خطبہ اول:
ہر قسم کی بہت زیادہ تعریف اللہ کے لیے ہے، اس نے انسان کو پیدا کیا، اسے صحیح سالم معتدل بنایا اور اسے سننے والا، دیکھنے والا بنایا۔ وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے یا شکر گزار ہونا چاہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اسے ٹھیک اندازے پر رکھا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا۔ درود نازل ہو آپ پر، آپ کی آل و اصحاب پر اور بہت زیادہ سلامتی نازل ہو۔
اما بعد!
اے اللہ کے بندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ1
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرو، یقیناً اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کر رہے ہو۔
مسلمانو! جان لو کہ ہم کمزوری کے ساتھ پیدا کیے گئے ہیں، خطا ہماری فطرت میں ہے۔ بندے کو اس کی خواہش لبھاتی ہے، اس پر جب اس کی خواہش، نفس اور غصہ حاوی ہوتا ہے، تو وہ اسے بے وقوف کرتے ہیں، اس کے لیے اس کے برے اعمال مزین کر دیے جاتے ہیں، اس کی بصارت اندھی ہو جاتی ہے، اس کا نفس اسے ہانکتا ہے، اس کی نظر کوتاہ ہوتی ہے۔ اور ہم انسان ہیں، ہم مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں، ہم کامل نہیں ہیں، اور نہ ہم معصوم عن الخطا ہیں۔ اور عیب یہ نہیں ہے کہ آدمی سے غلطی ہو جائے یا گناہ میں گر جائے، بلکہ عیب یہ ہے کہ وہ کیچڑ میں پڑا رہے، جبکہ وہ دیکھ رہا ہو، اپنی غلطی پر باقی رہے اور اس سے باز نہ آئے۔ بلکہ اس کی شان یہ ہونی چاہیے کہ جب جب وہ کسی لغزش میں پڑے، تو نہ ٹوٹنے والے پختہ عزم کے ساتھ اٹھے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
لاَ يُلْدَغُ المُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ2
مومن کوایک سوراخ سے دوبارہ ڈنگ نہیں لگ سکتا۔
آدمی کو سمجھدار اور بیدار ہونا چاہیے، اسے اپنی غلطی سے سیکھنا چاہیے اور عبرت پکڑتے ہوئے غلطی کو دہرانے سے بچنا چاہیے۔
اللہ کے بندو! اللہ نے ہمیں دوسروں کے ساتھ رونما ہونے والے واقعے سے سبق لینے کی طرف بلایا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے نافرمانی کی اور ہمارے رب کی حدوں سے تجاوز کیا، جس وقت ہم ان کے برے اعمال کی وجہ سے ان کے ساتھ پیش آنے والی حالت پر غور و فکر سے کام لیتے ہیں، ہم بچتے ہیں کہ ہم بھی ان کے جیسے اعمال انجام دیں اور ہم بھی ویسی ہی سزاؤں سے دوچار ہوں جن سے وہ دوچار ہوئے۔ اللہ کا فرمان ہے: “کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کے دل سمجھنے والے اور ان کے کان سننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔
اور اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کے بارے میں فرمایا:
وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ ۚ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ3
اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو برباد کر رہے تھے اور مومنوں کے ہاتھوں سے بھی برباد کروا رہے تھے۔ پس عبرت حاصل کرو اے بینا رکھنے والو۔
مواعظ سے فائدہ اٹھانے والے وہی ہوتے ہیں جو تقویٰ والے ہوتے ہیں اور اللہ کی خشیت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد کہ ہفتے کے دن سرکشی کرنے والوں کا حال بیان کیا، فرمایا: “اس طرح ہم نے ان کے انجام کو اس زمانے کے لوگوں اور بعد کی آنے والی نسلوں کے لیے عبرت اور ڈرنے والوں کے لیے نصیحت بنا کر چھوڑا۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ4
درحقیقت اس میں بڑی عبرت ہے ہر اس شخص کے لیے جو ڈرے۔
اللہ کے بندو! اللہ نے قرآن میں ہمارے لیے بہت سے قصے بیان کیے ہیں۔ اس نے یہ تمام واقعات ہمارے لیے بیکار نہیں بیان کیے، بلکہ اس لیے بیان کیے ہیں کہ ہم ان پر غور کریں، ان سے عبرت و سبق اور نصیحتیں حاصل کریں۔ اللہ کا فرمان ہے: “اور اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! یہ پیغمبروں کے قصے جو ہم تمہیں سناتے ہیں، وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں۔ ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی۔
اللہ کا فرمان ہے:
لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ5
اگلے لوگوں کے ان قصوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے۔
انہی عظیم واقعات میں سے حضرت نوح علیہ السلام کا واقعہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر احسان جتاتے ہوئے کہ اس نے مومنوں کو نجات دی اور کافروں کو غرقاب کیا،
اللہ نےفرمایا:
إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ٘ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ6
جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کر لیا تاکہ ہم اسے تمہارے لیے یادگار بنائیں اور اسے یاد رکھنے والے کان یاد رکھیں۔
چنانچہ کشتی اور اس کا واقعہ ایک عبرت اور نصیحت بن گیا۔
اور حضرت لوط علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوم کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَقَد تَّرَكْنَا مِنْهَا آيَةً بَيِّنَةً لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ7
اور ہم نے اس بستی سے ایک واضح نشانی ان لوگوں کے لیے چھوڑ دی جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
یعنی ان کے واقعے میں ایسی واضح عبرت اور نصیحت موجود ہے، جو ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کی حجتوں کو سمجھتے اور اس کی نصیحتوں میں غور و فکر کرتے ہیں۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَعَادًا وَثَمُودَ وَقَد تَّبَيَّنَ لَكُم مِّن مَّسَاكِنِهِمْ8
اور عاد اور ثمود کو بھی ہم نے ہلاک کیا اور ان کے گھروں کے کچھ آثار تم پر ظاہر ہو چکے ہیں۔(سورۃ العنکبوت:38)
یعنی ان کے رہنے کی جگہوں کے کھنڈرات اور ان سے ان کا خالی ہونا تمہارے سامنے واضح ہو چکا ہے اور ہم نے ان سب کو تمہارے لیے بیان کیا ہے تاکہ تم ان سے عبرت و نصیحت حاصل کرو۔ ان واضح عبرتوں اور روشن نشانیوں میں اصحاب الفیل کا واقعہ بھی ہے، جنہیں ہلاکت خیز عذاب نے پکڑ لیا۔ وہ لوگ اللہ کی حرمتوں کو پامال کرنے اور اس کے حرم کو بے حرمتی کا نشانہ بنانے کے ارادے سے آئے تھے، مگر ان کا انجام برا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا، ان کی کوششوں کو ناکام و نامراد کر دیا کہ وہ سازش کر کے خانہ کعبہ کو ویران کریں، اسے تباہ و برباد کریں اور حرمت والے گھر کی حرمت پامال کریں۔
اتنی زیادہ عبرتوں، نشانیوں اور تنبیہات کے باوجود، غفلت میں مبتلا لوگ نہ ان حالات سے سبق حاصل کرتے ہیں جو خود ان پر آتے ہیں، نہ ان سے جو دوسروں کے ساتھ پیش آتے ہیں، اور نہ ان مثالوں سے جو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے بیان فرماتا ہے۔
ان کا حال ویسا ہی ہے جیسا اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ9
اور کیا وہ نہیں دیکھتے کہ بے شک وہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں، پھر بھی وہ نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی وہ نصیحت پکڑتے ہیں۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْأَمْثَالَ10
اور ہم نے تمہارے لیے واضح کر دیا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اور تمہارے لیے مثالیں بیان کر دیں۔
مگر ان کے لیے ان واقعات میں کوئی عبرت نہ تھی اور نہ ان سزاؤں میں کوئی ایسی تنبیہ تھی جو انہیں برائی سے باز رکھتی۔
اے اللہ کے بندو! عقلمند آدمی کو چاہیے کہ وہ ہر اس چیز سے عبرت پکڑے جسے وہ سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے۔ چنانچہ نیکوکار صالح لوگوں کی خوبیوں کو اپنائے اور سرکش شریر لوگوں کے فعل سے بچے۔ اسی طرح اسے چاہیے کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اس سے جو افعال و اقوال صادر ہو رہے ہیں ان پر غور کرے۔ اگر وہ قابل تعریف ہوں تو انہیں صادر ہونے دے اور ان کے بعد ویسے ہی اعمال انجام دے۔ اور اگر وہ قابل مذمت ہوں تو ممکن ہو تو ان کا استدراک کرے اور مستقبل میں ویسے اعمال سے رکے۔ اور جب نہ جانے تو پوچھے، جب غلطی کرے تو رجوع کرے، جب گناہ کرے تو شرمندہ ہو، اور جب شرمندہ ہو تو گناہوں سے باز رہے۔ کیونکہ بندہ مومن حریص ہوتا ہے کہ وہ لغزشوں سے آگے نکلے اور اس کی راہ میں جو رکاوٹیں آ رہی ہیں انہیں عبور کرے۔ اور اس کا حال وہی ہے جو اس حدیث میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ہر مومن بندے کا کوئی ایک ایسا گناہ ہوتا ہے جسے وہ گاہے بگاہے انجام دینے کا عادی ہوتا ہے، یا ایسا گناہ ہوتا ہے جسے وہ کرتا رہتا ہے، جسے وہ چھوڑتا نہیں، یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہو جائے۔ بلاشبہ مومن بہت زیادہ فتنوں میں پڑنے والا، بہت زیادہ توبہ کرنے والا اور بہت زیادہ بھولنے والا بنایا گیا ہے، جب اسے یاد دلایا جاتا ہے تو وہ یاد کرتا ہے۔”
اس کا تقاضا یہ ہے کہ عبرت پکڑنے میں لغزش سے بچاؤ ہے۔
بلیغ حکمتوں میں سے ہے: جو زیادہ عبرتیں پکڑتا ہے اس کی لغزشیں کم ہوتی ہیں۔ جو اپنے اردگرد ہونے والے معاملات سے سبق لیتا ہے، دوسروں کے تجربوں سے فائدہ اٹھاتا ہے، وہ حق مبین کا زیادہ چاہنے والا ہوتا ہے۔ جو دوسروں کی لغزش دیکھے گا، اپنے چلنے میں گرنے سے مامون رہے گا۔ اور جو نتیجوں پر غور کرے گا، وہ مصیبتوں سے محفوظ رہے گا۔
اللہ کے بندو! اسی طرح ان حقائق میں سے جنہیں ہمیں یاد رکھنا چاہیے، یہ ہے کہ جو دوسروں سے عبرت نہیں پکڑتا، اس سے دوسرے عبرت پکڑتے ہیں۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اے ابن آدم! تو چند ایام ہی ہے، ایک دن گیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ تیرا ایک حصہ گیا۔ اس لیے جو تجھ سے پہلے تھے ان سے عبرت پکڑو اور اس کے لیے عبرت نہ بنو جو تمہارے بعد آئیں۔
اور حکیموں کی حکمتوں میں سے ہے: جس نے دوسروں سے عبرت پکڑی، اس نے دوسروں کو یہ موقع نہ دیا کہ وہ اس سے عبرت پکڑیں، اور جس نے اپنے نفس کو نصیحت بنا لیا، اسے کسی ناصح کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اور صحیح کہاوتوں میں سے ہے: سعادت مند وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرے۔
نصیحت اور عبرت پکڑنا عقلمندوں کا راستہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: “دیدہ بینا رکھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے۔
اور اللہ نے فرمایا:
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ11
بلاشبہ اس میں اس شخص کے لیے یقیناً نصیحت ہے جس کا کوئی دل ہو، یا کان لگائے، اس حال میں کہ وہ (دل سے) حاضر ہو۔
اے اللہ! تو ہمیں ان لوگوں میں سے بنا جنہیں جب یاد دلایا جاتا ہے تو وہ یاد کرتے ہیں، جب انہیں دکھایا جاتا ہے تو وہ دیکھتے ہیں، اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ میں نے جو کہا وہ تم نے سنا، اور میں اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
خطبہ ثانی:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ایام کی گردش میں عبرت رکھی اور زمانے کے الٹ پھیر میں وعظ و نصیحت ودیعت کی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ درود و سلام نازل ہو ان پر اور ان کی آل و اصحاب پر۔
اما بعد! اللہ کے بندو! اگر ہم ان پر غور کریں جن سے ہم عبرت پکڑ سکتے ہیں، تو ہم انہیں شمار کرنے سے عاجز رہیں گے۔ لیکن ہم اپنی فکر سے عبرت پکڑتے ہیں اور یہ پوچھتے ہوئے خود کو یاد دلاتے ہیں: کیا اس سے کوئی عبرت پکڑنے والا ہے، جس نے اللہ کی کما حقہ قدر نہیں کی؟ عبادت غیر اللہ کے لیے پھیری، عمل کو تباہ کرنے والے کبیرہ گناہ کیا، جیسے مُردوں کو پکارا، ولیوں سے مدد طلب کی، ان کے لیے قربانی کی، نذریں مانیں، قبروں اور قبر والوں کے لیے سجدہ کیا، اور ان کے بارے میں وہ اعتقاد رکھا جو اللہ کی خصوصیات میں سے ہے، جیسے نفع و نقصان پہنچانا، نوازنا یا محروم کرنا۔
اور اس چیز سے غافل رہا جو اللہ نے تباہ ہونے والوں کی راہ پر چلنے والوں کو وعید سنائی ہے:
لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ12
اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جائے گا اور تم خسارے میں رہو گے۔
کیا کوئی ان سے عبرت پکڑنے والا ہے جو منحرف اور غلو کرنے والوں کے راستے پر چلے، اور سرکشی کرنے والوں اور دین سے نکل جانے والوں کی راہ اپنائی؟ چنانچہ بلا دلیل مسلمانوں کی تکفیر کی، اور بغیر حجت و بیان کے انہیں فاسق اور بدعتی قرار دیا، اور ظلم و سرکشی سے ان کے مال و جان کی پامالی کی۔
اور کیا کوئی عبرت پکڑنے والا ہے ان سے جنہوں نے تکبر سے کام لیا اور سرکشی کی، زمین میں فساد برپا کیا اور کبر و غرور کا مظاہرہ کیا؟ جس کی عادت خیانت اور غداری ہے، اور جس کا شیوہ سرکشی اور مکاری ہے، وہ مسلمانوں کے ملکوں پر ظلم کرتا ہے اور دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے، مامون لوگوں کو خوفزدہ کرتا ہے اور معصوموں کا خون بہاتا ہے۔
کیا کوئی ان سے عبرت پکڑنے والا ہے جو گمراہوں اور خواہشات و متشابہات کی پیروی کرنے والوں سے فتنے میں پڑ گئے؟ اور جو دین کے مسلمات میں تشکیک پیدا کرنے والوں اور محکمات میں طعن سے کام لینے والوں کے دھوکے میں پڑ گئے؟ یوں انہوں نے اپنے دین کو شبہات کی زد میں رکھ دیا اور شک اور اندھیروں میں پڑے۔ چنانچہ وہ شک اور گمراہیوں کے سمندر میں گر گئے۔
کیا کوئی ان سے عبرت پکڑنے والا ہے جنہوں نے خواہشات کی پیروی کی، چنانچہ اپنے دین سے پھر گئے اور اس سے عداوت برتی؟ گمراہ ہوئے اور یہ گمان کیا کہ وہ بیڑیوں اور بندھنوں سے آزاد ہو گئے ہیں، اور اسلام اور اہل اسلام کو پستی، رجعت پسندی اور جمود کا طعنہ دیا۔
کیا کوئی ان سے عبرت پکڑنے والا ہے جو جادوگروں، کاہنوں اور شعبدہ بازوں کے پاس گئے، ان کی باتوں کی تصدیق کی اور مسلمانوں کو اذیت دینے کے لیے ان سے مدد لی؟
کیا کوئی ان سے عبرت پکڑنے والا ہے جنہوں نے ظلم کیا، اپنے رب پر جھوٹ باندھا، اور اپنی جھوٹی بات سے فتنے میں پڑے، جو حق سے لاعلم رہے اور حق کا دعویٰ کیا، اور اپنی من گھڑت باتوں سے دوسروں کو گمراہ ثابت کیا؟ اور اپنی دھن بنا لی کہ لوگوں کے عیوب اور ان کی لغزشوں کے پیچھے پڑیں، ان کی خطاؤں اور غلطیوں کی تاک میں رہیں، اور ان کی زبان زندہ مردہ مسلمان مرد و خواتین کی آبرو کے سلسلے میں ابھی تک جھوٹ باندھ رہی ہے۔
کیا ان سے کوئی عبرت پکڑنے والا ہے جو اس طریقے پر عبادت کرتے ہیں جس کا رب العالمین نے حکم نہیں دیا اور جسے سید المرسلین نے مشروع نہیں کیا، چنانچہ وہ بدعتوں اور دین میں ایجاد کردہ نئی نئی چیزوں میں پڑ گئے؟
کیا ان سے کوئی عبرت پکڑنے والا ہے جنہوں نے اسلام کے ستون نماز کو چھوڑ دیا، جنہوں نے اسے ضائع کیا اور اس کے حق میں کوتاہی برتی؟ اور اپنے رب العباد کے درمیان کے رشتے کو توڑ لیا، اور اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ نماز وہ پہلی چیز ہوگی قیامت کے دن جس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔
کیا کوئی ان سے عبرت پکڑنے والا ہے جنہوں نے اپنے والدین کی نافرمانی کی اور ان کے ساتھ حسن سلوک نہیں کیا؟ ان کے حق ضائع کیے، رشتے توڑے، ان کی حرمتوں کا پاس و لحاظ نہیں رکھا۔
کیا کوئی ان سے عبرت پکڑنے والا ہے جنہوں نے اپنے معاملے میں سے کسی معاملے میں جلد بازی کی، جیسے طلاق؟ اور لوگوں کے بارے میں وہم و گمان کی بنیاد پر حکم لگایا، اور ہر کہی اور سنی بات کو پھیلایا؟
کیا ان سے کوئی عبرت پکڑنے والا ہے جنہوں نے اللہ کے دیے ہوئے مال میں بخیلی کی؟ اللہ کا حق اور جس سے خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ نہیں ادا کیا، جنہوں نے گناہ اور باطل کے زور پر مال حاصل کیا اور دھوکہ و فریب سے اسے کمایا۔
کیا کوئی ان سے عبرت پکڑنے والا ہے جنہیں نصیحت کی گئی تو انہوں نے نصیحت قبول نہیں کی؟ بلکہ اعراض و تکبر سے کام لیا، خود پسندی کے شکار رہے اور اپنی رائے پر اڑے رہے۔
ان تمام لوگوں کے حال پر غور کرو، اللہ نے ان کے ساتھ اور ان جیسوں کے ساتھ کیا کیا جنہوں نے برائی کی؟ ہدایت سے روگردانی اختیار کی، دوسروں کو اذیت اور ضرر پہنچایا، اور اپنی گمراہی پر اڑے رہے۔ اللہ نے انہیں ان کی معصیتوں اور کرتوتوں کے مطابق سزا دی، انہیں سرکشوں کا بدلہ ملا، اور وہ عبرت پکڑنے والوں کے لیے عبرت بن گئے۔
خبردار اے اللہ کے بندو! ہمیشہ اس بات کو یاد رکھو کہ اللہ ملک العلام نے خیر الانام پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
اے اللہ محمد اور آپ کے سبھی آل و اصحاب پر درود و سلام نازل فرما۔ اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، کفر اور کافروں کو ذلیل و خوار کر، اس ملک اور تمام مسلم ملکوں کو بھی امن و اطمینان، خوشحالی اور وسعت و فراخی والا بنا۔
اے اللہ جو شخص اس ملک کے امن و استحکام کو برائی، شرر اور فتنے کے ذریعے نقصان پہنچانا چاہے، اس کی سازش کو اسی پر لوٹا دے، اس کی مکاری کو باطل فرما، اس کی کوشش کو ناکام بنا دے، اور اس کی تدبیر کو اسی کے لیے تباہی کا سبب بنا دے۔
اے دعاؤں کے سننے والے! اے اللہ ہمیں ہر کینہ پرور، گنہگار، موقع کی تاک میں رہنے والے اور بدخواہ دشمن کے شر سے بچا اور تو ہی ہمارے لیے کافی ہو جا۔ اے اللہ امت مسلمہ، اس کے ممالک اور اس کے مقدس مقامات کی حفاظت فرما، اور ان سے شرپسندوں کی شرارت، سازش کرنے والوں کی سازش، زیادتی کرنے والوں کی زیادتی اور ظالموں کی سرکشی سے بچا اور دور فرما، انہیں جنگوں، فتنوں، مصیبتوں اور آزمائشوں کے شر سے محفوظ فرما۔
اے اللہ کمزوروں، تیری راہ میں جہاد کرنے والوں، مورچوں پر پہرہ دینے والوں اور سرحدوں کے محافظوں کی مدد فرما۔ اے اللہ ہمیں اپنے وطنوں میں امن اور ایمان عطا فرما، ائمہ اور حکام کی اصلاح فرما، اور ہماری ولایت و حکمرانی ان لوگوں کے ہاتھوں میں عطا فرما جو تجھ سے ڈریں، تقویٰ اختیار کریں اور تیری رضا کی پیروی کریں، اے رب العالمین۔
اے اللہ ہمارے فرماں روا خادم حرمین شریفین کو ان تمام اقوال و اعمال کی توفیق عطا فرما جنہیں تو پسند کرتا اور جن سے تو راضی ہوتا ہے، اے زندہ اور قائم رہنے والے اور دنیا کو تھامنے والے۔ اے اللہ انہیں اور ان کے ولی عہد کو اپنی ہدایت اور تقویٰ کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ فلسطین میں اور ہر جگہ موجود ہمارے بھائیوں کا حامی و مددگار بن جا، اے رب العالمین۔ اے اللہ ان کی پریشانی دور فرما، ان کی مصیبت کو کشادگی میں بدل دے، ان کے باہمی تعلقات کی اصلاح فرما، ان کے لیے تدبیر فرما، ان کے خلاف تدبیر نہ ہونے دے۔
اے اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل و اصحاب پر درود و سلام نازل فرما۔
خطبہ جمعہ مسجد الحرام
تاریخ 12ربیع الثانی 1448 ہجری بمطابق 2 اکتوبر 2026 عیسوی
خطیب :فضیلۃ الشیخ فیصل غزاوی حفظہ اللہ
____________________________________________________________________________
