رسول اللہ ﷺ بادلوں کو دیکھ کر خوش ہونے کے بجائے فکرمند اور بے چین ہو جاتے تھے، اس خوف سے کہ کہیں یہ عذاب نہ ہو جیسے پچھلی امتوں پر آیا تھا۔ یہ آپ ﷺ کے شدید خوفِ خدا اور امت کی خیرخواہی کی علامت ہے۔
اسی سے متعلقہ
استقامت کے اسباب
کیا آپ اپنے دل کو ثابت قدم رکھنا چاہتے ہیں؟جانئے وہ راستے جو قدموں کو لغزش سے بچاتے ہیں۔
ابراہیم علیہ السلام کی کامیابی کا راز
وَإِذِ ٱبْتَلَىٰٓ إِبْرَٰهِـۧمَ رَبُّهُۥ بِكَلِمَـٰتٍۢ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم...
نیک اعمال کی قبولیت
نیک اعمال کی قبولیت اخلاص اور تقویٰ پر منحصر ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں میں سے ہابیل کی...
علم و علما کی شان
علم و علما کی شان
غزوہ بدر کا واقعہ اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق
مسلمان مدینہ سے کس نیت سے نکلے تھے؟ کیا ان کا ارادہ ابتدا ہی سے جنگ کا تھا یا وہ ابو سفیان کے...
عظمتِ صحابہ
سول اللہ ﷺ نے فرمایا: “لا تسبوا أصحابي”یعنی: “میرے صحابہ کو برا نہ کہو۔”...
