خطبہ اول:
الحمد للہ، تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام مخلوقات کا خالق اور ان کا شمار رکھنے والا ہے اور جو افلاک کو چلانے والا ہے وہ اپنی بلندی اور غلبے میں بابرکت ہے اور اپنی طاقت و قوت میں یکتا ہے۔ میں اس اللہ سبحانہ کی بے پایاں رحمت پر اس کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کی بھرپور نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ ایک ہے اس کے اسماء، صفات، ربوبیت اور الوہیت میں اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
اللہ نے آپ کو اپنی رسالت سے سرفراز فرمایا اور اپنی نبوت کے لیے منتخب کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کے اصحاب، تابعین اور ان لوگوں پر جو بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کریں، درود و سلام اور برکتیں نازل فرمائے اور بکثرت سلام نازل کرے جس کی کوئی انتہا نہ ہو۔
اما بعد!
اے لوگو میں تمہیں اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں پس اللہ سے ڈرو اللہ تم پر رحم فرمائے اور اللہ کے لیے مخلص رہو کامیاب ہو جاؤ گے۔ اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لازم پکڑو ہدایت پا جاؤ گے اور نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو نفع حاصل کرو گے۔ جو شخص کسی نعمت میں ہو اور شکر ادا نہ کرے وہ اس نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اور اسے احساس تک نہیں ہوتا۔ موت تم سب کو آلے گی، قبریں تمہیں سمیٹ لیں گی، قیامت تم سب کو جمع کرے گی اور اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔
اللہ کا فرمان ہے:
فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۚ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا1
پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو، تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
اے مسلمانو! زندگی کے معاملات اور زندوں کے حالات میں غور و فکر کرنے والا شخص ایسے لوگوں کو دیکھتا ہے جنہیں خوشگوار زندگی اور خیر و بھلائی کی فراوانی نصیب ہوئی ہے وہ خود بھی معزز ہیں اور لوگوں میں بھی قابل احترام ہیں ان کے دل پاکیزہ، سینے کینے سے صاف اور چہرے شگفتہ ہیں پھر یہی غور و فکر کرنے والا شخص دوبارہ دیکھتا ہے تو اسے دوسرے ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو طرح طرح کی تھکن اور بدبختی میں زندگی گزار رہے ہیں ان کے سینوں سے بیزاری اور شکوے کی مختلف آوازیں نکلتی ہیں۔
ایسی بیزاری اور بدبختی جو امن و اطمینان کو تہہ و بالا کر دیتی ہے راحت و مسرت کو چھین لیتی ہے اور جس کے ساتھ رضامندی اور سکون مٹتے چلے جاتے ہیں۔ یہ ایسے نفوس ہیں جو اپنے کینوں، عداوتوں، بدحالی اور خود غرضی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ آخر وہ کیا ہے جس نے لوگوں کے ان دونوں گروہوں کے درمیان فرق پیدا کر دیا؟ وہ کیا ہے جس نے ان دونوں جماعتوں کو ایک دوسرے سے اتنا دور کر دیا؟ وہ ایمان اور ایمان کی حلاوت ہے۔
ایمان کی حلاوت یہ اندرونی حلاوت ہے جو راضی و مطمئن نفس میں ہوتی ہے اور دل کا ایسا سکون ہے جو لکڑی میں پانی کے سرایت کرنے اور رگوں میں خون کے دوڑنے کی طرح جاری و ساری رہتا ہے۔ نہ بے خوابی نہ بے چینی نہ دل کی تنگی اور نہ گھٹن بلکہ کشادگی، رحمت، رضامندی اور نعمت۔
اللہ کا فرمان ہے:
ذَٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ عَلِيمًا2
یہ اللہ کا فضل ہے اور کافی ہے اللہ جاننے والا ہے۔
اور اللہ نے فرمان ہے:
ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ3
یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
اللہ پر ایمان نفس کا سکون، دل کی ہدایت، راہ حق پر چلنے والوں کا مینار، مایوس لوگوں کی امید، خوف زدہ لوگوں کا امن، مجاہدین کی نصرت، اہل تقویٰ کی بشارت اور محروم لوگوں کا عطیہ ہے۔ ایمان امید کا باپ، شجاعت کا بھائی اور امید و آرزو کا ساتھی ہے۔ بے شک یہ نفس کا اعتماد، امت کا وقار اور قوموں کی روح ہے۔
اے مسلمانو! ایمان کی حلاوت تک پہنچنے اور سعادت کی لذت پانے کا پہلا راستہ یہ ہے کہ اللہ عزوجل کے رب ہونے پر راضی رہا جائے۔ ایسا رب جو تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے پس وہ ہر جان کے اعمال کی نگرانی کرنے والا ہے دنیا و آخرت میں نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا، آسمانوں اور زمینوں کو قائم رکھنے والا، موت و حیات اور تمام کائنات کو پیدا کرنے والا، نعمتیں عطا کرنے والا، پریشان حال کی دعا قبول کرنے والا اور تکلیف دور کرنے والا ہے۔ اسی نے ہر چیز کو اس کی ساخت عطا کی پھر اسے راہ دکھائی، اسی نے انسان کو بنایا اور اس میں روح پھونکی اسے بھوک میں کھانا کھلایا بے لباسی میں لباس عطا کیا خوف سے امن بخشا گمراہی سے نکال کر ہدایت دی اور لاعلمی کے بعد علم عطا فرمایا۔
بھائیو! ایمان کی حلاوت کا دوسرا ذائقہ یہ ہے کہ اسلام کو دین مان کر اس پر راضی رہا جائے یہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ دین ہے جسے اس نے اپنے رسول پر اتارا اپنے بندوں کے لیے پسند فرمایا اور اس کے سوا کسی دوسرے دین کو قبول نہیں فرماتا۔ اللہ کے دین پر راضی ہونے کی اس عجیب و غریب مثال کو سنو۔
ایک مرتبہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ عاتکہ سے ناراض ہوئے تو ان سے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہیں ضرور اذیت دوں گا انہوں نے جواب دیا کیا آپ مجھے اسلام سے پھیر سکتے ہیں اس کے بعد کہ اللہ نے مجھے اس کی ہدایت عطا فرما دی ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں تو انہوں نے کہا پھر آپ مجھے کس چیز سے تکلیف پہنچا سکتے ہیں؟ اللہ اکبر وہ کتنی پر اعتماد مطمئن راضی اور پرسکون ہیں جب تک ان کا دین محفوظ ہے خواہ ان پر مصیبتوں کا سیلاب ہی کیوں نہ امڈ پڑے بلکہ اللہ کی راہ میں جان دے دینا بھی نہایت خوشگوار ہے خواہ اللہ کی راہ میں شہادت کے وقت انسان کسی بھی پہلو پر گرے۔ اسلام رضامندی اور روشنی کا سرچشمہ سعادت اور ہدایت کا منبع ہے۔
اے مسلمانو! ایمان کی حلاوت کا تیسرا ذائقہ یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول اور نبی مان کر راضی رہا جائے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خیر خواہ، امین، عطا کردہ رحمت اور بہترین نمونہ ہیں۔ اطاعت میں کوئی انسان آپ کا مد مقابل نہیں اور فیصلے میں کوئی آپ کا مخالف نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے پس آپ کے رب کی قسم یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں پھر آپ کے فیصلے سے اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے پوری طرح تسلیم کر لیں۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر راضی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ سے ہدایت لی جائے آپ کی اقتداء کی جائے اور آپ کی سنت سے روشنی حاصل کرتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے۔ جس نے ایمان کی حلاوت چکھ لی اس کی زندگی خوشگوار ہو گئی اور اس نے اپنی راہ پہچان لی۔ جس نے اپنی راہ پہچان لی وہ بصیرت کے ساتھ چل پڑا اور جو بصیرت کے ساتھ چلا اس نے رضامندی حاصل کر لی اور اپنی منزل مقصود تک پہنچ گیا۔
یہ ایمانی حلاوت زندگی میں اللہ تعالیٰ کی تقدیروں سے دل و جان کو معمور کر دیتی ہے جو کچھ تقدیر میں جاری ہوتا ہے اس پر اطمینان نصیب ہوتا ہے اور دل کے خیالات میں رضامندی سکونت اختیار کر لیتی ہے۔ چنانچہ مومن اپنی دنیاوی زندگی میں اطمینان، خوشحالی، مسرت اور رضامندی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے خواہ حالات کتنے ہی بدل جائیں اور زمانہ اسے کتنے ہی نشیب و فراز سے دوچار کرے۔ جو اس کے ہاتھ سے نکل جائے اس پر مایوس نہیں ہوتا اور جو کچھ اسے حاصل ہوتا ہے اس پر اتراتا نہیں۔ زندگی کے حالات اور اس کی آزمائشیں نہ تو اس کو بدمزہ کرتی ہیں نہ اس کے صبر کو متزلزل کرتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے اس کا ہر معاملہ خیر ہی خیر ہے۔ اگر اسے خوشحالی حاصل ہو تو وہ شکر ادا کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں ہے۔ پختہ ایمان کے ذریعے مومن خوف، بزدلی، بے قراری اور بیزاری سے آزاد ہو جاتا ہے۔
اللہ کا فرمان ہے :
قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ4
کہہ دیجیے ہمیں ہرگز کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے۔ وہی ہمارا کارساز ہے اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
نبیﷺ نے فرمایا:
للَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الجَدِّ مِنْكَ الجَدُّ»5
اے اللہ ! جو کچھ تونے دیا ہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو کچھ تو نے روک دیا اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی مالدار اور نصیبہ ور ( کوتیری بارگاہ میں ) اس کا مال نفع نہیں پہنچاسکتا ۔
اور ان باتوں کے بعد اے اللہ کے بندو مومن کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب اسے عطا کیا جاتا ہے تو وہ قبول کرتا ہے اور شکر ادا کرتا ہے۔ جب اسے محروم رکھا جاتا ہے تو وہ راضی رہتا اور صبر کرتا ہے۔
نبیﷺ نے فرمایا:
عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ6
مومن کا معاملہ عجیب ہے۔اس کا ہرمعاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے۔اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کومیسر نہیں۔اسے خوشی اور خوشحالی ملے توشکر کرتا ہے۔اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو(اللہ کی رضا کے لیے) صبر کر تا ہے ،یہ(ابھی) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے ۔”
جب اسے کسی کام کا حکم دیا جاتا ہے تو فوراً آگے بڑھتا اس پر عمل کرتا ہے۔ جب اسے کسی کام سے روکا جاتا ہے تو فوراً رکتا ہے اور باز آ جاتا ہے اور جب اس سے کوئی گناہ سرزد ہو جاتا ہے تو استغفار کرتا ہے۔
اللہ کا فرمان ہے:
أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ7
یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے نوازشیں ہیں اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔
اوراللہ تعالی نے فرمایا :
أُولَٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ8
یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے جن کی تائید اپنی روح سے کی ہے۔
اوراللہ تعالی نے فرمایا :
فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ9
پس جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا نہ بدبخت
اوراللہ تعالی نے فرمایا :
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً10
جو شخص بھی نیک عمل کرے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے یقیناً پاکیزہ زندگی عطا فرمائیں گے اور انہیں ان کے بہترین اعمال کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اپنی کتاب کے طریقے اور اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے نفع پہنچائے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے اور آپ سب کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں پس تم سب اس سے مغفرت طلب کرو اس لیے کہ وہ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس کے فضل سے ہدایت پانے والوں نے ہدایت پائی جس کے عدل سے گمراہ ہونے والے گمراہ ہوئے اور جس کے فیصلے کے سامنے تمام مخلوق سرنگوں ہے۔ میں اس اللہ سبحانہ کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر ادا کرتا ہوں وہ جب کبھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے اتنا فرما دینا کافی ہے کہ ہو جا وہ ہو جاتی ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہ اپنے کاموں کے لیے کسی کے آگے جواب دہ نہیں اور سب اس کے آگے جواب دہ ہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں جن پر انبیاء و رسل کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ آپ پر آپ کے آل و اصحاب پر جو سب قتل کیے جانے والے اور قدوہ ہیں ان لوگوں پر جو بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کریں درود و سلام اور برکتیں نازل فرمائے اور قیامت کے دن تک بکثرت سلام نازل فرماتا رہے۔
اما بعد:
اے مسلمانو! جس شخص کا ایمان کمزور ہو وہ آزمائش کے وقت واویلا کرنے لگتا ہے کیونکہ وہ آزمائش میں ڈالنے والے کو نہیں پہچانتا وہ سفر سے ڈرتا ہے کیونکہ اس کے پاس زاد راہ نہیں ہوتا اور راستہ بھٹک جاتا ہے کیونکہ اس کے ساتھ کوئی رہنما نہیں ہوتا۔ وحشت زدہ لوگوں کے لیے کیا ہی بڑا خسارہ ہے۔
اللہ کا فرمان ہے:
فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّهِ ۚ أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ11
پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کے ذکر سے اثر نہیں لیتے بلکہ سخت ہو گئے ہیں۔
جس شخص نے ایمان کھو دیا اس کا معاملہ تتر بتر ہو گیا اس کے ہار کے موتی بکھر گئے وہ بلا خوف کے جو چاہتا ہے کہتا اور کرتا ہے اور کسی محاسبے کے احساس کے بغیر چلتا رہتا ہے اس کی زندگی خود غرضی اور انانیت کے رنگ میں رنگی ہوتی ہے اسے نہ اپنے آپ پر اعتماد ہوتا ہے اور نہ لوگوں پر۔ اس کے ہاں بے رخی باہمی ہمدردی اور تفرقہ انتشار، تعاون کی جگہ لے لیتا ہے۔ ایمان اور ایمان کی حلاوت کے بغیر لوگ خونخوار درندے بن جاتے ہیں وہ اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کے بندھن توڑ دیتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ اپنے رشتے بھی، وہ اپنے نفس عمارہ کے پیچھے چل پڑتے ہیں اور جن و انس کے شیاطین انہیں اپنا شکار بنا لیتے ہیں۔
سنو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اللہ تم پر رحم فرمائے، اپنے رب پر ایمان رکھو اپنے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے دین کو مضبوطی سے تھام لو۔ ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول اور نبی ہونے پر راضی ہیں۔ اس کے بعد عطا کردہ رحمت اور بخشی ہوئی نعمت اپنے نبی اللہ کے رسول محمد پر درود و سلام بھیجو۔ تمہارے رب نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے۔
چنانچہ اللہ عزوجل نے جو خوب جاننے والا ہے ارشاد فرمایا :
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا12
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
اے اللہ اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمد پر اور آپ کے اہل بیت، ازواج مطہرات اور اولاد پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما۔
اے اللہ چاروں خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سے راضی ہو جا اور ان تمام صحابہ کرام اور تا قیامت بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں سے بھی راضی ہو جا اور اپنے عفو و کرم اور احسان کے ذریعے ہمیں بھی ان کے ساتھ شامل فرما اے اکرم الاکرمین۔
اے اللہ ہمارے وطنوں میں ہمیں امن عطا فرما، ہمارے ائمہ اور ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما، اے تمام جہانوں کے رب ہماری قیادت ان لوگوں کے ہاتھوں میں دے جو تجھ سے ڈرتے ہیں، تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور تیری رضا کی پیروی کرتے ہیں۔ اے اللہ جو ہمارے اور مسلم ملکوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے اس کی چال اسی پر لوٹا دے اور ہمیں اس میں اپنی قدرت کے عجائبات دکھا۔
اے اللہ اپنی حفاظت کے ذریعے ہماری حفاظت فرما، اپنی عنایت کے سائے میں ہمیں رکھ اور اپنی اس آنکھ سے ہماری نگہبانی فرما جو کبھی نہیں سوتی۔ اے اللہ اپنی کفایت کے ذریعے ہمیں کافی ہو جا، اپنی حفاظت سے ہمیں محفوظ رکھ، اپنے پردہ رحمت میں ہمیں ڈھانپ لے۔
ہمارے دین، امن، استحکام اور خوشحالی کی حفاظت فرما۔ اے اللہ ہمارے اہل و عیال، ہمارے گھروں، ہمارے مالوں اور ہمارے دلوں کے سکون کی حفاظت فرما اور تو سب سے بہتر حفاظت فرمانے والا ہے۔ اے اللہ ہمارے پیشوا اور خادم حرمین شریفین کی حق و توفیق اور درستی کے ذریعے تائید فرما۔ انہیں ان کاموں کی توفیق عطا فرما جنہیں تو پسند کرتا ہے اور جن سے راضی ہوتا ہے۔ انہیں نیکی اور تقویٰ کی راہ پر گامزن فرما۔ انہیں نیک اور صالح مشیر عطا فرما، ان کے ذریعے اپنے دین کو عزت عطا فرما، اپنے کلمے کو بلند فرما، انہیں اسلام اور مسلمانوں کی مدد کا ذریعہ بنا، ان کے ذریعے مسلمانوں کو حق و ہدایت پر متحد فرما۔
اے اللہ انہیں اور ان کے ولی عہد کو حق، ہدایت اور ہر اس قسم کی توفیق عطا فرما جس میں بندوں اور ملکوں کی بھلائی ہو۔ اے اللہ ہمارے فوجیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت فرما، ان کی مدد کر اور انہیں قوت عطا فرما جو ہماری سرحدوں اور مورچوں پر تعینات ہیں۔
اے اللہ اپنی خاص تائید کے ذریعے ان کی مدد فرما، اپنی نصرت سے انہیں فتح عطا کر، ان کے نشانے اور ان کی آراء کو درست فرما، ان کے قدم جما دے اور ان کے آگے، ان کے پیچھے، ان کے دائیں اور ان کے بائیں سے ان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ ہم اس بات سے تیری پناہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے نیچے سے اچانک ہلاک کر دیے جائیں۔
اے اللہ ان کے زخمیوں کو شفا عطا فرما، ان کے شہداء پر رحم فرما، ان کے اہل و عیال میں ان کے لیے بہترین جانشین بن جا۔ اے قوی و عزیز اپنے اور ان کے دشمنوں کے خلاف انہیں فتح عطا فرما۔ اے اللہ دین و ملت کے دشمنوں، دہشت گرد حوثیوں کے مقابلے میں تو خود کافی ہو جا۔ اے اللہ ان کے اور ان کے حامیوں کے خلاف کافی ہو جا، ان کی جماعت کو منتشر کر دے، ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دے، ان کے معاملات کو بگاڑ دے اور ان کے دلوں میں اختلاف ڈال دے۔ اے اللہ ہم تجھے ان کے مقابلے میں اپنے آگے ڈھال بناتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
اے اللہ ان پر ان کی برائی کا وبال ڈال دے اور انہیں عبرت والوں کے لیے عبرت بنا دے۔ اے قوی و عزیز اے رب العالمین، اے اللہ فلسطین میں ہمارے بھائیوں کا مددگار بن جا، اے اللہ اپنی نصرت سے ان کی مدد فرما اور اپنی تائید سے انہیں قوت عطا فرما، اے اللہ ان کی کمزوری پر رحم فرما، ان کے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دے اور اپنے اور ان کے دشمنوں پر برائی کا وبال ڈال دے۔ اے قوی و عزیز، اے اللہ اپنے فضل و کرم سے مسجد اقصٰی کو قیامت تک سربلند، باعزت اور محفوظ رکھ اے اکرم الاکرمین۔ اے اللہ ہمیں ہمارے ملک اور تمام اسلامی ملکوں کو شریر لوگوں کے شر، فاجروں کی چالوں اور رات و دن پیش آنے والی آفتوں کے شر سے محفوظ فرما۔ ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین۔
خطبہ جمعہ مسجد الحرام
تاریخ: 12 جمادی الاول 1448 ہجری بمطابق 23 اکتوبر 2026 عیسوی،
خطیب فضیلۃ الشیخ صالح بن حمید حفظہ اللہ،
__________________________________________________________________________
