اصلاحِ نفس و معاشرہ

اطمینان قلب اور سکون دل کا حصول

خطبہ اول :

یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے نیک بندوں کو سیدھے راستے کی توفیق دی۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ نہایت فضل و کرم والا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اس کے بندے اور رسول ہیں جو عظیم اخلاق کے حامل ہیں۔ اللہ آپ اور آپ کے تمام آل و اصحاب پر درود و سلام نازل فرمائے۔

اما بعد:

میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ عظیم و حلیم کے تقویٰ کی اور مولائے کریم کی اطاعت کی وصیت کرتا ہوں تاکہ مغفرت اور اجر عظیم سے سرفرازی مل سکے۔

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ٘ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا1

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی سچی بات کیا کرو۔ وہ تمہارے لیے تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، اس نے بڑی کامیابی پا لی۔

مسلمانو! نفس ہر ذریعے سے اعلیٰ مقاصد کے حصول کی کوشش کرتا ہے، جیسے دل کا سکون، اطمینانِ قلب، اور سینے کی فراخی۔ اور سنو! بلاشبہ اللہ جل وعلا نے ہمیں بتا دیا ہے کہ یہ سب کس چیز سے حاصل ہوتا ہے۔

چنانچہ اللہ تعالی کا ارشادہے:

 إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ٘ وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ2

 بے شک نیک لوگ ضرور بالضرور نعمتوں میں ہوں گے، اور بے شک بدکار لوگ البتہ جہنم میں ہوں گے۔

لہٰذا سب سے بری زندگی نافرمانوں کی زندگی ہے اور سب سے اچھی زندگی فرمانبرداروں کی زندگی ہے جو ارحم الراحمین کی قربت سے انسیت پاتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں محققین حضرات کا کہنا ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ یہ صرف آخرت کی نعمت اور اس کی جہنم تک محدود ہے، بلکہ اپنے تینوں مراحل میں وہ ایسے ہی ہوں گے؛ دنیا میں، برزخ میں، اور جنت کے دائمی ٹھکانے میں۔ اور دل کا سکون ہی اصل نعمت ہے اور دل کا عذاب ہی اصل عذاب ہے۔

بےشک اللہ کی قربت کی لذت کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اور بندے کی اپنے رب کے ساتھ انسیت، اس کی اطاعت، اس کا ذکر، اور اس کی کتاب سے وابستگی، یہ سب ایسی نعمتیں ہیں کہ دنیا کی مختلف اور متنوع لذتیں اور خواہشات ان کی برابری نہیں کر سکتیں۔

ہاں، اطمینانِ نفس اور شرح صدر اسی وقت حاصل ہوگا جب دل اپنے رب کے ساتھ جڑ جائے، اپنے خالق و مالک کی بندگی کرتے ہوئے، توحید کو خالص کرے، اور ظاہری و باطنی اور زبانی و عملی طور پر اللہ کی اطاعت میں سر تسلیم خم کر دے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ3

جو شخص نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو، تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔

میرے مسلمان بھائی! آنکھ کو ٹھنڈک، دل کو سکون، اور نفس کو اطمینان صرف اسی وقت ملتا ہے جب اللہ سبحانہ کے لیے مکمل انکساری اور خشوع و خضوع برتا جائے اور اس سے غایت درجہ محبت کی جائے، ساتھ ہی اس کی شریعت کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم کیا جائے۔

 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ4

وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں، سن لو! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ5

اور یہ کہ تم لوگ اپنے رب سے مغفرت طلب کرو پھر اس کے آگے توبہ کرو، وہ تم کو وقتِ مقرر تک اچھا سامانِ زندگی دے گا اور ہر زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ ثواب دے گا۔

چنانچہ پتہ چلا کہ نفس کی پاکیزگی، دل کی خوشی، مسرت، لذت، شادمانی، سینے کی فراخی، نور اور کشادگی، یہ سب کچھ صرف اسی منہج الٰہی سے حاصل ہوتی ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں رہنمائی فرمائی ہے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت میں تفصیل بتائی ہے۔

لہٰذا اس سے اعراض کرنا تمام کدورتوں، نقصانات، تکلیفوں، غموں اور پریشانیوں کا مرکز، نیز بدبختی اور ذلت و رسوائی کا سبب ہے۔

 اللہ سبحانہ کا فرمان ہے:

وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ6

اور جس نے میری نصیحت سے منہ پھیرا تو بے شک اس کے لیے تنگ گزران ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔

چنانچہ جو شخص اللہ کی شریعت سے منہ موڑے گا وہ دائمی غم اور پریشانی میں رہے گا، کیونکہ وہ صرف اسی زندگی کے لیے جی رہا ہے جو پریشانیوں سے بھری اور ناخوشگوار چیزوں سے لبریز ہے، چاہے اس کے پاس بہت زیادہ مال و دولت اور ساز و سامان ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ دنیا کی نعمتیں دائمی نہیں ہوتیں، اس کا امن برقرار نہیں رہتا، اور اس کی عزت بھی ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔ تو دارِ برزخ اور دارِ آخرت میں لاحق ہونے والی تنگی کا کیا حال ہوگا؟ اس رسوائی سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

اسلامی بھائیو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی معانی کو مختصر الفاظ میں یوں بیان فرمایا ہے:

 يَا بِلَالُ! أَقِمِ الصَّلَاةَ, أَرِحْنَا بِهَا7

 اے بلال! نماز کے لیے اقامت کہو اور اس کے ذریعے ہمیں سکون پہنچاؤ۔

اس حدیث کو محدثین کی ایک جماعت نے حسن کہا ہے۔ بےشک نماز وہ عبادت ہے جس میں اللہ سے تعلق، اس کی معرفت اور محبت اتنی ہے کہ دل دنیا کی مشغولیت اور تھکاوٹ سے آرام پا جاتا ہے۔ پھر بندے کا دل اللہ سبحانہ سے جڑ جاتا ہے اور وہ اپنے رب جل شانہ سے مانوس ہو جاتا ہے۔ چنانچہ بندے کو ایسی عظیم ترین لذت اور خوشی حاصل ہوتی ہے کہ اس دنیا میں جس کے برابر یا مقابلے میں کوئی لذت نہیں ہے۔ یہ اللہ کے تقرب کا منہج اور اس کی عبادت ہے۔ وہ عبادت جو خود دنیا کی جنت اور بلند ترین نعمت ہے، آنکھوں کی ٹھنڈک اور روحوں کی لذت ہے، دلوں کی خوشی اور دنیا کی نعمت و سرور ہے۔

 اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ8

 “میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔

لہٰذا اے اللہ کے بندو! اپنے رب سے تعلق مضبوط کرو اور تمہاری انسیت رب کا تقرب ہو تاکہ تمہیں دنیا اور آخرت میں سعادت حاصل ہو اور تم ہر عظیم ترین غنیمت سے شادکام ہو سکو۔ اللہ ہمارے لیے ہماری سنی ہوئی باتوں میں برکت دے اور ہمیں مزید ہدایت، توفیق اور علم عطا فرمائے۔

خطبہ ثانی:

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ایسی تعریف جو کبھی ختم نہ ہو۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے اور بزرگی والا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، جو توحید بجا لانے والوں میں سب سے کامل ہیں۔ اللہ درود و سلام نازل فرمائے آپ پر اور آپ کے آل و اصحاب پر جو اللہ عزوجل کی رضا پانے والے ہیں۔

اما بعد:

 اللہ کے بندو! دلوں سے پریشانی دور کرنے اور سینوں سے غموں کا بوجھ ہٹانے کا راستہ صرف اللہ وحدہ کی طرف متوجہ ہونا اور اس کی رضا کو ہر چیز پر ترجیح دینا ہے۔ اور اس کے سب سے بڑے اسباب میں سے ہے توحیدِ الٰہی کی قوت، اللہ پر مکمل توکل، اس کی بلند صفات اور اسمائے حسنیٰ کا علم، اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے کامل محبت، نیز مخلوق کے ساتھ طرح طرح کے احسان کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کرنا۔ چنانچہ جو شخص ان پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزارے گا، وہ سعادت و سرور اور فرحت و شادمانی پائے گا اور اللہ اسے پریشانیوں سے نجات دے گا اور غموں کو اس سے دور کر دے گا۔

 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا9

اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے چھٹکارے کا راستہ نکال دیتا ہے۔

اللہ کے بندو! خوشی و شادمانی لانے اور پریشانیوں اور غموں کو دور کرنے کے شرعی اسباب میں سے ہے عظمت والے نبی پر کثرت سے درود و سلام بھیجنا۔ اے اللہ! درود و سلام اور برکت نازل فرما ہمارے نبی پر اور آپ کے تمام آل و اصحاب پر۔

اے اللہ! تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کی مغفرت فرما، ان میں سے جو زندہ ہیں اور جو وفات پا چکے۔ اے اللہ! مسلمانوں سے فتنے کو ختم کر دے اور اپنی حفاظت میں سب کو محفوظ رکھ۔ اے اللہ! ان کے غموں اور پریشانیوں کو دور کر دے، ان کی مصیبتوں کو ختم کر دے۔ اے اللہ! اس ملک کی اور تمام مسلمانوں کے ممالک کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! انہیں شر پسندوں کے شر سے اور فاجروں کی چالوں سے محفوظ رکھ۔

 اے اللہ! مسلمانوں کے دشمنوں کی پکڑ کر لے۔ اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں ان کے ظلم و زیادتی سے اور تیرے سہارے سے ان کی برائیوں کو ٹالتے ہیں۔ اے اللہ! تو ہمارے لیے کافی ہے اور تو بہترین کارساز ہے۔ تو ہمارا ولی اور مددگار، حافظ اور معین بن جا۔

 اے اللہ! ہمارے ملک کے امن، سلامتی، استحکام اور اس کے جوانوں کی حفاظت فرما اور اس سے اور تمام مسلمانوں کے ممالک سے سازش کاروں کی سازش، چالبازوں کی چال اور ظالموں کے ظلم کو ٹال دے۔ اے اللہ! خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کی حفاظت فرما، ان کی عمریں دراز فرما، انہیں توفیق دے اور انہیں راہِ راست پر چلا، اے کریم! اے اللہ! تمام مسلمانوں کے حکمرانوں کو توفیق دے اور ان کا مددگار اور ناصر بن جا، اے قوی، اے متین! اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔ اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں شدید مصیبت سے، بدبختی کے آنے سے، بری تقدیر سے اور دشمنوں کی ہمارے اوپر ہنسی سے۔

 اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں تیری نعمت کے ختم ہو جانے سے، تیری عافیت کے پھر جانے سے، تیری اچانک گرفت سے، اور تیری تمام ناراضگیوں سے۔ اے اللہ! ہم پر بارش نازل فرما۔ اے اللہ! ہم پر بارش نازل فرما۔ اے اللہ! مسلمانوں کے ملکوں پر بارش نازل فرما۔ اللہ کے بندو! اللہ کا ذکر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرو۔ اے اللہ! رحمت و سلامتی نازل فرما ہمارے نبی محمد پر۔

خطبہ جمعہ: مسجد االنبوی
خطیب: الشیخ الدکتورحسین بن عبد العزیزآل الشیخ
تاریخ: 29 شوال 1447 ہجری | 17 اپریل 2026 عیسوی
مترجم: انیس  الرحمن

__________________________________________________________

  1. (سورۃ الأحزاب:70)
  2. (سورۃ الانفطار:13)
  3. (سورۃ النحل:97)
  4. (سورۃ الرعد:28)
  5. (سورۃ ھود:03)
  6. (سورۃ طہ:124)
  7. (سنن ابی داؤد:4985)
  8. (سنن نسائی:3391)
  9. (سورۃ الطلاق:02)
فضیلۃ الشیخ جسٹس حسین بن عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ

آپ مسجد نبوی کے امام و خطیب ہیں، شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کے خاندان سے ہیں، بنو تمیم سے تعلق ہے، آپ نے جامعہ محمد بن سعود الاسلامیہ سے ماجستیر کی ڈگری حاصل کی ، پھر مسجد نبوی میں امام متعین ہوئے اور ساتھ ساتھ مدینہ منورہ میں جج کے فرائض بھی ادا کررہے ہیں۔

Share
Published by
فضیلۃ الشیخ جسٹس حسین بن عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ

Recent Posts

عُلماء کرام زمین کے ستارے!

امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے "اہلِ حدیث" کے بارے میں کیا فرمایا؟…

2 days ago

عورتیں جہنم میں زیادہ کیوں؟مشہور اعتراض کی حقیقت!

جہنم میں عورتوں کی کثرت کس اعتبار سے ہوگی؟ جہنم میں عورتوں کی تعداد زیادہ…

4 days ago

عمل اور نیت

خطبہ اول: یقیناً ہر قسم کی تعریف زمین و آسمان کے رب اللہ کے لیے…

5 days ago

غزوہ اُحد کی روشنی میں دفاعِ صحابہؓ

نبی اکرم ﷺ نے غزوہ احد سے پہلے کیا خواب دیکھا اور اس کی تعبیر…

5 days ago

تقلید نہ کرنا گمراھی ہے؟

کیا ایک امام کو فالو نہ کرنے سے خواہشات کی پیروی ہوتی ہے؟ خواہشات کے…

6 days ago

ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا؟

غامدی صاحب کا تصورِ ریاست کیا ہے، اور یہ خطرناک کیوں ہے؟ کیا ریاست سیکولر…

1 week ago