عمل اور نیت
خطبہ اول:
یقیناً ہر قسم کی تعریف زمین و آسمان کے رب اللہ کے لیے ہے۔ میں اس پاک ذات کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر بجا لاتا ہوں۔ اسی کے لیے دنیا و آخرت میں حمد ہے اور اسی کے ہاتھ میں فضل و عطا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ عظمت و کبریائی میں منفرد ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ نے آپ کو ہدایت اور حق کے ساتھ جہانوں کے لیے رحمت اور ایسا نور بنا کر مبعوث کیا ہے جو روشنی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ آپ پر اور آپ کی آل و اصحاب پر مبارک دائمی درود نازل ہو، جب تک شب و روز کا سلسلہ رہے اور تا قیامت دن و سال آتے رہیں۔
امابعد:
اللہ کے بندو! میں تمہیں اور خود کو اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں، کہ یہ دلوں کا توشہ ہے، اس سے بھلائیاں حاصل ہوتی ہیں اور آفتیں دفع کی جاتی ہیں اور درجات پائے جاتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ٘ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا1
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی سچی باتیں کیا کرو، تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناہ معاف فرما دے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پا لی۔
جب تم زندگی کی سرگرمیوں پر غور کرو گے تو تمام لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ دوڑ بھاگ کر رہے ہیں، کوئی ٹھہرا نہیں ہے، کوئی عمل سے نہیں رک رہا۔
قرآنِ کریم اس منظر کو اپنے اس قول سے واضح کر رہا ہے:
یقیناً تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے۔
بظاہر لوگوں کی یہ ایک ہی محنت ہے، لیکن میزان میں یہ مختلف ہے، کیونکہ اعمال باہم مشابہ ہوتے ہیں اور مقاصد مختلف ہوتے ہیں۔ یہ دنیا کے لیے عمل کر رہا ہے، اور وہ آخرت کے لیے عمل کر رہا ہے، اور تیسرا عمل کر رہا ہے اور نہیں جان رہا کہ کس کے لیے تگ و دو کر رہا ہے۔ پتا چلا کہ ہاتھوں کی حرکت ایک ہے لیکن دلوں کا رخ ہی فرق پیدا کرتا ہے، کیونکہ اعمال مقاصد کی سچائی سے بلند ہوتے ہیں۔
اسلام میں محنت و عمل صرف نماز یا ظاہری عبادت میں منحصر نہیں، بلکہ یہ اس سے کہیں وسیع اور ہمہ گیر ہے، اور یہ انسان کی تمام حرکت کو شامل ہے۔ عمل، گھر، تجارت، تعلیم، تعلقات اور فیصلوں سب کو۔ معلم، تاجر، ڈاکٹر اور گھر کا گارڈین سب محنت کر رہے ہیں، اور ان میں سے ہر آدمی یا تو اللہ کی طرف کوشش کر کے جا رہا ہے یا اس سے دور بھاگ رہا ہے۔ یہیں سے وہ قاعدہ واضح ہوتا ہے جو محنت و سعی کی اس وسعت کو منضبط کرتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا2
اور ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے جدھر کا وہ رخ کرنے والا ہے۔
عمل یکساں ہو سکتا ہے لیکن جو چیز اسے بلند کرتی ہے یا پست کرتی ہے وہ سمت ہی ہے جس کی طرف دل متوجہ ہوتا ہے۔ دو لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں، ایک بلند ہو سکتا ہے کہ اس نے اصلاح کا ارادہ کیا، اور دوسرا نقصان اٹھا سکتا ہے کہ اس نے شہرت کا ارادہ کیا۔ دو لوگ تجارت کرتے ہیں، ایک کو برکت مل سکتی ہے اس لیے کہ اس نے حلال اور لوگوں کی خدمت کا ارادہ کیا، اور دوسرا محروم ہو سکتا ہے اس لیے کہ اس نے اپنا مقصد صرف کمائی کو بنایا۔
اسی بنیاد پر کوشش کو قابلِ تعریف کوشش اور بیکار کوشش میں منقسم کیا جاتا ہے۔ جہاں تک قابلِ تعریف کوشش و محنت کی بات ہے تو وہ وہ ہے جس سے زندگی بھری ہوئی ہے لیکن اس کی توجہ اللہ کی طرف ہے۔ اس لیے کہ دنیاوی عمل نیک نیت کے ساتھ عبادت بن جاتا ہے، اس کے اثر میں برکت ہوتی ہے اور وہ کام بڑا ہو جاتا ہے۔
چنانچہ قوت حاصل کرنے کی نیت سے سونا اطاعت ہے، خوب اچھے سے کام کرنا عبادت ہے، اہلِ و عیال پر خرچ کرنا تقرب ہے، لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنا احسان ہے، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک بلندی ہے، بچوں کی تربیت امانت ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا صدقہ ہے، پاکیزہ کلمہ تعمیر ساز ہے، لوگوں کی اذیت پر صبر کرنا خفیہ عبادت ہے اور تعامل میں عدل سے کام لینا ظاہری عبادت ہے۔ یہ سب تب ہوگا جب سمت درست ہو، عام اعمال عبادت بن جاتے ہیں، روزانے کا روٹین تقرب بن جاتا ہے، تھوڑا عمل عظیم ہو جاتا ہے اس لیے کہ دل متوجہ ہوا اور نیت سچی رہی۔
جہاں تک بیکار کوشش کی بات ہے تو وہ وہ ہے جس میں تھکان بہت ہوتی ہے، اس سے نیت غائب رہتی ہے اور سمت ضائع ہو جاتی ہے۔ عمل کرنے والا بہت عمل کرتا ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ وہ کیوں عمل کر رہا ہے، بغیر قطب نما کے سرگرم رہتا ہے۔ چنانچہ جب پہنچتا ہے تو کچھ نہیں پاتا، جیسا کہ اس کے حال کی تصویر کشی قرآنِ کریم نے کی ہے: “جیسے چٹیل میدان میں چمکتی ہوئی ریت۔” یوں کوشش کی جا رہی ہے لیکن نتیجہ معدوم ہے، اس لیے کہ سمت اللہ سے ایسی شہرت کی طرف پھری ہوئی ہے جس کی طلب کی جا رہی ہے، یا ایسی شہوت کی طرف پھری ہوئی ہے جس کی پیروی کی جا رہی ہے، یا ایسی ناموری جس کے پیچھے نگاہیں بھاگی جا رہی ہیں، یا لوگوں کی رضامندی کی طرف پھری ہوئی ہے۔ یوں ظاہری شکل میں کوشش زیادہ ہوگئی اور قدر و قیمت میں کم۔
دن گزرتے ہیں، اعمال کا ڈھیر لگ جاتا ہے لیکن آدمی اپنے آپ سے نہیں پوچھتا “میں کہاں جا رہا ہوں؟”، یہاں تک کہ راستے کے آخری حصے میں اسے یکایک پتا چلتا ہے کہ اس کی عمر اس چیز میں ضائع ہوگئی جس کے لیے وہ پیدا نہیں کیا گیا تھا۔
اللہ کا فرمان ہے:
الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا3
وہ ہیں کہ جن کی دنیاوی زندگی کی تمام تر کوششیں بیکار ہوگئیں اور وہ اسی گمان میں رہے کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔
یہ آیت ہر انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے کہ میں جو کر رہا ہوں وہ صحیح ہے؟ وہ عمل ہدایت پر ہے؟ اس سے اللہ کی خوشنودی چاہتا ہوں یا کچھ اور؟ قرآنِ کریم وہ میزان رکھتا ہے جو انسان کو اس کے نفس کی طرف لوٹاتی ہے اور اسے اس کی ذمہ داری کا مکمل طور پر ذمہ دار بناتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ٘ وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ4
اور یہ کہ ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی، اور یہ کہ بیشک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی۔
معلوم ہوا کہ کوئی اس کے عمل کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، نہ اس کا نام اور مقام اسے بے نیاز کر سکے گا اور حقیقت میں وہ جس کا مالک ہے وہ وہ عمل ہے جسے اس نے آگے پیش کیا ہے۔ وہ ایک دن اسے اپنے سامنے حاضر دیکھے گا، اس میں اس کے دقیق اعمال منتشر ہوں گے اور اس کی مخفی نیتیں کھل جائیں گی۔ جب یہ بات دل میں بیٹھ جائے تو کوشش کی کوئی قیمت نہیں رہ جاتی الا یہ کہ وہ اللہ کے لیے ہو اور یہاں قرآن قبولیت کا طریقہ بیان کر رہا ہے۔
اللہ کا فرمان ہے:
وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا5
اور جس کا ارادہ آخرت کا ہو اور جیسی کوشش اس کے لیے ہونی چاہیے وہ کرتا بھی ہو اور وہ باایمان بھی ہو، پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدردانی کی جائے گی۔
اور جس کا ارادہ آخرت ہو وہ دل کو درست کرے گا، سمت کو سیدھی کرے گا، اس کے لیے شریعت کی ہدایت کے مطابق باضابطہ کوشش کرے گا، ایک ایسے ایمان کے ساتھ جو عمل کو زندہ کرے اور جس کے اثر میں برکت ہو۔ ان لوگوں کی کوشش کی قدر ہوگی، مقبول ہوگی، محفوظ اور بابرکت ہوگی جس کی اللہ تعالیٰ تعریف کرے گا اور اس پر کئی گنا بدلہ دے گا۔ اور یہاں پر قدردانی صرف تعریف پر منحصر نہیں ہوگی بلکہ اللہ قبول بھی کرے گا، عزت افزائی بھی کرے گا، برکت بھی دے گا اور مزید بھی نوازے گا، یہاں تک کہ عمل زیادہ ہوگا اور تھوڑا عمل عظیم ہو جائے گا۔
اور جب مسلمان اس عظیم فضل کو مستحضر رکھے اور نوازش کی وسعت کو سمجھے تو عملی ربانی صدا آتی ہے: “تم نیکیوں کی طرف جلدی کرو۔” ایک ایسی آواز جو مسلمانوں کے دل کو جگاتی ہے، ان کے عزم کو مہمیز کرتی ہے تاکہ اپنی زندگی کو مسابقت کا میدان بنائے بلکہ اپنی پوری زندگی میں عمل، رہا، کمائی اور نوازش سب کو اللہ کے لیے بنائے
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ6
آپ فرما دیجیے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔
میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ عظیم سے اپنے لیے، تمہارے لیے اور بقیہ تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ تم بھی اس سے مغفرت طلب کرو، وہ یقیناً بڑا بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
خطبہ ثانی:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، بہت زیادہ تعریف۔ میں اس پاک ذات کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کا بہت شکر ادا کرتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، ایسی توحید کے ساتھ جو دلوں کو منور کر دینے والی ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، رہنمائی کرنے والے، بشارت سنانے والے ہیں۔ درود نازل ہو آپ پر اور آپ کی آل و اصحاب پر اور بہت زیادہ سلامتی ہو۔
امابعد:
میں تمہیں اور خود کو اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں۔ جب مسلمان کا دل محنت و کاوش میں پورا کا پورا اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کا نفس پاکیزہ ہو جاتا ہے، حسد کا شرارہ بجھ جاتا ہے، کینے مٹ جاتے ہیں۔ وہ چھوٹی موٹی معمولی باتوں میں مسابقت سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ چنانچہ فنا ہونے والی چیز پر نہیں لڑتا اور اس کی توجہات یہ ہوتی ہیں کہ تعمیر ہو، بنایا جائے، اصلاح ہو اور کام خوب اچھی طرح کیا جائے۔ پھر یہی روح پورے معاشرے میں پھیلتی ہے اور اس کے افراد کی کوششوں کے مقاصد بلند تر ہو جاتے ہیں اور کوششیں ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں اور باہمی تعاون مضبوط ہوتا ہے۔ اس طرح توانائیاں مفید عطاء میں بدل جاتی ہیں، اثر انگیز منصوبوں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں اور نفع علم کی شکل میں دور تک پھیلتی ہیں کیونکہ دل ایک ہی سمت پر جمع ہو جاتے ہیں اور اس کے ساتھ کامیابی اور قبولیت کے اسباب بھی یکجا ہو جاتے ہیں۔
سنو! خیرِ خلق اللہ محمد بن عبداللہ پر درود و سلام بھیجو۔ اے اللہ! درود و سلام اور برکتیں نازل کر ان پر اتنی مرتبہ جتنی مرتبہ یاد کرنے والے یاد کریں اور جتنی مرتبہ غافل رہ جانے والے غافل رہ جائیں۔ اے اللہ! ان پر اولین و آخرین میں درود نازل کر اور ملائے اعلیٰ میں یہاں تک کہ تا قیامت ان پر درود نازل فرما۔
اے اللہ! ہمیں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شفاعت اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اچھی پیروی نصیب کر اور ہمیں آپ کے طریقے پر چلنے والے اہل سنت میں سے بنا۔
اے اللہ! تو راضی ہو جا راشد خلفاء، ہدایت یافتہ ائمہ ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سے اور تمام آل و اصحاب سے، اور انہی کے ساتھ اپنے عفو و کرم سے ہم سے بھی اے اکرم الاکرمین۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ دے، ان کے احوال کی اصلاح فرما، حق و ہدایت پر ان کا کلمہ متحد کر۔ اے اللہ! مسلمانوں کے ملکوں کی حفاظت کر، فلسطین اور ہر جگہ تو ان کا حامی و ناصر اور معین و مددگار ہو۔ اے اللہ! جو ہمارا اور ہمارے ملکوں کا برا چاہے اسے اپنی ذات ہی میں الجھا دے، اس کی سازش کو اس کی تباہی بنا دے، اس کے مکر کو اسی کی گردن میں لوٹا دے۔
اے اللہ! ہمارے ملک مملکتِ سعودی عرب کے امن کی حفاظت فرما جو ایمان کی پناہ گاہ اور مسلمانوں کے دلوں کی آماجگاہ ہے۔ اسے ہر برائی سے محفوظ کر، اس پر امن و امان کی نعمت ہمیشہ قائم رکھ، اس کے لشکروں کی حفاظت فرما، اس سے سازش کرنے والوں کی سازش، مکر کرنے والوں کے مکر اور سرکشوں کی سرکشی کو دفع کر۔ اے اللہ! ہم تجھے ان کے مقابلے میں رکھتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔ مسلمانوں کے تمام ملکوں میں خیر و خوشحالی اور سعادت کو عام کر اور امن و استحکام کا لباس پہنا۔
اے اللہ! ہمارے دلوں کی اصلاح کر، ہمارے نفسوں کو پاکیزہ کر، ہمیں سیدھا راستہ دکھا، اللہ ہماری کوششوں کو اپنی رضا کے لیے بنا اور ہمیں اس کی توفیق دے جو تجھے پسند ہے اور ہمارے اعمال کو اپنی خوشنودی کے لیے خالص بنا۔ اے اللہ! ہماری طرف سے قبول فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر۔
اے اللہ! ہمارے سربراہ خادمِ حرمین شریفین کو اس بات کی توفیق دے جو تیری مرضی اور منشا کے مطابق ہو۔ اے اللہ! ہمیں بارش سے نواز، اے اللہ! رحمت کی بارش سے نواز، عذاب کی بارش نہیں، ایسی بارش جس سے تو ملکوں کو زندہ کرے، بندوں کو سیراب کرے اور جو شہر و دیہات کے لیے آبادی و تعمیر کا ذریعہ ہو۔ اے اللہ! ہمارے سربراہ خادمِ حرمین شریفین کو اس بات کی توفیق دے جو تیری مرضی اور منشا کے مطابق ہو، ان کے ولی عہد کو اس بات کی توفیق دے جس میں ملک اور لوگوں کی بھلائی ہو، اور مسلمانوں کے تمام سربراہوں کو ہر خیر کی توفیق دے۔
اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذابِ جہنم سے نجات دے۔ اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے۔ وہ خود تمہیں نصیحت کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اللہ عظیم و جلیل کو یاد کرو وہ تمہیں یاد کرے گا، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر بجا لاؤ وہ تمہیں مزید نوازے گا۔ اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
خطبہ جمعہ مسجدِ نبوی
تاریخ: 07 ذوالقعدہ 1447 ہجری | 24 اپریل 2026 عیسوی
خطیب: فضیلتہ الشیخ ڈاکٹر عبدالباری بن عواد الثبیتی حفظہ اللہ
_________________________________________________________________
امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے "اہلِ حدیث" کے بارے میں کیا فرمایا؟…
جہنم میں عورتوں کی کثرت کس اعتبار سے ہوگی؟ جہنم میں عورتوں کی تعداد زیادہ…
نبی اکرم ﷺ نے غزوہ احد سے پہلے کیا خواب دیکھا اور اس کی تعبیر…
کیا ایک امام کو فالو نہ کرنے سے خواہشات کی پیروی ہوتی ہے؟ خواہشات کے…
غامدی صاحب کا تصورِ ریاست کیا ہے، اور یہ خطرناک کیوں ہے؟ کیا ریاست سیکولر…
کیا اہلِ حدیث ائمہ اربعہ کو نہیں مانتے؟ اہلِ حدیث اور ائمہ اربعہ کا منہج…