خطبہ اول:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے پیدا کیا اور وجود بخشا اور آسمان و زمین کی تخلیق فرمائی۔ اس کے علم سے کوئی بھی ظاہر و باطن چیز چھپ نہیں سکتی۔ وہ سبھی راز اور خفیہ ترین چیزوں کو جانتا ہے۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بہترین نام اور اعلیٰ صفات ہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو تمام مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔
اللہ درود و سلام نازل فرمائے آپ پر اور آپ کی آل و اصحاب پر، اور ان تمام لوگوں پر جو ان کے طریقے پر چلیں اور ان کی پیروی کریں۔
اما بعد!
میں خود کو اور آپ سب کو اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہی نجات اور سلامتی کا راستہ اور کامیابی اور عزت کا ذریعہ ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: “اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ یقیناً بڑی کامیابی حاصل کرے گا۔”
مسلمانو! بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو سب سے عظیم نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور جن کے ذریعے اسے بھرپور نوازش اور احسان سے مالا مال کیا ہے۔ ان میں سے ایک ایسی نعمت بھی ہے جس کی وسعت تک نہ کوئی طویل بیان پہنچ سکتا ہے اور نہ اس کے عظیم حق کا کوئی مفصل گفتگو احاطہ کر سکتی ہے۔ اسی کے ذریعے انسان صحیح اور غلط کو پہچانتا ہے، اچھے اور برے میں فرق کرتا ہے، اسی کے ذریعے خطرات سے بچتا ہے اور اپنے آپ کو نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔
یقیناً وہ بینائی یعنی آنکھ کی نعمت ہے۔ ا
للہ تعالیٰ نے فرمایا:
أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ1
کیا ہم نے اسے دو آنکھیں نہیں دیں؟
اور اسی لیے اس شخص کا ثواب بہت بڑا ہے جو نابینا ہونے کی آزمائش میں مبتلا ہو تو صبر کرے، اور اس میں اجر کی امید رکھے اور ثابت قدم رہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ، عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الجَنَّةَ يُرِيدُ: عَيْنَيْهِ2
جب میں اپنے بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں یعنی آنکھوں کے ذریعے آزماتا ہوں اور وہ صبر کرتا ہے تو میں ان کے بدلے اسے جنت عطا کرتا ہوں۔
بینائی ایک ایسی نعمت ہے جو اللہ کی حمد و شکر اور اس کے فضل کے سچے اعتراف کا تقاضا کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ3
اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے، پھر اس نے تمہیں کان، آنکھیں اور دل عطا کیے تاکہ تم شکر ادا کرو۔
اور نعمت بینائی پر اللہ کا شکر ادا کرنے میں سے یہ ہے کہ بندہ بینائی کو صرف اللہ کی رضا والے کاموں میں استعمال کرے اور ان چیزوں میں استعمال کرے جن سے اس کے دین و دنیا کا فائدہ ہو۔ اور اپنی نگاہ کو حرام چیزوں سے محفوظ رکھے اور اسے گناہوں میں پڑنے سے بچائے۔
کیونکہ نظر دل کے سب سے خطرناک اور سب سے زیادہ اثر رکھنے والے دروازوں میں سے ایک ہے۔ آنکھ دل کا قاصد اور اس کا پیغام رساں ہے۔ جب آنکھ کسی چیز کو دیکھتی ہے تو دل اس سے وابستہ ہو جاتا ہے، اور جب دل وابستہ ہو جاتا ہے تو شہوتیں برانگیختہ ہوتی ہیں، پے در پے خیالات آنے لگتے ہیں، بے چینیاں بڑھنے لگتی ہیں، لگاتار وسوسے آنے لگتے ہیں۔
لوگو! جب معاملہ ایسا ہے اور شریعت حرام تک پہنچنے والے ذرائع کو بند کرنے کے لیے آئی ہے، تو اس نے صرف فحاشی کو ہی حرام قرار نہیں دیا بلکہ اس کے ذریعے کو بھی حرام کیا، اس کے راستوں کو بند کیا اور اس کے وسائل کو ختم کر دیا۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کا واضح حکم آیا کہ ان چیزوں سے نگاہیں نیچی رکھی جائیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے شرمگاہ کی حفاظت کے حکم سے پہلے نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا، کیونکہ دونوں میں گہرا تعلق ہے۔
اللہ عزوجل نے فرمایا:
قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ٘ وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا4
مومن مردوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ بے شک اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو وہ کرتے ہیں۔اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔
حرام نظر شیطان کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے اور اس کے مہلک جالوں میں سے ایک جال ہے، جس کے ذریعے وہ دلوں کو نشانہ بنا کر انہیں ہلاکت میں ڈال دیتا ہے، ان کا نور بجھا کر انہیں اندھا کر دیتا ہے۔ جب یہ تیر دل میں پیوست ہو جاتا ہے تو انسان شہوت کا قیدی اور خواہشات کا اسیر بن جاتا ہے، پھر نہ نیکی کو نیکی سمجھتا ہے اور نہ برائی کو برائی۔
اللہ تم پر رحم فرمائے، اس بات کو جان لو کہ آنکھ ایسی چیز کو بھی حسین بنا کر دکھاتی ہے جو حاصل نہیں ہو سکتی، اور ایسی چیز کو بھی مزین کر کے پیش کرتی ہے جو دسترس میں نہیں آ سکتی۔ چنانچہ تم اسے اس کی حقیقت کے خلاف اور اس کی اصل صورت سے مختلف دیکھتے ہو۔ لہذا عقلمند کو چاہیے کہ اپنی نگاہ کو آزاد نہ چھوڑے، کیونکہ نگاہ نیچی رکھنے پر صبر کرنا، اس درد پر صبر کرنے سے کہیں آسان ہے جو اس کے بعد ملنے والا ہے۔
خصوصاً آج کے اس دور میں جب کہ بہکانے اور لبھانے کے وسائل بے شمار ہیں، گمراہی کے راستے متنوع ہیں، یہاں تک کہ یہ ایک نفع بخش تجارت اور عام بکنے والا سامان بن گئے ہیں، جو موبائلوں، اسکرینوں، سوشل میڈیا اور مختلف چینلوں کے ذریعے نشر کیے جاتے ہیں، بغیر کسی اجازت کے، اور عادتوں، ثقافتوں اور ادیان کے اختلاف کی رعایت کے بغیر، گھروں اور ذہنوں میں گھس جاتے ہیں۔
چنانچہ گمراہیوں کے ان موجوں اور تلاطم میں ہمیں کتنی ضرورت ہے کہ ہم نگاہیں نیچی رکھنے کی نصیحت کریں کیونکہ یہ اس دور میں تقویٰ کی ایک عظیم ترین صورت ہے۔
مومنو! بے شک نگاہ نیچی رکھنا دل کا تزکیہ کرتا ہے، اسے اطاعت الٰہی پر یکسو رکھتا ہے، خواہشات کی وادیوں میں بھٹکنے سے بچاتا ہے اور فتنوں اور گمراہیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسی سے بندہ جسم کی راحت، روح کی سعادت، ایمان کی حلاوت اور طاعت کی لذت پاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس کے لیے علم و معرفت کے دروازے کھول دیتا ہے، اسے بصیرت و حجت کی طاقت اور قوت عطا فرماتا ہے، اور اسے حکمت و ہدایت، فہم و فراست، ثابت قدمی و شجاعت اور دل کا نور عطا کرتا ہے۔ اور بندہ جس قدر اپنی نگاہ کو حرام سے بچاتا ہے، اسی قدر وہ نورِ قلب سے بہرہ مند ہوتا ہے۔
نگاہیں نیچی رکھنے کے ثمرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بندہ اپنے دین اور دنیا کے مفادات میں غور و فکر کے لیے فارغ ہوتا ہے۔ کیونکہ نگاہ کو آزاد چھوڑنا اس کی سوچ کو منتشر کر دیتا ہے، اس کے ذہن کو پراگندہ کر دیتا ہے، اس کے اعضاء کو تھکا دیتا ہے، اس کی شان کو مضمحل کرتا ہے، اور اس کے معاملات بکھر جاتے ہیں۔
عقلمند اور دانا انسان انجام اور نتائج پر نظر رکھتا ہے، اور جانتا ہے کہ حرام نظر کی لذت چند لمحوں کی ہوتی ہے، جبکہ اس پر حسرت و افسوس برسوں تک رہتی ہے۔ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ5
اور اپنی آنکھیں ہرگز ان چیزوں کی طرف نہ بڑھاؤ جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دنیا کی زندگی کی رونق کے طور پر دی ہیں تاکہ ہم انہیں اس کے ذریعے آزمائیں، اور تمہارے رب کا رزق ہی بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اپنی کتاب کی ہدایت اور اپنے نبی محمد ﷺ کی سنت سے فائدہ پہنچائے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے، آپ سب کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ اور خطا پر اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے مغفرت مانگو، بے شک وہی بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور درود و سلام ہو اللہ کے رسول، ہمارے نبی محمد ﷺ پر، اور آپ کی آل و اصحاب پر، اور ان تمام لوگوں پر جنہوں نے آپ سے محبت کی۔
اما بعد!
اللہ کے بندو! جو چیزیں نگاہیں نیچی رکھنے میں مدد کرتی ہیں ان میں سے ہے: اللہ عزوجل کا تقویٰ اختیار کرنا، اس کے عذاب سے ڈرنا، کثرت کے ساتھ اس سے دعا کرنا، اور انسان کا اپنے نفس کے ساتھ مجاہدہ کرنا۔ کیونکہ جو شخص پاکدامنی اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے پاکدامن بنا دیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کی خاطر کسی چیز کو چھوڑتا ہے، اللہ اسے اس سے بہتر عطا کرتا ہے۔
بعض سلف سے پوچھا گیا: نگاہیں نیچی رکھنے میں کس چیز سے مدد حاصل ہوتی ہے؟ انہوں نے فرمایا: تم یہ یقین رکھو کہ تمہاری نظر جس پر پڑ رہی ہے، اس سے پہلے اللہ کی نظر تم پر پڑ رہی ہے۔
نگاہیں نیچی رکھنے میں مددگار چیزوں میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی شبہات اور فتنوں کے مقامات اور بری مجلسوں سے دور رہے، کیونکہ دل کمزور ہیں اور فتنے اچک لینے والے ہیں۔
اللہ آپ پر رحم فرمائے، جان لو کہ نگاہیں نیچی رکھنا محرومی نہیں بلکہ وقار ہے، گھٹن نہیں بلکہ حفاظت اور دینداری ہے۔
اللہ کے بندو! سنو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، اور اپنی نگاہیں ان تمام چیزوں سے بچاؤ جنہیں تمہارے رب نے حرام قرار دیا ہے۔ اور اپنی خلوت و جلوت ہر حال میں اللہ کا خوف کھاؤ، کیونکہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا۔
اللہ کا فرمان ہے:
إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا6
بے شک کان، آنکھ اور دل، ان میں سے ہر ایک کے بارے میں ضرور باز پرس ہوگی۔
اللہ کے بندو! یہ باتیں ہوئیں، اور درود و سلام بھیجو حکمت و ہدایت کے ساتھ مبعوث کیے جانے والے پر، جو تمام مخلوق میں سب سے بہتر اور روئے زمین پر چلنے والوں میں سب سے افضل ہیں۔ جیسا کہ تمہارے رب جل وعلا نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے
اللہ نےفرمایا:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا7
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجا کرو۔
اے اللہ! اس رسولِ امین پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما، اور ان کی پاکیزہ اور پاکباز آل پر، اور ان کی بیویوں امہات المومنین پر۔ اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین اور تمام صحابہ و تابعین سے راضی ہو جا، اور ان لوگوں سے بھی راضی ہو جا جو قیامت تک اچھی طرح ان کی پیروی کریں۔ اور ان کے ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا، اپنے عفو و کرم اور احسان سے، اے اکرم الاکرمین۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت و غلبہ عطا فرما، دین کے قلعے کی حفاظت کر، اپنے دین، اپنی کتاب، اپنے نبی ﷺ کی سنت اور اپنے مومن بندوں کی مدد فرما۔ اور ہمارے ملک مملکتِ سعودیہ عربیہ اور تمام اسلامی ممالک پر امن و امان کی نعمت کو ہمیشہ برقرار رکھ۔
اے اللہ! ہمارے پیشوا اور حکمران خادمِ حرمین شریفین اور ان کے امانتدار ولی عہد کی حق، توفیق اور درستگی کے ساتھ مدد فرما۔ انہیں اور ان کے معاونین کو ہر اس چیز کی توفیق عطا فرما جو تجھے پسند ہو اور جن سے تو راضی ہو، اور جس میں ملک و ملت کی بھلائی و عزت ہو، اور اسلام و مسلمانوں کی نصرت اور سربلندی ہو۔
اے اللہ! سرحدوں پر مامور ہمارے فوجیوں اور امن کے محافظوں کی مدد فرما، ان کا معاون و مددگار اور حامی و ناصر ہو جا۔
اے اللہ! غمزدوں کے غم دور فرما، مصیبت زدوں کی مصیبت ٹال دے، قرض داروں کے قرض کی ادائیگی فرما، ہمارے اور مسلمانوں کے مریضوں کو شفایاب کر۔ اے اللہ! ہمارے اور مسلمانوں کے فوت شدگان پر رحم فرما۔
فلسطین میں اور ہر جگہ کمزور مسلمانوں کی مدد فرما، اور ان کے ہر غم کو دور کر دے، ہر تنگی کو آسانی اور مصیبت کو عافیت میں بدل دے۔
اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما، یقیناً تو سننے والا اور جاننے والا ہے، ہماری بخشش فرما، یقیناً تو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے، اور ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔
سبحان ربك رب العزة عما يصفون، وسلام على المرسلين، والحمد لله رب العالمين۔
خطبہ جمعہ، مسجد الحرام
تاریخ 17 صفر 1448 ہجری، بمطابق 31جولائی 2026 عیسوی
موضوع:نگاہیں نیچی رکھیں
خطیب: فضیلۃ الشیخ یاسر بن راشدالدوسری
