خطبہ اول:

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو عظمت و جلال میں منفرد ہے اور اپنی مخلوق کو بے تحاشہ نعمتوں سے نوازنے والا ہے۔ میں اس پاک ذات کی حمد بیان کرتا ہوں، اس کا شکر بجا لاتا ہوں، اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور اس سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، جس نے اپنے بندوں کو طاعتوں کی توفیق دی اور ان پر ان کی مدد کی۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ درود نازل کرے ان پر، ان کے ایمان و ہدایت والے آل و اصحاب پر، اور ان کی بیویوں پر اور اچھی طرح ان کی پیروی کرنے والوں پر جب تک زمانے کا آنا جانا رہے اور بہت زیادہ سلامتی نازل کرے۔

اما بعد:

مومنو! میں خود کو اور تم کو اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں۔ تم طاعتوں پر کاربند رہ کر اور حرام چیزوں کو چھوڑ کر اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ جس نے تقویٰ کو مضبوطی سے تھام لیا وہ کامیاب ہوا، اور جو خواہشات کے پیچھے چلا وہ ناکام و نامراد ہوا۔

اللہ کا فرمان ہے:

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ1

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرو، یقیناً اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کر رہے ہو۔

امتِ مسلمہ! یقیناً حقیقی کامیابی جس کے لیے نیک عقلمند لوگ تگ و دو کرتے ہیں، وہ ہے جہنم سے خود کو آزاد کرنا۔ ہر انسان صبح کرتا ہے اور خود کو فروخت کرتا ہے، وہ یا تو خود کو جہنم سے آزاد کرتا ہے یا تباہ و برباد۔ اور کامیابی جنت میں داخلے کے بغیر پوری نہیں ہو سکتی،

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ2

پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بیشک وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے۔

 اس لیے کہ آخرت میں کوئی تیسرا ٹھکانہ نہیں، یا تو جہنم ہے یا جنت۔ لفظ “ہٹایا جانا” اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ معاملہ جدوجہد، صبر اور استقلال کا محتاج ہے، کیونکہ جہنم (اللہ ہمیں اور آپ کو اس سے پناہ دے) شہوات سے گھری ہوئی ہے اور شہوات کی طرف نفسوں کا جھکاؤ رہتا ہے، اس لیے انسان ان سے بمشکل ہی دور رہ پاتا ہے۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ النَّارَ، قَالَ: يَا جِبْرِيلُ! اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ! وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلُهَا, فَحَفَّهَا بِالشَّهَوَاتِ، ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ! اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ! وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا3

جب اللہ عزوجل نے دوزخ کو پیدا کیا تو جبریل سے کہا: جاؤ اور دوزخ کو دیکھ کر آؤ۔ وہ گئے اور دیکھ کر آئے۔ واپس آکر کہا: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم، کوئی نہیں جو اس کے متعلق سنے اور پھر اس میں داخل ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو نفسانی خواہشات سے گھیر دیا، پھر فرمایا: اے جبریل! جاؤ اور اسے دیکھ کر آؤ۔ وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر آئے اور کہا: اے میرے رب! تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم، مجھے اندیشہ ہے کہ اس میں داخل ہونے سے کوئی بھی نہیں بچ سکے گا۔

ایمانی بھائیو! جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ماہِ رمضان کو جہنم سے آزادی کا موسم بنایا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے سال کے تمام مہینوں میں ایسے نیک اعمال مہیا کیے ہیں جن کی بدولت وہ جہنم سے آزادی حاصل کر سکتے ہیں۔ ان میں عظیم ترین عمل اللہ تبارک و تعالیٰ کی توحید اور اس کے لیے عبادت کو خالص کرنا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

فَإِنَّا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ إِلَى المُنَافِقِينَ، فَقَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ4

 بیشک اللہ نے اس شخص پر جہنم کو حرام کر دیا جو لا الہ الا اللہ کہے اور اس سے وہ اللہ کی خوشنودی چاہے۔

ان نیک اعمال میں سے پانچ نمازوں کی پابندی ہے، وہ جہنم سے آزادی کا بڑا سبب ہے۔ خصوصاً فجر اور عصر کی نمازیں۔

 صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ” يَعْنِي الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ5

وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جو سورج کے طلوع ہونے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھے، یعنی فجر اور عصر۔

 اسی طرح جس نے ظہر سے پہلے چار رکعت اور اس کے بعد چار رکعت کی پابندی کی، اس پر اللہ جہنم حرام کر دیتا ہے۔

روزہ جہنم سے بچانے والی ڈھال اور ایک مضبوط قلعہ ہے۔ اس لیے اگر رمضان کا روزہ ختم ہو گیا ہے تو نفل روزہ باقی ہے۔ شوال کے چھ روزے، پیر اور جمعرات کے روزے، اور ہر مہینے کے تین روزے۔ سب سے بہتر روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے، یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنا۔

ایمانی بھائیو! جہنم سے آزادی کے اسباب میں سے حسنِ خلق اور لوگوں کے ساتھ نرمی اور نرم برتاؤ ہے۔ اس لیے جو جہنم سے آزاد ہونا چاہے، وہ اپنے برتاؤ میں نرم ہو، اپنے بھائیوں کے ساتھ نرمی اور آسانی کا معاملہ کرے۔ ان سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملے اور ان کے ساتھ بردباری کا معاملہ کرے۔

 ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ أَوْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ عَلَى كُلِّ قَرِيبٍ هَيِّنٍ سَهْلٍ6

کیامیں تمہیں ایسے لوگوں کی خبر نہ دوں جو جہنم کی آگ پریا جہنم کی آگ ان پرحرام ہے؟ جہنم کی آگ لوگوں کے قریب رہنے والے، آسانی کرنے والے، اور نرم اخلاق والے پر حرام ہے۔

اسی طرح جو شخص بیٹیوں سے نوازا گیا ہے، یا جس کے پاس بہنیں ہیں اور ان کے ساتھ اس نے اچھا معاملہ کیا اور ان کی عزت کی، تو وہ اس کے لیے جہنم سے بچانے والی ڈھال اور جنت میں جانے کا سبب ہوں گی۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ أَوْ ابْنَتَانِ أَوْ أُخْتَانِ فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ وَاتَّقَى اللَّهَ فِيهِنَّ فَلَهُ الْجَنَّةُ7

جس کے پاس تین لڑکیاں، یا تین بہنیں، یا دولڑکیاں، یادوبہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اوران کے حقوق کے سلسلے میں اللہ سے ڈرے تو اس کے لیے جنت ہے۔

مومنو! لاچار وہ ہے جو دعا سے قاصر ہو، کیونکہ جہنم سے آزادی کے لیے کثرت سے دعا کرنا جہنم سے نجات کا سبب ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَتْ الْجَنَّةُ اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ اسْتَجَارَ مِنْ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَتْ النَّارُ اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنْ النَّارِ8

جوشخص اللہ تعالی سے تین مرتبہ جنت کاسوال کرےتوجنت کہتی ہے :اے اللہ اسے جنت میں داخل فرما: اورجوشخص تین دفعہ آگ سے پناہ مانگے توآگ خود کہتی ہے :یا اللہ!اس کو آگ سے بچا ۔

اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں اور چنیدہ متقیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

 وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا٘ وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا٘ وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا9

 رحمن کے سچے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں، اور جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام ہے، اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں، اور جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم سے دوزخ کا عذاب پرے ہی پرے رکھ، کیونکہ اس کا عذاب چمٹ جانے والا ہے۔

 اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے پناہ دے، بیشک وہ ٹھہرنے اور رہنے کے لحاظ سے بدترین جگہ ہے۔

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن و سنت میں برکت دے اور ان کی آیات و حکمت سے مجھے اور آپ کو فائدہ پہنچائے۔ میں وہ کہہ رہا ہوں جو آپ سن رہے ہیں اور اللہ سے اپنے لیے، آپ کے لیے ہر گناہ و خطا کی مغفرت طلب کرتا ہوں۔ آپ اس سے مغفرت طلب کریں، بیشک وہ بڑا بخشنے والا ہے۔

خطبہ ثانی:

 تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، نہ کوئی اس کی عطا و نوازش کا روکنے والا ہے، نہ کوئی اس کا فیصلہ رد کرنے والا ہے، اور نہ ہی اس کے سوا کوئی معبودِ برحق ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد اللہ کے بندے، رسول اور چنیدہ ہیں۔ اللہ درود و سلام اور برکت نازل کرے آپ پر، آپ کے آل و اصحاب پر اور آپ سے محبت کرنے والوں پر۔

:اما بعد

مومنو! چونکہ مومن ان اعمال کی جستجو کرتا ہے جن کے صلے میں وہ جہنم سے آزادی کی امید کرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان اعمال سے بچے جن پر جہنم میں جانے کی وعید مرتب ہوتی ہے۔ اور جو چیز لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں اوندھے منہ ڈالنے والی ہے، وہ ان کی زبانوں کے اعمال ہیں، جیسا کہ اس کی خبر ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ کیونکہ زبان کی برائیاں عمارت کو ڈھا دیتی ہیں، الفت و محبت کو بگاڑ دیتی ہیں، کینہ و بغض پھیلاتی ہیں، شیرازہ منتشر کرتی ہیں، خصوصاً سوشل میڈیا کی ترقی کی موجودگی میں جس کی کچھ لوگ زیادہ پرواہ نہیں کرتے۔

اس لیے شریعت نے غیبت اور چغل خوری کو حرام قرار دیا ہے۔ مسلمان کی آبرو کا دفاع کرنے پر ابھارا ہے اور اسے جہنم سے آزادی کا سبب قرار دیا ہے۔

میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

 قَالَ مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ رَدَّ اللَّهُ عَنْ وَجْهِهِ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ10

جوشخص اپنے بھائی کی عزت (اس کی غیر موجود گی میں ) بچائے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے کو جہنم سے بچائے گا۔

 جب یہ معاملہ عام مسلمانوں کے حق میں ہے، تو حکمرانوں اور علماء کے حق میں اس کی شان اور قدر زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

بھائیو! قیامت کے دن نجات دلانے والی چیزوں میں سے باقی رہنے والے نیک کاموں پر کاربند رہنا ہے۔

چنانچہ سنن نسائی میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:

ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد تھے کہ آپ نے فرمایا:

 خذوا جُنَّتكم قالوا: يا رسول الله! أمن عدو حضر؟ قال«لا، ولكن جنتكم من النار؛ قول: سبحان الله … فذكرهن الأربع؛ فإنهن يأتين يوم القيامة مُجنِّبات ومعقِّبات، وهن الباقيات الصالحات».11

اپنی ڈھال لے لو۔” صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کسی دشمن سے بچنے کے لیے جو آپہنچا ہے؟ اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: “نہیں، بلکہ جہنم سے بچنے کے لیے ڈھال لے لو۔ تم کہو: سبحان اللہ، والحمدللہ، ولا الہ الا اللہ، واللہ اکبر۔ یہ قیامت کے دن بچانے والی اور پہرہ دینے والی بن کر آئیں گی اور یہ باقی رہنے والے اعمال ہیں۔

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عظیم ترین عمل کے بارے میں فرمایا:

عَيْنَانِ لَا تَمَسُّهُمَا النَّارُ عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّ12

 دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں آگ چھو نہیں سکتی: ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے روئے، اور ایک وہ آنکھ جو اللہ کے راستے پر پہرہ دے۔

یہاں جز بول کر کل مراد لیا گیا ہے، یعنی آنکھ بول کر پورا جسم مراد لیا گیا ہے۔ بندہ جب اللہ کی عظمت و قدرت کو یاد کر کے اپنی حالت اور اپنے رب کے حق میں اپنی کوتاہی پر غور کرتا ہے، اور اس کے عقاب کے ڈر اور اس کے جلال کی ہیبت سے رو پڑتا ہے، تو وہ جہنم سے نجات کا وعدہ پانے والا بندہ ہے۔

اسی طرح جو دشمنوں کے مکر سے اپنے ملک کی حفاظت کرتا ہے، تو اس کا یہ عمل قیامت کے دن اس کی نجات اور کامیابی کا سبب ہے۔ جب یہ فضل مسلمانوں کے عام ملکوں کے لیے ہے، تو حرمین کی سرزمین، بلکہ حرمین کے محافظ اور خادم ملک، مملکتِ سعودی عرب کے بارے میں کیا کہنا۔ اللہ تعالیٰ اسے ہر برائی سے محفوظ رکھے۔

اس کے بعد مومنو! جان لو کہ اللہ نے تم کو ایک باوقار حکم دیا ہے جس میں اس نے اپنی ذات سے شروع کرتے ہوئے

اللہ نے فرمایا:

 إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا13

 بیشک اللہ اور اس کے فرشتے اس نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی پڑھتے رہا کرو۔

اے اللہ! خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سے راضی ہو جا، تمام صحابہ، تابعین اور اچھی طرح ان کے نقشِ قدم پر تا قیامت چلنے والوں سے راضی ہو جا، اور ہم سے بھی راضی ہو جا اپنے فضل و کرم اور جود و سخا سے، اے ارحم الراحمین! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ اس ملک کو امن، سکون اور خوشحالی کا گہوارہ بنا۔

خطبہ جمعہ مسجد الحرام

تاریخ: 8 شوال 1447 ہجری، بمطابق 27 مارچ 2026 عیسوی

خطیب: فضیلۃ الشیخ مہر المعیقلی حفظہ اللہ

_____________________________________________________________________________________________________________

  1. (سورۃ الحشر:18)
  2. (سورۃ آل عمران:185)
  3. (سنن ابی داؤد:4744)
  4. (صحیح بخاری:5401)
  5. ( صحیح مسلم:634)
  6. (جامع ترمذی:2488)
  7. (جامع ترمذی:1916)
  8. (سنن نسائی:5523)
  9. (سورہ الفرقان:65)
  10. (جامع ترمذی:1931)
  11. ( أخرجه النسائي في «عمل اليوم والليلة» (488 848) وابن أبي حاتم في «العلل» (2/100/1793) والحاكم (1/549) والبيهقي في «شعب الإيمان(1/425 606))
  12. (جامع ترمذی:1639)
  13. (سورۃ الأحزاب:56)
فضیلۃ الشیخ ماھر المعیقلی حفظہ اللہ

Recent Posts

آخری عَالمی جنگ کب، کہا اور کن کے درمیان ہوگی؟

مسلمانوں کا "بیس کیمپ" کہاں ہوگا؟ کمیونسٹ بلاک (چین اور روس) کا کردار کیا ہوگا؟…

12 hours ago

طالب علم بوجھ یاباعث برکت؟

نبی کریم ﷺ کو طلبہ سے کس درجے کی محبت تھی؟ جب ایک تاجر نے…

2 days ago

اللہ غَفور ہے! اس کا کیا مطلب ہے؟

“غفور” کا اردو ترجمہ کب مکمل ہوتا ہے؟ لفظ “غفور” کن دو بنیادی حقائق پر…

2 days ago

عبادت میں سستی کیوں؟ ایک اہم وجہ جانیے!

عبادت میں سستی اور شہوت کے غلبے کی کیا وجہ ہے؟ شکم سیری (پیٹ بھر…

2 days ago

رمضان کے بعد لوگوں کی عبادتیں

خطبہ اول: تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، الحمدللہ جو زمین اور آسمانوں کا خالق…

5 days ago

قرآن کی روشنی میں ازواجی زندگی اور جھگڑوں کا حل

معاشرے کی بنیاد کیا ہے، اور ایک مضبوط خاندان معاشرے کی بہتری میں کیا کردار…

5 days ago