بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، والصلاة والسلام على أشرف المرسلين سيدنا محمد وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين، أما بعد
آداب اور اخلاق کسے کہتے ہیں؟ آداب اور اخلاق کی کیا اہمیت ہے؟ آداب اور اخلاق کے کیا فوائد ہیں؟
یہ صرف دینِ اسلام کی خوبی ہے کہ اس نے انسان کی زندگی کے ہر گوشے کو اپنا موضوع بنایا اور ہر موضوع پر تفصیلی رہنمائی فراہم کی ہے۔
ایک موقع پر ایک یہودی نے جناب سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کو اعتراض کرتے ہوئے کہا:
قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ ۔ فَقَالَ: أَجَلْ «لَقَدْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِغَائِطٍ، أَوْ بَوْلٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْم1
ترجمہ: تمہارے نبی نے تم لوگوں کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے یہاں تک کہ قضائے حاجت (کےطریقے) کی بھی۔ انہوں نے جواب دیا: ہاں ( ہمیں سب کچھ سکھایا ہے ، ) آپ ﷺ نے ہمیں منع فرمایا ہے ہم پاخانے یا پیشاب کے وقت قبلے کی طرف رخ کریں یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں یا استنجے میں تین پتھروں سے کم استعمال کریں یا ہم گوبر یا ہڈی سے استنجا کریں
دینِ اسلام نے ہمیں ہر چیز سکھائی ہے چاہے وہ چھوٹی سے چھوٹی چیز ہو یا بڑی سے بڑی بات ہو یہاں تک کہ وہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ واش روم کیسے جانا ہے اور یہ بھی سکھاتا ہے کہ مملکت کیسے چلانی ہے (ملک کو کیسے چلانا ہے )، تو دین اسلام اللہ تعالی کی طرف سے ایک کامل دین ہے اور دین اسلام کے ابواب میں سے ایک اہم باب اخلاق اور آداب” کا بھی ہے۔”
“اخلاق اور آداب” یہ ایک بہت جامع لفظ ہے اور یہ لفظ ہم اردو میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ وہ کون سی چیزیں ہیں جو اخلاق اور آداب میں آتی ہیں اس حوالے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ انسان کے تعلقات دو طرح کے ہیں۔
ایک انسان کا تعلق ہے خالق کے ساتھ اور دوسرا تعلق مخلوق کے ساتھ ہے ۔
1۔پہلا تعلق جو خالق کے ساتھ ہے اس کی بنیاد عبادت پر ہے یا اس کو مضبوط کرنے کے لیے عبادت کو بہتر بنانا ہوتا ہے ۔
2 ۔دوسرا تعلق جو مخلوق کا مخلوق کے ساتھ ہے اس کی بنیاد اخلاقیات پر ہوتی ہے ۔
ہم لفظ “مخلوق” کا استعمال کر رہے ہیں کیونکہ مخلوق میں ہر طرح کی مخلوق آتی ہے، چاہے وہ جاندار ہو، یا وہ بے جان ہو، وہ انسان ہو ،یا جنات ہوں ،یا وہ فرشتے ہوں ،بڑا ہو یا چھوٹا ہو ،مرد ہو یا عورت ہو ،ہر قسم کے تعلق کی بنیاد اخلاقیات پر ہے، اس سے آپ کو اخلاقیات کی وسعت کا اندازہ ہوگا کہ اخلاقیات کتنا پھیلا ہوا باب ہے۔
اخلاقیات میں دینِ اسلام نے یہ بھی سکھایا ہے کہ ایسا کوئی کام نہیں کرنا جس سے فرشتوں کو تکلیف ہو جیسا کہ مسجد میں پیاز اور لہسن کھا کر آنے سے منع کیا اور فرمایا کہ:
’’مَنْ أَكَلَ الْبَصَلَ وَالثُّومَ وَالْكُرَّاثَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ2
ترجمہ: جس نے پیاز ، لہسن اور گندنا کھایا ۔ تو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے (بھی) ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں جن سے آدم کے بیٹے اذیت محسوس کرتےہیں
اسی طرح جنات کے بارے میں بھی دینِ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے جیسا کہ آپﷺ نے ہڈی اور گوبر سے استنجا کرنے سے منع کیا کہ یہ جنات کا کھانا ہے۔3
تو جنات کو بھی تکلیف نہیں دینی، اسی طرح بڑوں اور چھوٹوں کا احترام ، جاندار اور بے جان چیزیں ، ان تمام امور میں انسان کو اخلاقیات کو اپنانا ہوتا ہے۔
جناب عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ اخلاق کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
بَسْط الوَجْه وبَذْل المعروف وكَفّ الأذى
ترجمہ: انسان مسکرا کر ملے ، فائدہ پہنچائے اور تکلیف سے دور رہے
اس تعریف سے ہم اخلاق کے دو بنیادی مرتبے اخذ کر سکتے ہیں، ایک اعلی مرتبہ ہے اور ایک ادنی مرتبہ ہے۔
اعلی مرتبہ یہ ہے “بذل المعروف” آپ کسی کو فائدہ (نفع )پہنچائیں یا کوئی آپ سے مستفید ہو۔ یہ اخلاق کا اعلی درجہ ہے۔
اور ادنی درجہ ہے :’’کف الاذی‘‘ کسی کو تکلیف نہ دے۔ یعنی اگر آپ کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے تو کم از کم اس کو تکلیف نہ دیں ۔
دینِ اسلام کے علاوہ بھی بہت سے دین اخلاقیات کی تعلیم دیتے ہیں لیکن دینِ اسلام کی جو اخلاقیات کی تعلیم ہے اس کی خوبی یہ ہے کہ وہ صرف ظاہری اخلاق کی تعلیم نہیں دیتا یعنی صرف آپ کسی کو مسکرا کر مل رہے ہیں یا اچھے طریقے سے مل رہے ہیں یا صرف نرم لہجے میں گفتگو کر رہے ہیں صرف یہ نہیں، بلکہ اسلام اخلاقیات کا آغاز انسان کے دل سے کرتا ہے کہ دل کے اندر بھی مخلوق کا مخلوق کے ساتھ جو رشتہ ہے وہ بھی پاکیزہ (صاف) ہونا چاہیے جیسے دینِ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ انسان کے اندر ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی ہونی چاہیے۔
خیر خواہی: یہ دل کا معاملہ ہے یعنی آپ اپنے دل میں کسی بھی شخص کے لیے برا (منفی ) نہ سوچیں اور اسی طرح ہمدردی رکھنا ، محبت کرنا اور برے اخلاق سے بچنا جو کہ دل سے تعلق ہے جیسے حسد سے بچنا، کینہ اور بغض سے بچنا، یہ سب مخلوق کے ساتھ تعامل ہے۔ یعنی مخلوق کا مخلوق کے ساتھ جو دلی رشتہ ہے وہ بھی صاف ہونا چاہیے۔ یہ نہیں کہ انسان ظاہری طور پر تو اچھے اخلاق سے مل رہا ہے اور دل کے اندر نفرتیں اور کدورت ہے اگر ایسا ہے تو حقیقت میں آپ دینِ اسلام کی تعلیم کو نہیں سمجھے۔
تو اخلاق کی دونوں قسمیں واضح ہیں۔ ظاہری بھی اور باطنی بھی۔
ظاہری اخلاق: کسی کی مدد کر نا ، کسی سے اچھے طریقے سے ملنا۔
باطنی اخلاق: آپ کے دل میں کسی کے لیے مثبت سوچ (جذبات) ہے۔ منفی سوچ (جذبات)نہیں ہے۔ یہ بھی اخلاق کا دائرہ کار ہے۔
اخلاقیات کے باب میں اس موضوع پر بہت سی احادیث موجود ہیں، چند احادیث میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں:۔
نبی ﷺ نے نیکی کی تعریف کرتے ہوے فرمایا:
البِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ4
ترجمہ: نیکی اچھے اخلاق (کا نام ) ہے
اسی طرح نبی ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا5
ترجمہ: تم میں سب سے بہترین وہ ہے کہ جس کا اخلاق اچھا ہے
اسی طرح نبی ﷺ نے فرمایا :
إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ6
ترجمہ: ایک مومن بندہ اپنے اچھے اخلاق سے اس بندے کے درجے کو پا لیتا ہے کہ جو راتوں کو قیام کرنے والا اور دن کو روزہ رکھنے والا ہے
یعنی عبادت گزار کے درجے کو یہ بندہ پا لے گا کہ جو اچھے اخلاق کا حامل ہے۔
اسی طرح اس کی اہمیت کا اندازہ ایک اور حدیث سے آپ لگا سکتے ہیں کہ نبی ﷺ نے رشتوں کہ متعلق فرمایا (چاہے وہ لڑکی کا رشتہ ہو یا لڑکے کا رشتہ ہو)کہ :
إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَأَنْكِحُوه7
ترجمہ: تمہارے پاس جب کوئی ایسا شخص (نکاح کا پیغام لے کر) آئے ، جس کی دین داری اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس سے نکاح کردو
یہاں پہ دونوں چیزیں ذکر ہیں۔ “دین داری” سے مرادعبادت گزاری ، جو فرائض اور واجبات جو اس پر فرض ہیں وہ بھی درست ہوں اور اخلاق بھی درست ہو اگرچہ اخلاقیات دین کا ہی حصہ ہے۔ یعنی انسان اگر کسی سے اچھے طریقے سے پیش آتا ہے تو یہ بھی عبادت ہے۔ یعنی اللہ تعالی کو یہ بات پسند ہے کہ انسان دوسرے انسان کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئے لیکن اس کو الگ سے ذکر کیا ہے یہاں پہ اس حدیث میں دین داری کو اور اخلاق کو الگ الگ کیا ، کیونکہ بعض لوگ دینداری یا عبادت گزاری میں اچھے ہوتے ہیں لیکن اخلاقیات کے حوالے سے مزاج میں کچھ سختی ہوتی ہے ۔
اخلاق کے فوائد میں سے دو فائدے :
1۔ایک فائدہ یہ ہے کہ اخلاقیات کو اپنانے سے محبت پیدا ہوتی ہے اور محبت کا پیدا ہونا دین اسلام کے مقاصد میں سے ایک مقصد ہے۔ دین اسلام یہ چاہتا ہے کہ ایک ایسا معاشرہ قائم ہو جس میں رہنے والے لوگ آپس میں محبت سے رہیں ۔ یعنی مسلمان آپس میں محبت کے ساتھ رہیں یہ دینِ اسلام کا اہم ترین مقصد ہے اور ہر وہ چیز جس سے اس محبت یا اخوت میں کمی واقع ہو اس سے اسلام نے روکا ہے۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے
لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا8
ترجمہ: تم لوگ اس وقت تک جنت میں نہیں جا سکتے جب تک مومن نہ ہو اور اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو
تو آپس میں محبت کرنا یہ دینِ اسلام کا اہم مقصد ہے اور جنت میں جانے کا سبب ہے ۔
2۔دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اخلاق دعوتِ دین دینے میں بڑا مددگار ہے۔ انسان کا جو اچھا اخلاق ہے وہ دوسرے کو دین کی طرف راغب کرتا ہے، اس کی طرف بلاتا ہے اور نبی ﷺ کی سیرت ہمارے سامنے ہے کہ آپ ﷺ نے نبوت سے پہلے جو اخلاق پیش کیے اسی کی بدولت لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے ۔
اسی پر ہم اکتفا کرتے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ جو کچھ بیان کیا اللہ تعالی سمجھنے کی اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
اقول قولي هذا واستغفر الله لي ولكم ، وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
___________________________________________________________________________________________________________________________