قلبِ سلیم ! امتیازی صفات اور فوائد

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لئے ہیں، وہی نیک لوگوں کا ولی ہے، وہ جسے چاہے اپنے کرم و فضل کے ذریعے کامیاب و کامران لوگوں میں شامل کر دے اور عدل و حکمت کے مطابق جسے چاہے تنہا چھوڑ دے جس کی وجہ سے وہ گمراہی کے راستے پر چل نکلے، میں اسی کی حمد و ثنا بجا لاتا ہوں اسی کی طرف توبہ کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس کائنات کی بادشاہت اور تعریفیں اسی کے لئے ہیں وہی بادشاہ، حق اور ہر چیز واضح کرنے والا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ وعدے کے سچے اور امین تھے ، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد سمیت ان کے تمام پیروکاروں پر سلامتی، برکتیں ، اور رحمتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی اختیار کرو تو اللہ تعالی تمہیں اپنی رحمت میں داخل فرما لے گا، اور تمہیں اپنے غضب و سزا سے بچائے گا، متقی لوگ ہی با مراد ہونگے جھوٹے اور سر کش لوگ نا مراد ہونگے۔

اللہ کے بندوں!

ہر کوئی ابدی و سرمدی سعادت مندی اور خوشحال زندگی کے لئے کوشاں ہے، چنانچہ کچھ لوگوں کو اللہ تعالی ان مقاصد میں کامیاب فرماتا ہے اور انہیں دائمی سعادت اور دنیا میں آسودہ زندگی عطا فرما دیتا ہے، جبکہ کچھ لوگوں کا مقصد آخرت کی بجائے صرف دنیا ہی ہوتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی انہیں محدود مقدار میں دنیا عطا فرماتا ہے، اور ان کے لئے آخرت میں کچھ نہیں ہوتا، اور حاصل شدہ دنیا بھی تنگی، ترشی، تکلیف و مصیبت سے خالی نہیں ہوتی، فرمانِ باری تعالی ہے:

مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا

الاسراء – 18

 جو شخص دنیا چاہتا ہے تو ہم جس شخص کو جتنا چاہیں دنیا میں ہی دے دیتے ہیں پھر ہم نے جہنم اس کے مقدر کر دی ہے جس میں وہ بدحال اور دھتکارا ہوا بن کر داخل ہوگا۔

اسی طرح فرمایا:

وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى (124) قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنْتُ بَصِيرًا (125) قَالَ كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنْسَى

طٰه – 124/126

 میرے ذکر سے اعراض کرنے والے کی معیشت تنگ ہوگی، اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا: میرے پروردگار! مجھے نابینا کیوں اٹھایا ہے؟ میں تو بینا تھا۔ اللہ تعالی فرمائے گا: ہماری آیات تیرے پاس آئیں تو تو نے انہیں بھلا دیا تھا، اسی طرح آج تو بھی بھلا دیا گیا ہے۔

اگر صورت حال ایسی ہی ہے کہ ہر کوئی دنیاوی اور اخروی زندگی میں سعادت مندی اور بہترین زندگی کا متلاشی ہے تو دنیاوی و اخروی سعادت مندی قلبِ سلیم اور صاف ضمیر کے بغیر ممکن ہی نہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:

يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ (88) إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ (89) وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ (90) وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ

الشعراء – 88/91

 اس دن مال اور اولاد کوئی چیز فائدہ نہ دے گی۔سوائے اس کے جو قلب سلیم کیساتھ اللہ کے پاس آیا ۔جنت کو متقین کے قریب کر دیا جائے گا ۔اور جہنم کو سرکشوں کے لئے عیاں کر دیا جائے گا۔

اسی طرح فرمایا:

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

النحل – 97

 مرد ہو یا عورت کوئی بھی نیک عمل ایمان کی حالت میں کرے تو ہم اسے خوشحال زندگی عطا کریں گے، اور ہم انہیں ان کے اچھے اچھے اعمال کا ضرور بدلہ دیں گے۔

اور عمل صالح صرف قلب سلیم سے ہی ممکن ہے۔

چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے:

لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا

الفتح – 18

 اللہ تعالی مومنوں سے خوش ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ [ﷺ] سے بیعت کر رہے تھے ، ان کے دلوں کا حال اللہ کو معلوم تھا اس لیے اللہ تعالی نے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو بہت جلد فتح نوازی۔

مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے صحابہ کرام کے دلوں کو ایمان اور سچائی سے بھر پور پایا ، نیز نفاق اور اس کی ذیلی شاخوں سے محفوظ پایا۔

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا: “کون سے لوگ افضل ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: (مخموم القلب اور سچی زبان والے) تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:” سچی زبان کا مطلب تو ہم جانتے ہیں، یہ مخموم القلب کا کیا مطلب ہے؟ “تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اس سے مراد متقی ، گناہ، بغاوت، کینہ اور حسد سے پاک شخص ہے) ” یہ حدیث صحیح ہے، اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

نیز عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جہنم پر ہر نرم خو، نرم مزاج، اور لوگوں سے مل جل کر رہنے والے شخص کو حرام کر دیا گیا ہے) اسے احمد نے روایت کیا ہے، اور اسی مفہوم کی روایت ترمذی میں بھی موجود ہے۔

اے مسلم! دیکھو ذرا کس طرح سلیم القلب انسان کو جنتوں میں کتنا بلند درجہ ملا اور اسے جہنم سے نجات مل گئی۔

قلبِ سلیم ہمہ قسم کی خیر کے قریب اور ہمہ قسم کے شر سے دور ہوتا ہے، قلبِ سلیم میں تمام بلند اخلاقی اقدار ایسے ہی جمع ہو جاتی ہیں جیسے گہری زمیں پر پانی جمع ہو تا ہے، بری عادات اور اخلاقیات ایسے دور ہٹا دی جاتی ہیں جس طرح بھٹی سونے چاندی کی ملاوٹ الگ کر دیتی ہے، قلبِ سلیم کا مالک انسان اللہ تعالی کی رحمت، خصوصی عنایت و تحفظ اور توفیق میں گھِرا ہوا ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

 وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ [34]اَلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَالصَّابِرِينَ عَلَى مَا أَصَابَهُمْ وَالْمُقِيمِي الصَّلَاةِ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ

الحج – 34/35

عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔ [یہ وہ]لوگ ہیں جن کے دل اللہ کے ذکر سے پگھل جائیں، اور مصیبت پر صبر کریں، نمازیں قائم کریں، اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ بھی کریں۔

اور اسی طرح فرمایا:

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَخْبَتُوا إِلَى رَبِّهِمْ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

ھود – 23

 بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اپنے رب کے لئے ان کے دل گداز ہو گئے یہی لوگ جنت والے ہیں اور وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔

اور “اخبات” [دل گُدازی] قلبِ سلیم کی سب سے بڑی امتیازی صفت ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہر وقت اللہ کے سامنے دلی طور پر عاجزی انکساری کا اظہار ہو، شریعتِ الہی اور وحی پر دل مکمل مطمئن ہو، عملِ صالح کر کے دل کو سکون ملے اور خوشی محسوس ہو، اسی بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:

اَلَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ

النحل – 32

 جنہیں فرشتے اس حال میں فوت کرتے ہیں کہ وہ پاکیزہ ہوتے ہیں ، فرشتے انہیں سلام کرتے ہوئے کہتے ہیں :اپنے اعمال کے بدلے جنت میں داخل ہو جاؤ۔

یہاں ان کی پاکیزگی سے مراد دلی پاکیزگی ہے۔

نیز عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اہل جنت تین قسم کے لوگ ہیں: 1)کامیاب اور عدل کرنے والا صاحب سلطنت، 2)وہ آدمی جو نہایت مشفق اور تمام عزیز و اقارب سمیت سب مسلمانوں کے بارے میں نرم دل رکھنے والا، 3) غربت کے باوجود سوال نہ کرنے والا اور صدقہ کرنے والا ) ابن حبان قلبِ سلیم کی کچھ صفات اور کیفیات ہیں، چنانچہ سب سے افضل کیفیت اور بڑی صفت یہ ہے کہ دل شرک اکبر اور اصغر سے پاک ہو، کسی قسم کا نفاق دل میں نہ ہو، کبیرہ گناہوں اور برائیوں سے دور ہو، نیز بد اخلاقی والی صفات یعنی بخل، لالچ ، حسد، کینہ، تکبر، ملاوٹ، دھوکہ دہی، خیانت، مکر، اور جھوٹ سمیت تمام دلی بیماریوں سے پاک ہو، ساتھ میں انسان فرائض ، واجبات کی ادائیگی یقینی بنائے اور کثرت کیساتھ مستحب اعمال بجا لائے، اور بد اعمالیوں سے دور رہے۔

قلبِ سلیم کی بہترین کیفیت اور بلند ترین درجہ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام نے حاصل کیا، چنانچہ اللہ تعالی نے اپنے خلیل ابراہیم ﷺ کے بارے میں فرمایا:

وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ (83) إِذْ جَاءَ رَبَّهُ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ

الصافات – 83/84

اور انہی [نوح ]کی جماعت کے ساتھ ہی ابراہیم کا تعلق تھا۔ جب وہ اپنے رب کے پاس قلب سلیم کیساتھ آئے۔

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (تم میں سے کوئی بھی مجھے میرے صحابہ کے بارے میں ناگوار بات مت بتلائے؛ کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جب بھی تمہارے پاس آؤں تو میرا سینہ تمہارے بارے میں صاف ہو ) ابو داود، ترمذی

شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا سکھائی:

اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ وَالْعَزِيْمَةَ عَلَى الرُّشْدِ وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ وَأَسْأَلُكَ لِسَانًا صَادِقًا وَقَلْبًا سَلِيْمًا وَأَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمْ وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمْ وَأَسْتَغْفِرُكَ مِمَّا تَعْلَمْ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ

[یا اللہ! میں تجھ سے دین پر ثابت قدمی اور ہدایت پر عزم مانگتا ہوں، نیز تجھ سے تیری نعمتوں کا شکر اور اچھے انداز سے تیری عبادت کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے سچی زبان اور قلب سلیم کا سوالی ہوں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس شر سے جو تیرے علم میں ہے، اور جو خیر تیرے علم میں ہے اس کا سوال کرتا ہوں، اور ان گناہوں سے بخشش بھی مانگتا ہوں جو تو جانتا ہے، بیشک تو ہی غیب جاننے والا ہے]” یہ حدیث صحیح ہے، اسے احمد، ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

دل کی افضل اور اکمل ترین حالت و کیفیت کے بعد سب سے بلند درجہ اور کامل درجہ اس شخص کا ہے جو انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے نقش قدم پر چلنے کی پوری کوشش کرے تو وہ اپنی جد و جہد کے مطابق قلب سلیم کی صفات پانے میں کامیاب ہو جائے گا، چنانچہ نبی اکرم ﷺ کی سنت کی پیروی، آپ کی روشن سنت کو مضبوطی سے تھامنے والے کو بہترین اسوہ اور عقیدے کی توفیق مل گئی ہے، اور اللہ تعالی نے اسے صاف ضمیر ایسے ہی عطا کر دیا ہے جیسے اللہ تعالی نے صحابہ کرام کو سیرت نبوی اپنانے پر عطا فرمایا تھا، فرمانِ باری تعالی ہے:

وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

الحشر – 9

 جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے ایمان لا کر دار الہجرت میں مقیم ہیں یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کے پاس آتے ہیں، اور جو کچھ بھی مہاجرین کو دے دیا جائے، اس کی وجہ سے کوئی تنگی اپنے دلوں میں نہیں رکھتے اور خود ضرورت مند ہوتے ہوئے اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ دلی کنجوسی لالچ سے بچا لیے گئے وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔

صحابہ کرام کے نقش قدم پر اچھے انداز سے چلنے والوں کو بھی ہر قسم کی آلائش سے پاک سینہ عطا کیا گیا، ان کے بارے میں فرمانِ باری تعالی ہے:

وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ

الحشر – 10

 جو پہلے لوگوں کے بعد آئے ہیں وہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو معاف فرما دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے بارے میں بُغض نہ رہنے دے ، اے ہمارے رب تو بڑا نرمی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

سلیم القلب کا ثواب آخرت میں جنت اور دنیا میں جسمانی عافیت ہے، چنانچہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : “ہم نبی ﷺ کیساتھ بیٹھے ہوئے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابھی تمہارے پاس اہل جنت میں سے ایک آدمی آئے گا، تو انصار میں سے ایک شخص نمودار ہوا، اگلے روز پھر نبی ﷺ نے فرمایا ابھی تمہارے پاس اہل جنت میں سے ایک آدمی آئے گا، تو وہی شخص نمودار ہوا، تیسرے روز بھی آپ ﷺ نے یہ بات فرمائی تو وہی شخص تیسری بار بھی نمودار ہوا، چنانچہ جب آپ ﷺ کھڑے ہوئے تو عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اس شخص کے پیچھے چل دیے، تو انہوں نے ان سے کہا: “میری میرے والد کیساتھ توتکار ہو گئی ہے اور اب میں نے تین دن تک ان کے پاس نہ جانے کی قسم بھی اٹھا لی ہے، تو اگر آپ چاہیں تو تین دن تک اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دے دیں” تو اس پر اس شخص نے حامی بھر لی” اس واقعے کی مزید تفصیلات انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : عبد اللہ ہمیں بتلایا کرتے تھے کہ انہوں نے اس شخص کیساتھ تین راتیں گزاریں، تو انہیں دیکھا کہ وہ رات کو قیام نہیں کرتے تھے، تاہم اتنا ضرور تھا کہ جب بھی کروٹ لیتے تھے اللہ کا ذکر کرتے تھے، پھر عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے انہیں بتلایا کہ میرے اور میرے والد کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہوا تھا، لیکن میں نے نبی ﷺ سے سنا تھا کہ آپ جنتی ہیں! آپکو یہ درجہ کیسے ملا؟ تو انہوں نے کہا: “میں جو کچھ بھی ہوں تمہارے سامنے ہی ہے، لیکن ایک بات اور بھی ہے کہ میں کسی مسلمان کے بارے میں اپنے دل میں دھوکہ دہی نہیں رکھتا، اور اس سے اللہ کی طرف سے ملی ہوئی نعمت پر حسد بھی نہیں کرتا” تو عبد اللہ نے کہا: “یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے یہ بلند مرتبہ ملا” احمد، ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں اس کی سند صحیح ہے۔

اگر مسلمان قلبِ سلیم حاصل کرنے کے لئے تگ و دو اور جد و جہد کرنے پر یہ بلند مرتبہ پا لے تو وہ کامیاب و کامران ہوگا، اور دنیا میں عافیت کی زندگی گزارے گا اور آخرت میں اللہ تعالی نے اس کے لئے بلند درجات کی ضمانت دے دی ہے، چنانچہ یہ شخص خیر خواہی کے راستے گامزن رہے اور برے راستے سے بچتے ہوئے ، اللہ تعالی کیساتھ ساتھ کتاب اللہ، رسول اللہ ﷺ، مسلم حکمرانوں اور عام مسلمانوں کی خیر خواہی کرے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (دین خیر خواہی ہے)صحابہ کرام نے کہا: “یا رسول اللہ! کس کے لئے خیر خواہی ہے؟” تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اللہ ، کتاب اللہ ، رسول اللہ، مسلم حکمران اور مسلمان عوام کے لئے) مسلم نے اسے تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

اللہ کی خیر خواہی اس کے لئے اخلاص کیساتھ عبادت سے ہوگی۔

کتاب اللہ کی خیر خواہی تعلیم و تعلّم اور اس کی تعلیمات پر عمل سے ہوگی۔

رسول اللہ ﷺ کی خیر خواہی اتباعِ سنت، اور اتباعِ سنت کی دعوت دینے سے ہوگی۔

مسلم حکمرانوں کی خیر خواہی ان کے خلاف بغاوت کے بغیر انکی ذمہ داریوں کی ادائیگیوں میں ان کا تعاون کرنے سے ہوگی۔

اور عام مسلمانوں کی خیر خواہی ان کے حقوق کی ادائیگی اور تحفظِ حقوق سمیت انہیں علم کی روشنی سے آراستہ کرنے ان کا بھلا چاہنے اور انہیں کسی بھی تکلیف سے دور رکھنے سے ہوگی ۔

جو شخص اپنے اندر صحیح سلامت ضمیر رکھتا ہو، اور مسلمانوں کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، اور نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق لالچ سے محفوظ ہو جیسے کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تم میں سے اس وقت تک کوئی بھی کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے) بخاری و مسلم نے اسے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔

اس حدیث کے بارے میں ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں: “اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ایک مؤمن کو وہی چیزیں پسند ہوتی ہیں جو دوسرے مؤمن کو پسند ہوتی ہیں، اسی طرح ایک مؤمن اپنے مؤمن بھائی کے لئے وہی پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، انسان میں یہ صفت اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب سینہ مکمل طور پر پاک صاف ہو، سینے میں کوئی کینہ، دھوکہ، حسد بالکل موجود نہ ہو، کیونکہ حاسد شخص کسی کو اپنے سے بلند ہوتا تو دور کی بات ہے برابر ہوتا نہیں دیکھ سکتا، کیونکہ حاسد کی یہ چاہت ہوتی ہے کہ اس کی امتیازی خوبیاں منفرد انداز سے اسی کے پاس رہیں، لیکن ایمان کے تقاضے اس سے بالکل متصادم ہیں، یعنی ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ دیگر مؤمن بھی اللہ تعالی کی طرف سے عطا کردہ خوشی میں اس طرح شریک ہوں کہ خوشیوں میں کسی قسم کی کمی نہ آئے” انتہی

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ:” میں کسی آیت کو پڑھتے ہوئے گزرتا ہوں تو مجھے اس کے بارے میں جن باتوں کا علم ہوتا ہے میری یہ تمنا ہوتی ہے کہ وہ سب باتیں تمام مسلمان بھی سیکھ لیں”۔

امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ” میری دلی خواہش ہے کہ لوگ مجھ سے یہ علم حاصل کر لیں، اور میری طرف اس میں سے کچھ بھی منسوب نہ کیا جائے”۔

ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال مسلمانوں کے لئے خرچ کر دیا، اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنا آدھا مال اسی مقصد سے خرچ کیا۔

قلبِ سلیم کی علامات میں سے یہ ہے کہ: دل میں عفو و درگزر، حلم، صبر، قوتِ برداشت، معافی، شفقت، رحمت مسلمانوں کے لئے کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہو، انہیں صفات کی بنا پر نبی ﷺ نے ابو ضمضم رضی اللہ عنہ کی مدح فرمائی، چنانچہ جس وقت ابو ضمضم رضی اللہ عنہ صبح اٹھتے تو کہتے: “یا اللہ! لوگوں پر صدقہ کرنے کے لئے میرے پاس کوئی مال ہی نہیں ہے، تو میں اپنے آپ کو ملنے والی گالیاں بطورِ صدقہ معاف کر دیتا ہوں، لہذا جس نے بھی مجھے گالی دی، یا مجھ پر الزام لگایا تو میں اسے معاف کرتا ہوں” اس بات پر نبی ﷺ نے فرمایا: (کوئی ہے تم میں سے جو ابو ضمضم جیسا بن سکے؟) حاکم، ابن عبد البر اور بزار نے اسے روایت کیا ہے، نیز یہ حدیث حسن ہے۔

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: “یہ صحیح سلامت ضمیر اور کینہ، حسد، اور خیانت سے پاک دل کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے”۔

قلب سلیم کے مقابلے میں قلبِ مریض ہے جو کہ مذموم اور گھٹیا صفات کا حامل ہوتا ہے ، مریض دلوں کی سب سے بڑی بیماری حرص ہے، چنانچہ نبی ﷺ نے اپنی امت کو اس بیماری سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا: (اپنے آپ کو ظلم سے دور رکھنا، کیونکہ قیامت کے دن ظلم کی وجہ سے پے در پے اندھیرے ہونگے، اور اپنے آپ کو لالچ سے بچاؤ؛ کیونکہ لالچ نے ہی تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، لالچ نے انہیں قتل و غارت اور حرام چیزوں کو حلال سمجھنے پر آمادہ کیا) مسلم نے اسے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اگر کوئی صاحب دانش و عقل کسی بھی قسم کے فتنوں سے متعلق سوچے تو اسے نتیجہ یہی ملے گا کہ ان فتنوں کا سب سے بڑا مرکزی سبب طمع اور لالچ ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (وقت قریب ہوتا جائے گا، اور عمل کم ہو جائے گا، سب لالچی بن جائیں گے اور فتنے نمودار ہونگے، جس کی وجہ سے “ھرج” بڑھ جائے گا)صحابہ کرام نے پوچھا: “یا نبی اللہ! یہ ھرج کیا چیز ہے؟” تو آپ ﷺ نے فرمایا: (قتل، قتل)بخاری

لالچی بننے سے مراد یہ ہے کہ سب دنیا کے لالچی ہو جائیں۔

آپ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ: (مجھے تمہارے بارے میں غربت کا اندیشہ نہیں ہے، لیکن دنیا کا خدشہ ہے کہ تمہیں دنیا وافر مقدار میں دے دی جائے اور پھر اس کے حصول میں گزشتہ قوموں کی طرح مقابلہ بازی کرنے لگو، اور یہی دنیا تمہیں اسی طرح ہلاک کر دے جیسے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا تھا)

اگر آپ حرص اور لالچ کا معنی سمجھ جائیں تو اس سے بچنے کی کوشش کریں، اور اسی طرح لالچ کی وجہ سے دل کو پہنچنے والے نقصان کو بھی سمجھ لیں ، لالچ یہ ہے کہ: آپ کسی کی ملکیت میں موجود چیز کو خود چھیننے کی کوشش کریں، اور اس کے لئے تمام قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کریں، نیز آپ کے ذمہ جو حقوق ہیں انہیں ادا نہ کریں، چنانچہ حقوق ادا نہ کرنے کی وجہ سے لالچ کے ضمن میں بخیلی بھی شامل ہے ، لالچ قبیح ترین اور مذموم ترین خصلت ہے، نیز لالچ بخل سے بھی سنگین جرم ہے، اسی کی وجہ قطع رحمی، زیادتی اور حق تلفی سمیت خون خرابہ بھی ہوتا ہے، جیسے کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: (اپنے آپ کو لالچ سے بچاؤ؛ کیونکہ لالچ نے ہی تم سے پہلی امتوں کو ہلاک کیا ہے، لالچ نے انہیں ظلم کرنے کا کہا تو انہوں نے ظلم ڈھائے، لالچ نے انہیں فسق و فجور کا حکم دیا تو انہوں نے اس کا ارتکاب بھی کیا، لالچ نے انہیں قطع رحمی کا حکم دیا تو انہوں نے قطع تعلقی بھی کر لی) احمد، ابو داود نے اس حدیث کو عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

دل کی بڑی بیماریوں میں تکبر بھی شامل ہے، چنانچہ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ:( جس کے دل میں ایک ذرّے کے برابر بھی تکبر ہے وہ جنت میں نہیں جائے گا) مسلم

فرمانِ باری تعالی ہے:

فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنْفِقُوا خَيْرًا لِأَنْفُسِكُمْ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

التغابن – 16

 حسب استطاعت اللہ سے ڈرو، سمع و اطاعت بجا لاؤ، اور صدقہ کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، جنہیں دلی لالچ و طمع سے بچا لیا جائے وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لئے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اسکی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین ﷺ کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں وہی غالب اور گناہوں کو بخشنے والا نیز سینوں کے بھید جاننے والا ہے، میں اپنے رب کے عظیم فضل پر اس کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں اسی سے توبہ استغفار کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا اور تنہا ہے ، وہی برد بار اور قدر کرنے والا ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ کو اللہ تعالی نے نور و ہدایت کیساتھ مبعوث فرمایا، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی آل ، اور صحابہ کرام پر یومِ محشر تک اپنی رحمت ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما ۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی کما حقہ اختیار کرو، اور اسلام کے کڑے کو مضبوطی سے تھام لو۔

اللہ کے بندوں!

یہ بات ذہن نشین کر لو کہ دلوں کی سلامتی عزم و یقین کیساتھ ممکن ہے، چنانچہ گناہوں سے دور رہنے کا عزم کریں، فرائض و واجبات کی ادائیگی کا عزم کریں، کثرت سے نفل عبادات بجا لائیں، اور تقدیری فیصلوں پر صبر کریں، یقین کی دولت سے دل مضبوط اور شبہات ختم ہوتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:

وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ

السجدة – 24

 اور جب انہوں نے [تقدیر فیصلوں پر]صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق رہنمائی کرتے اور ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے ۔

دلی بیماریاں شبہات، ہر قسم کے نفاق اور ہوس پرستی سے پیدا ہوتی ہیں، چنانچہ اگر کسی شخص کے دل پر شبہات یا ہوس پرستی کا غلبہ ہو جائے اور اسی حالت میں مر جائے تو اس کی موت سنگین ترین بد بختی کی موت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

 وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا أُولَئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ

المائدة – 41

جسے اللہ تعالی فتنے میں مبتلا کر دے تو آپ ان کے لئے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے، اللہ تعالی نے ان لوگوں کے دلوں کو پاک کرنے کا ارادہ ہی نہیں فرمایا، ان کے لئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں بڑا عذاب ہے۔

اللہ تعالی کے ایک ایک حکم کی تعمیل دل کی صفائی ستھرائی کا باعث ہے، اور تمام تر ممنوعات دلوں کی بیماریوں سے تحفظ کا باعث ہیں، اس لیے اے مسلم! اللہ تعالی سے دلی سلامتی اور اصلاح احکامات کی تعمیل اور مذموم اشیا کے ذریعے مانگو، کیونکہ ان کی وجہ سے دل مردہ یا بیمار ہو جاتے ہیں۔

نیز اگر احکامات الہیہ پر عمل ممکن نہ ہوتا تو اللہ تعالی کبھی بھی بندوں کو ان پر عمل کرنے کا مکلف نہ بناتا؛ کیونکہ اللہ تعالی استطاعت کے مطابق ہی مکلف بناتا ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ: (ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، منہ نہ موڑو، اور نہ ہی ایک دوسرے سے بغض رکھو) مسلم نے اسے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

اللہ کے بندوں!

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

الاحزاب – 56

 یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو۔

اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔

اس لئے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر درود و سلام پڑھو۔

اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما صلَّيتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، اللهم بارِك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، وسلم تسليما كثيراً

یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان ، علی اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے راضی ہو جا، تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہو جا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! کفر اور تمام کفار کو ذلیل کر دے ، یا اللہ! تجھے اور تیرے نبی کو نا پسند بدعات قیامت کی دیواروں تک نیست و نابود کر دے، یا اللہ! تیرے دین سے متصادم بدعات کا خاتمہ فرما دے، یا اللہ! تیری شریعت سے متصادم بدعات کو قیامت کی دیواروں تک کے لئے ختم فرما دے، یا اللہ ! بدعات اور اہل بدعات کو قیامت کی دیواروں تک نیست و نابود فرما، یا اللہ! ہمیں اہل بدعت میں شامل مت فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمیں تیرے نبی کی سنت پر اچھی طرح چلنے والوں میں شامل فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اپنے دین، قرآن اور سنت نبوی کا بول بالا فرما، یا اللہ! اپنے دین، قرآن اور سنت نبوی کا بول بالا فرما، یا اللہ! تیرے پسندیدہ دین کو غالب فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں قیامت کی دیواروں تک تیرے نبی محمد ﷺ کی سیرت کو غالب فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے گناہ ، اور حدود کی خلاف ورزی معاف فرما دے، یا اللہ! ہمارے گناہ ، اور حدود کی خلاف ورزی معاف فرما دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے اگلے، پچھلے، خفیہ ، اعلانیہ سب گناہ معاف فرما، اور وہ گناہ بھی معاف فرما دے جنہیں تو ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے، تو ہی پیش قدمی اور پست قدمی کی توفیق دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔

یا اللہ! تمام مسلمان مرد و خواتین کی سب معاملات میں رہنمائی فرما، یا رب العالمین ، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! مسلمان مقروض لوگوں کے قرضے چکا دے، یا اللہ! مسلمان قیدیوں کو رہا فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان اور شیطانی چیلوں اور شیطانی لشکروں سے محفوظ رکھ، یا اللہ! مسلمانوں کو شیطان اور شیطانی چیلوں اور شیطانی لشکروں سے محفوظ رکھ، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہماری تمام معاملات میں رہنمائی فرما، یا اللہ! ہم تجھ سے اپنے نفس اور برے اعمال کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا اللہ! ہم ہر شریر کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں ، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہماری ہر حالت میں حفاظت فرما، یا اللہ! مہنگائی، بیماریاں، سود، زنا، زلزلے، ظاہری و باطنی فتنے، اور بری مصیبتیں ہمارے اور دیگر تمام مسلم علاقوں سے دور فرما دے۔

یا اللہ! مسلمانوں پر رحم فرما، یا اللہ! کمزور مسلمانوں پر رحم فرما، یا اللہ! اسلام دشمن لوگوں کی تمام مکاریاں غارت فرما، یا اللہ! اسلام دشمن قوتوں کی اسلام مخالف تمام تر منصوبہ بندیاں تباہ فرما دے، یا رب العالمین! یا قوی! یا متین!

یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا ارحم الراحمین! یا اللہ! ہم بھی تیری مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں ، ہم تیری رحمت کے بنا ایک لمحہ نہیں رہ سکتے، یا اللہ! جن علاقوں میں بارشیں نہیں ہوئیں وہاں پر بارشیں نازل فرما، یا اللہ! ان بارشوں کو رحمت والی بارشیں بنا، یا اللہ! رحمت والی بارش ہو، عذاب، تباہی، غرق، اور مصیبتوں والی بارش نہ ہو، یا اللہ! جن علاقوں میں بارشیں نہیں ہوئیں وہاں پر بارشیں نازل فرما، بیشک تو ہی ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! جو بارشیں تو نے ہمیں عطا کی ہیں ان میں برکت فرما۔

یا اللہ! ہمارے ممالک کو امن و امان کا گہوارہ بنا ، اور ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما، یا اللہ! ہمیں ہمارے علاقوں میں امن مہیا فرما، اور ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اپنے بندے خادم حرمین شریفین کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، یا اللہ! اُسکی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما، اور اسکے تمام اعمال اپنی رضا کے لئے قبول فرما، یا اللہ! انہیں صائب رائے اور عمل صالح عطا فرما، یا اللہ! ان کے ذریعے اپنے دین کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! انہیں صحت و عافیت عطا فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، یا اللہ! ان کے دونوں نائبوں کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، یا اللہ! ان کی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما، اور ان کے تمام اعمال اپنی رضا کے لئے قبول فرما، اور انہیں اسلام اور عالم اسلام کے لئے بہتر امور سر انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہم سب مسلمانوں کو دین کی سمجھ عطا فرما، یا اللہ! ہم سب مسلمانوں کو دین کی سمجھ عطا فرما۔ یا اللہ! ہمیں ایک لمحے کے لئے تنہا مت چھوڑنا، یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور جنت کے قریب کرنے والے اعمال کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہم تجھ سے جہنم اور جہنم کے قریب کرنے والے اعمال سے پناہ مانگتے ہیں۔

اللہ کے بندوں!

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (90) وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ

النحل – 90/91

 اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔اور اللہ تعالی سے کئے وعدوں کو پورا کرو، اور اللہ تعالی کو ضامن بنا کر اپنی قسموں کو مت توڑو، اللہ تعالی کو تمہارے اعمال کا بخوبی علم ہے۔

اللہ عز و جل کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اسکی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

مصنف/ مقرر کے بارے میں

   فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ

آپ ان دنوں مسجد نبوی کے امام ، قبل ازیں مسجد قباء کے امام تھے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ خوبصورت آواز میں بہترین لہجے میں قرات قرآن کی وجہ سے دنیا بھر میں آپ کے محبین موجود ہیں ، اللہ تعالیٰ تادیر آپ کی دینی خدمات کا سلسلہ جاری رکھے ۔آمین