خطبہ اول:
تمام حمد اس اللہ کے لیے ہے جو ہر حال میں قابل حمد و ستائش ہے، جو عظمت و جلال کی صفات سے متصف ہے۔ میں اس پاک ذات کی حمد بیان کرتا ہوں اس کی بھرپور نعمتوں اور مسلسل فضل و احسان پر۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ بڑا بلند و برتر ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں جنہیں ان کے رب نے عمدہ اعمال اور کریمانہ خصلتوں پر پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل و اصحاب پر جو بہترین ساتھی اور بہترین گھرانے والے ہیں درود و سلام اور برکتیں نازل فرمائے، اور تابعین پر اور ان پر جو قیامت کے دن تک ان کی پیروی درست طریقے کے ساتھ کرتے رہیں۔
اما بعد!
اے لوگو! میں آپ کو اور خود کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اور تمام اقوال و اعمال میں اس کی رضا طلب کرنے کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ تقویٰ راہِ حق پر چلنے والوں کا بہترین زادِ راہ، صالحین کی سعادت کا جوہر اور نعمتوں بھری جنتوں سے سرفرازی کا راستہ ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ صرف متقیوں ہی سے قبول فرماتا ہے۔
اے مسلمانو! اسلام کے کمال اور اس کی خوبصورتی میں سے یہ ہے کہ اس نے ہر اس چیز کی دعوت دی جو نفسوں کو اعلیٰ درجات تک پہنچنے پر ابھارے، اور بلند منازل کے حصول کے لیے عزم و حوصلے کو بیدار کرے، خواہ وہ دنیا میں ہوں یا آخرت میں۔ اور انسان کو بلندی عطا کرنے والی اور اسے بے بسی اور ذلت سے دور رکھنے والی عظیم ترین خصلتوں میں سے ایک “بلند ہمتی” ہے۔ یہی کامیابی کا راز، فلاح کی کنجی، اور دین و دنیا کی بلند چوٹیوں تک پہنچنے کا زینہ ہے۔ شریعت کی نصوص ان تعلیمات سے بھری ہوئی ہیں جو ہمتوں کو بیدار کرتی ہیں، اور نفسوں کو فضائل کی طرف سبقت لے جانے اور شرافت کے میدانوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ1
پس تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرو۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ2
جب تم اللہ سے سوال کرو تو اس سے فردوس کا سوال کرو۔
اے ایمان والو! ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلند ہمتی اور عظیم ترین مقاصد کے حصول میں سب سے بہترین نمونہ تھے۔ آپ کی پوری ہمت توحید کو عام کرنے اور لوگوں کو بندوں کی عبادت سے نکال کر عزیز و حمید اللہ کی عبادت کی طرف لانے پر مرکوز تھی۔ چنانچہ آپ نے دعوت کا بوجھ اٹھایا، صبر کیا اور ثابت قدمی سے کام لیا۔ یہاں تک کہ دنیا آپ کے سامنے جھک گئی، آپ کی رسالت سے دل منور ہو گئے اور لوگ جوق در جوق اللہ کے دین میں داخل ہونے لگے۔ آپ کے جلیل القدر صحابہ رضوان اللہ علیہم نے بھی آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آپ کے طریقے کو مضبوطی سے تھام لیا۔ چنانچہ لوگوں میں وہ بلند ترین ہمت رکھنے والے، سب سے پختہ عزم و ارادے والے، نیکیوں کی طرف سب سے تیزی سے بڑھنے والے اور فضائل و مکارم کے میدان میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے والے تھے۔ انہوں نے اپنے دین کی نصرت، اپنی امت کی خدمت اور اپنے معاشروں اور ملکوں کے حقوق ادا کرنے کے لیے اپنی جانیں اور اپنے مال قربان کر دیے۔ انہوں نے ایمان کے نور، قرآن کی ہدایت اور خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے ذریعے مشرق و مغرب کو منور کر دیا۔
پھر سلف صالحین اور ان کے بعد آنے والے لوگ بھی جنہوں نے درست طریقے سے ان کی پیروی کی، انہی کے طریقے اور ہدایت پر گامزن رہے۔ ان کی ہمتیں بلند تھیں، ان کے عزائم رفیع تھے، یہاں تک کہ انہوں نے عظمت و شرف کے اعلیٰ ترین مراتب حاصل کیے۔ لہٰذا اہل ایمان کے شایان شان نہیں کہ ان کی ہمتیں ادنیٰ اور کمتر چیزوں پر راضی ہو جائیں، یا ان کے دل ستاروں سے بھی کمتر چیزوں پر قناعت کر لیں۔ پس خوش بخت ہے وہ شخص جو بلند مقامات کی طرف سبقت لے جائے، اور بلند شان و عظمت کے حصول میں آگے بڑھ جانے کی کوشش کرے۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا: بلند ہمتی یہ ہے کہ انسان کی منزل اللہ کی رضا ہو، وہ اس سے کمتر کسی چیز پر نہ رکے، اور نہ اللہ کے سوا کسی اور سے وابستہ ہو۔
اور پست ہمتی کی علامت یہ ہے کہ بندہ کمتر چیزوں پر راضی ہو جائے اور حقیر امور پر مطمئن ہو جائے۔ چنانچہ بلند ہمتی عقل کی پختگی، فکر کی سلامتی، رائے کی درستگی، مقصد کی عظمت اور روح کی بلندی کی دلیل ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے بلند ہمت رکھنے والوں کے لیے عزت و تکریم اور سچے عزم والوں کے لیے ہدایت لکھ دی ہے۔
اللہ تعالی کا فرمایا:
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا3
اور وہ لوگ جنھوں نے ہمارے بارے میں پوری کوشش کی ہم ضرور ہی انھیں اپنے راستے دکھادیں گے۔
پس جو شخص اپنے نفس کے ساتھ مجاہدہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے، خیر کے اسباب آسان کر دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
اے اللہ کے بندو! اس سے یہ بات جان لی گئی کہ بلند ہمتی کوئی فکری عیش و عشرت یا فلسفیانہ تصور نہیں، بلکہ عظیم مقاصد کے حصول کا راستہ اور اللہ ملک العلام کی رضا تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔
اے اللہ کے بندو! اے بلند عزائم رکھنے والو! زندگی محدود ہے، سانسیں گنی چنی ہیں، اور مقابلہ آرائی مسلسل جاری ہے۔ اور اس میں وہی کامیاب ہوتا ہے جو مضبوط عزم اور بلند ہمت کا مالک ہو۔ اور جب ارادے بلند ہوں، تو ان کے مقاصد کے حصول میں جسموں کو مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔ اور جو شخص اپنے نفس کو آرام و آسائش کا عادی بنا لیتا ہے، وہ آہستہ آہستہ پستی کی گہرائیوں میں جا گرتا ہے۔ پس ہمت بلند ہو تو صاحبِ ہمت کو جلال و کمال کی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے، اور اگر پست ہو تو اسے کمزوری اور بدحالی کی پستیوں میں گرا دیتی ہے۔
اے لوگو! ہمت کو بیدار کرنے والی عظیم ترین چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اپنی عمر کی قدر و قیمت کو محسوس کرے، اور جان لے کہ اس کے ایام ہی اس کا اصل سرمایہ ہیں۔ جو وقت گزر گیا وہ دوبارہ واپس نہیں آتا۔ اور یہ کہ انسان کو بے مقصد پیدا نہیں کیا گیا، بلکہ اسے اللہ کی عبادت اور زمین کو ان کاموں کے ذریعے آباد کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے جن سے اس کا مولیٰ راضی ہو۔
اللہ تعالی کا فرمایا:
أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ4
کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے، اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
لِرَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُهُ:اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، وَغِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ5
پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔ اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو بیماری سے پہلے، اپنی مالداری کو محتاجی سے پہلے، اپنی فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔
پس تمہاری ہمتیں بلند ہوں اور اعلیٰ ترین درجات کی طرف سبقت لے جانے والی ہوں۔ جو چیز تمہیں نفع پہنچائے اس کے حریص بنو، اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو۔ جھوٹی امیدیں تمہیں مشغول نہ کریں اور نہ تم فوری لذتوں میں غرق ہو جاؤ۔ بلند ہمت اور عالی حوصلہ لوگوں کی صحبت اختیار کرو، سستی سے بچو، اور ٹال مٹول کو اپنے اور عمل کے درمیان حائل نہ ہونے دو۔ اسلاف کی اقتدا کرو اور رخصت ہو جانے والوں سے عبرت حاصل کرو۔ دانشمند وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں کر لے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، جبکہ عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لگا دے اور اللہ سے محض آرزوئیں وابستہ رکھے۔
اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ میرے اور آپ سب کے لیے کتاب و سنت میں برکت عطا فرمائے اور ان میں موجود آیات اور حکمت سے مجھے اور آپ سب کو نفع پہنچائے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے اور آپ سب کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ پس تم بھی اس سے مغفرت طلب کرو، بے شک وہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
خطبہ ثانی:
تمام حمد اللہ کے لیے ہے، اور درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد، آپ کی آل و اصحاب اور ان تمام لوگوں پر جو آپ کے نقش قدم پر چلے۔
اما بعد:
بے شک بلند ہمتی کا مطلب دنیا کو ترک کرنا یا اس سے کنارہ کش ہو جانا نہیں ہے۔ بلکہ بلند ہمتی تو نفس کی وہ طاقت ہے جو انسان کو متحرک کرتی ہے کہ وہ دین و دنیا کے اعلیٰ امور طلب کرے، اسے پانے کے لیے اپنی پوری توانائی صرف کرے، اور کمتر و حقیر امور سے بلند رہے۔ اس طرح انسان دونوں جہانوں کی بھلائی کو جمع کر لیتا ہے اور اپنی دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “اور جو کچھ اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے، اس کے ذریعے آخرت کا گھر طلب کرو، اور دنیا میں اپنا حصہ فراموش نہ کرو، اور احسان کرو جس طرح اللہ نے تم پر احسان کیا ہے۔
جان لو کہ بلند ہمت انسان کاہلی اور سستی کی راہ نہیں جانتا، نہ وہ شکست خوردگی اور بزدلی کے راستوں پر چلتا ہے، نہ کمتر چیزوں پر راضی ہوتا ہے اور نہ اس کا نفس پستی کی طرف مائل ہوتا ہے۔ بلکہ اس کی روح ایسے سچے عزم کے ساتھ بلند ہوتی ہے جس پر تھکن طاری نہیں ہوتی، اور ایسی مسلسل جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھتی ہے جس میں اکتاہٹ راہ نہیں پاتی۔ وہ بلند مقاصد کا مشتاق ہوتا ہے۔ اور جس طرح شاہین فضا میں بلند پرواز ہوتے ہیں، اسی طرح وہ بھی رفعت و عظمت کے آفاق میں پرواز کرتا ہے، اور اپنے کارنامے دفترِ عظمت میں روشن حروف سے رقم کرتا ہے۔
بلند ہمتوں، مضبوط عزائم، محنت، جدوجہد، ثابت قدمی اور مسلسل کوشش کے ذریعے ہی قوموں نے لازوال کارنامے انجام دیے اور دیرپا عظمتیں پائیں۔ پس بلند ہمتیں قوموں کے بلند چوٹیوں تک پہنچنے کا دروازہ ہیں، اور نفوس کو اعلیٰ اخلاق و اوصاف تک پہنچانے کا راستہ ہیں۔ انہی کے ذریعے وطن اور معاشرے ترقی کرتے ہیں، ریاستیں آگے بڑھتی ہیں اور تہذیبیں بنتی ہیں۔ اور ہمارا بابرکت وطن، مملکتِ سعودی عرب آج بلند ہمتی اور مضبوط عزم کی بہترین مثالیں پیش کر رہا ہے، ایک ایسی دانشمند قیادت اور دور اندیش و درست بصیرت رکھنے والی قیادت کے زیر سایہ جو مختلف میدانوں اور شعبوں میں ممتاز مقام اور ترقی حاصل کر رہی ہے۔ اپنی بنیاد کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے، اور اپنی اقدار پر نازاں ہے اور قدیم و جدید کا جامع ہے۔ اور یہ ایک ایسے منفرد توازن کے ساتھ ہے جو اس حقیقت کی تائید کرتا ہے کہ قدامت کا مطلب جمود نہیں، اور جدت کا مطلب اپنی شناخت کو ختم کر دینا نہیں۔ بلکہ حقیقی سبقت ان دونوں کے حسین امتزاج میں ہے۔
اے لوگو! اس فیاض وطن کے ساتھ وفاداری کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ اس کے فرزندوں کی ہمتیں اس کی امنگوں کے مطابق ہوں۔ وطن سے وفاداری محض چند الفاظ نہیں جنہیں کہا جائے، یا نعرے نہیں جنہیں بلند کیا جائے، بلکہ یہ وفاداری و وابستگی، اقدار و اصول، دینی فریضے اور اخلاقی ذمہ داری کا نام ہے۔ اس کا اظہار کام کو احسن طریقے سے انجام دینے، امانت ادا کرنے، قوانین و نظام کا احترام کرنے، وطن کے سرمایوں اور وسائل کی حفاظت کرنے، خیر و بھلائی کو عام کرنے، باہمی الفت و رحمت کو مضبوط کرنے، اتحاد و اتفاق کے لیے کوشش کرنے، سمع و طاعت اختیار کرنے اور جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے سے ہوتا ہے۔ وطن سے وفاداری کا اظہار غلو و انتہا پسندی کو ترک کرنے، گمراہ جماعتوں اور آلودہ وابستگیوں سے ہوشیار رہنے، تباہ کن افکار سے بچنے، اور افواہوں اور بے بنیاد پروپیگنڈوں کا مقابلہ کرنے سے بھی ہوتا ہے۔ اور جس طرح وطن کے اندرونی طور پر تفرقہ و انتشار کے اسباب سے محفوظ رکھا جاتا ہے، اسی طرح اسے ہر اس جارحیت سے بھی محفوظ رکھا جاتا ہے جو اس کی سرزمین، امن و سلامتی اور مقدسات کو نشانہ بنائے۔
ہم نے جو سنگین جارحانہ حملے اور معاندانہ کوششیں دیکھی ہیں جن کا نشانہ ہمارا وطن اور ہمارے مقدسات تھے، یہاں تک کہ جارحیت مکہ مکرمہ تک آ پہنچی جو بلدِ حرام، اسلام کا قبلہ اور تمام انسانوں کے دلوں کا مرکز ہے، اور مدینہ منورہ تک بھی جو ایمان کا مرکز و مأمن ہے۔ یہ یقیناً ایک عظیم جرم، بہت بڑی جسارت اور ان حرمتوں پر حملہ ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے عظمت عطا فرمائی ہے۔ اور یہ واقعہ ہمارے اندر عظیم امانت کی اہمیت کا یقین مزید پختہ کرتا ہے۔ پس وطن کی حفاظت دینداری ہے، اس کے اور اس کے مقدسات کا دفاع عبادت ہے۔ اتحاد حفاظت ہے، اور وطن کے لیے اتفاق تحفظ ہے۔ لہٰذا وطن کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کی حفاظت کرو، اور اس کے وژن اور امنگوں کے شایانِ شان بنو۔ اپنی اپنی حیثیت اور استطاعت کے مطابق اس کی خدمت میں بھرپور کوشش کرو، تاکہ ہم میں سے ہر شخص تعمیر کی ایک اینٹ اور خیر و ترقی کا ذریعہ بنے، اور ایک ایسے بلند ہمت وطن کے سفر میں اپنا حصہ ادا کرے جس کی نسلیں یکے بعد دیگرے اس کے سرمایوں کی حفاظت، اس کی کامیابیوں کے تسلسل، اور اس کے مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں۔
اللہ کے بندو! آگاہ رہو، عظیم اخلاق کے مالک، اپنے معزز نبی محمد پر درود و سلام بھیجو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی روشن کتاب میں تمہیں اس کا حکم دیا ہے۔
چنانچہ فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا6
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
پس اے اللہ محمد اور آل محمد پر اسی طرح درود نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر جہانوں میں درود نازل فرمایا، بے شک تو حمد و بزرگی والا ہے۔ اور محمد اور آل محمد کو اسی طرح برکت عطا فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم کو جہانوں میں برکت عطا فرمائی، بے شک تو حمد و بزرگی والا ہے۔
اے اللہ خلفائے راشدین، ہدایت یافتہ پیشواؤں ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سے راضی ہو جا، اور تمام صحابہ کرام، تابعین اور قیامت تک درست طریقے کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں سے بھی راضی ہو جا، اور اپنے فضل و کرم اور احسان سے ہمیں بھی ان کے ساتھ شامل فرما اے اکرم الاکرمین۔ اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، دین کی حفاظت فرما۔ اپنے دین، اپنی کتاب، اپنے نبی کی سنت اور اپنے مومن بندوں کی مدد فرما۔ اے اللہ اس ملک کے عقیدے اور ایمان، اس کی سرزمین اور مقدسات، اس کے امن و استحکام، اس کی خوشحالی اور ترقی کی حفاظت فرما۔ اس ملک اور تمام مسلم ممالک کو سازشیں کرنے والوں کی سازش اور جارحیت کرنے والوں کی جارحیت سے محفوظ فرما۔
اے اللہ ہمارے امام اور سربراہ، خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان اور ان کے ولی عہد امیر محمد بن سلمان کو ہر اس کام کی توفیق عطا فرما جسے تو پسند کرتا اور جس سے راضی ہوتا ہے۔ انہیں اور ان کے معاونین کو ہر اس کام کی توفیق دے جس میں ملک و ملت کے لیے خیر و عزت اور اسلام اور مسلمانوں کے لیے نصرت و غلبہ ہو۔ اے اللہ ہمارے امن و دفاع کے محافظ جوانوں کی حفاظت اور ان کی نصرت فرما، اور ہماری سرحدوں پر تعینات ان سپاہیوں کا نگہبان بن جا جو ان کی حفاظت کر رہے ہیں، ان کا حامی و ناصر، مددگار اور پشت پناہ بن جا۔ اے اللہ غمزدوں کے غم دور فرما، مصیبت زدوں کی مصیبت ٹال دے، قرض داروں کے قرض ادا فرما، ہمارے اور تمام مسلمانوں کے مریضوں کو شفا یاب کر، اور اے اللہ ہمارے اور تمام مسلمانوں کے فوت شدگان پر رحم فرما۔ اے اللہ فلسطین میں ہمارے بھائیوں کا حامی و ناصر بن، انہیں امن و امان، سلامتی اور اطمینان عطا فرما۔ اے اللہ مسجد اقصیٰ کی حفاظت فرما، اور اسے قیامت تک سربلند اور باعزت رکھ۔
پاک ہے تیرا رب، عزت والا رب ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ اور رسولوں پر سلام ہو، اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے۔
خطبہ جمعہ مسجد الحرام
تاریخ : 14 ربیع الثانی 1448 ہجری بمطابق 25 ستمبر 2026 عیسوی
خطیب : فضیلۃ الشیخ یاسر الدوسری حفظہ اللہ
_______________________________________________________________________
