خطبہ اول:
ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین کے لیے ہے، جس نے علم اور علماء کے مقام کو بلند فرمایا۔ طلبِ علم اور اس کے سرسبز و شاداب باغات کی سیر کی رغبت دلائی۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس شخص کی گواہی کی طرح جسے یقین ہو کہ اللہ ہی زمین و آسمان کا پیدا فرمانے والا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی حضرت محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جو تمام انبیاء و مرسلین کے سردار ہیں۔ اللہ درود و سلام نازل کرے آپ پر، آپ کے باوقار آل و اصحاب پر، اور ان پر جنہوں نے ان کے نقشِ قدم کی پیروی کی اور قیامت تک ان کے راستے پر چلے۔
اما بعد!
سب سے بہترین نصیحت جو ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کرتا ہے، اور سب سے عمدہ صفت جس سے انسان اپنی خلوت و جلوت میں آراستہ ہوتا ہے، اللہ کا تقویٰ ہے۔ کیونکہ تقویٰ ہی تمام معاملات کا مدار، تمام بھلائیوں کا مجموعہ، توفیق الہی کا سرچشمہ ہے۔ یہی دنیا و آخرت میں سعادت و کامرانی کا راستہ ہے۔ تقویٰ الہی جس بندے کے دل میں بھی جاگزیں ہوا، اس نے اپنی دلی مراد و تمنا پا لی۔ چنانچہ میں آپ کو اور اپنے آپ کو اللہ عزوجل کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں۔
اللہ کے بندو! بیشک اللہ جل و علا نے تمام مخلوقات کو اسی لیے پیدا فرمایا کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ٘ مَا أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ٘ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ1
میں نے جنات و انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔ میں ان سے کوئی روزی نہیں چاہتا، نہ ہی یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کھلائیں۔ بیشک اللہ ہی روزی رساں، زبردست قوت والا اور بڑا طاقت والا ہے۔
اور اسی عبادت تک رسائی اور اسے مطلوبہ و پسندیدہ طریقے پر ادا کرنے کا کوئی راستہ نہیں سوائے اللہ کی مدد، پھر علم، پھر دین کی گہری سوجھ بوجھ۔
بلاشبہ قرآنِ کریم نے ہماری یہی رہنمائی فرمائی ہے کہ علم ہی عمل کی اساس و بنیاد ہے، اور علم کا عمل پر مقدم ہونا ضروری ہے، تاکہ عمل واضح شریعت کی بنیاد پر اور سیدھی راہ پر مبنی ہو۔
چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ2
پس خوب جان لیجیے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب کیجیے۔
اللہ سبحانہ نے اپنے فرمان “پس جان لو” کے ذریعے علم کا حکم دیا، پھر اس کے بعد مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا، یعنی اس کے ذریعے عمل کا ذکر فرمایا، کیونکہ استغفار بھی عمل ہی کی ایک قسم ہے جس کا علم بیان کرتا ہے اور اس کا حکم دیتا ہے۔
اسی طرح یہ آیتِ مبارکہ علم کے شرف اور اس کی اہمیت پر دلالت کرتی ہے۔ پس علم کے ذریعے ہی اللہ عزوجل کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اللہ کی نازل کردہ کتاب و حکمت پر ایمان قوی ہوتا ہے، اور دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا ہوتی ہے۔ علم سب سے عظیم چیز ہے جس میں سبقت لے جانے والے مسابقت کرتے ہیں۔ پس اے مسلمان! تجھ پر لازم ہے تو زندگی کے نور، سعادت کی روشنی، موت کے بعد نجات سے اپنا بھرپور حصہ حاصل کر لے۔ یہ نفع بخش علم کا زادِ راہ لینے ہی سے ممکن ہے، جو دلوں کی غذا، روحوں کی حیات، اقوال، افعال اور عقائد کی استقامت ہے۔
اپنے دل کی زندگی، اپنی بصیرت کے نور کے لیے سچی اور خالص نیت کے ساتھ محنت اور جدوجہد کر تاکہ تو جہالت کی تاریکیوں سے نکل کر علم کی روشنی اور حقیقی زندگی کے نور کی طرف آ جائے۔ پھر خود بھی صراطِ مستقیم پر چلے، اپنی ملت اور اہلِ وطن کے لیے بھی اس دینِ حنیف کی طرف رہنمائی کرے۔ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔ اسی طرح ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے خاص شعبے سے متعلق احکام سے واقفیت حاصل کرے۔ چنانچہ تاجر پر تجارت کے احکام سیکھنا واجب ہے، اسی طرح ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد پر لازم ہے کہ اپنے اپنے پیشے سے متعلق احکام سیکھیں۔
امتِ مسلمہ! بلاشبہ اسلام نے علمائے ربانیین کو ایسا بلند و بالا مقام عطا کیا ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ علماء وہ قابلِ اعتماد ہستیاں ہیں جن کی شان کو اللہ نے بڑھایا ہے۔ جیسا کہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے، اللہ نے خود اس بات کی گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، فرشتوں نے اور عدل پر قائم رہنے والے اہلِ علم نے بھی یہی گواہی دی۔ پس علماء ہی انبیاء کے وارث، اولیاء کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔ انہی کی بدولت افکار سے گمراہی مٹتی ہے، دلوں اور روحوں سے شک و شبہات کے بادل چھٹ جاتے ہیں۔ علم اور دین سے غلو کرنے والوں کی تحریف، باطل پرستوں کے دعوؤں اور جاہلوں کی تاویلات کو دور کرتے ہیں۔ اور اسی بنا پر علماء روئے زمین پر رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہیں۔ لہذا ہم پر واجب ہے کہ ہم ان کی توقیر کریں، علم و معرفت کو عام کرنے میں ان کی گراں قدر کوششوں کی قدر کریں۔
اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ۚ3
“اللہ تم میں سے ایمان لانے والوں کے اور جنہیں علم عطا کیا گیا ان کے درجات بلند کرتا ہے۔
” اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، فرماتے ہیں: “وہ شخص میری امت میں سے نہیں جو ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے، ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے، ہمارے عالم کے حق کو نہ پہچانے۔”
علم اور اہلِ علم کے شرف و منزلت کے لیے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان کافی ہے: “جو شخص علم کے حصول کے لیے کسی راستے پر چلا، اللہ اس کے ذریعے اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے۔ عابد پر عالم کی برتری اور فضیلت ایسی ہے جیسے تمام ستاروں پر چاند کی فضیلت۔ بلکہ انبیاء نے تو صرف علم کی میراث چھوڑی ہے، پس جس نے بھی اسے حاصل کر لیا اس نے وافر حصہ پا لیا۔”
یہ ساری فضیلت ان باعمل علماء کے لیے ہے جو اللہ کے، اس کے رسول ﷺ کے، مسلمانوں کے حکمرانوں اور قائدین کے اور عام مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں۔ اے اللہ! ہمارے علماء کی حفاظت فرما، ان کے ذریعے ملک و قوم کو نفع دے۔
مملکتِ سعودی عرب، اللہ اس کی حفاظت فرمائے، اس کی جانب سے علم اور علماء کی سرپرستی و تعاون اس کی ترقیاتی حکمت عملی کا ایک بنیادی ستون شمار ہوتا ہے، جو ایک ایسے علمی معاشرے کی تعمیر میں ایک کردار ادا کرتا ہے جو پائیدار ترقی کے حصول میں معاون ہو۔ یہ خصوصی اہتمام ایک ایسے روشن و تابناک مستقبل کی تعمیر میں مملکت کے وژن کی غماز ہے جس کی بنیاد علم و آگہی ہے، اور جو ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کے سفر میں علماء کے کردار کو مزید تقویت بخشتی ہے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں، اپنے لیے، آپ کے لیے، تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ سے اللہ کی مغفرت چاہتا ہوں۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریف اللہ کے لیے جو حکیم و علیم ہے، جس نے اپنی مخلوقات کو اپنے وسیع علم کا تھوڑا حصہ دیا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، جس نے تعلیم و تربیت کے ذریعے ہمیں علم کی روشنی پانے کی راہ دکھائی۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے رسول اور نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے معزز رسول ہیں۔ آپ پر، آپ کے آل و اصحاب پر اللہ کا بہترین درود اور پاکیزہ ترین سلامتی نازل ہو۔
اما بعد!
میں آپ کو اور خود کو خلوت و جلوت میں اللہ عزوجل کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں۔ اللہ کے بندو! نئے تعلیمی سال کے آغاز میں امیدیں تازہ ہو رہی ہیں، علم و تعلیم کا مبارک سفر ازسرِ نو شروع ہو رہا ہے۔ قوموں کے عروج و ارتقاء اور معاشروں کی ترقی میں علم کا اثر نمایاں ہو رہا ہے۔ کیونکہ علم ہی کے ذریعے عقلیں منور ہوتی ہیں، تہذیب و تمدن تعمیر ہوتے ہیں، شعور عام ہوتا ہے، نفع بخش علوم و معارف حاصل کیے جاتے ہیں جو فرد اور معاشرے دونوں کو بھلائی اور نیکی پہنچاتے ہیں۔
اور اس کارواں میں سب سے بھاری ذمہ داریوں میں سے معلمین و معلمات کا مشن ہے جو تعلیم و تربیت کی امانت کا بوجھ اٹھاتے ہیں، نئی نسل کی علمی، فکری اور اخلاقی تعمیر میں حصہ لیتے ہیں۔ لہذا ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس مشن میں خلوص اور دیانتداری سے لگ جائیں۔ اپنے طلبہ و طالبات کے دل میں اپنے گہرے اثر کو محسوس کریں، تعلیم کے ساتھ تربیت اور معلومات دینے کے ساتھ اعلیٰ اقدار راسخ کرنے کا اہتمام کریں۔
اسی طرح تعلیمی سفر کی کامیابی میں خاندان کا بھی ایک کلیدی کردار ہے، کیونکہ یہی وہ اولین گہوارہ ہے جہاں بیٹے اور بیٹیاں رہنمائی اور تربیت حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ اہلِ خانہ پر لازم ہے کہ وہ بچوں کو تعلیمی سال کے آغاز کے لیے ذہنی و عملی طور پر تیار کریں، ان کے اندر محنت و لگن اور علم و معلم کا ادب و احترام پیدا کریں۔ اور یہ کہ تعلیم کے ساتھ تربیت ہو، معرفت کے ساتھ ادب سے بھی آراستہ کیا جائے۔ اس لیے علم اگر اخلاق سے خالی ہو تو وہ صاحبِ علم کے خلاف حجت بن جاتا ہے، اور جب وہ حسنِ اخلاق سے جڑ جائے تو نور اور نفع بخش ثمرہ بن جاتا ہے۔
بلاشبہ سلفِ صالحین اس بات کے حریص تھے کہ علم ہمیشہ حسنِ اخلاق سے جڑا رہے۔ انہی روشن مثالوں میں سے امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کی ماں کی اپنے بیٹے کو وہ نصیحت ہے جس میں انہوں نے کہا تھا: “یہ دس درہم لے لو اور جا کر دس حدیثیں سیکھو۔ اگر تم دیکھو کہ اس علم نے تمہارے اخلاق اور تمہارے رویوں، لوگوں کے ساتھ تمہاری بات چیت کو سنوار دیا، تو یہ سلسلہ جاری رکھو اور میں اس کے حصول میں تمہاری مدد کروں گی۔ لیکن اگر اس علم نے تمہارے کردار پر کوئی اثر نہ ڈالا تو اسے چھوڑ دو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ روزِ قیامت تمہارے خلاف حجت نہ بن جائے۔”
اے والدین! تمہارے بچے امانت ہیں، لہذا ان کے اندر سچائی، اخلاقِ حسنہ، نماز کی محبت پیدا کرو، کیونکہ بلاشبہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔
اے معزز اساتذہ و معلمات! معلم بننے سے پہلے خود عملی نمونہ بنو، کیونکہ سچی بات، عدل و انصاف اور نرمی دلوں پر ایسا نقش چھوڑتے ہیں جو مٹتا نہیں۔
اے طالبِ علم! اپنے نئے تعلیمی سال کا آغاز پختہ عزم، ادب، بلند ہمتی کے ساتھ کرو۔ تربیت محض زبانی احکامات صادر کرنے کا نام نہیں، بلکہ وہ تو ایسا عملی نمونہ ہے جو ہر روز دکھائی دے۔ یعنی گھر میں سچائی، برتاؤ میں شفقت، نماز کی پابندی، غلطی پر معذرت خواہی۔ کیونکہ اخلاق عملی زندگی ہے قبل اس کے کہ وہ زبانی درس ہو۔
اللہ کے بندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، علم و عمل کے ساتھ اپنے عہد کی تجدید کرو، حسنِ اخلاق و تربیت کا تاج اور اللہ کے خوف کو اپنے برتاؤ کا معیار بناؤ۔
اے اللہ! ہمارے بیٹوں اور بیٹیوں کی اصلاح فرما، انہیں ان کے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا اور اپنی امت کے لیے سرمایہ بنا۔
اے اللہ! اس امانت کی ادائیگی کرنے پر والدین کی اعانت فرما، اور ان کے صبر اور تربیت میں برکت عطا فرما۔
اے اللہ! ہمارے اساتذہ اور معلمات میں برکت عطا فرما، ان کے اقوال کو درست کر، ان کی مساعی میں برکت پیدا کر، انہیں بہترین جزا سے نواز۔
اے اللہ! اے حی و قیوم، اے وہ ذات جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند، ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ ہم میں سے سائل و محروم کو نواز، ہمیں پاکیزہ و حلال رزق نصیب فرما۔
اے اللہ! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ اسلام کو غلبہ عطا فرما۔ اے وہ ذات جس نے اپنے بندوں پر اپنی رحمت کا فضل فرمایا، مسلمانوں کی شان کو بلند فرما، انہیں فتح و کامرانی اور مرادوں کا تاج پہنا۔
اپنی مخصوص عنایت و توفیق کا سایہ ان ہستیوں پر فرما جنہوں نے بہترین کارہائے خیر انجام دیے اور جن کے مبارک ہاتھوں سے تو نے ملک و ملت اور بندوں کے احوال کو سنوارا، یعنی خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے امین ولی عہد عالی جناب شہزادہ محمد بن سلمان، اللہ تعالیٰ اپنی خصوصی نصرت سے ان دونوں کی مدد فرمائے اور اپنی توفیق و اعانت سے ان کی پشت پناہی فرمائے۔
اے اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو اپنی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! سرحدوں پر پہرہ دینے والے ہمارے جانباز فوجیوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان کے عزم و حوصلوں کو مضبوط کر، ان کے نشانے درست فرما۔
اللہ کے بندو! اللہ تم پر رحم کرے۔ نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجو۔
اللهم صل وسلم وبارك على عبدك ورسولك محمد وعلى آله وصحبه أجمعين، والحمد لله رب العالمين۔
خطبہ جمعہ مسجد الحرام
تاریخ :15 ربیع الاول 1448 ہجری بمطابق 28اگست 2026 عیسوی
خطیب : فضیلۃ الشیخ عبداللہ الجہنی حفظہ اللہ
ترجمہ : محمد اقبال یاسین
