یہ ایک انتہائی پُراثر اور ایمان افروز بیان ہے جو ہمیں موت کی اٹل حقیقت اور آخرت کی تیاری کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔ اس میں قرآن و حدیث کی روشنی میں زندگی کے آخری لمحات، موت کی سختی، اور ایک مومن اور کافر کے مختلف تجربات کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ خطبہ اس بات کی پُرزور یاد دہانی ہے کہ ہم دنیا کی عارضی زندگی پر ابدی زندگی کو ترجیح دیں اور اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے، اپنے اعمال کی اصلاح کرکے اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔
اسی سے متعلقہ
جنت و جہنم کا مشاہدہ
اللہ تعالیٰ نے جنت کو ایمان والوں کے لیے نعمتوں سے بھرا،اور جہنم کی آگ کو بھڑکایا یہاں تک کہ وہ...
بعثتِ نبوی ﷺ کا مقصد اور سیرت کا پیغام
نبی ﷺ کی بعثت کا اصل مقصد کیا تھا؟سیرتِ نبوی ﷺ کو پڑھنے کا صحیح مقصد کیا ہے؟کیا سیرتِ نبوی ﷺ محض...
رشتہ داروں کے حقوق اور صلہ رحمی کی اہمیت
صلہ رحمی سے کیا مراد ہے؟صلہ رحمی کس قسم کے حقوق میں شامل ہے؟قرآن مجید میں صلہ رحمی کا ذکر کن بنیادی...
“دنیا و آخرت کی عافیت مانگنے کی عظیم دعا”
آج کے درس میں بیان کی جانے والی عظیم دعا اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام ہمیشہ پڑھا...
تزکیۂ نفس: کامیابی کی کنجی
یقیناً کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اپنا نفس پاک کرلیا۔ تزکیۂ نفس کا مطلب ہے:نفس کو گناہوں سے پاک کرنا،...
علم و علما کی شان
علم و علما کی شان
مصنف/ مقرر کے بارے میں
الشیخ عبداللہ شمیم حفظہ اللہ
آپ نے کراچی کے معروف دینی ادارہ المعہد السلفی سے علوم اسلامی کی تعلیم حاصل کی اورالشھادۃ العالیہ کی سند حاصل کی، بعد ازاں اسی ادارہ میں بحیثیت مدرس خدمات دین میں مصروف ہیں، آپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں گریجویشن کیا، اب دعوت کی نشر و اشاعت کے حوالےسے سرگرم عمل ہیں اور المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی میں سینئر ریسرچ اسکالر اور الھجرہ آن لائن انسٹیٹیوٹ میں بحیثیت مدرس کام کررہے ہیں۔
