خطبہ اول:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے حجاج کرام کے لیے ان کا حج آسان فرمایا اور ان کے مناسک کو ان پر سہل بنا دیا۔ ہم اس پاک و برتر ذات کی حمد بھی کرتے ہیں اور اس کا شکر بھی بجا لاتے ہیں جس نے اپنی رحمت سے انہیں ڈھانپ لیا اور ان کے تمام امور کا ذمہ لے لیا۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی نے ان کے اجر و ثواب کو دوچند فرمایا اور ان کی دعاؤں کو قبول کیا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، انہوں نے اس راستے کی رہنمائی فرمائی جس میں ان کی درستی اور نجات ہے۔
اما بعد!
لوگو! میں تمہیں اور خود کو اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں، اللہ آپ پر رحم کرے۔ اس کا تقویٰ اختیار کرو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: اور اسی کی عبادت کرو اور اس کا شکر ادا کرو، اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ اور جان لو کہ عبادت عمر بھر کا نہ ختم ہونے والا سفر ہے اور دل کی نہ رکنے والی حرکت ہے یہاں تک کہ لکھی ہوئی تقدیر اپنی مدت کو پہنچ جائے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ1
اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں یقین یعنی موت آ جائے۔
مسلمانو! اے اللہ کے مقدس گھر کے حاجیوں! یہ مناسک حج اب اختتام کے قریب ہیں اور بہت سے لوگ ان مقامات اور میدانوں میں آنسو بہانے اور دعاؤں کے ہاتھ بلند کرنے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹنے کی تیاری کر چکے ہیں۔ پس خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس نے ان پاکیزہ مقامات اور ان مبارک ایام میں تکبیر، تہلیل، ذکر اور دعا کے ذریعہ ان فضیلت والے اوقات کو زمین و آسمان کے رب کی رضا کے کاموں میں لگایا۔ اور اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں مناسک حج کو بہتر طریقے اور بہترین حالت میں ادا کرنے کی توفیق دی، اور اس نے تمہیں چنا اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سوں پر تمہیں برتری عطا کی اور تمہیں منتخب فرمایا۔ کتنے ہی تڑپنے والے، آرزو رکھنے والے ہیں جن کے نصیب میں نہیں لکھا تھا کہ وہ اس جگہ قدم رکھیں، اور کتنے ہی غافلوں محروم ہیں جنہیں اللہ عزوجل نے اپنی مشیت اور حکمت سے اس سرزمین تک پہنچنے سے روک دیا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَلَٰكِن كَرِهَ اللَّهُ انبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيلَ اقْعُدُوا مَعَ الْقَاعِدِينَ2
لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا، اس لیے اس نے انہیں سست کر دیا اور کہہ دیا کہ بیٹھ رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ۔
مسلمانو! حج اسباق، عبرتوں، نصیحتوں اور موتیوں کا خزانہ ہے، ایمانی سفر اور ربانی تربیت گاہ ہے جس میں مومن بلند اقدار اور اعلیٰ اخلاق سیکھتا ہے جیسے محبت، بھائی چارہ، ایثار، بندوں کو نفع پہنچانا، غصے کو ضبط کرنا، لوگوں کو معاف کرنا، سخاوت، عطا، انکساری اور تکلیف پر صبر کرنا۔ بیشک اس عظیم عبادت سے مومن جو سب سے بڑی چیز حاصل کرتا ہے وہ توحید کی اپنی بلند ترین صورتوں اور نشانیوں اور اس کے عظیم ترین مفاہیم و مقاصد کے ساتھ بجا آوری ہے۔ اللہ کے سامنے بندگی کے ساتھ خود سپردگی کرنا، اس کی اطاعت کر کے اس کا تابع فرمان ہونا، اور شرک اور اہل شرک سے براءت کرنا یہی وہ سب سے بڑا فائدہ ہے جو وہ اسلام کے اس عظیم رکن سے حاصل کرتا ہے۔
چنانچہ تلبیہ کا شعار ہے:
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ۔
اور یوم عرفہ کی دعا ہے: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير۔
اللہ کے بندو! تو کیا اس سب کے بعد یہ بات قابل قبول ہے کہ مومن پلٹ کر کسی ولی کے مزار یا کسی شیخ کی قبر کے چوکھٹ کا سہارا لے، اس سے شفا اور اولاد مانگے، اس سے مدد اور فریاد طلب کرے، یوں اس نے جو کچھ تعمیر کیا اسے ڈھا دے اور جس کی بنیاد رکھی ہے اور جسے مضبوطی سے قائم کیا ہے اسے منہدم کر دے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کر کے توڑ دیا۔ حالانکہ وہ نہ کسی اور کے لیے نفع یا نقصان کا مالک ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَاتَّخَذُوا مِن دُونِهِ آلِهَةً لَّا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيَاةً 3
اور انہوں نے اللہ کے سوا ایسے معبود بنا لیے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے گئے ہیں، وہ نہ اپنے لیے نقصان کے مالک ہیں نہ نفع کے اور نہ موت نہ حیات کے۔
بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو حکم دیا کہ تمام انسانوں سے کہہ دو: میں اپنے لیے نہ نفع کا مالک ہوں نہ نقصان کا مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو میں بہت سا خیر حاصل کرتا اور کوئی برائی مجھے نہ پہنچتی، میں تو صرف ایک ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ایسے لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اولیاء کون ہیں؟
پس اللہ کے بندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس نعمت کی قدر و قیمت اور فضل کو پہچانو، اور حج کے بعد استقامت پر قائم رہنے کی کوشش کرو۔ کیونکہ مبرور حج کی علامت اور قابل قدر قبولیت کی نشانی یہی ہے کہ حاجی زیادہ تقویٰ شعار دل اور بلند ترین کردار کے ساتھ لوٹے۔ میں اپنی یہ بات کہہ رہا ہوں اور اللہ سے اپنے لیے، تمہارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں، پس تم بھی اس سے معافی مانگو۔ بیشک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی اور ہم ہرگز ہدایت نہ پا سکتے تھے اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا۔ ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اس کا شکر ادا کرتے ہیں، اس کے سوا ہمارا کوئی رب نہیں، اور ہم اپنے ہر گناہ اور اس کی آزمائش پر اس سے توبہ کرتے ہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں جنہوں نے ہمیں اللہ کی عبادت اور اس کے تقویٰ کا حکم دیا۔ اللہ درود و سلام اور برکتیں نازل کرے آپ پر اور آپ کی آل و اصحاب پر جنہیں آپ کی صحبت اور آپ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔
اما بعد!
اے اللہ کے مقدس گھر کے حاجیوں! ان مبارک دنوں میں حج کے جو اعمال باقی ہیں ان میں تینوں جمرات کی رمی ہے۔ پس جو شخص جلدی کرنا چاہے اور آج یعنی ۱۲ ذوالحجہ کو رمی کر کے غروب آفتاب سے پہلے کوچ کر جائے تو اس پر کوئی حرج نہیں، اور جو حاجی تاخیر کرے اور غروب آفتاب ہو جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ منیٰ میں تیرہویں کی رات قیام کرے اور اگلے دن زوال کے بعد تینوں جمرات کی رمی کرے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
فَمَن تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ لِمَنِ اتَّقَىٰ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ4
دو دن کی جلدی کرنے والے پر بھی کوئی گناہ نہیں اور جو پیچھے رہ جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، یہ پرہیزگار کے لیے ہے، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔
اسی طرح ہدی ذبح کرنے اور قربانی کرنے کا وقت بھی ۱۳ ذوالحجہ کے دن غروب آفتاب سے پہلے تک ہے۔ لہٰذا جس نے ابھی تک ہدی ذبح نہیں کیا یا قربانی نہیں کی وہ جلدی کرے اور عجلت سے کام لے۔
پھر جان لو اللہ کے بندو کہ کسی بھی حاجی کے لیے جائز نہیں کہ وہ مکہ مکرمہ سے رخصت ہو جب تک وہ بیت اللہ کا وداعی طواف نہ کر لے۔ ابن عباس سے روایت ہے کہ لوگ ہر طرف سے بغیر طواف کے روانہ ہو جاتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص ہرگز نہ نکلے جب تک اس کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف نہ ہو۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔
پھر درود و سلام بھیجو اللہ کی سب سے بہترین مخلوق محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جیسے تمہارے رب نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے۔
اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا5
اللہ اور اس کے فرشتے اس نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو۔
اے اللہ! اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود، سلام اور برکت نازل فرما۔ اور اے اللہ! تمام صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگ جو قیامت تک ان کی پیروی کریں ان سب سے راضی ہو جا۔ اے ارحم الراحمین! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا کر، دین کے قلعہ کی حفاظت کر، اپنے موحد بندوں کی مدد کر۔
اے اللہ! مسلمانوں میں سے غمزدہ لوگوں کے غم دور فرما، پریشان حال لوگوں کی پریشانی دور کر، مقروضوں کا قرض ادا کر اور ہمارے مریضوں اور تمام مسلمان مریضوں کو شفا عطا فرما۔ اے اللہ! ہمیں ہمارے وطنوں میں امن عطا فرما، ہمارے ائمہ اور حکمرانوں کی اصلاح فرما، اور ہمارے امام اور ولی امر خادم حرمین شریفین کو حق، توفیق اور درستگی سے مدد فرما۔ اے اللہ! ان کی عمر، صحت، عافیت اور بھرپور نعمت کے ساتھ دراز فرما۔ اور ان کو اور ان کے امانت دار ولی عہد کو ان امور کی توفیق دے جس میں ملک و ملت کی بھلائی ہو اور اسلام و مسلمانوں کی عزت و رفعت کا باعث ہو۔
اے رب العالمین! اے اللہ! ہماری سرحدوں اور مورچوں پر ڈٹے ہوئے فوجی نوجوانوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! انہیں اپنی اس آنکھ کی حفاظت میں رکھ جو کبھی نہیں سوتی، اور اپنی اس قوت و سہارے سے انہیں محفوظ کر لے جس پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ اے اللہ! ہمارے مظلوم بھائیوں کا مددگار، پشت پناہ، معاون اور ناصر بن جا
۔ اے اللہ! فلسطین میں اور ہر جگہ ان کا حامی بن جا۔ اے اللہ! ہمارے ملک پر امن، استحکام، خوشحالی اور اس کے سپاہیوں کی حفاظت کر۔ اور اس کے خلاف سازش کرنے والوں کی چالیں ناکام کر دے، اور ظالموں کی زیادتیوں کو دور کر دے، اور تمام مسلم ممالک کی بھی حفاظت فرما۔
اے رب العالمین! اے اللہ! حاجیوں کا حج قبول فرما۔ اے اللہ! حاجیوں کا حج قبول فرما۔ ان سب کی دعائیں پوری کر دے، ان کی امیدوں کو بر لا، اور ہمارے رب! انہیں اپنے گھروں کو بسلامت، کامیاب اور قبولیت یافتہ لوٹا دے۔ اپنی رحمت سے اے ارحم الراحمین! اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے نجات دے۔ سبحان ربک رب العزت عما یصفون وسلام علی المرسلین۔
خطبہ جمعہ مسجد الحرام
تاریخ ۱۲ ذوالحجہ ۱۴۴۷ ہجری بمطابق ۲۹ مئی ۲۰۲۶ عیسوی۔
موضوع: حج کے بعد کی ذمہ داری۔
خطیب فضیلۃ الشیخ بندر بلیلہ حفظہ اللہ۔
____________________________________________________________
