پہلا خطبہ:
بلا شبہ تمام تعریفیں اس اللہ کےلئے ہیں جس کی ہم حمد بیان کرتے ہیں اور جس سے استعانت و بخشش طلب کرتے ہیں۔ہم اپنے رب کی پناہ میں آتے ہیں نفس کی شرارتوں اور اعمال کی بُرائیوں سے ۔ جسے اللہ ہدایت دے اُسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کردے اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ،کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔جنہوں نے پیغام پہنچا کر امانت ادا کرتے ہوئے امت کی خیر خواہی کی اور آخری دم کے تک اللہ تعالیٰ کے لئے خوب محنت اور جد و جہد کی ۔ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل و اصحاب اور قیامت تک آنے والے آپ ﷺ کے پیروکاروں بے شمار درود و سلام نازل فرمائے۔
حمد و ں ثنا کے بعد!
بلاشبہ سب سے بہترین بات کلام اللہ اور سب سے بہترین و شاندار رہنمائی محمد ﷺ کا اسوہ اور طریقہ ہے۔اور سب سے بدترین چیز دین میں نئی نئی چیزوں کی ایجادہے۔ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ
آل عمران – 102
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔
اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اورہمیشہ اس سےڈرتے رہو۔موت کو فراموش کرتے ہوئے لمبی زندگی کے فریب کا شکار نہ بنو اور نہ ہی دنیا پر اعتبار و بھروسہ کرو کیونکہ یہ فنا اور زوال پزیر گھر سراسر فتنہ اور عبرت کا مقام ہے جبکہ آخرت لافانی ،دائمی اورمقام ِ جزا ء ہے۔جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ
آل عمران – 185
ہر جان موت کا مزه چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دیئے جاؤ گے، پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بے شک وه کامیاب ہوگیا، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے۔
اے لوگو! یہ موسم آب و ہوا کی تبدیلی اور سب و روز کے اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتا رہتا ہے اور موسم یکے بعد دیگرے گزرتے رہتے ہیں۔کبھی شدید سردی سے سخت گرمی ،دونوں موسم برابر اور معتدل ہوتے ہیں تو اس میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمت ہے اور اُس کے پاس ہر چیز انتہائی مناسب مقدار میں ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
البقرۃ – 164
آسمانوں اور زمین کی پیدائش، رات دن کا ہیر پھیر، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیزوں کو لئے ہوئے سمندروں میں چلنا، آسمان سے پانی اتار کر، مرده زمین کو زنده کردینا، اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلا دینا، ہواؤں کے رخ بدلنا، اور بادل، جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں، ان میں عقلمندوں کے لئے قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں۔
اے مسلمانو! بلاشبہ یہ بھڑکیلی گرمی کی حدت و تپش اور جھلسادینے والی بادِ سمو کی گرم لہریں اللہ تعالیٰ کے اس عذاب ِ جہنم کے بارے میں کسی ظاہر کی بہت بڑی تنبیہ اور کسی دھمکانے والے کی مؤثر ترین نصیحت ہے۔جس جہنم کی آگ اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی اور دلوں تک پہنچنے والی ہے۔جس کی چنگاریاں بڑے بڑے محلات اور سرخ اونٹوں کی مانند ہوں گی۔اور بلاشبہ وہ منہ اور سر کی کھال کو ادھیڑ دینے والے شعلے ہیں اور وہ آگ ہر اُس شخص کو پکارے گی جس نے پیٹ پھیری اور منہ موڑ لیا، مال کو جمع کیا اور اُسے بند رکھا۔ بے شک وہ شدید گرم ہوا اور کھولتا ہواگرم پانی اور سیاہ دھوئے کے ایسے بادل اور ان کے سائے ہیں جو نہ ٹھنڈے ہوں گے اور نہ ہی فرحت بخش۔
اللہ کے بندو! گرمی کی شدد ت بلا شبہ جہنم کی آگ کانتیجہ ہے۔ جیسا کہ جناب ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہنم نے اپنے رب کےسامنے شکوا کرتے ہوئے کہا:”اے میرے رب! میرے ہی بعض حصے نے بعض کو کھالیا۔”۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُسے دو سانس لینے کی اجازت دیدی۔ایک سانس سردی میں اور ایک گرمی میں ۔چنانچہ جو تم شدیدسردی اور شدید گرمی محسوس کرتے ہو وہ اسی باعث ہے۔متفق علیہ
اسی طرح جناب ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہےآپ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے جب مؤذن نے ظہر کی اذان دینا چاہی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ذرا ٹھنڈ ہونے دو ۔پھر مؤذن نے اذان دینا چاہی تو آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ذرا ٹھنڈ ہونے دو۔یہاں تک کہ ہم نے تینوں کا سایہ دیکھ لیا۔چنانچے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: گرمی کی یہ شددت بلاشبہ جہنم کی آگ کی بھانپ سے پیدا ہوتی ہے۔لہٰذا جب گرمی شدید ہوتو نماز کو قدرے ٹھنڈ میں ادا کیا کرو۔صحیح بخاری
اے اللہ کے بندو! آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی کیونہ ہو۔ اللہ کی قسم ! ہم میں سے کسی میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ دنیا کی آگ سے بچ سکے تو پھر جہنم کی آگ کو کیسے برداشت کرسکتا ہے۔
جیسا کہ ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تمہاری یہ آگ جسے اذنِ عدم جلاتا ہے یہ نار جہنم کی گرمی کے ستر حصو ں میں سے ایک حصہ ہے۔ تو لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ جلانے کےلیے تو یہ دنیا کی آگ ہی کافی تھی۔تو آپ ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ وہ جہنم کی آگ تو ایک دنیاوی آگ سے بھی انہتھر درجےزیادہ ہےاور وہ سب کےسب اسی طرح گر م ہیں۔صحیح مسلم
اے اللہ کےبندو! موسم ِ گرما کی یہ شدید گرمی یقیناً ایک ایسی مؤثر ترین عبرت و واعظ ہے جو قیامت کی بے چینی ،خوف و ہراس اور بڑی ہولناکیوں کی یاد دلاتی ہے۔جب ننگے پاؤں ،ننگے بندں ،بغیر ختنے کے لوگوں کو بھاگتے ہوئے اپنے رب کی طرف اکھٹا کیا جائےگا گویا کہ وہ کسی گاڑھے ہوئے انسان کی طرف دوڑے چلے جارہے ہیں۔ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی ذلت اُن پر چھائی ہوگی۔یہی وہ دن ہےکہ جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔لیکن یہ دن بہت بڑے مصائب ،ابتلاء اور پریشانی والا ہوگا۔سورج مخلوق کے سروں کے بالکل نزدیک ہوگا۔شدید گرمی اور سخت بھیڑ ہوگی۔طویل انتظار اور بولنا دشوار ہوگا۔
جیسا کہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺفرماتے تھے : قیامت کے دن سورج کو مخلوق کے قریب کردیا جائےگاگویا کہ وہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر ہو ،لوگوں کو حسب ِ اعمال پسینہ ہوگا۔چنانچہ بعض کے ٹخنو تک اور بعض کے گٹھنو تک اور بعض کے ازارباند ھ تک پسینہ ہوگا۔جبکہ بعض کو تو پسینے کی لگام ہوگی۔اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اپنے چہرے کی طرف اشارہ کیا،یعنی منہ تک پسینہ ہوگا۔مسلم
اے وہ شخص جو سورج کا سامنا کرنے یا غبار آلود ہونے کے وقت ملامت و پریشانی سےڈرتا اور ہمیشہ خندہ رو رہنے کےلئے سایہ ڈھونڈتا ہے ۔سو یاد رکھ ! عنقریب ایک نہ ایک دن تمہیں قبر میں رہنا ہی پڑے گا۔ تاریک ،خاک آلود اورویران سائے کے نیچے دیر تک مٹی کی آغوش میں مٹی کے نیچے ہی ٹھہرنا پڑےگا۔
اے جان ! یاد رکھ تجھے فضول پیدا نہیں کیا گیا لہٰذا مرنے سے پہلے اس مذکورہ مرحلے تک پہنچنے کےلئے تیار ہوجا۔
اے اقوام ِ مسلم! دنیا چند دن کی زندگی ،ڈھل جانے والا سایہ اور ختم ہوجانے والی نعمتیں ہیں۔
إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ حَتَّىٰ إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا أَتَاهَا أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَاهَا حَصِيدًا كَأَن لَّمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
یونس – 24
پس دنیاوی زندگی کی حالت تو ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کی نباتات، جن کو آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں، خوب گنجان ہوکر نکلی۔ یہاں تک کہ جب وه زمین اپنی رونق کا پورا حصہ لے چکی اور اس کی خوب زیبائش ہوگئی اور اس کے مالکوں نے سمجھ لیا کہ اب ہم اس پر بالکل قابض ہوچکے تو دن میں یا رات میں اس پر ہماری طرف سے کوئی حکم (عذاب) آپڑا سو ہم نے اس کو ایسا صاف کردیا کہ گویا کل وه موجود ہی نہ تھی۔ ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے جو سوچتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے لئے قرآن کریم کو بابرکت اور اس کی آیات اور ذکر حکیم کو نفع بخش بنائے۔ اسی پر اکتفا کرتے ہوئےاپنے تمہارے اور تمام مسلمانوں کےلئے اللہ عظیم و جلیل سے تمام گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہوں تو تم بھی اُسی سے بخشش طلب کرو بلا شبہ وہ بڑا غفور رحیم ہے۔
دوسرا خطبہ:
تمام تعریفیں اللہ وحدہ لاشریک کےلئے ہیں جو فریادیوں کا فریاد رسا ،مجبوروں کا پکار سننے والا ، مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبت کو دور کرنے والا ،تمام لوگوں کو نعمتیں فراہم کرنے والااور کرہ ارض پر بسنے والے ہر ذی روح کو روزی رزق دینے والا ہے جو اُن کےمقام سے آگاہ ہے یہ سب کچھ ایک واضح اور روشن کتاب میں محفوظ ہے۔
اے اللہ کے بندو! آج ہمیں جس شدید گرمی اور حرارت،جلتی بلتی لواور غبار آلود طوفانوں کی پریشانی کا سامنا ہے وہ ایک ایسا معاملہ ہے جو اُن کمزو ر اور بے بس لوگوں کی حالت پر غور و فکر کا باعث ہےجو اس میں مبتلا تو ہیں لیکن اس کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔تو تم ان کی کمزوری اور بے بسی پر ترس کھاؤ اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرواُن کو تسلی دو،ان کی مدد کرواور ان کا مکمل خیال رکھو۔بلاشبہ تمہارے کمزوروں کی وجہ سے ہی تمہاری مدد اور تم پر مہربانی کی جاتی ہے ۔ سو ان کی تکلیفوں اور پریشانیوں کو دور کرواور ان کے دکھوں اور غموں کو ہلکا کرو۔
فرمانِ نبویﷺ ہے کہ: جس نے کسی مومن کی دنیامیں پریشانی کو دور کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی کو دور کردےگا۔اور جس نے کسی تنگ دست کو خوشحال کیا تو اللہ تعالیٰ اُسے دارین کی خوشحالی عطافرمادےگا۔اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ اُس کی دنیا و آخرت کی پردہ پوشی کرےگا۔اور جب تک بندہ اپنے کسی مسلمانی بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے تب تک اللہ تعالیٰ اُس کی مدد میں لگا رہتا ہے ۔
اے اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ کو قرض ِ حسنہ دو ، وہ تمہارے لئے اُسے دگنا کردےگا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا۔ تو کون ہے وہ خوش نصیب جو اللہ تعالیٰ کو قرضِ حسنہ دے اور وہ اسے کئی گنا زیادہ بڑھادے ۔تو جو خیر و بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجتے ہو اُسے اللہ تعالیٰ کے ہاں پاؤ گے۔کیونکہ وہ بہت بہتر بدلہ دینے والا ہے ۔
جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اُس کا کچھ قرض معاف کیا تو اللہ تعالیٰ اُسے قیامت کے دن عظیم سائے سے نوازے گا۔ جیسا کہ ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی تنگ دست کو قرض دیا یا اُس کا کچھ قرض معاف کردیا تو اللہ تعالیٰ اُسے عرش کے سائےکےنیچے جگہ دےگا،جس دن اُس کے سائے کےعلاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔سنن ترمذی
اے لوگو! شدتِ گرمی کےباعث کسی مسلمان سے ڈھیل اورسُستی قبول نہ کی جائےگی کہ وہ عبادت و عمل سے رک جائے یا نماز باجماعت پڑھنا چھوڑدے بلکہ اس مشقت میں اجر و ثواب کی امید بھی بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ اجر بھی بہت زیادہ ہوتاہے۔ اور جنت بھی ناگوار چیزوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔تلخیوں ،تنگیوں اوربیماریوں کے انجام ہمیشہ اختبار اور آزمائش کی گھڑیاں ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے موت و حیات کو پیدا کیاتاکہ تمہیں آزمائےکہ تم میں سے سب سے اچھے عمل والا کون ہے ۔سو وقت کے ختم ہونے سے پہلے پہلے اچھے کام کرلو۔جس کا دل مسجدوں سے جڑا ہوگا اللہ تعالیٰ اُسے روزِ قیامت عظیم سایہ عطا کرے گا۔
جیسا کہ ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: سات آدمی ایسے ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ اُس دن اپنے عرش کا عظیم سایہ عطا کرے گاجس دن اُس کے سائے کے سواکوئی سایہ نہ ہوگا۔عادل حکمران اور وہ نوجوان جس نے اپنے رب کی عبادت میں پرورش پائی اور وہ آدمی جس کا دل ہمیشہ مسجدوں سے جڑا رہتا ہو اور وہ دو آدمی جو اللہ کے لئے محبت کرتے ہوں ،اُسی کی وجہ اکھٹے اور اُسی کی وجہ سے جدا ہوں ،اور وہ آدمی جسے کوئی حسین و جمیل ،بلند پایہ خاتون بُرائی کی دعوت دے اور وہ کہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ،اور وہ آدمی جس نے اللہ کے لئے صدقہ کیا اور اُسے اس قدر چھپایا کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہونے دی کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا، اور وہ آدمی جس نے خلوت و تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اُس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔متفق علیہ
اے اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات پر اس کی حمد بجالاؤ ۔ وہ جس نے تم پر اپنے ظاہری و باطنی نعمتیں نچھا ور کیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ
النحل – 18
اور فرمایا:
وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ
المائدۃ – 7
تم پر اللہ تعالیٰ کی جو نعمتیں نازل ہوئی ہیں انہیں یاد رکھو۔
اور فرمایا:
وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ
النحل – 53
تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اسی کی دی ہوئی ہیں ۔
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارےلئے پہاڑوں میں غار بنائے اور اُسی نے تمہارے لئے کرتے بنائے جو تمہیں گرمی سے بچائیں اور ایسے کرتے بھی جو لڑائی میں تمہارے کام آئیں۔ اور اُسی نے تمہیں سائے فراہم کئے اور تمہارے لئے بجلی کی نعمت ،ائیرکنڈیشنر اور ایسے دوسرے آلات و اداوات کو مسخر کردیا ۔ سو تم ان تمام نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرواور ان کے استعمال میں اصراف و حماقت کے بجائے میانہ روی اور بچت کو اختیار کر نا بھی اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے۔نعمتیں ہمیشہ شکرگزاری سے برقرار رہتی ہیں اور ناشکری سے چھن جاتی ہیں۔جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ
ابراھیم – 7
اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاه کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیاده دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔
اے اللہ ! تو ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار بنادے ۔ اے اللہ ! تو ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار بنادے ۔
اے اللہ ! تمام حمد و شکر تیرے لئے ہے،ہم تجھ سے تیری نعمتوں پر شکر گزاری کی توفیق مانگتے ہیں۔
اے اللہ ! اسلام اور اہلِ اسلام کو عزت عطا فرما۔
اے اللہ ! اپنے توحید پرست بندوں کی مدد فرما۔
اے اللہ ! اس ملک کو اور دیگر تمام مسلمان ممالک کو امن و امان کا گہوارہ بنا۔
اے اللہ ! ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما، اور ہمارے خادم حرمین شریفین کے خادم کو اچھے کامو ں کی توفیق عطا فرما اور اُن کے نائب کو بھی اپنی رضا اور اچھے کامو ں کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ ! ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما اور ہماری افواج کی مدد فرمااور انہیں صبر و تحمل عطا فرما۔اے قوی و عزیز۔
اےا للہ ! ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرمااور عذاب ِ قبر سے محفوظ فرما۔ اے اللہ کے بندو! اس ہستی پر صلوٰۃ و سلام بھیجو جس پر صلٰوۃ و سلام بھیجنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیتے ہوئے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
الاحزاب – 56
اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔
اے اللہ ! تو اپنے رسول محمد ﷺ پر اُسی طرح رحمتیں برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراھیم علیہ السلام اور ان کی آل اولاد پر رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائیں۔
اے اللہ ! تو ہدایت کے آئمہ خلفا راشدین ، دیگر تمام صحابہ تابعین و تبع تابعین او ر اُن کے ساتھ ساتھ ہم اور دیگر تمام مسلمانوں سے راضی ہوجا۔
خطبة الجمعة مسجد نبوي، خطیب: فضیلة الشیخ عبداللہ البعیجان (حفظه اللہ تعالٰی)
بتاریخ: تاریخ 15 ذوالقعدة 1442هـ بمطابق 25 جون 2021۔