یہ ایک انتہائی پُراثر اور ایمان افروز بیان ہے جو ہمیں موت کی اٹل حقیقت اور آخرت کی تیاری کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔ اس میں قرآن و حدیث کی روشنی میں زندگی کے آخری لمحات، موت کی سختی، اور ایک مومن اور کافر کے مختلف تجربات کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ خطبہ اس بات کی پُرزور یاد دہانی ہے کہ ہم دنیا کی عارضی زندگی پر ابدی زندگی کو ترجیح دیں اور اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے، اپنے اعمال کی اصلاح کرکے اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔
اسی سے متعلقہ
فتنہ قبر: آسان سوالات مگر جواب دینا مشکل
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل زندگی اور دعوت توحید کی آبیاری اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے...
دینِ اسلام نے عورت کو کیا مقام دیا ہے
دورِ جاہلیت میں بیٹی کی پیدائش پر معاشرے اور باپ کا کیا ردعمل ہوتا تھا اور وہ کیا ظالمانہ قدم...
اسلام: اللہ کا واحد دین
بے شک دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو اختیار کرے...
اللہ کا خوف اور اس سے امید
حضرت آدم علیہ السلام اور شیطان کی غلطی کے بعد ان کے ردِعمل میں بنیادی فرق کیا تھا؟ ایک مومن کی...
رسوم و رواج میں جکڑا مسلمان
منگنی، مایوں، شادی، رخصتی، ولیمہ سمیت دیگر رسومات میں جکڑا ہوا مسلمان کیا اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل...
ناپ تول میں کمی – ویل ان کے لیے!
یل للمطففین یعنی ہلاکت ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے، الذین اذا اکتالوا علی الناس یستوفون جب...
مصنف/ مقرر کے بارے میں
الشیخ عبداللہ شمیم حفظہ اللہ
آپ نے کراچی کے معروف دینی ادارہ المعہد السلفی سے علوم اسلامی کی تعلیم حاصل کی اورالشھادۃ العالیہ کی سند حاصل کی، بعد ازاں اسی ادارہ میں بحیثیت مدرس خدمات دین میں مصروف ہیں، آپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں گریجویشن کیا، اب دعوت کی نشر و اشاعت کے حوالےسے سرگرم عمل ہیں اور المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی میں سینئر ریسرچ اسکالر اور الھجرہ آن لائن انسٹیٹیوٹ میں بحیثیت مدرس کام کررہے ہیں۔
