اصلاحِ نفس و معاشرہ

زکوٰۃ دیتے ہوئے یہ 3 غلطیاں ہرگز نہ کریں!

اسلامی تعلیمات میں زکوٰۃ اسلام کا ایک بنیادی ستون ہے، جو نہ صرف مال کو پاک کرتی ہے بلکہ انسان کے دل میں ہمدردی، ایثار اور معاشرتی ذمہ داری کا جذبہ بھی پیدا کرتی ہے۔ افسوس کہ اکثر لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی کو صرف رقم نکالنے تک محدود سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ اس عبادت کی قبولیت اور اس کے حقیقی اثرات کا دارومدار درست نیت، صحیح طریقۂ ادائیگی اور مستحقین کے احترام پر ہوتا ہے۔
ذرا سی غفلت یا لاپروائی نہ صرف اس عظیم عبادت کے اجر کو کم کر سکتی ہے بلکہ کسی ضرورت مند کی دل آزاری کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ زکوٰۃ ادا کرتے وقت ہم ان باتوں کا خاص خیال رکھیں۔
ذیل میں وہ تین اہم غلطیاں بیان کی جا رہی ہیں جن سے زکوٰۃ دیتے وقت بچنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔

1- وہ مستحقین جو زکوٰۃ وصول کرنے میں معروف ہیں، انہیں بتائے بغیر زکوٰۃ دینا نہ صرف درست بلکہ ان کی عزتِ نفس کے پیشِ نظر بہتر بھی ہے۔ لیکن جو مستحقین زکوٰۃ لینے میں معروف نہیں(سفید پوش ہیں)، انہیں بتائے بغیر زکوٰۃ تھما دینا جائز نہیں ہے، بلکہ پہلے پوچھ لینا چاہیے کہ وہ اسے قبول کریں گے یا نہیں۔

2- اکثر لوگ ضرورت مندوں کی دلجوئی کے لیے زکوٰۃ کو “ہدیہ” یا “تحفہ” کہہ کر دیتے ہیں، مگر یہ طریقہ درست نہیں؛ کیونکہ ہدیہ اور زکوٰۃ کے احکام بالکل مختلف ہیں۔ ہدیہ انسان کا اختیاری عمل اور دوسرے پر احسان ہوتا ہے، جسے لینے والا خود پر اخلاقی بوجھ محسوس کرتا ہے اور بدلہ چکانے کی فکر میں رہتا ہے۔ اس کے برعکس زکوٰۃ اللہ کا حق ہے جو غریب کا مال ہے؛ اسے ہدیہ کہنا حق دار پر بلاوجہ احسان لادنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا زکوۃ قبول کرنے والے معروف مستحقین کو خاموشی سے زکوٰۃ ادا کریں، اور اگر کوئی پوچھے تو اسے حکمت بھرے انداز سے بتا دیا جائے۔

3- ماتحت ملازمین کو زکوٰۃ دیتے ہوئے اسے اپنے کسی مفاد، اضافی کام کے بدلے یا “رمضان پیکیج” کے دھوکے میں قطعاً استعمال نہ کریں۔ اگر آپ زکوٰۃ کے بدلے ان سے اضافی کام لیتے ہیں تو یہ زکوٰۃ سے اپنا دنیاوی فائدہ حاصل کرنا ہے جو کہ قطعاً ناجائز ہے۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں اخلاصِ نیت اور احترامِ آدمیت بنیادی اصول ہیں۔ ہمیں ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ زکوٰۃ دے کر ہم کسی پر احسان نہیں کرتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے صاحبِ حق کا حق ادا کرتے ہیں۔
لہٰذا کوشش ہونی چاہیے کہ زکوٰۃ دینے کا انداز ایسا ہو جس سے مستحق کی عزتِ نفس اور سفید پوشی برقرار رہے اور ہمارا یہ فریضہ بھی شریعت کے مطابق ادا ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ ہماری مالی عبادات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ہمیں اخلاص کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

ظہیر شریف

اصل نام "خلیق الرحمن بن شریف طاہر" ہے۔ المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کے زیر انتظام چلنے والا معروف تعلیمی ادارہ جامعہ البیان کراچی سے متخرج اور کراچی یونیورسٹی میں ایم فل کے طالب علم ہیں۔

Recent Posts

عُلماء کرام زمین کے ستارے!

امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے "اہلِ حدیث" کے بارے میں کیا فرمایا؟…

2 days ago

عورتیں جہنم میں زیادہ کیوں؟مشہور اعتراض کی حقیقت!

جہنم میں عورتوں کی کثرت کس اعتبار سے ہوگی؟ جہنم میں عورتوں کی تعداد زیادہ…

5 days ago

عمل اور نیت

خطبہ اول: یقیناً ہر قسم کی تعریف زمین و آسمان کے رب اللہ کے لیے…

5 days ago

غزوہ اُحد کی روشنی میں دفاعِ صحابہؓ

نبی اکرم ﷺ نے غزوہ احد سے پہلے کیا خواب دیکھا اور اس کی تعبیر…

5 days ago

تقلید نہ کرنا گمراھی ہے؟

کیا ایک امام کو فالو نہ کرنے سے خواہشات کی پیروی ہوتی ہے؟ خواہشات کے…

6 days ago

ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا؟

غامدی صاحب کا تصورِ ریاست کیا ہے، اور یہ خطرناک کیوں ہے؟ کیا ریاست سیکولر…

1 week ago