آخری فیصلہ: مباہلہ یا دعا ؟

تحریر : حافظ شاہد رفیق

جب مرزا غلام احمد قادیانی نے خطۂ برِصغیر میں اپنے جھوٹے دعوؤں سے لوگوں کو گمراہ کرنا شروع کیا اور اس کا فتنہ ہر سو پھیلنے لگا تو اللہ تعالیٰ نے “ہر فرعونے را موسی” کے مصداق شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کو مرزائی نبوت اور اس کی فریب کاریوں کا پردہ چاک کرنے کے لیے کھڑا کیا جنہوں نے خم ٹھونک کر ہر میدان میں بڑی پامردی سے مرزا قادیانی اور اس کے اعوان وانصار کا مقابلہ کیا۔

بالآخر مرزا صاحب نے مولانا امرتسری مرحوم سے تنگ آ کر 15 اپریل 1907ء کو ایک اشتہار شائع کیا جس میں رب کے حضور ‘دعا’ کی کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مر جائے۔

نتیجتاً مرزا قادیانی 26 مئی 1908ء کو ہلاک ہو گیا اور دنیا سے جاتے جاتے بھی اپنی موت سے اپنے کاذب ہونے پر مہرِ تصدیق ثبت کر گیا۔ جبکہ مولانا ثناء اللہ صاحب اس کے چالیس سال بعد 15 مارچ 1948ء کو سرگودھا میں فوت ہوئے۔

مرزا قادیانی کی یہ دعا “آخری فیصلہ” کے عنوان سے اس دور کے موافق ومخالف تمام علمی وصحافتی حلقوں میں خوب نشر ہوئی اور تمام باخبر لوگ اس دعا کے نتائج کے منتظر تھے۔

اندریں حالات جب مرزا قادیانی مولانا ثناء اللہ رحمہ اللہ کی زندگی ہی میں وفات پا گیا تو اب کسی شخص کے لیے اس بات میں شک کرنے کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہی تھی کہ مرزا قادیانی اپنے دعوائے پیغمبری میں جھوٹا اور دجال شخص ہے۔

لیکن مرزائی امّت نے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے بڑی چالبازی سے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ یہ کوئی دعا نہیں تھی، بلکہ مرزا صاحب کی طرف سے مولانا امرتسری مرحوم کو دعوتِ مباہلہ دی گئی تھی کہ آؤ مل کر مباہلہ کریں اور ایک دوسرے پر لعنت وہلاکت کی بد دعا کریں، لیکن مولانا ثناءاللہ نے یہ دعوت قبول ہی نہ کی اور یوں یہ مباہلہ منعقد ہی نہ ہوا تھا، اس لیے مرزا صاحب کی موت کا ان کے جھوٹا ہونے اور مولانا امرتسری مرحوم کی صداقت سے کوئی تعلق نہیں۔

قادیانیوں کی طرف سے یہ پروپیگنڈا اس زور اور تسلسل کے ساتھ کیا گیا کہ ہمارے اچھے خاصے لوگ بھی اسے ‘مباہلہ مباہلہ’ کہنے اور لکھنے لگے  اور یوں وہ نادانستہ طور پر اس مرزائی چابک دستی کا شکار ہو کر اپنی واضح فتح کو شکست میں بدلنے کا سامان کرنے لگے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس قضیے میں دعا اور مباہلے کا فرق اور اس کے دور رس اثرات کو پہچاننے کی کوشش کریں اور یاد رکھیں کہ یہ مرزا قادیانی کی دعا تھی جس کے نتیجے میں وہ کاذب ہلاک ہوا اور دنیا کو اپنی تکذیب کا سامان دے کر واصل بہ جہنم ہو گیا۔

ذیل میں ہم اس امر کے چند مختصر دلائل بھی ہدیہ قارئین کیے دیتے ہیں تاکہ علمی طور پر بھی یہ موقف مدلل ہو کر ہمارے سامنے آ سکے:

  • مرزا قادیانی نے خود اپنے اس اشتہار بنام “مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ” میں دو تین مرتبہ صراحتاً یہ لکھا ہے کہ یہ دعا ہے جس کے ذریعے میں اللہ سے فیصلہ چاہتا ہوں کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔
  • جب مولانا امرتسری مرحوم کی زندگی ہی میں مرزائیوں نے اس بات سے انکار کیا اور شور مچایا کہ یہ دعا نہیں تھی  تو لدھیانہ شہر میں اپریل 1912ء میں مولانا ثناء اللہ صاحب اور مرزائیوں کے درمیان ایک سکھ کی ثالثی میں مناظرہ طے پایا جس میں جیتنے والے کو تین صد روپے انعام دینے کا اعلان کیا گیا۔

چنانچہ وقت مقرر پر مناظرہ ہوا جس میں قادیانیوں کو واضح شکست ہوئی اور مولانا امرتسری مرحوم نے تین سو روپیہ انعام حاصل کیا۔ ( اس مناظرے کی تفصیل مولانا ثناء اللہ صاحب کی کتاب ‘فاتح قادیان’ میں ملاحظہ کیجیے)

  • مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے اپنی زندگی میں کئی مرتبہ اس قضیے کو دعا سے تعبیر کیا اور اس کی تائید میں خود مرزائی لٹریچر سے متعدد دلائل پیش کیے۔ ایسے ہی ایک ثنائی شذرے کی تصویر ذیل میں پیشِ خدمت ہے۔

جب مرزائیوں کی معروف کتاب “احمدیہ پاکٹ بک” میں اسی دعوے کو دہرایا گیا تو اس کے جواب میں مولانا عبد اللہ صاحب معمار نے اپنی کتاب “محمدیہ پاکٹ بک” میں ایک مستقل باب کے تحت اس جھوٹ کی قلعی کھولی اور اس سلسلے میں وارد کیے جانے والے تمام اشکالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ( دیکھیں: محمدیہ پاکٹ بک۔ صفحہ: 613 تا 637۔ جدید ایڈیشن(

بنا بریں تمام مسلمانوں کو اس قادیانی پروپیگنڈے سے خبردار رہنا چاہیے اور کسی طور بھی اس فیصلے کو مباہلے سے تعبیر نہیں کرنا چاہیے۔

یاد رکھیں یہ مرزا قادیانی کی “اکلوتی دعا” تھی جو قبول ہوئی اور ایک جھوٹا شخص سچے مسلمان کی زندگی ہی میں ہلاک ہو گیا۔ والحمد للہ رب العالمین

مصنف/ مقرر کے بارے میں

الشیخ حافظ محمد یونس اثری حفظہ اللہ