جب اللہ کا کوئی حکم میری خواہش، میری منطق یا زمانے کے رواج کے خلاف آتا ہے، تو میرا پہلا اور حقیقی ردِ عمل کیا ہوتا ہے؟ کیا میں فوراً سر تسلیم خم کرتا ہوں یا دل میں سوالات اٹھاتا ہوں؟میری عبادات کی اصل روح کیا ہے؟ کیا یہ محض رسومات ہیں، یا اللہ کے حکم کے سامنے مکمل سپردگی اور بندگی کا عملی اظہار؟آج کے دور میں جب ہمیں کہا جاتا ہے کہ “لوگ کیا کہیں گے”، تو ہم اللہ کے حکم کو ترجیح دیتے ہیں یا معاشرتی دباؤ کو؟ ہماری زندگی کا محور اللہ کی رضا ہے یا لوگوں کی خوشنودی؟عقل اور وحی کے درمیان کیا تعلق ہونا چاہیے؟ جب کوئی شرعی حکم ہماری محدود عقل یا منطق میں نہ آئے تو ہمارا رویہ کیسا ہونا چاہیے؟
اسی سے متعلقہ
نبی ﷺ اور بادلوں کا خوف
رسول اللہ ﷺ بادلوں کو دیکھ کر خوش ہونے کے بجائے فکرمند اور بے چین ہو جاتے تھے، اس خوف سے کہ کہیں یہ...
زندگی کی آخری سانس تک الله کی عبادت کرتے رہیں
پہلا خطبہ: ہر طرح کی تعریف اللہ تعالی ٰ کے لئے ہے ،جو پکارنے والوں کی پکار کو قبول کرنے والا...
اللہ تعالیٰ کا عدل و انصاف اور انسان
اللہ تعالیٰ کا عدل و انصاف اور انسان
اللہ پر حسنِ ظن اور توکل
انسان اللہ سے دعا مانگتے ہوئے بدگمانی اور بے یقینی کا شکار کیوں ہو جاتا ہے؟ اللہ سے اچھا گمان (حسنِ...
عقیدہ توحید! نبوی تعلیمات کے سائے تلے
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ نے 23-جمادی ثانیہ- 1437کا خطبہ جمعہ...
وقار اور سکینت کیوں ضروری ہے ؟
وقار: سنجیدگی اور متانت کا نام ہے۔ ہر وقت ہنسی مذاق کرنا نہ صرف اپنی شخصیت کی وقعت کم کرتا ہے بلکہ...
