خطبہ اول:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا ہر اس شخص کے لیے جو یاد رکھنا چاہے یا شکر گزاری کرنا چاہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ بہت بلند و بالا ہے ان باتوں سے جو باطل لوگ کہتے ہیں۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ نے انہیں قیامت سے پہلے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا، اور اپنے حکم سے اپنی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا۔ اللہ بہت زیادہ درود و سلام نازل فرمائے آپ پر، آپ کی آل و اصحاب پر اور ان لوگوں پر جنہوں نے اچھی طرح آپ کی پیروی کی۔
اما بعد!
ایمانی بھائیو! اللہ کا تقویٰ اور اس کا خوف اختیار کرو۔ اللہ کا تقویٰ اور اس کا خوف نفسوں کا آرام، دلوں کی تازگی، باطن کی انسیت اور روحوں کی راحت ہے۔ جو شخص تقویٰ اختیار کرے وہ عزت کے درجات طے کرتا ہے اور بلندی پر پہنچ جاتا ہے۔
اللہ کا فرمان ہے:
قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ 1
کہہ دو کہ دنیا کا ساز و سامان بہت تھوڑا ہے اور آخرت اس کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرے۔
امتِ اسلامیہ! دنوں کے ختم ہونے اور ماہ و سال کے گزرنے میں یقینی طور پر عبرت و نصیحت ہے۔ اسی طرح اہلِ بصیرت کے لیے اس میں تسلی اور خوشخبری ہے۔ زمانے کی تیز رفتاری ہر عقلمند کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے گزرے ہوئے وقت اور ماضی پر نظر ڈالے، اور اپنے حال اور مستقبل پر غور کرے۔ چنانچہ اس میں ہر کوتاہ شخص کے لیے نصیحت ہے کہ وہ تیاری کر لے، اور ہر مصیبت زدہ کے لیے تسلی ہے کہ اس کی مصیبت کا زمانہ گزر جانے والا ہے۔ پس نہ کوئی غافل دنیا سے دھوکہ کھائے، اور نہ کوئی مصیبت و تکلیف کا مارا دلبرداشتہ ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا2
اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو نصیحت لینا چاہے یا شکر گزاری کرنا چاہے۔(سورۃ الفرقان:62)
یعنی رات اور دن میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ لیتا ہے، ایک دوسرے کے پیچھے آتا ہے، کبھی رکتا نہیں، اور یہ جاتا ہے تو وہ آتا ہے، ہر اس شخص کے لیے جو نصیحت لینا چاہتا ہے یا شکر گزاری کرنا چاہتا ہے۔ یعنی اللہ نے ان دونوں کو باری باری آنے جانے والا اس لیے بنایا تاکہ غور کرنے والا اس خالق سبحانہ و تعالیٰ کی توحید پر استدلال کرے، اور جان لے کہ وہ خالقِ عظیم قدرت والا ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ اور تاکہ شکر گزار بندہ رات و دن کی آمد و رفت میں جو عظیم اور جلیل القدر نعمتیں ہیں ان پر شکر ادا کرے۔
اللہ نے انہیں اس لیے جانشین بنایا تاکہ گزرے ہوئے وقت میں بندے سے جو نیکی، طاعت اور منفعت چھوٹ گئے ہوں، وہ آنے والے وقت میں ان کا تدارک کر لے۔ پس جس سے رات میں کوئی عمل رہ جائے وہ دن میں اسے پورا کرے، اور جس سے دن میں کوئی عمل رہ جائے وہ رات میں اسے پورا کرے۔
جیسا کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل رات میں اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گنہگار توبہ کرے، اور دن میں اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کا گنہگار توبہ کرے، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔
اور اللہ تعالیٰ کے فرمان:
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ3
اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند پیدا کیے، سب ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔
اس کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جس شخص سے رات میں کوئی عمل رہ جائے وہ اسے دن میں کر لے اور جس سے دن میں کوئی عمل رہ جائے وہ اسے رات میں کر لے۔
بیشک راتوں اور دنوں کے یکے بعد دیگرے آنے جانے، اور سالوں اور مہینوں کے پے در پے چلتے رہنے میں، اس شخص کے لیے تسلی و سکون ہے جس کے حالات تنگ ہو گئے ہوں اور معاملات مشکل ہو گئے ہوں۔ کیونکہ دنیا تبدیلی اور زوال کا گھر ہے۔ نہ تو اس کا کوئی معاملہ برقرار رہتا ہے اور نہ ہی کوئی حالت مستقل رہتی ہے، بلکہ یہ اپنے باشندوں کے ساتھ منتقل ہوتی رہتی ہے اور انہیں ایک حالت کے بعد دوسری حالت سے دوچار کرتی رہتی ہے۔
چنانچہ مصیبت کی تاریکیوں کو خوشحالی کی پہلی کرنیں ویسے ہی دور کر دیتی ہیں جیسے دن کی روشنی رات کی تاریکی کو مٹا دیتی ہے۔
اللہ کے نبی ﷺ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَاعْلَمْ أَنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا “.4
اور جان لو کہ جس چیز کو تم ناپسند کرتے ہو، اس پر صبر کرنے میں بہت بڑی بھلائی ہے۔ بے شک کامیابی صبر کے ساتھ ہے، اور بے شک راحت و کشادگی تنگی کے ساتھ ہے، اور یقیناً ہر مشکلات کے ساتھ آسانی ہے۔
اللہ مجھے اور آپ کو ملے موسموں میں برکت عطا فرمائے اور خیر پر ہمارا خاتمہ کرے۔ ہمیں آخرت کی بہترین منزل یعنی جنت عطا فرمائے۔ میں وہ کہتا ہوں جو آپ سن رہے ہیں اور میں اللہ سے اپنے لیے اور آپ سب کے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں، بیشک وہ بہت مغفرت والا ہے۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمارے لیے اس دین کو مکمل اور پورا کیا، اور اس نے ہمیں اپنے بھرپور فضل سے نوازا اور نعمتوں سے مالا مال کیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے ہمیں خصوصی طور پر اپنے برگزیدہ رسول سے شاد کام کیا اور ہمیں بہترین امت بنایا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا، اور ہدایت، روشن دلائل اور حکمت کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ اللہ رحمتیں نازل فرمائے آپ پر، آپ کی آل و اصحاب پر، اور ان لوگوں پر جنہوں نے اچھی طرح آپ کی اطاعت اور پیروی کی۔
اما بعد!
امتِ اسلامیہ! ہم اپنے گزرے ہوئے سال کے خاتمے کے ساتھ ہی حج کے مقدس مہینے میں نیکیوں کے عظیم موسم کو الوداع کہہ چکے ہیں، اور اب ہم نے اللہ کے مہینے یعنی محرم الحرام کے موسم کا استقبال کیا ہے۔ نیکی کا ایک ایسا موسم جس کے بعد نیکی کا دوسرا موسم آتا ہے۔ یہ نیکی اور بھلائی کے زمانوں کی ایک ایسی سلسلہ وار زنجیر ہے جس کی کڑیاں جڑی ہوئی ہیں، اور اوقات پے در پے ہیں۔ یہ ایمان کے ایسے چشمے ہیں جو بکثرت استعمال کے باوجود کبھی خشک نہیں ہوتے۔ اور یہ امن، خوشحالی اور سکون کا پھیلا ہوا سایہ ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی ان عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جو اس نے اس مبارک ملک اور اس کے سربراہان پر نازل فرمائی۔ جن کے سائے سے مسلمان فیضیاب ہوتے ہیں، جن کے جاری و شیریں چشمے سے سیراب ہوتے ہیں، اور جن کے ذریعے دل اپنی آرزوؤں کو پہنچتے ہیں۔
چنانچہ ہم اللہ کی ایسی حمد کرتے ہیں جس کے شمار سے زبان و بیان عاجز ہیں، اور جو اس کے مزید فضل و احسان کا باعث ہے۔ وہی ہے جس نے ہمیں اپنے فضل و کرم سے نوازا، جس کے فضل کی بارشیں لگاتار برستی ہیں، اس نے اس ملک میں تمام خوبیاں جمع کر دیں اور عزت کی بلندیوں پر اس کے تاج کو پہنچا دیا۔ اس نے اس کو آنے والوں کے لیے خیر و بھلائی کا قبلہ بنا دیا جو اپنے قاصدین کو ہدایت کی طرف آنے کی صدا دیتا ہے۔ پس تمام تعریفیں اور ستائشیں تیرے لیے ہیں جب تک صبح کے پرندے اپنے گیت گاتے رہیں۔
اے اللہ! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ تو حرمین شریفین کی خدمت، ان کی نگہداشت اور ان کے زائرین کی دیکھ بھال کرنے والوں کو بہترین اور مکمل ثواب عطا فرما، جن میں سرفہرست خادمِ حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد ہیں۔ اے سب سے زیادہ کرم کرنے والے، انہیں اپنی حفاظت و نگہداشت میں رکھ، انہیں اپنی رعایت میں محفوظ رکھ،
اے رب العالمین! اس پاکیزہ اور پاک ملک، مملکتِ سعودی عرب کو سازش کاروں اور دشمنوں کے مکر و فریب سے محفوظ رکھ، جو ایمان کی آماجگاہ ہے، وحی کے نزول کی جگہ ہے، مسلمانوں کے دلوں کا مرکز اور سید المرسلین ﷺ کی قیام گاہ ہے۔
اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے حالات درست فرما، ان کے اور اپنے دشمنوں پر ان کی مدد فرما، اے قوی اے مضبوط رب۔ اے ہمارے رب ہم سے قبول فرما لے بیشک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے۔ اور ہماری توبہ قبول فرما، بیشک تو ہی بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔
سنو! جمعہ کے دن اور تمام دوسرے دنوں میں ہمیشہ نبی ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجو، جو تمام مخلوق میں سب سے بہتر اور تمام انسانوں کے سردار ہیں۔ اے اللہ! درود و سلام اور برکت نازل فرما اپنے بندے اور رسول، ہمارے نبی محمد پر، اور ان کی آل پر، ان کے روشن رو صحابہ کرام پر اور ان لوگوں پر جو اچھی طرح ان کی پیروی کریں جب تک زمانہ گزرتا رہے اور نعمتیں پے در پے نازل ہوتی رہیں۔
اللہ کے بندو! اپنے رب کے فضل کا اس کا شکر ادا کر کے ہمیشہ قائم رکھو، اور اس کی نعمت کو اس کے حکم کی پیروی کر کے محفوظ رکھو اور اس کی دعا اور ذکر میں لگے رہو۔ پاک ہے ہمارا رب جو عزت والا ہے ان باتوں سے جو بیان کرتے ہیں، اور سلام ہو تمام رسولوں پر اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
سبحان ربك رب العزت عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین۔
خطبہ جمعہ مسجد النبوی
تاریخ: 11 محرم 1448 ہجری، بمطابق 26 جون 2026 عیسوی
موضوع: دن و سال کی آمد و رفت میں عبرت و نصیحت
خطیب: فضیلۃ الشیخ احمد بن علی الحذیفی حفظہ اللہ
_____________________________________________________________
