب العالمین۔

 اے اللہ ! تو خادم حرمین کو اپنے پسندیدہ کاموں کی توفیق دے اور خیر کے کاموں میں ان کی مدد فرما، اے اللہ تو ولی عہد وزیر اعظم کو اپنے پسندیدہ کاموں کی توفیق دے اور ہر خیر کے کام میں ان کا تعاون کر۔

اے اللہ! حجاج ِکرام کی حفاطت فرما اور اُنہیں صحیح سلامت ،سالم و غانم  نیکیوں کو سمیٹتے ہوئے اپنے گھروں کو واپس لوٹا اور اُن کے حج کو قبول فرما۔

اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا و آخرت میں خیر و بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

اورتم اُس کی تعمتوں پر شکر کرو تو وہ تم کو زیادہ دے گا۔ اور یاد رکھو!  جو کچھ تم کرتے ہو اُس سے اللہ تعالیٰ خوب آگاہ ہے۔

خطبة الجمعة مسجدالنبوي:

فضیلة الشیخ الدکتورعبدالباري بن العواض الثبیتي حفظه اللہ
2ذوالحجہ بتاریخ 28 جون 023

____________________________________________________

  1. آل عمران – 102
  2. الاحزاب – (56)

مصنف/ مقرر کے بارے میں

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ 

مسجد نبوی کے معروف خطباء میں سے ایک نام فضیلۃ الشیخ داکٹر عبدالباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ کا ہے ، جن کے علمی خطبات ایک شہرہ رکھتے ہیں۔