بحیثیتِ مسلمان یہ ضروری ہے کہ تجارت کرنے والے کو تجارت میں “سرمایہ کاری”، “شراکت داری” اور “نفع و نقصان” کے شرعی احکامات کا علم ہو۔ بنیادی طور پر تجارت کے دو طریقے ہیں، ایک “مضاربہ” اور دوسرا “مشارکہ”۔ اور یہ دونوں طریقے مسنوں ہیں آپ ﷺ کے عمل سے ثابت ہیں۔ کاروبار میں عمومی طور پر نفع کا تناسب سرمایہ کے حساب سے رکھا جاتا ہے اور اِس تناسب کو ہی صحیح سمجھا جاتا ہے جو کہ غلط ہے۔
یہودیوں کی وہ کون سی خوش فہمی تھی جس نے انہیں دھوکے میں رکھا؟ "فلاں…
مقرر کے مطابق اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلا اور سب سے بدترین فتنہ…
امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے "اہلِ حدیث" کے بارے میں کیا فرمایا؟…
جہنم میں عورتوں کی کثرت کس اعتبار سے ہوگی؟ جہنم میں عورتوں کی تعداد زیادہ…
نبی اکرم ﷺ نے غزوہ احد سے پہلے کیا خواب دیکھا اور اس کی تعبیر…