خطبہ اول:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، وہ ایک اور بدلہ دینے والا ہے۔ اس نے ہمیں اسلام کی نعمت سے نوازا اور ایمان کی زینت سے مزین کیا۔ ہم اس پاک ذات کی حمد بیان کرتے ہیں اور اس کا شکر بجا لاتے ہیں۔ اس نے ہم پر قرآن نازل کیا اور ہمیں آلِ عدنان کے سردار کی رسالت سے بطورِ خاص نوازا۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، سارے عالم اور کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اور اس کے چنیدہ اور خلیل ہیں۔ اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قیامت کے قریب انس و جن کے لیے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔ درود و سلام اور برکتیں نازل ہوں آپ پر، اور آپ کے فضیلت و بھلائی اور تقویٰ و رضوان والے آل و اصحاب پر، جب تک صبح و شام کا سلسلہ رہے اور روز و شب یکے بعد دیگرے آتے جاتے رہیں۔
اما بعد!
لوگو! میں تمہیں اور خود کو اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں۔ اللہ تم پر رحم کرے، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اور جان لو کہ اللہ کے دین پر ثابت قدم رہنا، اس دنیا میں مسلمانوں کی اصل پونجی اور موت کے بعد نجات کی راہ ہے۔ اور یہ کہ اسلام کا قدم، اطاعت و فرمانبرداری کے پل پر ہی ثابت رہ پاتا ہے۔
مسلمانو! خیر الانام (صلی اللہ علیہ وسلم) کے چراغِ ہدایت کی روشنی سے زمانوں کے دور ہونے اور سالوں کے گزرنے کے ساتھ آزمائشوں کا سلسلہ جاری رہا۔ فتنے عام ہوئے، شبہات متنوع رہیں، خواہشیں بڑھ گئیں، دھیان پھیرنے والی چیزیں زیادہ ہوئیں، اور لہو و لعب میں ڈالنے والی چیزوں کا تسلسل رہا۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
شَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنْ الْحَجَّاجِ فَقَالَ اصْبِرُوا فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ1
ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے طرز عمل کی شکایت کی ‘ انہوں نے کہا کہ صبر کرو کیونکہ تم پر جو دور بھی آتا ہے تو اس کے بعد آنے والا دور اس سے بھی برا ہو گا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو ۔ میں نے یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔
مومن کو پہنچنے والی مصیبتوں میں سب سے بڑی مصیبت مال و روزی کی کمی نہیں ہے، بلکہ عظیم ترین مصیبت اور سب سے بڑی بلا دین کے سلسلے میں آزمائش اور ایمان کا کمزور ہونا ہے۔
اسی لیے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) بکثرت یہ دعا کیا کرتے تھے:
وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا2
ہماری مصیبت ہمارے دین میں نہ بنا۔
نبیﷺ نے فرمایا:
قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مَا كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ عِنْدَكِ ؟ قَالَتْ : كَانَ أَكْثَرُ دُعَائِهِ : ” يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ “. قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لأَكْثَرِ دُعَاءَكَ : ” يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ ؟ “. قَالَ : يَا أُمَّ سَلَمَةَ، إِنَّهُ لَيْسَ آدَمِيٌّ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ، فَمَنْ شَاءَ أَقَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَزَاغَ3
شہر بن حوشب سے مسند احمد میں مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: “اے ام المومنین! اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) جب آپ کے پاس ہوتے تھے تو اکثر کون سی دعا کیا کرتے تھے؟” انہوں نے فرمایا: “آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے: ‘يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ’ (اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جما دے)۔” فرماتی ہیں میں نے کہا: “اے اللہ کے رسول! آپ اتنی کثرت سے یہ دعا کیوں کرتے ہیں کہ اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر جما دے؟” تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “اے ام سلمہ! ہر آدمی کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، جسے چاہتا ہے اسے قائم رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے گمراہ کر دیتا ہے۔
اس لیے ہر مسلمان جو اپنے دین کی سلامتی کا حریص ہے اور اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہے، وہ اس چیز کو مضبوطی سے تھامے جو اس کے دین کی حفاظت کرے اور اسے خوب قوت سے پکڑ لے جو اس کی توحید کو بچائے۔ اور اس کی بنیاد، جڑ اور اولین چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے، اس لیے کہ وہ ثابت قدم نہیں رہ سکتا جسے اللہ ثابت قدم نہ رکھے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَلَوْلَا أَن ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدتَّ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا4
اور اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے تجھے ثابت قدم رکھا تو بلاشبہ یقیناً تو قریب تھا کہ کچھ تھوڑا سا ان کی طرف مائل ہوجاتا۔
جب یہ حال اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد کسی اور مخلوق کا کیا حال ہوگا؟ اسی لیے اہل ایمان کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ ملکِ رحمان سے یہ دعا کرتے ہیں:
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ5
اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے۔
مسلمانو! اللہ کے دین پر ثابت قدمی کے اہم ترین ذرائع میں سے مسلسل قرآن کریم کے حروف کی تلاوت، اس کی آیتوں پر غور و فکر، اس کے معانی کی سمجھ اور اس کے اندر موجود احکام کی پیروی ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً ۚ كَذَٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ ۖ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا6
اور کافروں نے کہا کہ اس پر قرآن سارا کا سارا ایک ساتھ ہی کیوں نہ اتارا گیا؟ اسی طرح ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا تاکہ اس سے ہم آپ کا دل قوی رکھیں، ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر ہی پڑھ کر سنایا ہے۔
اسی طرح اس کے ذرائع میں سے نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا اور برے لوگوں سے دوری اختیار کرنا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا7
اور اپنے آپ کو انہی کے ساتھ رکھا کر جو اپنے پروردگار کو صبح و شام پکارتے ہیں اور اسی کی رضامندی چاہتے ہیں، خبردار! تیری نگاہیں ان سے نہ ہٹنے پائیں کہ دنیاوی زندگی کے ٹھاٹھ کے ارادے میں لگ جا۔ دیکھ اس کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جس کا معاملہ حد سے گزر چکا ہے۔
پھر ان ذرائع میں گزرے ہوئے سلف میں سابقین اولین اور انبیاء و مرسلین، اور زمانوں کے گزرنے کے باوجود درست طریقے سے ان کی پیروی کرنے والے نیک لوگوں کے قصے یاد رکھنا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ ۚ وَجَاءَكَ فِي هَٰذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ8
رسولوں کے سب احوال ہم آپ کے سامنے آپ کے دل کی تسکین کے لیے بیان فرما رہے ہیں، آپ کے پاس اس سورت میں بھی حق پہنچ چکا ہے جو نصیحت و وعظ ہے مومنوں کے لیے۔
اللہ کے بندو! اللہ کے دین پر ثابت قدمی کے عظیم ترین ذرائع میں سے اللہ کی طاعت کی پابندی، اس کی کتاب کو مضبوط تھامنا، جماعت کو لازم پکڑنا اور اختلاف و انشقاق کو چھوڑنا بھی ہے۔
اللہ کا فرمان ہے:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ9
اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہو گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لیے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔
اسی کے ساتھ عملِ صالح پر ہمیشگی برتنا بھی اللہ کے دین پر ثابت قدمی کے عظیم ترین ذرائع میں سے ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا٘ وَإِذًا لَّآتَيْنَاهُم مِّن لَّدُنَّا أَجْرًا عَظِيمًا٘ وَلَهَدَيْنَاهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا10
اور اگر یہ وہی کریں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یقیناً یہی ان کے لیے بہتر اور بہت زیادہ مضبوطی والا ہے۔ اور تب تو انہیں ہم اپنے پاس سے بڑا ثواب دیں، اور یقیناً انہیں راہِ راست دکھا دیں۔
اور نیک اعمال میں عظیم ترین عمل اللہ پر ایمان ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ11
ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، ہاں نا انصاف لوگوں کو اللہ بہکا دیتا ہے اور اللہ جو چاہے کر گزرے۔
شبہات و شہوات کی جگہوں سے دور رہنے، لہو و لعب اور فتنہ انگیز چیزوں سے بچنے سے بندے کا دین محفوظ رہتا ہے اور اس کا دل شفاف رہتا ہے۔
اللہ کا فرمان ہے:
وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ12
اور جب آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں عیب جوئی کر رہے ہوں تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہو جائیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں، اور اگر آپ کو شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھیں۔
اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا13
اور اللہ تعالیٰ تمہارے پاس اپنی کتاب میں یہ حکم اتار چکا ہے کہ تم جب کسی مجلس والوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے اور مذاق اڑاتے ہوئے سنو تو اس مجمع میں ان کے ساتھ نہ بیٹھو! جب تک کہ وہ اس کے علاوہ اور باتیں نہ کرنے لگیں، ورنہ تم بھی اس وقت انہی جیسے ہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تمام کافروں اور سب منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔
اللہ کے بندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اللہ کی اطاعت پر صبر و استقامت سے کام لو، کامیاب و بامراد ہو گے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں، ہر گناہ سے اپنے لیے، تمہارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ کی مغفرت چاہتا ہوں، تم بھی اس سے مغفرت طلب کرو، وہ یقیناً بڑا بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
خطبہ ثانی:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی رب ہے۔ ہم اس کی عظیم ترین اور ادنیٰ ترین خیر پر اور اس کے نمایاں ترین اور پوشیدہ ترین فضل پر، اس پاک و بابرکت ذات کی حمد بیان کرتے ہیں اور اس کا شکر بجا لاتے ہیں۔
درود و سلام نازل ہو اللہ کی سب سے بہتر مخلوق محمد بن عبداللہ پر، جو اللہ کے نبی، اس کے چنیدہ رسول اور اس کے پسندیدہ ہیں، اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے انتہائی فضیلت والے آل و اصحاب پر، اور جنہوں نے درست طریقے سے ان کی پیروی کی ان پر، جب تک زمانہ اپنی انتہا کو پہنچے۔
اما بعد!
اللہ تم پر رحم کرے، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اور جان لو کہ سب سے بڑی عزت جسے اللہ اس دنیا میں اپنے بندے کو نوازتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کا خاتمہ اسلام پر کرے اور اسے ایمان پر موت دے۔ اور اس عزت کے پانے کے عظیم ترین ذرائع میں سے طاعت و استقامت پر ہمیشگی برتنا ہے، اور جو اپنی خلوتوں میں اللہ کا خوف کھاتے ہوئے جیتا ہے، اللہ پاک اسے موت کے وقت امن سے نوازے گا۔
عظیم ترین چیز جس کے ساتھ مومن اپنے رب سے ملے وہ یہ ہے کہ وہ اس روح کو اس حال میں حوالے کرے کہ اس نے اسے کسی شخص سے ملوث نہیں کیا ہو اور نہ ہی خواہشِ نفس کے لیے گمراہ کیا ہو۔ اور اعتبار آغازوں کی کمی کا نہیں، بلکہ اختتاموں کے کمال کا ہے۔ اور عظیم ترین کمال یہ ہے کہ مسلمان کی موت توحید و سنت پر ہو، اللہ کے واسطے سلفِ امت کے منہج پر۔ کتاب و سنت کی پابندی کرو، گمراہوں اور بدعتیوں سے دور رہو۔
اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “تم میری سنت اور میرے بعد میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے پکڑ لو، انہیں دانتوں سے مضبوطی سے پکڑ لو، تم دین میں ایجاد شدہ نئی باتوں سے بچو اس لیے کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔” (اسے احمد اور اصحاب سنن نے روایت کیا ہے)۔
پھر تمہیں چاہیے کہ تم صبر سے کام لو، اس لیے کہ فتنوں کے زمانے میں اپنے دین پر صبر کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے آگ کے انگاروں کو پکڑنے والا۔
ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:
فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلُ الْقَبْضِ عَلَى الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِكُمْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنَّا أَوْ مِنْهُمْ قَالَ بَلْ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ14
تمہارے پیچھے صبر کے ایام ہیں، ان میں صبر کرنا انگاروں کو پکڑنے جیسا ہے، ان میں عمل کرنے والے کا اجر اس کے جیسے عمل کرنے والے پچاس لوگوں کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان میں سے پچاس عمل کرنے والوں کے برابر؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: تم میں سے پچاس لوگوں کے برابر۔
پھر درود و سلام بھیجو مخلوقات میں سب سے بہترین محمد ابن عبداللہ پر، کہ اس کا حکم تمہیں تمہارے رب نے دیا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا15
اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجتے رہا کرو۔
اے اللہ! درود و سلام اور برکت نازل فرما اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر۔ اور اے اللہ! تو راضی ہو جا تمام صحابہ کرام سے اور تابعین سے اور درست طریقے سے تا قیامت ان کی پیروی کرنے والوں سے، اپنی رحمت سے اے ارحم الراحمین۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا کر، دین کے احکام کی حفاظت فرما، اپنے موحد بندوں کی مدد فرما۔ اے اللہ! پریشان حال مسلمانوں کی پریشانی دور کر، مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبت ختم کر، قرض داروں کے قرض ادا کروا دے، ہمارے مریضوں اور مسلمانوں کے مریضوں کو شفا دے۔
اے اللہ! ہمیں ہمارے وطنوں میں امن سے نواز، ہمارے سربراہوں اور حکمرانوں کی اصلاح فرما۔ ہمارے سربراہ اور حکمران کی توفیق و درستی کے ساتھ تائید کر۔ اے اللہ! صحت و عافیت اور بھرپور نعمت کے ساتھ ان کی عمر دراز کر۔ اے اللہ! انہیں اور ان کے امانت دار ولی عہد کو اس بات کی توفیق دے جس میں ملک اور بندوں کی بھلائی اور اسلام اور مسلمانوں کی رفعت و سربلندی ہے، اے رب العالمین۔
اے اللہ! سرحدوں پر تعینات ہمارے سپاہیوں کی حفاظت فرما۔ اللہ تو ان کی اپنی اس آنکھ سے نگہبانی کر جو کبھی نہیں سوتی اور انہیں اپنے سہارے میں لے لے جو ناقابل تسخیر ہے۔ اے اللہ! ہر جگہ تو ہمارے کمزور بھائیوں کا سہارا بن، اے اللہ تو ان کا معین و مددگار اور مؤید و ظہیر بن جا۔ اے اللہ! ان کی کمزوری کو قوت میں بدل دے، ان کی تنگی کو کشادگی و فراخی میں بدل دے۔ اے اللہ! فلسطین میں غاصب صہیونیوں کے خلاف انہیں غلبہ عطا کر۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر و باطن فتنوں سے حفاظت فرما۔ بطور خاص ہمارے اس ملک سے فتنے کو دور رکھ اور مسلمانوں کے بقیہ سارے ممالک سے بھی۔ اے اللہ! ہمارے اس دین کی اصلاح فرما جو ہمارے معاملے کی حفاظت ہے، اور ہماری دنیا کی اصلاح فرما جس میں ہماری معیشت ہے، ہماری آخرت کی اصلاح فرما جس کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے، زندگی کو ہمارے لیے ہر خیر میں اضافے کا ذریعہ بنا اور موت کو ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنا۔
اے اللہ! جب تو نے ہمیں ہدایت دے دی ہے تو اب ہمیں گمراہ نہ کر، اپنی طرف سے ہمیں رحمت عطا کر، تو یقیناً بہت بخشنے والا ہے۔
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ16
اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذابِ جہنم سے نجات دے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ٘ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ٘ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ17
پاکی ہے آپ کے رب کے لیے جو بہت بڑی عزت والا ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں۔ اور پیغمبروں پر سلام ہے۔ اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا پروردگار ہے۔
خطبہ جمعہ، مسجد الحرام
تاریخ 10 صفر 1448 ہجری بمطابق 24 جولائی 2026 عیسوی
خطیب: فضیلۃ الشیخ بندر بلیلہ حفظہ اللہ
___________________________________________________________________
- (صحیح بخاری:7068)
- (جامع ترمذی:3502)
- (جامع ترمذی:3522)
- (سورۃ الاسراء: 74)
- (سورۃ آل عمران:08)
- (سورۃ الفرقان: 32)
- (سورۃ الکھف: 28)
- (سورۃ ھود: 120)
- (سورۃ آل عمران: 103)
- (سورۃ النساء: 66-68)
- (سورۃ ابراھیم: 27)
- (سورۃ الانعام: 68)
- (سورۃ النساء: 140)
- (جامع ترمذی:3058)
- (سورۃ الاحزاب: 56)
- (سورۃ البقرۃ: 201)
- (سورۃ الصافات: 180-182)
