
مسلم اکثریت اور بالخصوص وہ علماء حضرات کہ جو دین متین اور شرع مبین کے فہم میں یدطولیٰ رکھنے کے ساتھ ساتھ دنیاوی امور پر بھی گہری بصیرت رکھتے ہیں،پھر بھی یہ فریضہ سر انجام دینے میں بخیل نظر آتے ہیں کہ عامۃ المسلمین کو تکفیری عناصر کے ہاتھوں میں کھلونا بننے اور خروج کی سوچ کے حاملین کے آلۂ کار بننے سے روک کر دعوتِ حق کا فریضۂ منصبی ادا کریں اور انہیں سمجھائیں کہ ایک تو خروج کا شرعی جواز موجود نہیں ہے ، دوسرے یہ کہ زبانی وعظ ونصیحت کے ذریعہ تبدیلی۔ اصلاح لانے کے ذرائع ووسائل کما حقہ اختیار نہیں کیے گئے ہیں،پھر یہ بھی کہ مسئلہ اجتہادی ہے چنانچہ مخالف رائے کا بہر حال احترام کرنا ضروری ہے۔