نکاح اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ پاکیزہ نظام ہے، جو انسانی نسل کی بقا، عفت و پاک دامنی کے تحفظ، خاندانی استحکام اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان محبت و سکون کا رشتہ قائم ہوتا ہے اور اولاد کی تربیت کے لیے ایک مستحکم خاندانی ماحول میسر آتا ہے۔ ذیل میں قرآن و حدیث کی روشنی میں نکاح کی فضیلت، حکمتوں اور اہم مقاصد کا مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
1۔ اللہ کا پسندیدہ نظام
نکاح انسانی فطرت کے عین مطابق ایک پاکیزہ اور مقدس بندھن ہے، جسے اسلام نے خاندانی زندگی کی بنیاد اور عفت و پاک دامنی کے تحفظ کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اسلام نے نکاح کے شرعی طریقے کو برقرار رکھا اور دورِ جاہلیت میں رائج دیگر غیر شرعی طریقوں کی نفی کی۔ چنانچہ شیخ سید سابق رحمہ اللہ اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
هذا النظام هو الذي ارتضاه الله، وأبقى عليه الإسلام، وهدم كل ما عداه 1
ترجمہ: نکاح وہ نظام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا، اسلام نے اسے برقرار رکھا اور اس کے سوا دیگر تمام طریقوں کو ختم کر دیا۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل
نکاح شرعی کے بنیادی مقاصد میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضا کا حصول بھی شامل ہے۔ اسلام نے نکاح کی ترغیب دی ہے اور اسے پاکیزہ خاندانی زندگی کے قیام کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے اس کے دینی، اخلاقی اور معاشرتی فوائد و ثمرات کو اجاگر کیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَاللهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ 2
ترجمہ : اور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں اور تمہیں ان بیویوں سے بیٹے اور پوتے عطا کیے اور تمہیں پاکیزہ رزق عطا کیا” ۔
3۔ ذہنی و قلبی سکون کا حصول
نکاح کا ایک اہم مقصد میاں بیوی کو ذہنی قلبی اور جذباتی سکون فراہم کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں رفاقت کی خواہش رکھی ہے، اور ازدواجی زندگی اس خواہش کی جائز تکمیل کا ذریعہ ہے۔ محبت و رحمت پر قائم ازدواجی تعلق انسان کی داخلی زندگی کے خلا کو پُر کرتا، تنہائی کو دور کرتا اور زندگی کی مشکلات میں ایک دوسرے کا سہارا بننے کا موقع فراہم کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾ 3
ترجمہ: اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے ہی لیے تمہاری جنس سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔
اس آیت میں نکاح کے تین بنیادی مقاصد بیان ہوئے ہیں: سکون، محبت اور رحمت۔ سکون سے مراد صرف وقتی خوشی نہیں، بلکہ وہ اطمینان بھی ہے جو انسان کو اپنے شریکِ حیات کے ساتھ اعتماد، انسیت اور رفاقت سے حاصل ہوتا ہے۔ محبت میاں بیوی کو ایک دوسرے کے قریب رکھتی ہے، جبکہ رحمت انہیں ایک دوسرے کی کمزوریوں کو سمجھنے، مشکلات میں ساتھ دینے اور باہمی حقوق ادا کرنے کا جذبہ عطا کرتی ہے۔
ازدواجی زندگی میں مرد شوہر اور باپ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے، جبکہ عورت بیوی اور ماں کی حیثیت سے گھر اور اولاد کی نگہداشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب دونوں اپنی ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے نبھاتے ہیں تو گھر میں اطمینان، اعتماد اور خوش گوار ماحول پیدا ہوتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے ذمہ داری کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْؤُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا 4
ترجمہ: تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا، اور عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
4۔ سابقہ انبیاء کرام کی سنت
نکاح شرعی کے بنیادی مقاصد میں سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت کی پیروی اور ان کے اسوۂ حسنہ کو اختیار کرنا بھی شامل ہے۔ نکاح ایک پاکیزہ اور فطری عمل ہونے کے ساتھ سنتِ مرسلین میں سے بھی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ پیغمبروں کی زندگی کا حصہ بنایا اور انہیں ازواج و اولاد سے نوازا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً 5
ترجمہ: اور ہم نے تم سے پہلے پیغمبروں کو بھیجا اور ان کے لیے بیویاں اور اولاد رکھیں۔
حضرت ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أربع من سنن المرسلين: الحياء، والتعطر، والسواك، والنكاح 6
ترجمه: چار باتیں انبیاء و رسل کی سنت میں سے ہیں: حیاء کرنا، عطر لگانا، مسواک کرنا اور نکاح کرنا“
5۔ سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی
نکاح شرعی کے بنیادی مقاصد میں سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی اور اسوۂ رسول ﷺ کی اقتدا بھی شامل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خود نکاح فرمایا اور ان لوگوں کے طرزِ عمل کی اصلاح فرمائی جو عبادت و ریاضت کے نام پر نکاح سے اجتناب کرنا چاہتے تھے۔ آپ ﷺ نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیتے ہوئے اس سے اعراض کرنے کے رویے کی مذمت فرمائی اور ارشاد فرمایا:
أَمَا واللہِ إنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلہِ وأَتْقَاكُمْ له، لَكِنِّي أصُومُ وأُفْطِرُ، وأُصَلِّي وأَرْقُدُ، وأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فمَن رَغِبَ عن سُنَّتي فليسَ مِنِّي۔7
ترجمه: اللہ کی قسم! میں تمہاری نسبت اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ پرہیز گار ہوں ، لیکن میں روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں ، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ لہٰذا جس نے میری سنت سے منہ پھیرا ، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ۔
6 ۔ دین کی تکمیل کا ذریعہ
نکاح کے بنیادی مقاصد میں دین کی تکمیل اور عفت و پاک دامنی کا تحفظ بھی شامل ہے۔ نکاح انسان کو بدنگاہی، بے راہ روی اور اخلاقی لغزشوں سے بچانے میں معاون ثابت ہوتا ہے، اور اسے پاکیزہ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے نکاح کو دینی سعادت کے حصول کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَنْ رَزَقَهُ اللهُ امْرَأَةً صَالِحَةً، فَقَدْ أَعَانَهُ عَلَى شَطْرِ دِينِهِ، فَلْيَتَّقِ اللهَ فِي الشَّطْرِ الثَّانِي 8
ترجمہ : جس شخص کو اللہ تعالی نیک صالح بیوی عطا کردے تو اللہ تعالی نے اس کے دین کا ایک حصہ مکمل کرنے میں تعاون کیا ہے، اب اسے چاہئے کہ دین کے دوسرے حصے میں اللہ سے ڈرے۔
ایک اور روایت میں مختلف الفاط كے ساتھ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا:
إذا تَزَوَّجَ العبدُ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ نِصْفَ الدِّينِ ، فَلْيَتَّقِ اللهَ فيما بَقِيَ9
ترجمہ : جس بندہ نے نکاح کرلیا اس نے اپنا آدھا دین مکمل کرلیا، اب اسے چاہئے کہ باقی آدھے کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔”
حدیث کا مفہوم
انسان کے جسم میں دو چیزیں ایسی ہیں جو عام طور پر دین میں نقصان اور فساد کا سبب بنتی ہیں: شرم گاہ اور پیٹ۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے نکاح کرکے شرمگاہ کے فتنے وفساد سے نجات پائی تو اب اسے چاہیے کہ وہ پیٹ کے فتنے وفساد سے بچنے کے لیے کوشش کرتا رہے، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے، حلال کمائی اور حلال رزق کے ذریعے اپنے اہل وعیال کا پیٹ بھرے ؛ تاکہ دین کی پوری بھلائی حاصل ہو۔ اس لیے اگر کوئی شخص پہلے ہی سے پیٹ اور دیگر فتنوں سے بچتا رہا ہو تو وہ نکاح کے ذریعے اپنی شرم گاہ کے فتنے سے بھی بچ جاتا ہے اور اس کو دین کی پوری بھلائی حاصل ہوجاتی ہے۔
امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الغالب في إفساد الدين الفرج والبطن، وقدكفى بالتزوج أحدهما، ولأن في التزوج التحصن عن الشيطان، وكسر التوقان، ودفع غوائل الشهوة، وغض البصر، وحفظ الفرج 10
ترجمہ : عموماً انسان کے دین کو دو چیزیں سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں: شرم گاہ اور پیٹ۔ نکاح کے ذریعے ان میں سے ایک کی حفاظت ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ نکاح انسان کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھتا ہے، جنسی خواہش کی شدت کو کم کرتا ہے، شہوت کے فتنوں سے بچاتا ہے، نگاہیں نیچی رکھنے میں مدد دیتا ہے اور شرم گاہ کی حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے۔
شرم گاہ کی بے راہ روی، جہنم میں داخلے کا بڑا سبب
شرم گاہ کی حفاظت اسلامی تعلیمات میں نہایت اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ بے حیائی اور جنسی خواہشات کی بے لگام پیروی انسان کو گناہوں اور اخلاقی پستی میں مبتلا کر سکتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے پاک دامنی اختیار کرنے، زنا سے بچنے اور نکاح کے جائز راستے کو اپنانے کی تاکید کی ہے۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :
سُئِلَ رسولُ اللہِ صلَّى اللہُ علَيهِ وسلَّمَ عن أَكْثرِ ما يُدخلُ النَّاسَ الجنَّةَ ؟ فقالَ : تَقوى اللہِ وحُسنُ الخلُقِ ، وسُئِلَ عن أَكْثرِ ما يُدخِلُ النَّاسَ النَّارَ ، قالَ : الفَمُ والفَرجُ 11
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جنت میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق ۔ پھر آپ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جہنم میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: ”منہ اور شرمگاہ“
اللہ کا خوف اور اچھے اخلاق جس کے اندر پائے جائیں اس سے بہتر شخص کوئی نہیں ہے، اسی طرح جو شخص اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت نہ کر سکے اس سے زیادہ بدنصیب کوئی نہیں ہے، کیونکہ دین کا سارا دارومدار اسی پر ہے، ہر طرح کی برائی کا صدور انہیں سے ہوتا ہے، اس لیے جس نے ان دونوں کی حفاظت کی وہ خوش نصیب انسان ہے۔
شرم گاہ کی حفاظت،جنت میں داخلے کی ضمانت
اسلام نے پاکیزہ زندگی کے لیے شرم گاہ کی حفاظت کو نہایت اہمیت دی ہے اور اسے ایمان و کردار کی پاکیزگی کا بنیادی تقاضا قرار دیا ہے۔ قرآن و سنت میں اس کی حفاظت کرنے والوں کے لیے جنت کی بشارت دی گئی ہے،چنانچہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من وقاهُ اللہُ شرَّ ما بينَ لحييْهِ وشرَّ ما بينَ رجليْهِ دخلَ الجنَّةَ 12
ترجمہ : جسے اللہ نے اس کی ٹانگوں اور ڈاڑھوں کے درمیان کی چیز کے شر و فساد سے بچا لیا وہ جنت میں داخل ہو گا“
امام قرطبی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
ومعنى ذلك أن النكاح يعف عن الزنى، والعفاف أحد الخصلتين اللتين ضمن رسول الله صلى الله عليه وسلم عليهما الجنة فقال: من وقاه اللهُ شرَّ اثنتينِ ولجَ الجنةَ : ما بين لحيْيَه ورجلَيْه. 13
ترجمہ : اس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح انسان کو زنا سے محفوظ رکھتا ہے، اور پاکدامنی ان دو خصلتوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے جنت کی ضمانت دی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “جس کو اللہ نے دو چیزوں کے شر سے محفوظ رکھا (یعنی زبان اور شرمگاہ) وہ جنت میں داخل ہوگا۔”
لہذا اس شخص پر اللہ تعالی کا بہت بڑا انعام ہے جس کو شادی اور پاکدامنی کی توفیق مل جائے ، اب اسے اپنی زبان کے بارے میں اللہ سے ڈرنا چاہئے ، اور زبان کو چغلی، غیبت، گالی گلوچ، اور لعن طعن سے محفوظ رکھنا چاہئے، اگر کوئی شخص یہ دو کام یعنی شرمگاہ اور زبان کی حفاظت کر لے تووہ جنت کا مستحق بن جائے گا ۔
بسیار خوری انسان کے لیے دینی و دنیاوی خرابیوں کا سبب بنتی ہے اور بسا اوقات اسے حلال و حرام کی تمیز سے بھی غافل کر دیتی ہے۔ اسلام نے پیٹ بھر کر کھانے سے منع کرتے ہوئے انسانی پیٹ کو بدترین برتن قرار دیا ہے، جسے اعتدال کے بغیر بھرنا جسم و روح دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔چنانچہ حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بسیار خوری کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:
ما ملأَ آدميٌّ وعاءً شرًّا مِن بطنٍ ، بحسبِ ابنِ آدمَ أُكُلاتٌ يُقمنَ صُلبَهُ ، فإن كانَ لا محالةَ فثُلثٌ لطعامِهِ وثُلثٌ لشرابِهِ وثُلثٌ لنفَسِهِ 14
ترجمہ : وہ بدترین برتن جو انسان بھرتا ہے، اس کا اپنا پیٹ ہے۔ابن آدم کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ اپنے کھانے کے لیے، ایک تہائی پانی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے باقی رکھے ۔
قیامت کی طویل بھوک
دنیا میں بسیار خوری اور شکم پروری قیامت کے دن طویل بھوک کا سبب بن سکتی ہے؛ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے کھانے پینے میں اعتدال کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:
إِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا , أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ”.15
ترجمہ : دنیا میں بسیار خوری کرنے والے لوگ قیامت کے دن زیادہ طویل عرصے تک بھوکے رہیں گے۔
7۔ خوش نصیبی اور سعادت مندی کا ذریعہ
نکاح کے بنیادی مقاصد میں انسان کی خوش نصیبی اور سعادت مندی کا حصول بھی شامل ہے۔ نکاح انسان کی زندگی میں سکون و اطمینان، محبت و الفت اور عفت و پاک دامنی کے فروغ کا ذریعہ بنتا ہے، جو دنیاوی خوش بختی اور دینی سعادت کے اہم اسباب ہیں۔ چنانچہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ ثَلاَثَةٌ ، وَمِنْ شِقْوَةِ ابْنِ آدَمَ ثَلاَثَةٌ ، مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ :الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ ، وَالْمَسْكَنُ الصَّالِحُ ، وَالْمَرْكَبُ الصَّالِحُ ، وَمِنْ شِقْوَةِ ابْنِ آدَمَ:الْمَرْأَةُ السُّوءُ ، وَالْمَسْكَنُ السُّوءُ ، وَالْمَرْكَبُ السُّوءُ 16
ترجمہ: تین چیزیں ابن آدم کی سعات مندی کی علامت ہیں اور تین چیزیں اس کی بدنصیبی کی علامت ہیں، ابن آدم کی خوش نصیبی تو یہ ہے کہ اسے نیک بیوی ملے، اچھی رہائش ملے اور عمدہ سواری ملے، جبکہ اس کی بدنصیبی یہ ہے کہ اسے بری بیوی ملے، بری رہائش ملے اور بری سواری ملے۔
جبکہ ایک اور حدیث میں چار چیزوں کا تذکرہ ہے :
أربعٌ من السعادةِ : المرأةُ الصالحةُ ، والمسكنُ الواسعُ ، والجارُ الصالحُ ، والمركبُ الهنيءُ . أربعٌ من الشَّقاءِ : الجارُ السوءُ ، والمرأةُ السوءُ ، والمركبُ السوءُ ، والمسكنُ الضَّيِّقُ 17
ترجمه: چار چیزیں خوش نصیبی میں سے ہیں، نیک عورت ،اور کشادہ مکان ، ، اچھا پڑوسی اور بہترین سواری ، اور چار چیزیں بد نصیبی میں سے ہیں ، برا پڑوسی اور بری عورت اور خراب سواری اور تنگ مکان۔
8۔ افزائشِ نسل اور نسلِ انسانی کا تسلسل
نکاح کے اہم مقاصد میں نسلِ انسانی کی بقا اور اس کا تسلسل بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح کو افزائشِ نسل کا جائز اور پاکیزہ ذریعہ بنایا، تاکہ انسانی نسل آگے بڑھے اور خاندان و معاشرے کا استحکام برقرار رہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ18
ترجمه: اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے ہیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
9 ۔ نیک و پاکیزہ رفیقۂ حیات کا حصول
نکاح کے اہم مقاصد میں نیک، صالح اور پاکیزہ رفیقۂ حیات کا حصول بھی شامل ہے۔ ایک نیک بیوی شوہر کے لیے سکون و اطمینان کا ذریعہ، زندگی کے نشیب و فراز میں بہترین رفیق اور دین و دنیا کی بھلائی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ وہ گھر کے ماحول کو محبت و سکون سے آراستہ کرنے کے ساتھ اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے تقویٰ و پرہیزگاری کے بعد نیک بیوی کو انسان کے لیے بہترین نعمتوں میں شمار کیا ہے۔ چنانچہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ارشاد فرمایا کرتے تھے:
ما اسْتَفَادَ المؤمنُ بعدَ تقوى اللهِ خيرًا له من زوجةٍ صالحةٍ، إن أَمَرها أطاعَتْه، وإن نظرَ إليها سَرَّتْه، وإن أقسَمَ عليها أبرَّتْه، وإِنْ غابَ عنها نَصَحَتْه في نفسِها ومالِه. 19
ترجمہ: مومن کے لیے تقویٰ اور پرہیزگاری کے بعد نیک بیوی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ ایسی نیک بیوی ہے کہ اگر شوہر اسے حکم دے تو اسے مانے، اور اگر اس کی جانب دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے، اور اگر وہ اس (کے بھروسے) پر قسم کھا لے تو اسے سچا کر دکھائے، اور اگر وہ موجود نہ ہو تو عورت اپنی ذات اور اس کے مال میں اس کی خیر خواہی کرے“
دنیا کا قیمتی خزانہ
نیک بیوی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور دنیا کا سب سے قیمتی خزانہ ہے، جو شوہر کے لیے سکونِ قلب، حفاظتِ دین اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔ حضرت ابو امامة ، حضرت ثوبان اورحضرت علي بن أبي طالب رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
قلبٌ شاكرٌ و لسانٌ ذاكرٌ و زوجةٌ صالحةٌ تُعينُك على أمرِ دنياك و دينِك خيرٌ ما اكْتَنَزَ الناسُ 20
ترجمہ: شکر گزار دل، اللہ کو یادکرنے والی زبان، اور ایسی نیک بیوی جو تمہارے دین و دنیا کے معاملے میں تمہاری مدد کرے ، یہ لوگوں کے جمع کیے ہوئے تمام تر خزانے سے بہتر ہے۔”
بہترین دولت
نیک بیوی دنیا کی بہترین دولت ہے، جو شوہر کے لیے سکونِ قلب، دین پر استقامت اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں معاون ثابت ہوتی ہے۔حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب قرآن کریم کی یہ آیت: جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں، اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو آپ انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئیے“ (التوبہ: 34)، نازل ہوئی ، حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:
كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: أُنْزِلَتْ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، لَوْ عَلِمْنَا أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ فَنَتَّخِذَهُ. فَقَالَ ﷺ: أَفْضَلُهُ لِسَانٌ ذَاكِرٌ، وَقَلْبٌ شَاكِرٌ، وَزَوْجَةٌ مُؤْمِنَةٌ تُعِينُهُ عَلَى إِيمَانِهِ. 21
اس وقت ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ کے بعض صحابہ نے کہا: سونے اور چاندی کی مذمت میں قرآن کی آیات نازل ہوچکیں ، لیکن اگر ہمیں معلوم ہوجائے کہ کون سا مال بہتر ہے تو ہم اسی کو اپناتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بہترین مال یہ ہے کہ آدمی کے پاس اللہ کو یاد کرنے والی زبان ہو، شکر گزار دل ہو، اور اس کی بیوی ایسی مومنہ عورت ہو جو اس کے ایمان کو پختہ تر بنانے میں مددگار ہو“۔
اس حدیث میں دین کے معاملے میں شوہر کی معاونت کرنے والی بیوی کو بہترین دولت قرار دیا گیا ہے۔ محبت، الفت، حسنِ سلوک اور دینی و دنیاوی امور میں تعاون کرنے والی بیوی شوہر کے لیے تقویت اور حوصلے کا باعث بنتی ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
خَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ 22
ترجمه: نیک عورت دنیا کی سب سے بهترین دولت ہے ۔
واقعی شوہر کا بھرپور تعاون کرنے والی بیوی بہت بڑی دولت ہے ، جو انسان کونکاح اور شادی کے بعد ہی حاصل ہوسکتی ہے۔
نیک عورت کے اوصاف
نیک عورت ایمان، تقویٰ، عفت و حیا، حسنِ اخلاق اور شوہر کے ساتھ حسنِ معاشرت جیسی صفات سے آراستہ ہوتی ہے، جو اسے بہترین شریکِ حیات بناتی ہیں۔چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:
أيُّ النساءِ خيرٌ ؟ قال : التي تسرُّه إذا نظر ، وتطيعُه إذا أمر ، ولا تخالفُه في نفسِها ومالها بما يكره 23
عورتوں میں بہترین عورت کون سی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عورت کہ جب شوہر اس کی طرف دیکھے تو اسے خوش کر دے، جب اسے کوئی حکم دے تو اس کی فرمانبرداری کرے، اوراپنی ذات اور اپنے مال کے بارےمیں شوہر جس چیز کو ناپسند کرتا ہو اس کی مخالفت نہ کرے ۔ (یعنی جب شوہر اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کے لیے بلائے تو فوراً تیار ہو جائے اور اپنے مال میں کھلے دل سے اسے تصرف کی اجازت دے رکھے)۔
10۔ نیک اور صالح اولاد کا حصول
نکاح کے عظیم مقاصد میں سے ایک مقصد نیک اور صالح اولاد کا حصول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت دونوں کے دلوں میں اولاد کی محبت اور والدین بننے کے فطری جذبات رکھے ہیں۔ اولاد انسان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، خاندان کے تسلسل اور معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ تاہم، اولاد کا حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب اس کی تربیت ایمان، اخلاق اور نیکی کے ماحول میں کی جائے۔رسول اللہ ﷺ نے نیک اولاد کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ 24
ترجمہ: جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیک اولاد والدین کے لیے ان کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بھی اجر و ثواب کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے نکاح کے لیے شریکِ حیات کے انتخاب میں دین داری اور اچھے کردار کو بنیادی اہمیت دی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ، تَرِبَتْ يَدَاكَ 25
ترجمہ: عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے: اس کے مال، اس کے حسب و نسب، اس کے حسن و جمال اور اس کی دین داری کی وجہ سے۔ پس تم دین دار عورت کو ترجیح دو، تم کامیاب رہو گے۔
دیندار عورت ایک نیک ماں بننے اور اولاد کی اسلامی تربیت کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کے دلوں میں ایمان، تقویٰ، سچائی، امانت داری، حسنِ اخلاق اور دیگر اعلیٰ اقدار پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسی طرح مرد کے انتخاب میں بھی دین داری اور اچھے اخلاق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِذَا أَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ خُلُقَهُ وَدِينَهُ فَزَوِّجُوهُ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ 26
ترجمہ: جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام لے کر آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس سے نکاح کردو۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔
ایک اور روایت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تَخَيَّرُوا لِنُطَفِكُمْ، وَانْكِحُوا الْأَكْفَاءَ، وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِمْ 27
ترجمہ: اپنے نطفوں کے لیے نیک عورت کا انتخاب کرو، اور اپنے ہم پلہ لوگوں سے نکاح کرو اور اپنی بیٹیوں کے نکاح بھی ہم پلہ لوگوں سے کرو۔
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کا مقصد صرف اولاد پیدا کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسی صالح نسل کی پرورش بھی ہے جو دین و اخلاق کی پابند ہو، والدین کے لیے باعثِ اجر و ثواب بنے اور معاشرے کی اصلاح و فلاح میں اپنا کردار ادا کرے۔
11۔ امتِ مسلمہ کی کثرت، نبی ﷺ کے لیے باعثِ فخر
نکاح کا ایک اہم مقصد نسلِ انسانی کی بقا و افزائش اور امتِ مسلمہ کی تعداد میں اضافہ بھی ہے۔ اسلام ایسی صالح نسل کی پرورش پر زور دیتا ہے جو ایمان و عملِ صالح اور اخلاقِ حسنہ سے آراستہ ہو اور دین و ملت کی سربلندی کا ذریعہ بنے۔ ایسی ہی کثرتِ امت قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کے لیے باعثِ فخر ہوگی، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
تزوَّجوا الوَدودَ الولودَ فإنِّي مُكاثرٌ بِكُمُ الأُممَ 28
ترجمہ: خوب محبت کرنے والی اورزیادہ بچے جننے والی عورتوں سے شادی کرو، کیونکہ (بروز قیامت) میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا“
12۔ ایمان کی حفاظت اور پاک دامنی کا ذریعہ
نکاح کا ایک اہم مقصد ایمان کی حفاظت اور پاک دامنی کا حصول ہے۔ یہ انسان کی فطری خواہشات کی تسکین کے لیے جائز راستہ فراہم کرتا، عفت و عصمت کو فروغ دیتا اور اخلاق و کردار کی اصلاح کے ساتھ معاشرے کو فحاشی و بے راہ روی سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے نوجوانوں کو نکاح کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:
يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ؛ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ 29
ترجمہ: اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو، اسے نکاح کرلینا چاہیے، کیونکہ نکاح نگاہوں کو زیادہ نیچا رکھنے اور شرم گاہ کی زیادہ حفاظت کرنے کا ذریعہ ہے۔
13 ۔ معاشرے کی تعمیر اور سماجی روابط کا قیام
نکاح ایک صالح، مہذب اور منظم انسانی معاشرے کی تشکیل کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے خاندان وجود میں آتے ہیں، نسب محفوظ رہتا ہے اور مختلف خاندانوں کے درمیان رشتے قائم ہوتے ہیں۔ یہی رشتے معاشرے میں باہمی تعارف، محبت، تعاون اور ہمدردی کو فروغ دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نسبی اور سسرالی رشتوں کو اپنی قدرت کی نشانیوں میں شمار کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا﴾ 30
ترجمہ: اور وہی ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اسے نسبی اور سسرالی رشتوں والا بنا دیا، اور آپ کا رب بڑی قدرت والا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے ساتھ نسبی اور سسرالی رشتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ نسبی رشتے پیدائش سے قائم ہوتے ہیں، جبکہ سسرالی رشتے نکاح کے ذریعے وجود میں آتے ہیں۔ اس طرح نکاح نہ صرف دو افراد بلکہ دو خاندانوں کو بھی باہم جوڑتا ہے، جس سے محبت، تعاون اور باہمی تعلقات کو فروغ ملتا ہے۔ یوں نکاح خاندانی استحکام اور ایک صالح و پُرامن معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
خلاصہ کلام
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ نکاحِ شرعی اسلام کے پاکیزہ معاشرتی نظام کا اہم ستون ہے، جس کے ذریعے عفت و پاک دامنی کا تحفظ، نسلِ انسانی کی بقا، سکون و محبت کا حصول، صالح خاندان کی تشکیل اور معاشرتی استحکام جیسے عظیم مقاصد حاصل ہوتے ہیں۔ نکاح سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی کے ساتھ باہمی حقوق و فرائض کی ادائیگی اور صالح معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ بھی ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ شرعی تعلیمات کی پابندی کریں، غیر ضروری رسوم و اخراجات سے بچیں اور نکاح کو آسان بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان حکمتوں کو سمجھنے اور اپنے خاندانوں کو محبت، سکون اور خیر و برکت کا گہوارہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
____________________________________________________________________________
- فقه السنة ، للسيد سابق، 2/ 132
- سورۃ النحل: 72
- سورۃ الروم: 21
- (صحیح بخاری: 893، صحیح مسلم: 1829)
- سورۃ الرعد: 38
- سنن الترمذي ت شاكر (3/ 383) (1080) والمعجم الكبير للطبراني (11/ 186) (11445) وتهذيب الآثار مسند ابن عباس (1/ 490) (772) حسن لغيره
- أخرجه البخاري: 5063، ومسلم : (1401).
- أخرجه: الطبراني في المعجم الأوسط، برقم: 972، والحاكم في المستدرك، رقم: 2681، وقال: هذا حديث صحيح الإسناد، ووافقه الذهبي.
- السلسلة الصحيحة (625)
- مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 2049)
- (صحيح الترمذي : 2004: إسناده حسن)
- صححه الألباني في صحيح الترمذي: 2409، وصحيح الترغيب: 2857)
- تفسير القرطبي:( 16/470)، بإسناد صحیح ۔
- (صحيح الترمذي : 2380)
- (سنن ابن ماجه : 3351، و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 343 ) (3775)
- حديث صحيح، أخرجه أحمد في مسنده، (1445) وابن حبان في صحيحه (4032) والحاكم في المستدرك، رقم(2640) وصححه الألباني في صحيح الترغيب: (2/192) ،
- أخرجه ابن حبان ، كتاب النكاح (4032)، وصححه الألباني في صحيح الترغيب :( 2576 )
- (سورة الذاريات: 49)
- حديث ضعيف، أخرجه ابن ماجه، كتاب النكاح، باب: أفضل النساء، رقم: (1857).
- حدیث صحيح ، رواه البيهقي في شعب الإيمان، رقم الحدیث ( 4430 ) وصححه الألباني في صحيح الجامع : 4409)
- أخرجه ابن ماجه،(1856) والترمذي (3105) وقال: حديث حسن، وصححه الألباني في صحيح الترمذي: 3094
- أخرجه مسلم، كتاب الرضاع، باب: خير متاع الدنيا المرأة الصالحة، رقم: 1467.
- (صحيح النسائي : 3231، حسن صحيح)
- (صحیح مسلم: 1631)
- (صحیح بخاری: 5090، صحیح مسلم: 1466)
- المستدرك على الصحيحين للحاكم: 2732، صحيح الإسناد) وحسّنه الألباني في صحيح ابن ماجه : 1614 والسلسلة الصحيحة: 1022
- (صححه الألباني في صحيح الجامع: 2928)
- أخرجه أبو داود (2050) ، والنسائي (3227) وصححه الألباني في صحيح أبي داود : 2050)
- صحیح البخاری: 5066، صحیح مسلم: 1400)
- (سورة الفرقان: 54)
