خطبہ اول:
خطبہ تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اس سے مدد چاہتے ہیں اور مغفرت طلب کرتے ہیں۔ ہم اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں۔ اللہ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ درود نازل کرے ان پر اور ان کے آل و اصحاب پر اور ان پر بہت زیادہ سلامتی نازل کرے۔
امّا بعد!
مسلمانو! اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی ربوبیت و وحدانیت کے دلائل اور اس کی صفاتِ کمال میں سے یہ ہے کہ اس نے اپنی بعض مخلوق کو کچھ خصوصیات اور فضیلتوں سے مختص کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ1
اور تیرا رب جو چاہے پیدا کرتا ہے اور چن لیتا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کے انتخاب کے مظاہر میں سے ہے وقتوں اور جگہوں کو منتخب کر لینا۔
وقتوں کے انتخاب کے حوالے سے ہم پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حج کے مہینوں اور حرمت والے مہینوں کو دیگر مہینوں پر، ماہِ رمضان کو سال کے باقی مہینوں پر، جمعہ کے دن کو ہفتے کے باقی دنوں پر، قربانی کے دن کو باقی دنوں پر اور لیلۃ القدر کو بقیہ راتوں پر منتخب فرما لیا۔ اور جگہوں کے انتخاب کی مثالوں میں سے ہم پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے بہتر اور سب سے شریف شہر کو منتخب فرمایا اور وہ ہے حرمت والا شہر مکہ۔
اور اللہ کے بندو! دیکھیں، ہم ان دنوں دیکھ رہے ہیں کہ شرفِ مکان کے ساتھ شرفِ زمان اکٹھا ہو گیا ہے، اور حرمت والا مہینہ حرمت والے شہر کے ساتھ مل گیا ہے۔ سو ان خوبصورتیوں کا کیا کہنا جو قلب و وجدان کو سرشار کرتی ہیں اور ایمانی جذبات کو جگاتی ہیں۔
جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْهَدْيَ وَالْقَلَائِدَ ۚ ذَٰلِكَ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ2
اللہ نے کعبہ کو، جو حرمت کا مکان ہے، لوگوں کے قائم رہنے کا سبب قرار دیا اور عزت والے مہینے کو بھی، اور حرم میں قربانی ہونے والے جانور کو بھی اور ان جانوروں کو بھی جن کے گلے میں پٹے ہوں؛ یہ اس لیے تاکہ تم اس بات کا یقین کر لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں اور زمین کے اندر کی چیزوں کا علم رکھتا ہے اور بیشک اللہ سب چیزوں کو خوب جانتا ہے۔
کعبہ کا لوگوں کے قائم رہنے کا سبب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کے دینی اور دنیاوی امور کے قیام کا محور ہے، کیونکہ وہ ان کے دنیاوی اور اخروی امور میں سرگرم رہنے کا سبب ہے۔ خوفزدہ اس کی پناہ میں آتا ہے، کمزور اس میں امن پاتا ہے، تاجر اس میں منافع کماتے ہیں اور حج و عمرہ کرنے والے اس کا رخ کرتے ہیں۔
ابن قیم رحمہ اللہ نے کہا: یقیناً لوگوں کا قائم رہنا اس بات سے مربوط ہے کہ ان کے درمیان ان کے نبی کے آثار اور احکام قائم رہیں، اور آثار اور احکام جس قدر ان کے درمیان ظاہر اور قائم رہیں گے اسی قدر ان کے مفادات پورے ہوں گے اور ان سے طرح طرح کی بلا و برائی دور ہو گی۔ اور جب یہ آثار اور احکام معطل ہوں گے، ان سے بے رخی برتی جائے گی، ان کے علاوہ دوسری باتوں کو فیصل بنایا اور اپنایا جائے گا، اس وقت ان کی ہلاکت ہو گی، ان کی پریشانی بڑھے گی اور ان پر بلا و مصیبت نازل ہو گی۔
بھائیو! حرمت والے مہینوں کے سلسلے میں جو باتیں قابلِ ذکر ہیں ان میں سے یہ ہے کہ عرب زمانہ جاہلیت میں ان مہینوں کی تعظیم کرتے تھے، ان میں وہ خون کا مطالبہ نہیں کرتے تھے، ان میں نہ دشمنوں سے لڑائی کرتے نہ کسی حرمت کی پامالی کرتے، نہ کوئی کسی پر زیادتی کر سکتا تھا، یہاں تک کہ وہ اگر اپنے باپ کے قاتل کو بھی پا لیتا تو بھی اسے قتل نہیں کرتا۔
اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے عظیم موسم اور فضیلت بھرے دنوں کو مہیا کیا تاکہ وہ اطاعت گزاروں کے لیے جائے غنیمت اور منافست کرنے والوں کے لیے باہمی منافست کا میدان بنے۔
ابن رجب رحمہ اللہ نے کہا: ان فضیلت بھرے موسموں میں سے ہر موسم میں اللہ کی اطاعت کے کاموں میں سے کوئی نہ کوئی کام ہے جس سے اللہ کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے، اور اللہ کی لطیف رحمتوں میں سے کوئی نہ کوئی رحمت ہوتی ہے جس سے وہ اس بندے کو نوازتا ہے جس پر وہ اپنی رحمت اور احسان نچھاور کرتا ہے۔ سعادت مند وہ ہے جو ان مہینوں، دنوں اور گھڑیوں کو غنیمت جانے اور ان میں اطاعت کے اعمال انجام دے کر اپنے مولیٰ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرے۔ امید ہے کہ رحمت کے ان جھونکوں میں سے کسی جھونکے سے سرفراز ہو جائے اور اس کی بدولت وہ ایسی سعادت حاصل کر لے جس کی وجہ سے وہ جہنم اور اس کی لپٹوں سے نجات پا جائے۔
اس بنا پر اللہ کے بندو! ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہم ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کے قریب ہیں جن کی قسم اللہ نے اپنی کتاب میں کھائی ہے،
چنانچہ اس نے فرمایا:
وَالْفَجْرِ٘ وَلَيَالٍ عَشْرٍ3
فجر کی قسم اور دس راتوں کی قسم۔
یہ دس دن مقررہ مہینوں یعنی حج کے مہینوں کے آخری دن ہیں ۔
جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ4
حج کے مہینے مقرر ہیں
اور وہ شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں۔ یہ دس دن جمہور علماء کے بقول وہ مقرر و معلوم دن ہیں جن میں اللہ نے چوپایوں کی شکل میں اپنے عطا کردہ رزق پر اپنے ذکر کو مشروع کیا ہے،
چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا:
وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ٘ لِّيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۖ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ5
اور لوگوں میں حج کی منادی کر دیں، لوگ تیرے پاس پا پیادہ بھی آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی اور دور دراز کی تمام راہوں سے آئیں گے، اپنے فائدے حاصل کرنے کو آ جائیں اور ان مقررہ دنوں میں ان پالتو چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں۔
یہ دس دن جیسا کہ بیشتر مفسرین کا کہنا ہے کہ وہ دس دن ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے لیے پورا فرمایا،
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَوَاعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَاثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ۚ6
ہم نے موسیٰ کو تیس شب و روز کے لیے کوہِ سینا پر طلب کیا اور بعد میں دس دن کا اور اضافہ کر دیا، اس طرح اس کے رب کی مقررہ کردہ مدت پورے چالیس دن ہو گئی۔
ان دس دنوں کے اندر عرفہ کا دن اور عید کا دن ہے، یہ دس دن قدر و منزلت کے اعتبار سے بلند ترین اور ذکر کے لحاظ سے عظیم ترین دنوں میں سے ہیں، اور ہم ان کے حق میں کیا کہہ سکتے ہیں اور کون سا وصف ان کی حقیقتِ امر کو بیان کر سکتا ہے؟
مگر بیان کے لیے وہ وصف کافی ہے جونبیﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا:
مَا مِنْ أَيَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ، وَلَا أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَمَلِ فِيهِنَّ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ ؛ فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنَ التَّهْلِيلِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّحْمِيدِ7
اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی دن ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والے نہیں، اور نہ ہی ان دنوں میں کیے جانے والے اعمال اللہ کو زیادہ محبوب ہیں۔ لہٰذا ان دنوں میں کثرت سے لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر اور الحمدللہ کہا کرو۔
آپ ﷺ اور فرماتے ہیں:
مَا الْعَمَلُ فِي أَيَّامٍ أَفْضَلَ مِنْهَا فِي هَذِهِ قَالُوا وَلَا الْجِهَادُ قَالَ وَلَا الْجِهَادُ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ يُخَاطِرُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ8
کوئی دن ایسا نہیں جس میں نیک عمل اللہ کے نزدیک ان دنوں سے زیادہ محبوب ہو”۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا: “اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلا پھر وہ اس میں سے کچھ بھی لے کر واپس نہ آئے۔
ان دس دنوں میں نیک عمل اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پاکیزہ اور سب سے زیادہ اجر والا ہے۔ ان سے بے رغبتی صرف محروم اور فریب خوردہ ہی ہو گا۔ یہ دن اس پر گزرتے ہیں اور اس کے حق سے نادان رہنے کی وجہ سے وہ ان کی قدر نہیں کرتا، لیکن توفیق یافتہ مومن نے ان کی قدر کو پہچانا اور ان کی شان کی تعظیم کی کیونکہ یہ ربانی موسم ہے جس کا وہ ہر سال شوق اور بے تابی سے انتظار کرتا ہے۔ جب اللہ کے احسان سے وہ اسے پا لیتا ہے تو وہ اس میں بے تاب کی طرح ٹوٹ پڑتا ہے اور اس میں اس کی ایک شان ہوتی ہے۔
یہ ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما ہیں، دونوں ان دس دنوں میں تکبیر کہتے ہوئے بازار کی طرف نکلتے اور لوگ ان کی تکبیر سے تکبیر کہتے۔
اور سعید ابن جبیر رحمہ اللہ جب یہ دس دن آ جاتے تو اتنی شدید محنت کرتے کہ لگتا کہ اس سے زیادہ محنت نہیں ہو سکتی۔
اور سعید الجریری رحمہ اللہ ان دس دنوں میں حدیث بیان کرنا چھوڑ دیتے اور کہتے یہ ذکر و اذکار میں مشغولیت کے دن ہیں اور لوگ اپنی اپنی حاجتوں میں ہیں۔ یہ گنے چنے دن ہیں مگر یہ ازل سے دنیا کے سب سے بہتر دن ہیں۔
مولیٰ تعالیٰ ان میں اپنے محبوبوں کی تکریم کرتا ہے، اس لیے تم ان میں اللہ کو اچھا عمل دکھلاؤ۔
بھائیو! یہ مبارک دس دن ان پاک ترین وقتوں میں سے ہیں جن کے منٹوں اور گھڑیوں کو کام میں لانا چاہیے، ان زرخیز ترین موسموں میں سے ہیں جن کے جھونکوں کے درپے ہونا چاہیے، اور ان شیریں ترین چشموں میں سے ہیں جن کی نوازشوں سے دامن کو ضرور بھرنا چاہیے۔
ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا: ذوالحجہ کے دس دنوں کے امتیاز کا ظاہری سبب یہ ہے کہ ان میں امہاتِ عبادت جمع ہو جاتی ہیں جیسے نماز، روزہ، صدقہ اور حج، اور یہ ان کے علاوہ دوسرے دنوں میں میسر نہیں ہوتا۔
ابن رجب رحمہ اللہ نے کہا: اللہ نے ان دس دنوں کے موسم کو مسافرین اور مقیمین کے درمیان مشترک کر دیا ہے، چنانچہ جو کسی سال حج کرنے سے قاصر ہو وہ ان دس دنوں میں کسی ایسے عمل پر قادر ہو گا جسے وہ اپنے گھر میں انجام دے گا، وہ عمل اس جہاد سے افضل ہو گا جو حج سے بھی افضل ہے۔
لہذا اللہ آپ کی نگہبانی کرے، ہم ان دنوں کو نوافل اور اطاعتوں میں لگائیں، ان میں حسبِ استطاعت نیک عمل کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کریں اور ان میں ہمارا شعار اور نیکی و احسان کے لیے ہمارا محرکِ کرم و احسان والے اللہ کا یہ فرمان ہو:
وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ9
اور تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے۔
جیسے صلہ رحمی، یتیموں کی غم خواری اور کھانا کھلانے پر ابھارنا، اور ان میں ہم بکثرت تہلیل، تحمید، تسبیح و تکبیر اور دیگر ذکر و دعا، تلاوتِ قرآن، روزہ اور قیامِ لیل کریں، اور وہ کام کریں جس میں ہمارے لیے بھلائی اور دوسروں کے لیے نفع ہو جیسے صلہ رحمی، صدقہ، نصیحت، رہنمائی، تعلیم، بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۚ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا10
تم نیکیوں کی طرف دوڑو، جہاں کہیں بھی تم ہو گے اللہ تم سب کو لے آئے گا۔
میں نے وہ بات کہی جو آپ نے سنی اور میں اللہ سے اپنے لیے اور آپ کے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے کعبہ کو انسانوں کے لیے جائے قرار اور امن و امان کا مرکز بنایا اور اپنے بندوں پر اپنی سخاوت سے فضل و انعام کیا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں جو کعبہ کا طواف کرنے والوں اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے والوں میں سب سے بہتر ہیں اور اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہنے اور اس سے دعا کرنے والوں میں سب سے زیادہ متقی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے آل و اصحاب پر اور ان تمام لوگوں پر جو ان کے راستے پر چلے اور جنہوں نے ان کی پیروی کی درود نازل کرے۔
امّا بعد!
اللہ کے بندو! قابلِ غور ہے کہ فضیلت والے دس دن سال کے آخری حصے میں آتے ہیں، گویا کوتاہی اور تقصیر کرنے والوں کے لیے تلافی اور تدارک کا موقع ہے تاکہ بندہ ما فات کا تدارک کر لے اور مستقبل کی تیاری کر لے اس حال میں کہ وہ اپنے رب کی عظمت کو مستحضر رکھے اور اس کے عفو و رضا کی امید باندھے۔ کیونکہ عمریں تیزی سے سمٹ رہی ہیں اور وقت ایک کے بعد ایک گزر رہے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ عمر گھٹتی جاتی ہے، موت قریب ہوتی ہے، جسم کمزور پڑتا ہے، صحت گھٹتی جاتی ہے، رکاوٹیں بڑھتی چلی جاتی ہیں اور غنیمت جاننے کے مواقع کم ہوتے جاتے ہیں۔
خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب تم میں سے کسی کے لیے بھلائی کا دروازہ کھول دیا جائے تو اسے چاہیے کہ اس کی طرف جلدی کرے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ یہ دروازہ کب اس پر بند کر دیا جائے گا۔
لہذا آؤ ہم نفع بخش چیز کے حریص بنیں اور اپنے رب کی طرف سچی توبہ کے ساتھ متوجہ ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہم سب پر توبہ کو لازم قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ11
اور اے ایمان والو! تم سب کے سب اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللَّهِ فَإِنِّي أَتُوبُ فِي الْيَوْمِ إِلَيْهِ مِائَةَ مَرَّةٍ
اے لوگو! اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو، میں خود ایک دن میں اس کی بارگاہ میں سو بار توبہ کرتا ہوں۔(صحیح مسلم:6859)
اور ہم تو توبہ کے کہیں زیادہ محتاج ہیں، اور بندے کے لیے سب سے بہتر دن وہی ہوتا ہے جس دن وہ اپنے رب کے حضور سچی توبہ کرے۔
نبی کریم ﷺ نے کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا جب اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی:
أَبْشِرْ بِخَيْرِ يَوْمٍ مَرَّ عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ12
خوش ہو جاؤ اس دن سے جو تمہاری پیدائش سے آج تک سب سے بہتر دن ہے۔
کیا ہی بہتر ہے وہ توبہ کرنے والا جو اللہ کے نزدیک سب سے افضل ایام میں توبہ کرتا ہے، اور جو اپنی توبہ میں سچا ہو اس کے درجات بلند ہو جاتے ہیں اور اللہ اس کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ انسان کو شرفِ تقویٰ اختیار کر کے اور خواہشات سے دور رہ کر یہ حاصل ہوتا ہے۔
ابراہیم بن ادہم نے کہا: سخت ترین جہاد خواہشات سے جہاد ہے، جو بندہ اپنے نفس کو اس کی خواہشات سے روک لے وہ دنیا اور اس کی بلاؤں سے آرام پا جائے گا اور اس کی اذیتوں سے حفاظت اور عافیت میں ہو گا۔
سخت ترین جہاد خواہشات سے جہاد ہے اور تقویٰ ہی آدم کو، آدمی کو معزز بناتا ہے اور فضل والوں کے اخلاق معروف ہیں کہ وہ احسان کرتے ہیں اور تکلیف نہیں پہنچاتے۔
اور حقیقت میں خسارے میں وہی ہے جو ان فضیلت بھرے دنوں میں کوتاہی کرے اور انہیں غنیمت نہ جانے اور نیکیوں کو ضائع کر دے اور ان میں سبقت نہ لے جائے، اور حقیقت میں محروم وہ ہے جو اپنے سب سے قیمتی اوقات کو لہو و لعب، باطل اور غفلت میں ضائع کر دے اور کل کے دن ندامت اور حسرت پائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ13
اور انہیں حسرت کے دن سے ڈراؤ جب فیصلہ کر دیا جائے گا جبکہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہوں گے اور ایمان والے نہیں ہوں گے۔
اللہ کے بندو! اپنے نبی پر زیادہ سے زیادہ درود و سلام بھیجو اپنے رب کے اس حکم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے۔
اللہ کا فرمان ہے:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا14
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے اس نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی پڑھتے رہا کرو۔
اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر درود و سلام اور برکت نازل فرما اور ان کے تمام آل و اصحاب پر۔
خطبہ جمعہ، مسجد الحرام
موضوع: عشرہ ذی الحجہ کے فضائل
خطیب: فضیلۃ الشیخ فیصل غزاوی حفظہ اللہ
تاریخ: 28 ذوالقعدہ 1447ھ / 15 مئی 2026ء
_________________________________________________________________
