تقدیر پر ایمان

خطبہ اول:

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے، اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اس کی ایک تقدیر مقرر کی، اور حکمت و تدبیر کے لحاظ سے معاملات اس کی منشا کے مطابق جاری ہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور وہی بطور مددگار کافی ہے۔

 اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ نے آپ کو انس و جن کی طرف خوشخبری سنانے والا، ڈرانے والا، اس کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا۔

درود اور برکتیں نازل ہوں آپ پر، آپ کے آل و اصحاب پر اور جو درست طریقے سے ان کی پیروی کریں ان پر، اور بہت زیادہ سلامتی نازل ہو۔

اما بعد:

لوگو! میں تمہیں اور خود کو اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں، اس لیے کہ متقی لوگ کامیاب ہوئے۔ ہر اس چیز میں اللہ پر بھروسہ کرو جس میں تم تصرف کرتے ہو، اور جان لو ہر چیز اس کے فیصلے سے ہے، وہ جس چیز سے کہتا ہے “ہوجا”، وہ ہوجاتی ہے۔

مسلمانو! قضا و قدر اور اس کے خیر و شر پر ایمان رکھنا، ایمان کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، اس کے عظیم اصولوں میں سے ایک اصول ہے، جیسا کہ اس کی خبر سید الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام نے دی ہے۔ اسی سے بندہ اللہ کی رضا سے سرفراز ہوتا ہے، جنتوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہوتا ہے اور جہنم سے سلامتی پاتا ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ : وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ، فَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ” لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ غَيْرَ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ لَهُمْ خَيْرًا مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ كَانَ لَكَ جَبَلُ أُحُدٍ – أَوْ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ – ذَهَبًا أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَأَنَّكَ إِنْ مِتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلْتَ النَّارَ1

ابن الدیلمی سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہ پیدا ہوا، تو میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: “اگر اللہ تعالیٰ آسمانوں والوں اور زمین والوں سب کو عذاب دے تو وہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں ہوگا، اور اگر وہ ان پر رحم فرمائے تو اس کی رحمت ان کے اعمال سے بہتر ہے۔ اگر تیرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر، یا اُحد پہاڑ جتنا، سونا ہو اور تو اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے، تو اللہ اسے تجھ سے ہرگز قبول نہیں کرے گا یہاں تک کہ تو تقدیر پر ایمان لائے، اور یہ جان لے کہ جو مصیبت تجھے پہنچی وہ تجھ سے خطا نہیں کر سکتی تھی، اور جو تجھ سے رہ گئی وہ تجھے پہنچنے والی نہ تھی۔ اور اگر تو اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مر گیا تو جہنم میں داخل ہوگا۔

جب عقیدہ دلوں میں بیٹھ جائے تو عمل کرنے والوں کو عمل پر ابھارتا ہے اور ہر حال میں انہیں کمال کے مرتبوں تک لے جاتا ہے۔

لوگو! تقدیر مخلوقات میں اللہ کا راز ہے۔ ہر تقدیر جو اللہ نے بنائی ہے اس کی حکمت سے واقع ہونے والی ہے۔

اللہ کا فرمان ہے:

 إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ2

 ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے۔

اور فرمایا:

 وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا3

اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی۔

اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے، اسی نے فنا کیا، اسی نے محتاج بنایا، اسی نے بے نیاز کیا، اسی نے مارا اور جلایا، اسی نے گمراہ کیا اور ہدایت دی۔ ہمارے رب نے ہمارے لیے جو ظاہر کیا ہم اس پر ایمان لائے، اور جس کا علم اس نے اپنے پاس رکھ لیا، ہم پر اس کی حکمت و غایت مخفی رہی۔ اللہ کے کمالِ حکمت، اس کی تقدیر کی عظمت، اس کے ملکوت میں اس کی مشیت کے نافذ ہونے اور اس کے حسنِ تدبیر پر ایمان رکھتے ہوئے ہم نے اسے تسلیم کیا اور اس سے راضی ہوئے، کیونکہ اللہ پاک ہے، ایسا حکیم و علیم ہے کہ جو کچھ وہ کرتا ہے اس بابت اس سے سوال نہیں کیا جا سکتا، اور بقیہ سارے لوگوں سے سوال کیا جائے گا۔ وہی قابلِ تعریف ہے، ہر حال میں تعریف کا مستحق ہے، اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔

جس نے کما حقہ اللہ پر ایمان رکھا اور جان لیا کہ ہر چیز حکیم، رحمن کے فیصلے اور تقدیر سے ہے، اس کا ایمان سچا رہا، اس نے ایمان کے لازم اقوال و افعال انجام دیے، اللہ اس کے دل کو رضا پر ثابت قدم کر دے گا اور اسے تسلیم و اذعان کی ہدایت دے گا۔

 اللہ کا فرمان ہے:

 وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ ۚ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ4

اور جو اللہ پر ایمان لے آئے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

جس نے اپنے دل سے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس سے مدد طلب کی، اللہ نے اس کی مدد کی، اس کی طرف جو رجوع ہوا اس کی پناہ میں آیا، اللہ نے اس کی حفاظت کی۔ جس نے اس کی راہ میں دشواریاں اور مشقتیں جھیلیں، اللہ نے انہیں اس پر سہل اور آسان کیا، اور جس نے صدقِ دل سے اس کا قصد کیا، اس کے لیے اللہ کافی ہوا، اس کے لیے خیر کے راستے مزین کیے۔

وہ شخص کیسے لوگوں سے ڈر سکتا ہے جو جانتا ہے کہ موت حتمی ہے؟ اور وہ شخص کیسے فقر و فاقہ سے ڈر سکتا ہے جو یقین رکھتا ہے کہ رزق مقدر ہے؟ اور وہ شخص کیسے مصیبتوں اور تکلیفوں سے ناراض ہو سکتا ہے جو جانتا ہے کہ اللہ ہی وہ ہے جس نے انہیں مقدر کیا ہے؟ وہ شخص کیسے ان کے ثواب اور صلہ کی امید نہیں رکھے گا جو جانتا ہے کہ اللہ ہی وہ ہے جس نے انہیں بھیجا اور ان کی تدبیر کی؟ بندہ جب اس پر ایمان لے آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر مصیبتوں اور مشکلات کو آسان کر دیتا ہے۔

 اللہ کا فرمان ہے:

 يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ5

 ایمان والوں کو اللہ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت کی زندگی میں بھی۔

 بلکہ اس سے اسے عظیم اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے،

جیسا کہ اللہ نے فرمایا:

إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ6

صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا اجر دیا جاتا ہے۔

اللہ آپ پر رحم کرے! جان لو کہ قضا و قدر پر ایمان کے چار مراتب ہیں۔
پہلا مرتبہ:

 علم کا ہے، اور وہ یہ کہ اللہ کے ہر چیز پر محیط علم پر ایمان لایا جائے۔ اللہ عزوجل جانتا ہے جو تھا، جو ہونے والا ہے، اور جو ہوگا، اور جو نہیں ہے اگر ہوتا تو کیسا ہوتا۔

 اللہ کا فرمان ہے:

وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ7

 تم جس حال میں بھی ہوتے ہو، قرآن میں کچھ پڑھتے ہو، یا تم لوگ کوئی کام کرتے ہو، جب تم اس میں مصروف ہوتے ہو تو ہم کو اس سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو۔
دوسرا مرتبہ:

 لکھنے کا مرتبہ، اور یہ کہ ایمان لایا جائے کہ اللہ نے تمام مخلوقات کی تقدیریں لوحِ محفوظ میں لکھ رکھی ہیں۔ اس نے عمریں، موتیں، روزیاں، اعمال، بدبختی اور خوش بختی، یہ سب کچھ لکھ رکھی ہے۔

 عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

 كَتَبَ اللَّهُ مَقَادِيرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ8

اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوقات کی تقدیریں تحریر فرما دیں تھی۔

تقدیر پر ایمان رکھنے والا مومن مشروع ذرائع اختیار کرنے میں کوتاہی نہیں برتتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ کا قانون نافذ ہونے والا ہے کہ چیزوں کی تقدیر ان کے اسباب کے ساتھ مربوط ہے۔

قضا و قدر پر ایمان کا چوتھا مرتبہ یہ ہے:

تخلیق کا مرتبہ، اور وہ یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اس کے سوا کوئی خالق نہیں اور نہ کوئی رب ہے، اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔

اللہ کے بندو! اللہ مجھے اور آپ کو قرآن و سنت میں برکتوں سے نوازے، ان میں موجود آیات و حکمت سے مجھے اور آپ کو فائدہ پہنچائے۔ میں وہ کہہ رہا ہوں جو آپ نے سنا، میں اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں، تم بھی اس سے مغفرت طلب کرو، بلاشبہ وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔

خطبہ ثانی:

تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو خوب سننے والا، جاننے والا، غالب اور حکمت والا ہے۔ اس نے اپنا فیصلہ کر دیا، اس کی تقدیر بندوں کے عمل سے پہلے ہی جاری ہوچکی ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی اولین و آخرین کا معبود ہے۔

 اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے، اس کے رسول، روشن رُو اور چمکتے اعضا والے اہلِ ایمان کے پیشوا ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر درود و سلام اور برکت نازل کرے، ان کے آل و اصحاب اور تابعین پر اور ان سب پر جو قیامت تک نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کریں،

اما بعد:

مومنو! بے شک قضا و قدر پر ایمان کے بے شمار اور بے حساب عظیم ثمرات و فوائد ہیں، اور اس کے قابلِ تعریف اثرات ہیں جن کی نہ کوئی حد ہے اور نہ شمار۔ ان میں سے چند یہ ہیں
جیسے کہ اس سے راحتِ نفس اور اطمینانِ قلب حاصل ہوتا ہے، اور جو چیز فوت ہو جائے، چھن جائے، اس پر حزن و ملال نہیں ہوتا، کیونکہ مومن کسی محبوب چیز کے فوت ہونے پر اور کسی ڈراؤنی چیز کے پیش آنے پر غمگین نہیں ہوتا۔

 فرمانِ الٰہی ہے:

 لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ9

تاکہ جو چیز تم سے چھن جائے اس پر افسوس نہ کرو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا کرے اس پر نہ اتراؤ۔

پس جس نے یہ جان لیا کہ ہر چیز اللہ کی قضا و قدر سے ہوتی ہے، اس پر مشقتیں برداشت کرنا آسان ہوجاتا ہے، وہ اپنے نفس کو مصیبتوں پر صبر کرنے کا عادی بنا لیتا ہے، پھر وہی کہتا ہے، وہی کرتا ہے جو رب کائنات کو راضی کرنے والا ہو۔

فرمانِ الٰہی ہے:

الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ10

 یہ وہ لوگ ہیں جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں، ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

اور قضا و قدر پر ایمان کے ثمرات میں سے یہ بھی ہے کہ بندہ اللہ کے حکم کے سامنے جھک جائے، اسے پوری طرح تسلیم کر لے اور یہ جان لے کہ اس کے مولا نے جو کچھ اس کے لیے چنا ہے اسی میں بھلائی ہے۔

اللہ کا فرمان ہے:

 وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ11

ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمھارے لیے بری ہو۔

عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں پسندیدہ حال میں صبح کرتا ہوں یا ناپسندیدہ حال میں، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ بھلائی اس چیز میں ہے جسے میں پسند کرتا ہوں یا اس چیز میں جسے میں ناپسند کرتا ہوں۔

 اور اسی ایمان کے ثمرات میں سے یہ بھی ہے کہ دل حسد، کینہ اور بغض سے پاک ہوجاتا ہے، کیونکہ یہ سب دل کی بری بیماریاں ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی تقدیروں پر اعتراض تک پہنچا دیتی ہیں۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ12

اس کی طرف دیکھو جو تم سے کمتر ہے، اس کی طرف مت دیکھو جو تم سے برتر ہے، اس طرح تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو حقیر نہ سمجھو گے۔

اور ان فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ آزمائش کے وقت صبر کرنا اور نعمت پر شکر ادا کرنا۔

 صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ13

مومن کا معاملہ عجیب ہے۔اس کا ہرمعاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے۔اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کومیسر نہیں۔اسے خوشی اور خوشحالی ملے توشکر کرتا ہے۔اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو(اللہ کی رضا کے لیے) صبر کر تا ہے ،یہ(ابھی) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے ۔

عطا ابن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا:

أَلاَ أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: هَذِهِ المَرْأَةُ السَّوْدَاءُ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُصْرَعُ، وَإِنِّي أَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللَّهَ لِي، قَالَ: «إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الجَنَّةُ، وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ» فَقَالَتْ: أَصْبِرُ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللَّهَ لِي أَنْ لاَ أَتَكَشَّفَ، فَدَعَا لَهَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ: «أَنَّهُ رَأَى أُمَّ زُفَرَ تِلْكَ امْرَأَةً طَوِيلَةً سَوْدَاءَ، عَلَى سِتْرِ الكَعْبَةِ»14

“کیا میں تمہیں جنت کی ایک عورت نہ دکھاؤں؟” میں نے کہا: “ضرور۔” انہوں نے کہا: “یہ کالی کلوٹی عورت، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے، اس حالت میں میرا جسم کھل جاتا ہے، آپ میرے لیے دعا کریں۔” آپ نے فرمایا: “اگر تم چاہو تو صبر کرو، تمہارے لیے جنت ہے، اور اگر چاہو تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں وہ تمہیں شفا دے دے۔” اس نے کہا: “میں صبر کروں گی، لیکن میں بے پردہ ہو جاتی ہوں، تو آپ دعا کریں کہ میں بے پردہ نہ ہو جاؤں۔” چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی۔

ایمانی بھائیو! جو حقائق ابھی بیان ہوئے، وہ ان عظیم ترین امور میں سے ہیں جو اہلِ ایمان کو سخت ترین پریشانیوں اور بڑے بڑے حادثات کے وقت ثابت قدم رکھتے ہیں۔

علام غیوب کا فرمان ہے: کہہ دیجیے! ہمیں ہرگز کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی مگر وہی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے، وہی ہمارا کارساز ہے، اور اہلِ ایمان کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔

اللہ کے بندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، ان لوگوں میں سے بن جاؤ جنہیں جب آزمائش پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں، جب نعمت ملتی ہے تو شکر ادا کرتے ہیں، جب گناہ سرزد ہو جاتا ہے تو استغفار کرتے ہیں۔ اس طرح تم دونوں جہانوں میں سعادت، نجات اور کامیابی سے سرفراز ہوگے۔

اتنی بات ہوئی اور تمام مخلوقات میں چنیدہ اور سید الانبیاء والمرسلین پر درود و سلام بھیجو،

جیسا کہ اللہ عزوجل نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے:

 إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا15

بے شک اللہ اور اس کے فرشتے اس نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔

اے اللہ! درود و سلام اور برکت نازل کر رسول اللہ ﷺ پر، ان کے پاک و پاک باز اہلِ خانہ پر، ان کی بیویوں، امہات المومنین پر۔ اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان و علی سے، تمام صحابہ کرام، تابعین اور قیامت تک ان کے پیروکاروں سے راضی ہوجا، اور ان کے ساتھ ہم سے بھی راضی ہوجا اپنے عفو و کرم سے اور احسان سے، اے اکرم الاکرمین

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، دین کے قلعہ کی حفاظت کر، اپنے دین، اپنی کتاب، اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور اپنے مومن بندوں کی مدد فرما۔ اور امن و امان کی نعمت ہمارے ملک، مملکتِ سعودی عرب پر اور تمام مسلم ممالک پر قائم رکھ۔ اور ہمیں اور انہیں ہر طرح کی برائی، آفت، سختی اور تکلیف سے محفوظ رکھ، اور جنگوں اور فتنوں، ظاہری و باطنی شر اور آزمائشوں سے بچا۔

اے اللہ! ہمارے امام اور سربراہ خادم حرمین شریفین اور ان کے امین ولی عہد کو حق کی توفیق اور ہدایت سے مضبوط کر، انہیں، ان کے معاونین کو اس کام کی توفیق دے جسے تو پسند کرتا اور جس سے تو راضی ہو، اور جس میں ملک اور بندوں کی بہتری ہو، اور جس میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے غلبہ و استحکام ہو۔

اے اللہ! غمزدوں کا غم دور فرما، مصیبت زدوں کی مصیبت ٹال دے، قرض داروں کے قرض ادا فرما، ہمارے اور مسلمانوں کے مریضوں کو شفایاب کر، ہمارے اور مسلمانوں کے وفات شدگان پر رحم فرما۔ اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما۔

اے اللہ! فلسطین میں اور ہر جگہ کے مسلمانوں کی تو مدد فرما۔ اے اللہ! ہر غم سے انہیں نجات دے دے، انہیں ہر مصیبت سے چھٹکارا دلا دے۔ اے اللہ! ہم سے قبول فرما، بے شک تو ہی خوب سننے والا ہے۔ اے اللہ! ہماری توبہ قبول فرما۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ۔ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ۔ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

خطبہ جمعہ: مسجد الحرام
خطیب: معالی الشیخ ڈاکٹر یاسر بن راشد الدوسری
تاریخ: 29 شوال 1447 ہجری | 17 اپریل 2026 عیسوی
_________________________________________________________________

  1. (مسند احمد:21611)
  2. (سورۃ القمر:46)
  3. (سورۃ الفرقان:02)
  4. (سورۃ التغابن:11)
  5. (سورۃ ابراھیم:27)
  6. (سورۃ الزمر:10)
  7. (سورۃ یونس:61)
  8. (صحیح مسلم:6748)
  9. (سورۃ الحدید:23)
  10. (سورۃ لبقرۃ :156)
  11. (سورۃ البقرۃ:216)
  12. (سنن ابن ماجہ:4142)
  13. (صحیح مسلم:7500)
  14. (صحیح بخاری:5652)
  15. (سورۃ الأحزاب:56)

مصنف/ مقرر کے بارے میں

فضیلۃ الشیخ یاسر الدوسری حفظہ اللہ