اصلاحِ نفس و معاشرہ

رمضان کے بعد لوگوں کی عبادتیں

خطبہ اول:

تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، الحمدللہ جو زمین اور آسمانوں کا خالق ہے، جو بلا مانگے نعمتیں اور بھلائیاں عطا کرتا ہے، اور برائیوں اور ناپسندیدہ چیزوں کو دور کرتا ہے۔ میں اپنے رب کی حمد کرتا ہوں اور اس کا شکر بجا لاتا ہوں، اس نے مخلوق کو ان گنت نعمتوں سے نوازا اور اپنی اعلیٰ صفات سے بندوں پر رحم فرمایا۔

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ نیکیوں کو قبول کرتا ہے اور برائیوں سے درگزر فرماتا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمدﷺاس کے بندے اور رسول ہیں، معجزات سے جن کی تائید کی گئی ہے۔ اے اللہ! درود و سلام اور برکت نازل فرما اپنے بندے اور رسول محمدؐ پر اور ان کے آل و اصحاب پر جو بھلائیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں۔

امّا بعد:

اللہ کی اطاعت پر کاربند رہ کر، اس کی نافرمانیوں سے دور رہ کر اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ حلال واضح ہے، حرام بھی واضح ہے، اللہ نے اپنی کتاب اور اپنے رسولؐ کی سنت میں بندوں کے لیے انتہائی واضح انداز میں اپنی حجت بیان کر دی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ۚ1

ہم نے انہیں رسول بنایا ہے، خوشخبریاں سنانے والے، آگاہ کرنے والے، تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کی کوئی حجت اللہ کے سامنے نہ رہ جائے۔

اور اللہ نے فرمایا:

أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ ۖ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ٘ وَأَنِ اعْبُدُونِي ۚ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ٘ وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنكُمْ جِبِلًّا كَثِيرًا ۖ أَفَلَمْ تَكُونُوا تَعْقِلُونَ2

اے اولادِ آدم! کیا میں نے تم سے قول و قرار نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، میری ہی عبادت کرنا، سیدھی راہ یہی ہے۔ شیطان نے تو تم میں سے بہت ساری مخلوق کو بہکا دیا، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟

 شیطان کی عبادت سے مراد اللہ کی نافرمانی کر کے اس کی فرمانبرداری کرنا ہے۔

وابصہ بن معبد اسدیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا:

 النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ3

نیکی وہ ہے جس سے نفس کو اطمینان ہو، دل کو سکون ملے، اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے، سینے میں تردد پیدا کرے، اگرچہ لوگ تمہیں اس کا فتویٰ دیتے رہیں۔

مسلمانوں! لوگ تین قسم کے ہوتے ہیں:

ایک قسم ان لوگوں کی ہے: ج!نہیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی، انہوں نے اپنے نفسوں سے جہاد کیا، فرائض اور واجبات ادا کیے، حرام اور مکروہات سے بچے، مستحبات کو زیادہ سے زیادہ کیا، موت تک اسی حالت پر قائم رہے۔ یہی لوگ دنیا میں کامیاب اور سعادت مند ہیں اور یہی آخرت میں بلند ترین درجات پر فائز ہوں گے۔

 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ٘ أُولَٰئِكَ الْمُقَرَّبُونَ٘ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ٘ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ٘ وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ٘ عَلَىٰ سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ٘ مُّتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقَابِلِينَ4

اور سبقت کرنے والے وہی سبقت کرنے والے ہیں، یہی مقرب لوگ ہیں، نعمتوں والی جنت میں ہوں گے، پہلوں میں سے ایک بڑی جماعت ہوگی، بعد والوں میں سے بھی تھوڑے سے ہوں گے، یہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے ہوں گے۔

اور دوسری قسم ان لوگوں کی ہے! جنہوں نے فرائض اور واجبات تو ادا کیے لیکن ان کے مستحبات تھوڑے ہیں، ان سے بعض گناہ سرزد ہوئے، پھر انہوں نے گناہ کے بعد نیکی اور توبہ کی اور بعض مکروہات کا ارتکاب کیا۔ یہ لوگ بھی بڑی بھلائی میں ہیں، پہلے سے کمتر درجے پر ہیں اور یہی داہنے ہاتھ والے ہیں۔

 جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:

 وَأَصْحَابُ الْيَمِينِ مَا أَصْحَابُ الْيَمِينِ٘ فِي سِدْرٍ مَّخْضُودٍ٘ وَطَلْحٍ مَّنضُودٍ٘ وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ٘ وَمَاءٍ مَّسْكُوبٍ٘ وَفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ٘ لَّا مَقْطُوعَةٍ وَلَا مَمْنُوعَةٍ5

 اور داہنے ہاتھ والے، کیا ہی اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے! وہ بغیر کانٹوں کی بیریوں، تہہ بہ تہہ کیلوں، لمبے لمبے سایوں، بہتے ہوئے پانیوں اور بکثرت پھلوں میں ہیں، جو نہ ختم ہوں نہ روک لیے جائیں۔

اور تیسری قسم ان لوگوں کی ہے! جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ6

اور کچھ دوسرے ہیں جنھوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا، انھوں نے کچھ عمل نیک اور کچھ دوسرے برے ملا دیے، قریب ہے کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہوجائے۔ یقیناً اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

 اس قسم کے لوگوں کا انجام اللہ کی طرف سے ان کے گناہوں کی معافی اور بخشش ہے۔

اور لوگوں کی ایک قسم یہ ہے: جنہوں نے اپنی خواہشات کا اتباع کیا، اپنی شہوات سے لطف اندوز ہوئے، لذتوں اور حرام چیزوں کو ترجیح دی، موت اور بوسیدہ ہونے کو بھلا دیا، دنیاوی زندگی پر راضی ہو گئے، آخرت کی زندگی کا انکار کیا۔

 جیسا کہ اللہ فرماتا ہے:

 فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ۖ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا7

پھر ان کے بعد وہ جانشین آئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا، خواہشات کے پیچھے پڑے رہے، سو عنقریب وہ گمراہی کی سزا پائیں گے۔

ان کے لیے جہنم ہے، اللہ تعالیٰ کی پناہ ہے جہنم سے۔ پھر اللہ عزوجل جس کے لیے اسلام کا ارادہ فرماتا ہے اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اسے آخر کار اسلام کی ہدایت دیتا ہے۔ اللہ نے لکھ دیا ہے کہ جنت میں مسلمان کے سوا کوئی داخل نہیں ہوگا۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ ۚ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ٘ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَهْوًا وَلَعِبًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ نَنسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَٰذَا وَمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ8

 “دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے کہ ہمارے اوپر تھوڑا پانی ہی ڈال دو یا کچھ دے دو جو اللہ نے تم کو دے رکھا ہے، جنت والے کہیں گے اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزوں کو کافروں کے لیے حرام کر دیا ہے، وہ جنھوں نے اپنے دین کو دل لگی اور کھیل بنا لیا اور انھیں دنیا کی زندگی نے دھوکا دیا تو آج ہم انھیں بھلا دیں گے، جیسے وہ اپنے اس دن کی ملاقات کو بھول گئے اور جیسے وہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔

مسلمانوں! روزے کے مہینے میں تمہارے لیے دن صاف ستھرے ہو گئے، گھڑیاں اور اطاعتیں پاکیزہ ہو گئیں۔ پس استقامت کو معصیت سے اور رحمان کی اطاعت کو شیطان کی اطاعت سے نہ بدلو، اور رب کی مناجات کی لذت کو محرومی سے ضائع نہ کرو۔

وہ نیک اعمال جو اللہ نے تم پر صبر اور بڑی نیکیوں کے مہینے میں انعام کے طور پر عطا کیے تھے، انہیں ضائع کر کے یا ان کے ثوابوں میں کمی کر کے انہیں برباد نہ کرو کہ استقامت کو نقصان پہنچے اور اجر ختم ہو جائے۔

 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ9

اے وہ لوگو جو ایمان لائے! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو۔

اور ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

اتَّقِ اللَّهِ حَيْثُمَا كُنْتَ وَأَتْبِعْ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ10

 جہاں بھی رہواللہ سے ڈرو، برائی کے بعد (جوتم سے ہوجائے) بھلائی کروجو برائی کومٹادے ۱؎ اورلوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آؤ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ11

اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو قرآن و سنت میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں ان کی آیات اور حکمتوں سے نفع پہنچائے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔

خطبہ ثانی:

ہر طرح کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو اپنے اطاعت گزار اور تقویٰ شعار بندوں کو عزت دیتا ہے، اپنے حکم کی مخالفت اور نافرمانی کرنے والوں کو ذلیل کرتا ہے۔ میں اپنے رب کی حمد بیان کرتا ہوں، اس کا شکر بجا لاتا ہوں اس کی نعمتوں پر جنہیں اس کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا۔

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے سوا کوئی معبودِ حقیقی نہیں اور کوئی رب نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمدؐ اس کے بندہ اور رسول ہیں جو اس کے چنیدہ اور برگزیدہ ہیں۔

 اے اللہ! درود و سلام اور برکت نازل فرما اپنے بندے اور رسول محمدؐ پر اور ان کے آل و اصحاب پر، ان کی پیروی کرنے والوں پر۔

امّا بعد:

اللہ تعالیٰ کا کما حقہٗ تقویٰ اختیار کرو، اس کی مغفرت اور رضا کی طرف جلدی کرو۔ اس کی حرام کردہ چیزوں، اس کے غضب اور اس کی ناپسندیدہ اور منع کردہ چیزوں سے دور رہو۔ نیکیوں کے بعد نیکیاں کرو، نیکیوں کے بعد برائیاں مت کرو۔

نبیﷺ نے فرمایا:

 الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ12

 عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے، بے کس و بے عقل وہ ہے جو اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرے اور بغیر عمل کے اللہ سے آرزوئیں باندھے۔

اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر بڑا فضل یہ ہے کہ اس نے فرائض کے ساتھ نفلی اور مستحب اعمال بھی مقرر فرمائے جو اجر میں اضافہ کرتے ہیں، دونوں جہانوں میں درجات بلند کرتے ہیں، فرائض میں ہونے والی کمی کو پورا کرتے ہیں، گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں۔

آپﷺ نے فرمایا:

 مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ, فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ13

 جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ پورے سال کے روزوں کے برابر ہے۔

نبی ﷺنے فرمایا:

 إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، وَإِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ مَتَى يُؤْخَذْ بِهَا صَاحِبُهَا تُهْلِكْهُ14

 خبردار! چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچو کیونکہ وہ انسان پر اکٹھا ہوتے رہتے ہیں پھر اسے ہلاک کر دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ15

اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔ یہ یاد کرنے والوں کے لیے یاد دہانی ہے۔

مسلمانوں! تم ایسے فتنوں کا سامنا کرنے والے ہو جو دین اور دنیا دونوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، چنانچہ فتنوں کا مقابلہ ان چیزوں پر استقامت برت کر کرو جن پر رسول اللہ ﷺاور ان کے صحابہ کرامؓ تھے۔ اور ہر جگہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے دعا کرو اور اس مبارک ملک کی حفاظت کے لیے دعا کرو، اور تمام مسلمانوں کے ملکوں کے لیے بھی کہ اللہ انہیں کافروں کے مکر سے محفوظ رکھے۔ کیونکہ یہ مبارک ملک مسلمانوں کے دلوں کا مرکز ہے اور رسول اللہﷺ کی جائے سکونت رہا ہے۔

اور اہل سنت و جماعت ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں، اور یہی اہل سنت و جماعت ہیں جنہوں نے ابتدا سے لے کر اسلام کو قائم رکھا اور اسلام ان کے ذریعے سے قائم رہا اور قیامت تک رہے گا۔

 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ16

مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں۔

اللہ  نے فرمایا:

 إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا17

اللہ کے بندو! بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

اے اللہ! درود و سلام اور برکت نازل فرما اپنے بندے اور رسول محمدﷺپر اور ان کے آل و اصحاب پر، اور خلفائے راشدین اور تمام صحابہ پر اور ان لوگوں پر جو نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کریں، اور ان کے ساتھ ہم پر بھی اپنا فضل و کرم کر۔

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو ہر زمانے میں اور ہر جگہ غلبہ عطا فرما، اے رب العالمین! اے اللہ! کفر اور کافروں کو ذلیل و خوار کر۔

اے اللہ! اس مبارک ملک کی حفاظت فرما جو مسلمانوں کے دلوں کا مرکز ہے۔ اے اللہ! اس مبارک ملک کی سرحدوں کا، اس کی طاقتوں کا، اس کے سپاہیوں کا، اس کے حکمرانوں کا، اس کے امن و امان کا، اس کی خوشحالی کا اور اس کی بھلائیوں کا، اس کے عقیدہ توحید کا جو اس کی شان ہے، دفاع کر۔ اس کی سرحدوں کی حفاظت فرما، اس پر سے ظالموں کے ظلم کو دور کر دے، ان کے شر اور ناپاک ارادوں سے ہماری حفاظت فرما۔

بیت المقدس کو صہیونی قابضوں سے محفوظ رکھ، فلسطین کو ان ظالموں کے خلاف نصرت عطا فرما، تمام مسلمانوں کے ملکوں کو کافروں کے شر سے محفوظ رکھ۔ اے اللہ! ہمارے تمام معاملات کا انجام بہتر کر، ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے نجات دے۔

 اے اللہ! تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرما، ہر مسلمان مرد اور عورت کا کارساز بن جا، اور دنیا و آخرت کے ہمارے تمام امور کو سنوار دے۔ ہمیں، ہماری اولاد کو فساد پھیلانے والے جادوگروں سے محفوظ رکھ، شیطانوں سے محفوظ رکھ اور تمام مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ہر طرح کی بھلائی مانگتے ہیں، ہر طرح کی برائی سے تیری پناہ چاہتے ہیں جو ہم جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے۔

اے اللہ! خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کی حفاظت فرما، انہیں ہر بھلائی کی توفیق عطا فرما اور ملک اور عوام کی ہر بھلائی میں ان کی مدد فرما۔

اللہ کے بندو! بے شک اللہ انصاف، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ پس عظمت و بلندی والے اللہ کو یاد کرو وہ تمہیں یاد کرے گا، اس کی عطا کردہ نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرو وہ تمہیں مزید دے گا اور اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے۔ واللہ یعلم ما تصنعون۔

مسجد نبوی ﷺ کا خطبہ جمعہ

 خطیب : فضیلۃ الشیخ علی بن عبد الرحمن الحذیفی

تاریخ: 08شوال 1447ھ بمطابق 27 مارچ 2026

  1. (سورۃ النساء:166)
  2. (سورۃ یس:60تا62)
  3. (جامع ترمذی:2389)
  4. (سورۃ الواقعہ:10تا 16)
  5. ( سورۃ الواقعہ:27تا 33)
  6. (سورۃ التوبہ:102)
  7. (سورۃ مریم:59)
  8. (سورۃ الاعراف:51)
  9. (سورۃ محمد:33)
  10. (جامع ترمذی:1987)
  11. (سورۃ آل عمران:133)
  12. (جامع ترمذی:2459)
  13. (سنن ابی داؤد:2433)
  14. (مسند احمد:22808)
  15. (سورۃ  ھود:114)
  16. (سورۃ التوبہ:71)
  17. (سورۃ الأحزاب:56)
فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ

آپ ان دنوں مسجد نبوی کے امام ، قبل ازیں مسجد قباء کے امام تھے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ خوبصورت آواز میں بہترین لہجے میں قرات قرآن کی وجہ سے دنیا بھر میں آپ کے محبین موجود ہیں ، اللہ تعالیٰ تادیر آپ کی دینی خدمات کا سلسلہ جاری رکھے ۔آمین

Share
Published by
فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ

Recent Posts

ذوالحجہ میں کیے جانے والے اعمال

اسلامی مہینے 'ذوالحجہ' کے پہلے 10 دن اتنے اہم کیوں ہیں، اور نبی صلی اللہ…

2 days ago

گھر میں عورت کالباس کیسا ہو؟

مسلمان عورت کا لباس کیسا ہونا چاہیے؟ اسلام میں جسم ڈھانپنے اور پردے کے کیا…

3 days ago

ریاست مدینہ کا RECORD SYSTEM کیسا تھا؟

کیا اسلام جدید ٹیکنالوجی کے خلاف ہے؟ اسلامی تاریخ کے حوالے سے ہم کس غلط…

5 days ago

شادی میں سلامی دینا کب ناجائز؟

شادیوں میں سلامی دینے کا رواج کیا واقعی تحفہ ہے یا سود؟ تحفہ کب لین…

6 days ago

حج پر جانے سے پہلے یہ کام ضرور کریں!

سفرِ حج پر جانے والے خوش نصیب لوگ کن باتوں کا خاص خیال رکھیں؟ دورانِ…

1 week ago

غزوہ اُحد: واقعات اور اسباق

عبداللہ بن اُبی اور اس کے ساتھیوں کا جنگ سے واپس پلٹنا ہمیں منافقت کی…

1 week ago