سیرت ومناقب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ از مصادر شیعہ واہل السنہ

18 ذوالحجہ خلیفہ سوم، داماد رسول ﷺ حضرت عثمان بن عفان ذو النورین رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت ہے۔اس مناسبت سے ان کے مقام ومرتبہ، خصوصی امتیازات اور احادیث کی روشنی میں خصوصی وعمومی فضائل ومناقب مثلاً آپ کی عفت و پاکدامنی، اسلام اور ہجرت حبشہ، ذوالنورین، ذوالہجرتین، کثرت سے انفاق فی سبیل اللہ، صلح حدیبیہ کے موقع پر سفیر، امت میں سب سے زیادہ حیادار شخص، ایک مصحف پر پوری امت کو اکھٹا کرنا، صبروتحمل، کثرت سے غلام آزاد کرنا، حکومت کی تعمیر وترقی میں اقتصادی تعاون، فتوحات، وغیرہ کو اجاگر کرنے کے لیے یہ چند سطور قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں۔

نام ونسب :

خلیفہ سوم امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا نام و نسب اس طرح ہے:

عثمان بن عفان بن ابوالعاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لوی بن غالب ۔(الاصابة لابن حجر العسقلانی ج:2،ص: 462)

خاندان :

آپ کا تعلق بنو امیہ سے تھاوہ قریش قبیلہ سے ہی تعلق رکھتے تھے،نبی کریم ﷺ سے آپ کا سلسلۂ نسب آپ کے پردادا عبدمناف سے مل جاتا ہے۔ (الاصابة لابن حجر العسقلانی ج:2ص:462، والطبقات الکبریٰ لابن سعد،ج:3 ص: 40 )

والده ماجده :

آپ کی والدہ کا نام اروی’ بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمش ہے اور آپ کی نانی کا نام ام حکیم البیضاء بنت عبدالمطلب تھا یہ اللہ کے رسول ﷺ کی سگی پھوپھی تھیں اور اللہ کے رسول ﷺ کے والد عبداللہ کی جڑواں بہن تھیں،اس طرح عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی سگی پھوپھی کے نواسے تھے۔ (تاریخ الخلفاء ،ج 1ص:147)

ولادت :

صحیح قول کے مطابق سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ واقعہ فیل کے چھٹے سال یعنی ہجرت نبوی سے 47  برس قبل مکہ میں پیدا ہوئے۔)الاصابة لابن حجر العسقلانی ج:2ص:462)

کنیت :

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی کنیت جاہلیت میں ابوعمرو تھی،لیکن جب اسلام لائے اور حضرت رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ سے شادی ہوئی تو حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے عبداللہ پیدا ہوئے اس وقت آپ کی کنیت ابو عبداللہ ہوگئی، جب عبداللہ چھ سال کے ہوئے تو ایک مرغ نے ان کی دونوں آنکھوں میں چونچ مار دی جس کی وجہ سے عبداللہ بیمار ہوکر جمادی الاولی’ 4/ہجری میں انتقال کرگئے نبی کریم ﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کی قبر میں اترے)۔ الطبقات الکبریٰ لابن سعد،ج3 ص: 39)

لقب :

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ذی النورین (دو نور والے) کے لقب سے ملقب کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی دو صاحبزادیاں حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا یکے بعد دیگرے آپ کی زوجیت میں رہیں۔ پہلے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شادی تین 3/ہجری حضرت ام کلثوم بنت رسول اللہ ﷺ سے ہوئی ، یہ نو 9/ ہجری میں نبی کریم ﷺ کی زندگی ہی میں فوت ہوگئیں،ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی اس خصوصیت میں شریک نہیں کہ اس نے کسی نبی کی دو بیٹیوں سے شادی کی ہو۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد،ج3 ص: 41)

قبول اسلام:

حضرت عثمان رضی اللہ چونتیس برس کی عمر میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کوشش کی بدولت اسلام قبول کیا ۔ اسلام قبول کرنے میں ان کا چوتھا نمبر تھا ۔ (أسد الغابة،ج ۳،ص: ۴۸۱) 

آپ سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق،سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم اسلام لا چکے تھے۔(تاریخ الخلفاء ج:01 ، ص:150،وطبقات ابن سعد، ج۳، ص :۵۵ )

آپ سابقین اولین میں سے ہیں جن لوگوں نے دین کی خاطر جانفشانی کی اور دین اسلام کی مدد کے لئے کھڑے ہوئے ان میں آپ کو سبقت لے جانے کا شرف حاصل ہوا۔)لاصابة ، ج:2ص:462)

سیرت ومناقب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ از مصادر شیعہ

رسول اللہ ﷺ کاحضرت عثمان ؓ کے بارے میں موقف

شیعہ مؤلف شیخ صدوق اپنی کتاب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:  ’’ ابوبکر ؓ میرے میرے نزدیک کان کی طرح ، عمر ؓ میرے نزدیک آنکھ کی طرح اورعثمان ؓ میرے نزدیک دل کی طرح ہے‘‘۔ (عیون أخبار الرضا ، ج  1 ، ص: 303 مطبوعہ تہران )

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا موقف

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ (عثمانؓ) کے پاس آئے اور کہا : میرے پیچھے آنے والے لوگ میرے اور آپ کے درمیان کی بات پوچھ رہے ہیں ۔ بخدا میں نہیں جانتا کہ میں آپ سے کیا کہوں ! مجھے ایسی کوئی چیز معلوم نہیں جسے آپ نہ جانتے ہوں ۔ نہ میں آپ کو ایسی بات بتا سکتا ہوں جو آپ کے علم میں نہ ہو ، جو ہم جانتے ہیں وہ آپ بھی جانتے ہیں ، ہم نے آپ سے کوئی سبقت حاصل نہیں کی کہ اس کے بارے میں آپ کو بتائیں ۔ خلوت میں ہم نے جو کچھ دیکھا ، سنا آپ تک پہنچا دیا ، آپ بھی ویسا ہی دیکھتے ہیں جیسا ہم دیکھتے ہیں ، ویسا ہی سنتے ہیں جیسا ہم سنتے ہیں ، آپ بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اسی طرح رہے  جیسے ہم رہے ۔ ابن ابی قحافہ اور ابن خطاب کے عمل آپ سے بڑھ کر نہیں ۔ آپ میرے والد اور رسول اللہ ﷺ کے سب سے زیادہ قریب تھے ۔ آپ قرابت ورشتہ داری میں ان دونوں سے زیادہ قریب ہیں ۔ آپ رسول اللہ کے داماد ہیں۔ یہ وہ شرف ہے جو ان دونوں کو حاصل نہیں تھا۔ خدا کے لیے ، اپنی جان پر رحم کیجیے ، آپ اندھے کو دکھا نہیں سکتے ، جاہل کو سکھا نہیں سکتے‘‘ ۔ ( نہج البلاغة ، ص: 2340  ، تحقیق صبحي صالح )

امام جعفر بن باقر کا موقف

شیعہ کے چھٹے امام معصوم جعفر بن باقر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں:

دن کی ابتداء میں آسمان سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ متوجہ ہوجاؤ ، علی صلوات اللہ علیہ اور ان کا گروہ ہی کامیاب ہونے والے ہیں اور دن کی انتہا مین ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ عثمان ؓ اور ان کا گروہ ہی کامیاب ہونے والے ہیں۔ (الکافی فی الفروع ، ج 8 ، ص :209 )

امام جعفر صادق رحمہ اللہ کی تائید

شیعوں کے امام جعفر صادق بھی واقعہ بیعت رضوان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :

’’ پھر رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں سے بیعت لی اور اپنے ایک ہاتھ کو عثمان ؓ کی طرف سے دوسرے ہاتھ پرمارا ‘‘۔ ( کتاب الروضة من الکافي ، ج8  ، ص: 326.325)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا موقف

رسول اللہ ﷺ اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ ابو عمرو ( عثمان رضی اللہ عنہ) پر رحم کرے، آپ سب سے کریم مددگار اور سب سے افضل بزرگ و پرہیزگار تھے۔ راتوں کو جاگ کر عبادت کرنے والے تھے، دوزخ کا ذکر ہوتا تو آپ بہت رونے اور آنسو بہانے والے تھے، نیکی و اچھائی کے کام میں چست اور ہر عطاؤ بخشش میں سب سے آگے تھے، بڑے پیارے، وفادار تھے، آپ رضی اللہ عنہ ہی نے جیشِ عسرہ کو سازو سامان دیا۔ رسول اللہ ﷺ کے داماد تھے۔ ( تاریخ  المسعودی ، ج2، ص: 51، ناسخ التواریخ ، ج5 ، ص: 142 ۔ مطبوعه تہران )

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حضرت عثمان ؓکی بیعت

حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کو برحق اور درست سمجھتے تھے چنانچہ آپ ؓ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے میں کسی قسم کا تامل کا اظہار نہیں کیا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ خود یہ اقرار کر تےہوئے کہتے ہیں :

فبايعت أبا بكر كما بايعتموه ، وكرهت أن أشق عصا المسلمين ، وأن أفرق بين جماعتهم ، ثم أن أبا بكر جعلها لعمر من بعده فبايعت عمر كما بايعتموه ، فوفيت له ببيعته حتى لما قتل جعلني سادس ستة ، فدخلت حيث أدخلني ، وكرهت أن أفرق جماعة المسلمين وأشق عصاهم ، فبايعتم عثمان فبايعته ، ثم طعنتم على عثمان فقتلتموه ، وأنا جالس في بيتي ، ثم أتيتموني غير داع لكم ولا مستكره لاحد منكم ، فبايعتموني كما بايعتم أبا بكر وعمر وعثمان

’’ جب آپ ؓ کو (یعنی عمر فاروقؓ کو) شہید کر دیا گیا تو میں چھ میں سے چھٹا آدمی تھا ۔ میں اسی طرح اس کمیٹی میں شامل ہوگیا جس طرح انہوں نے چاہا۔ مجھے گوارا نہیں تھا کہ میں مسلمانوں کی جماعت میں تفریق ڈال کر انہیں کمزور کردوں ۔ چنانچہ تم نے بھی عثمان ؓ کی بیعت کی اور میں نے بھی ان کی بیعت کی‘‘۔ (الأمالی، للطوسی ، ج 2 ، ص:121، مطبوعہ نجف)

خونِ عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ

شیعہ مؤلف ملا باقر مجلسی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :

’’ جب رسول اللہ ﷺ کے پاس یہ خبر پہنچی کہ مشرکین نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں یہاں سے اس وقت تک نہیں ٹلوں گا جب تک کہ ان مشرکوں کو قتل نہ کردوں ، جنہوں نے عثمان ؓکو قتل کیا ہے ۔ آپ ﷺ نے ایک درخت کے ساتھ ٹیگ لگائی اور عثمان کے لیے بیعت لینا شروع کی ‘‘ ۔( حیاة القلوب ، ملا باقر مجلسی ، ج 2 ، ص:424  ، مطبوعہ تہران )

حضرت عثمان ؓ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے گواہ

شیعہ کی معروف کتابوں میں یہ صراحت ہے کہ نبی کریم ﷺنے علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے گواہوں میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی گواہ بنایا تھا۔  چنانچہ حضرت  انس رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق نبی کریم ﷺنے فرمایا: ’’جاؤ اور ابوبکررضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلا لاؤ … اور اتنے ہی آدمی انصار میں سے بلا كر لاؤ، چنانچہ میں گیا اور ان کو بلا لایا۔ جب سب حضرات اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے تو آپ ﷺنےسب کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے چار سو مثقال چاندی کے عوض کردیا ہے‘‘ ۔  (کشف الغمة، ج1ص: 358 ، بحارالانوار‘‘ للمجلسی، ج 10 ص: 38)

حضرت عثمان ؓکاحضرت علی ؓکی شادی کے لیے تعاون

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے  ہمیشہ کی طرح سخاوت وفیاضی اور ایثار ومحبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شادی کے تمام اخراجات مہیا کیے، وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جنہیں شیعہ حضرات اپنا  پہلا امام معصوم مانتے ہیں اور سب نبیوں، رسولوں اور اللہ کے مقرب فرشتوں سے بھی افضل و برتر سمجھتے ہیں ، جیسا کہ شیعہ کی مشہور کتب کے اندر موجود ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے رسول اللہ ﷺ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اپنی زرہ بیچ دو اور اس کی قیمت میرے پاس لے آؤ تاکہ میں تمہارے اور اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے (ایسا سامان وغیرہ) تیار کروں جو تم دونوں کے لیے اچھا رہے،  جناب علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

’’ میں نے اپنی زرہ اٹھائی اور اسے بیچنے کے لیے بازار کی طرف چل نکلا۔ وہ زرہ میں نے چار سو درہم کے عوض عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بیچ ڈالی۔ جب میں نے آپ سے درہم لے لیے اور آپ نے مجھ سے زرہ لے لی تو آپ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے بوالحسن !کیا اب میں زرہ کا حقدار اور تم درہم کے حق دار نہیں ہو؟ میں نے کہا: ہاں کیوں نہیں۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر یہ زرہ میری طرف سے آپ کو ہدیہ ہے، میں نے زرہ بھی لے لی اور درہم بھی لے لیے اور نبی ﷺ کے پاس آگیا۔ میں نے زرہ اور درہم دونوں چیزیں آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیں اور آپ ﷺ کو بتایا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے میرے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے دعائے خیر کی‘‘۔ (کشف الغمة، للأربلی ج 1 ص: 359 ’’بحارالأنوار‘‘ للمجلسی، ص: 39 ، 40 ۔ مطبوعه ایران۔)

حضرت عثمان ؓ نبی ﷺ کے دو بیٹیوں کے شوہر

حضرت عثمان رضی  اللہ عنہ کے لیے یہی فخر بہت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو وہ شرف و اعزاز ملا، جو پوری کائنات میں سے کسی کو نہیں ملا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی دو بیٹیوں کی شادیاں آپ رضی اللہ عنہ سے کیں۔ پوری تاریخ انسانی میں اس کی مثال ڈھونڈے سے نہ ملے گی۔ چنانچہ پہلے رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں حکم الہی سے اپنی بیٹی رقیہ رضی اللہ عنہا کی شادی آپ رضی اللہ عنہ سے کردی ، رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنی دوسری بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی بھی آپ رضی اللہ عنہ سے کردی۔ شیعہ حضرات کے علماء بھی ان شادیوں کے معترف ہیں۔  چنانچہ شیعہ مؤلف ملا باقرمجلسی اپنی کتاب ’’حیات القلوب‘‘ میں لکھتے ہیں :

سیرت ومناقب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ از مصادر اہلسنت

امت میں سب سے زیادہ حیاء دار

عَنْ أَبِيْ مُوْسَي قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم کَانَ قَاعِداً فِيمَکَانٍ فِيْهِ مَاءٌ، قَدِ انْکَشَفَ عَنْ رُکْبَتَيْهِ، أَوْ رُکْبَتِهِ، فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ غَطَّاهَا.

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ ایسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ جہاں پانی تھا اور (ٹانگیں پانی میں ہونے کے باعث) آپ ﷺ کے دونوں گھٹنوں سے یا ایک گھٹنے سے کپڑا ہٹا ہوا تھا، پس جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے اسے ڈھانپ لیا۔ (صحیح البخاری:3492)

فرشتے بھی عثمان  رضی اللہ عنہ سے حیاء کرتے ہیں

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا:

أَلاَ أَسْتَحْيِيْ مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْيِيْ مِنْهُ الْمَلَائِکَةُ.

میں اس شخص سے کیسے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔‘‘( صحیح مسلم: 2401)

خلافت کی پیشین گوئی:

حضرت ابوبکرہ﷜ سے روایت ہے کہرسول اللہ ﷺ نے ایک دن صحابہ سے پوچھا کہ کیا آج کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ تو ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ:

يا رسولَ اللهِ رأيتُ كأنَّ مِيزانًا دُلِّي مِنَ السماءِ فَوُزِنْتَ فيه أنت وأبوبكرٍ فَرَجَحْتَ بأبي بكرٍ ثم وُزِنَ فيه أبوبكرٍ وعمرُ فَرَجَحَ أبو بكرٍ بعمرَ ثم وُزِنَ فيه عمرُ وعثمانُ فَرَجَحَ عمرُ بعثمانَ ثم رُفِعَ الميزانُ فاسْتآلهَا يعني تَأَوَّلَها ثم قال : خِلافَةُ نُبُوَّةٍ ثم يُؤتِي اللهُ الملكَ مَنْ يَشاءُ

گویا ایک ترازو آسمان سے اتری اور آپ ﷺ اور ابوبکر تو لے گئے تو آپ کا وزن زیادہ رہا، ابوبکرو عمر تولے گئے تو ابوبکرکا وزن زیادہ رہا، اور عمراورعثمان تولے گئے تو عمرکا وزن زیادہ رہا، پھر وہ ترازو اٹھالی گئی۔ اس خواب کو سن کر رسول اللہ ﷺ رنجیدہ ہوئے اور خواب كی تاویل كرتے هوئے فرمایا : یہ خلافت نبویہ ہے، اس کے بعد اللہ جس کو چاہے گا بادشاہت عطا فرمائے گا۔(صحيح أبي داود: 4634، صححه الألباني في تخريج كتاب السنة: 1135)

شہادت کی پیشین گوئی:

نبی ﷺ نے حضرت عثمان کو شهادت كی پشین گوئی دی، حضرت انس سے روایت ہے کہ:

 أنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا، وأَبُو بَكْرٍ، وعُمَرُ، وعُثْمَانُ، فَرَجَفَ بهِمْ، فَقَالَ: اثْبُتْ أُحُدُ؛ فإنَّما عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وصِدِّيقٌ، وشَهِيدَانِ.

 كہ نبی كریم ﷺ اُحُد پهاڑ پر چڑھے اور آپ ﷺ کےساتھ ابوبکر،عمراورعثمان رضی اللہ عنہم تھے،پہاڑ ہلنے لگا تو آپ ﷺ نےاپنے پاؤں سے اس کو اشارہ کیا،اور فرمایا: ’’اے احُد ٹھہر جا ، تیرے اوپر ایک نبی اور ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔(صحيح البخاري: 3675)

جنت کی بشارت:

أنَّ النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ دَخَلَ حائِطًا وأَمَرَنِي بحِفْظِ بابِ الحائِطِ، فَجاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ، فقالَ: ائْذَنْ له وبَشِّرْهُ بالجَنَّةِ، فإذا أبو بَكْرٍ ثُمَّ جاءَ آخَرُ يَسْتَأْذِنُ، فقالَ: ائْذَنْ له وبَشِّرْهُ بالجَنَّةِ، فإذا عُمَرُ، ثُمَّ جاءَ آخَرُ يَسْتَأْذِنُ فَسَكَتَ هُنَيْهَةً ثُمَّ قالَ: ائْذَنْ له وبَشِّرْهُ بالجَنَّةِ علَى بَلْوَى سَتُصِيبُهُ، فإذا عُثْمانُ بنُ عَفّانَ

حضرت ابو موسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺایک باغ (بئراریس)  کے اندر تشریف لے گئے اور مجھ سے فرمایا کہ میں دروازہ پر پہرہ دیتا رہوں۔ پھر ایک صاحب آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دو، وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر دوسرے ایک اور صاحب آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری سنا دو، وہ عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر تیسرے ایک اور صاحب آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم ﷺ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے پھر فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اورجنت کی بشارت بھی سنا دو اور یہ بھی بتا دو کہ وہ (دنیا میں) ایک آزمائش سے گزریں گے ، جب داخل ہوئے تو وہ شخص عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔(صحيح البخاري: 3695)

جنت میں رفاقت کی بشارت

 حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لئے  نبی کریم ﷺ نےجنت میں رفاقت کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا:

ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ قَالَ : فَجَلَسَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : افْتَحْ وَ بَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَي بَلْوٰی تَکُوْنُ قَالَ : فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَالَ : فَفَتَحْتُ وَ بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ : وَ قُلْتُ الَّذِيْ قَالَ : فَقَالَ : اَللَّهُمَّ! صَبْرًا أَوِ اﷲُ الْمُسْتَعَانُ

پھر ایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا، حضور نبی اکرم ﷺبیٹھ گئے اور فرمایا دروازہ کھول دو اور اس کو مصائب و آلام کے ساتھ جنت کی بشارت دے دو، تو وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، میں نے دروازہ کھولا اور ان کو جنت کی بشارت دے دی اور جو کچھ نبی کریم ﷺنے فرمایا تھا وہ کہہ دیا، حضرت عثمان نے کہا : اے اللہ! صبر عطا فرما، یا فرمایا اللہ ہی مستعان ہے۔(صحیح البخاري : 3490)

عفت و پاکدامنی:

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قریش مکہ کے درمیان زندگی گزاری جو کہ بتوں کی پرستش کرتے تھے لیکن شرک وبت پرستی کی گندگی و خباثت سے اپنے آپ کو دور رکھا۔ چنانچہ جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بلوائیوں کو اپنے قتل کی باتیں کرتے سنا تو فرمایا:

’’  إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونِي بِالْقَتْلِ فَلِمَ يَقْتُلُونِي وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏  لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ:‏‏‏‏ رَجُلٌ زَنَى وَهُوَ مُحْصَنٌ فَرُجِمَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ رَجُلٌ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ رَجُلٌ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ ، ‏‏‏‏‏‏فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا فِي إِسْلَامٍ وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا مُسْلِمَةً وَلَا ارْتَدَدْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ.‘‘

’’یہ لوگ مجھے قتل کی دھمکی دے رہے ہیں، آخر یہ میرا قتل کیوں کریں گے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: کسی مسلمان کا قتل تین باتوں میں سے کسی ایک کے بغیر حلال نہیں: ایک ایسا شخص جو شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کرے، تو اسے رجم کیا جائے گا، دوسرا وہ شخص جو کسی مسلمان کو ناحق قتل کر دے، تیسرا وہ شخص جو اسلام قبول کرنے کے بعد اس سے پھر جائے (مرتد ہو جائے) ، اللہ کی قسم میں نے نہ کبھی جاہلیت میں زنا کیا، اور نہ اسلام میں، نہ میں نے کسی مسلمان کو قتل کیا، اور نہ ہی اسلام لانے کے بعد ارتداد کا شکار ہوا‘‘۔ (سنن ابن ماجة :  2533 وسنده صحیح ، فضائل الصحابہ للامام احمد بن حنبل رحمہ اللہ، رقم الحدیث :755، باسناد صحیح،)

یہ عثمان رضی الله عنہ کا ہاتھ ہے

حضور نبی اکرم ﷺ نےبیعت رضوان کے موقع پر اپنے ہاتھ کو عثمان غنی کا ہاتھ قرار دیتے ہوئے فرمایاکہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے ۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالکٍ، قَالَ : لَمَّا أَمَرَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم بِبَيْعَةِ الرِّضْوَانِ کَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إِلٰي أَهْلِ مَکَّّةَ، قَالَ : فَبَايَعَ النَّاسُ، قَالَ : فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إنَّ عُثْمَانَ فِيْ حَاجَةِ اﷲِ وَحَاجَةِ رَسُوْلِهِ. فَضَرَبَ بِإِحْدَي يَدَيْهِ عَلٰي الْأُخْرَي، فَکَانَتْ يَدُ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِعُثْمَانَ خَيْراًِ منْ أَيْدِيْهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور نبی اکرم ﷺ نے بیعت رضوان کا حکم دیا تو اس وقت حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سفیر بن کر مکہ والوں کے پاس گئے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ پس حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عثمان اﷲ اور اس کے رسول کے کام میں مصروف ہے۔ یہ فرما کر آپ ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا ، حضرت عثمان کے لئے نبی کریم ﷺ کا دست مبارک لوگوں کے اپنے ہاتھوں سے (کئی گنا) اچھا تھا۔‘‘( صحیح الترمذي: 3702)

نبی کریم ﷺ کا حضرت عثمان کی جانب سے بیعت:

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بیعت الرضوان کا حکم دیا تو حضرت عثما ن رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے قاصد بن کر مکہ گئے ہوئے تھے کہ لوگوں نے بیعت شروع کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

إِنَّ عُثْمَانَ فِىْ حَاجَةِ اللّٰهِ وَحَاجَةِ رَسُوْلِه فَضَرَبَ بِاِحْدىٰ يَدَيْهِ عَلَى الاُخْرىٰ فَكَانَتْ يَدُ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ لِعُثْمَانَ خَيْرًا مِنْ اَيْدِيْهِمْ لِاَنْفُسِهِمْ

بے شک عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں، پھر آپ ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا کہ یہ بیعت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سےہے پس رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ جو عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت کے لیے تھا لوگوں کے ہاتھوں سے بہتر تھا۔(صحیح الترمذی ،۴۰۶۷)

عثمان  رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والے کا جنازہ نہیں

عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أُتِيَ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم بِجَنَازَةِ رَجُلٍ لِيُصَلِيَّ عَلَيْهِ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ، فَقِيْلَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ صلي اﷲ عليک و سلم مَا رَأَيْنَاکَ تَرَکْتَ الصَّلَاةَ عَلٰي أَحَدٍ قَبْلَ هَذَا؟ قَالَ : إِنَّهُ کَانَ يُبْغِضُ عُثْمَانَ فَأَبْغَضَهُ اﷲُ.

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک جنازہ لایا گیا کہ آپ اس پر نماز پڑھیں مگر آپ نے اس پر نماز نہیں پڑھی عرض کیا گیا یا رسول اﷲ ﷺ ہم نے آپ کو کسی کی نمازِ جنازہ چھوڑتے نہیں دیکھا آپ ﷺ نے فرمایا : یہ عثمان سے بغض رکھتا تھا تو اﷲ نے بھی اس سے بغض رکھا ہے۔(صحیح الترمذي: 3709)

دو مرتبہ ہجرت

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کودو مرتبہ اللہ کے راستے میں ہجرت کی سعادت نصیب ہوئی۔ ایک دفعہ آپؓ نے اپنی اہلیہ حضرت رقیہؓ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی اور دوسری دفعہ نبی کریم ﷺ کے مدینہ منورہ  تشریف جانے کے بعد وہاں سے ہی آپؓ ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے۔

بئر رومہ كی خریداری

جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو بئر رومہ کے سوا وہاں میٹھا پانی نہیں تھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :

مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ، فَيَجْعَلُ دَلْوَهُ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ

’’ کوئی شخص بئر رومہ خرید کر اپنا ڈول بھی دوسرے مسلمانوں کے ڈولوں کے برابر قرار دے گا تو اسے اللہ تعالیٰ جنت میں اس سے بہتر عطا فرمائے گا ۔(صحيح النسائي 2/ 766)

دوسرے مقام پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

مَن حَفَرَ رُومَةَ فَلَهُ الجَنَّةُ

جو شخص بیئر رومہ کو کھودے گا اور اسے مسلمانوں کے لئے وقف کر دے گا تو اسے جنت کی بشارت ہے۔(صحيح البخاري: (2778)

بئررومہ ایک یہودی کا تھاجو اس کنویں کاپانی مسلمانوں کو بیچتا تھا، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما نے اسے بیس ہزار درہم میں یہودی سے خرید کر امیر، غریب اور مسافر سب کے لیے وقف کر دیا۔ ( تحفة الأحوذي: 10/ 190،  وفتح الباري، 5/ 408 )

جیش عسرہ کی تیاری

جنگ تبوک کا واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب مدینہ منورہ میں گرمی کا موسم پورے شباب پرتھا ،پھل اورفصلیں  پکنے کے قریب تھیں ، مسلمانوں کے پاس سرمایہ کی شدیدکمی تھی، اس پرصحراؤں  میں  طویل سفرکی صعوبتیں اورخوراک ،پانی اورسواریوں  کاانتظام سخت مشکل تھا،اوردنیاکی دوسب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک کا مقابلہ درپیش تھاجس کے پاس باقاعدہ اورسروسامان سے آراستہ فوج تھی ،جس سے نبرد آزما ہونا کوئی کھیل تماشا نہیں تھا،دعوت اسلام کے لئے یہ زندگی اورموت کی فیصلہ کن گھڑی تھی، رسول اللہ ﷺ نے ان تمام خطرات پردقت نظرسے غورفرماکرقوت وغیرت اور عزت والا راستہ اپنایا،اور دشمن کواپنی دہلیز تک لے آنے کے بجائے دشمن کے علاقہ میں دفاعی جنگ لڑنے کا فیصلہ فرمایا ، آپ ﷺ نے صحا بہ کرام رضی اللہ عنہم کو راہ اللہ اپنا مال خرچ کرنے کی رغبت اور صدقہ وخیرات کی فضیلت بیان کرتےہوئے فرمایا:

مَنْ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَلَهُ الْجَنَّةُ فَجَهَّزَهُ عُثْمَانُ

جو شخص جیش عسرۃ “غزوۂ تبوک کے لشکر” کو سامان سے لیس کرے اس کے لیے جنت ہے تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جیش عسرۃ “غزوۂ تبوک کے لشکر” کو سامان سے لیس کردیا ۔(صحيح البخاري : 2778)

ایک ہزار دینار کا صدقہ

رسول اللہ ﷺ کی ترغیب پر دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی والہانہ اندازسے جہادبالمال میں حصہ لیا،اور دین کی سربلندی کے لئے جیش عسرۃ (غزوۂ تبوک) میں اتنا  مال خرچ کیا جتنا کسی نے بھی خرچ نہیں کیا ۔) تاریخ الخلفاء ج: 1،ص:150)

چنانچہ حدیث پاک میں آتا ہے ، حضرت عبد الرحمن بن سمرۃ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺغزوۂ تبوک کے موقع پر سامان جمع فرمارہے تھے:

جاءَ عثمانُ إلى النَّبيِّ صلَّى اللهُ علَيهِ وسلَّمَ بألفِ دينارٍ في كمِّهِ حينَ جَهَّزَ جيشَ العُسرةِ فينثرَها في حجرِهِ . فرأيتُ النَّبيَّ صلَّى اللهُ علَيهِ وسلَّمَ يقلِّبُها في حجرِهِ ويقولُ : ما ضرَّ عثمانَ ما عَمِلَ بعدَ اليومِ مرَّتينِ

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آپ کے پاس ایک ہزار اشرفیاں لا ئے اور آپ ﷺ کی گود میں ڈال دیں، پس میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ ان اشرفیوں کو الٹتے پلٹتے تھےاورفرماتےتھےکہ عثمان رضی الله عنہ  پراب کسی عمل کا کوئی مواخذہ نہیں ، آج کے بعد جو چاہیں کریں ، آپ ﷺ نےدُومرتبہ یہی فرمایا۔(صحيح الترمذي: 3701)

فتوحات

عہد عثمانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں فتوحات کا سلسلہ نہایت وسیع ہوا۔ افریقہ میں طرابلس، الجزائز، رقہ، مراکش، سپین 27 ہجری میں مفتوح ہوئے۔ ایران کی فتح تکمیل کوپہنچی۔ ایران کے متصلہ ملکوں میں افغانستان، خراسان اور ترکستان کا ایک حصہ زیر نگین ہوا۔دوسری سمت 31 ہجری میں آرمینیہ اور آذربائیجان کی فتح کے بعد اسلامی سرحد کوہ قاف تک پھیل گئی۔ اسی طرح ایشیائے کوچک کا ایک وسیع خطہ فتح ہوا۔۔ آپؓ کے دور میں طرابلس، شام، افریقہ، جزیرہ قبرص، جزیرہ روڈس، قسطنطنیہ، آرمینیا، خراسان، طبرستان اور کئی ایک مزید علاقے فتح ہوئے۔

بحری معرکے کا آغاز

بحری فتوحات کا آغاز حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت سے ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی احتیاط نے مسلمانوں کو سمندری خطرات میں ڈالنا پسند نہ کیا۔ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہی حکم سے حضرت  سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں عظیم الشان بیڑا تیار کرکے جزیرہ قبرص پر 28 ہجری میں اسلامی پرچم بلند کیا۔اور بحری جنگ میں 31 ھ میں قیصر روم کے بیڑے کو جس میں پانچ سو جنگی جہاز شامل تھے، ایسی شکست دی کہ پھر رومیوں کو کبھی بحری حملہ کی ہمت نہ ہوئی۔ (تاریخ طبری،ج4،ص260)

شہادت

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تقریباًبارہ سال تک امور خلافت سر انجام دیئے۔ آخری دور میں ایک یہودی النسل عبداللہ بن سبا نے کوفہ، بصرہ اور مصر کے فسادی گروہوں کو جمع کیا اور اسلام کے خلاف ایک گہری سازش کی۔ آپؓ پر طرح طرح کے الزامات کی بوچھاڑ کی گئی۔ آپؓ نے ہر سوال کا معقول جواب دیا۔ ذوالحج کے مہینہ میں اکثر صحابہ کرام حج کی ادائیگی کیلئے مکہ مکرمہ چلے گئے تھے سازشیوں کو موقع مل گیا اور آپ کے گھر کا معاصرہ کر لیا۔ چالیس دنوں تک آپ اور آپ کے اہل خانہ کو بھوکہ پیاسا رکھا گیا۔ ساتھیوں نے جن میں امام حسینؓ اور حسنؓ بھی تھے مقابلے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا کہ’’میں اپنے نبی کے شہر کو خون سے رنگین نہیں کرنا چاہتا‘‘ آپ نے تمام مصائب و آلام کے باوجود حضورؐ کی وصیت کے مطابق خلعت خلافت نہیں اتاری۔ آپ ؓ نے جس صبروتحمل اور ضبط  کا عملی مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے،آپ کا اخلاق کریمانہ تھا کہ آپ نے اپنے قتل کے آگے خونریزی کی اجازت نہ دی۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر تقریباً سات سو مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین موجود تھے مگر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے انہیں مدافعت میں لڑنے سے روک دیا ۔( البدایہ والنہایہ،ج:07، ص: 88)

 اس طرح بروز جمعۃ المبارک بمطابق 18 ذو الحج 35 ہجری میں انتہائی درد ناک انداز میں آپ کو شہید کر دیا گیا۔ آپ کی قبر مبارک مسجد نبوی شریف کے پاس جنت البقیع میں ہے۔ اللہ تعالی ان کی قبر پر کروڑ کروڑ رحمتیں نازل فرمائے۔

مصنف/ مقرر کے بارے میں

IslamFort