قرآنِ مجید کی روشنی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو شرک سے روکنے کے لیے کیا دلائل دیے اور ان کا اندازِ تخاطب کیا تھا؟الولاء والبراء” (اللہ کے لیے دوستی اور اللہ کے لیے دشمنی) کے عقیدے میں حضرت ابراہیم ؑ کا اسوہ حسنہ کیا ہے؟جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو بے آب و گیاہ صحرا میں حج کی ندا لگانے کا حکم دیا، تو ان کا طرزِ عمل کیا تھا اور اللہ نے اس ندا کو کیسے قبولیت بخشی؟کیا ہم آج محض زبانی طور پر ابراہیمی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، یا عملی طور پر اپنے خاندانی اور معاشرتی غلط رسم و رواج کو اللہ کے حکم پر قربان کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں؟جس طرح حضرت ابراہیم ؑ نے جانور پر چھری چلائی، کیا ہم اپنے باطل نظریات، دلوں کے بتوں اور فرسودہ روایات پر چھری چلانے کے لیے تیار ہیں؟
