خطبہ اول:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو غالب، بخشنے والا، حکیم اور قدر کرنے والا ہے۔ میں اپنے رب کی ان نعمتوں پر حمد بیان کرتا ہوں جنہیں ہم جانتے ہیں اور جنہیں ہم نہیں جانتے۔ اسی کی نعمت، فضل اور اچھی ثناء ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ دلوں کے بھید کو جاننے والا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول، ہر نیک اور مقبول عمل کی طرف بلانے والے اور رہنمائی کرنے والے ہیں۔ اے اللہ! درود و سلام اور برکتیں نازل ہوں آپ کے بندے اور رسول محمد ﷺ پر اور ان کے آل و اصحاب پر جنہوں نے ہدایت و نور کی پیروی کی۔
امّا بعد!
اطاعتوں پر عمل کر کے اور شہوتوں اور محرمات کو چھوڑ کر اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، آگ سے نجات پاؤ گے اور اللہ کی رضا اور جنتوں سے سرفراز ہو گے۔
مسلمانو! اسلام روئے زمین پر صرف ایک اللہ کی عبادت مقرر کرنے کے لیے آیا۔ اس نے عبادت کی بنیادیں مضبوط کیں اور بیان کیا کہ مخلوقات پر اللہ کے کیا واجب حقوق ہیں، اس کے رسول ﷺ کے کیا حقوق ہیں اور بندوں کے ایک دوسرے پر کیا حقوق ہیں، تاکہ مسلمان ایسا نیک بندہ ہو جو اللہ کے اس قول میں شامل ہو:
اور جو کوئی اللہ اور رسول (ﷺ) کی اطاعت کرے تو یہی لوگ روزِ قیامت ان ہستیوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے خاص انعام فرمایا ہے، جو کہ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں اور یہ بہت اچھے ساتھی ہیں۔
اہلِ علم نے کہا: نیک وہ ہے جس نے اللہ کا اور بندوں کا حق ادا کیا اور جو تشہد میں نمازیوں کی دعا “السلام علینا وعلیٰ عباد اللہ الصالحین” میں شامل ہو گیا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورً1
اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور قرابت والے کے ساتھ اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت والے ہمسائے اور اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی اور مسافر (کے ساتھ) اور (ان کے ساتھ بھی) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ بنے ہیں، یقیناً اللہ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو اکڑنے والا، شیخی مارنے والا ہو۔
اہلِ علم نے کہا: یہ حقوق کی آیت کہلاتی ہے۔
اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِم2
یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الْأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُوا عَن رَّسُولِ اللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ3
مدینہ والوں کا اور ان کے ارد گرد جو بدوی ہیں، ان کا حق نہ تھا کہ وہ رسول اللہ سے پیچھے رہتے اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز رکھتے۔
اور اللہ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ4
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو۔
پھر اسلام کا پیغام زمین میں امن و سلامتی قائم کرنے کے لیے ہے۔ چنانچہ اس دین نے پہلے مسلمان کے دین کے امن پر توجہ دی ہے اور ایمان کی عمارتیں قائم کی ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ5
جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو ظلم یعنی شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لیے امن ہے اور وہی راہِ راست پر چل رہے ہیں۔
تو جس نے کمالِ ایمان حاصل کیا اور اللہ نے اسے ظلم سے عافیت دی یعنی شرک اور اس کی تمام قسموں سے، اور اللہ نے اسے معصیتوں کے ذریعے اپنے اوپر اور بندوں پر ظلم کرنے سے عافیت دی، تو اس کے لیے مکمل امن ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ بے وفائی نہیں کرتا۔ اور جس کے ایمان میں کمی واقع ہوئی اور بندوں پر یا اس کی اپنی ذات پر کچھ ظلم ہوا، تو جس قدر اس کی توحید اور اس کی استقامت میں کمی ہوگی، اسی قدر دنیا و آخرت میں اس کے امن و سعادت میں کمی ہوگی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ٘ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ طُوبَىٰ لَهُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ6
جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام بھی کیے ان کے لیے خوشحالی ہے اور بہترین ٹھکانہ ہے۔
اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ7
جو شخص نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ باایمان ہو، تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔
جب اللہ بندوں پر امن و اطمینان کی نوازش کرتا ہے تو دین مضبوط و معزز اور غالب بن جاتا ہے۔ نمازیں، جمعے اور جماعتیں قائم ہوتی ہیں، مصلحتیں، تجارتیں، منفعتیں اور بھلائیاں منظم ہوتی ہیں، لوگوں کی جانیں، عزتیں اور اموال محفوظ ہوتے ہیں، آبادی ترقی کرتی ہے، راستے مامون ہوتے ہیں اور شہر باہم جڑ جاتے ہیں اور ملک ایک دوسرے کے ساتھ لوگوں کی ضرورت کی ہر چیز کا تبادلہ کرتے ہیں۔ روزیاں میسر ہوتی ہیں، خوشحالی عام ہوتی ہے، مال زیادہ ہو جاتا ہے، دل مطمئن ہو جاتے ہیں اور ہر فرد کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں، چوپائے بکثرت ہوتے ہیں۔ یوں امن میں تمام بھلائیاں یکجا ہو جاتی ہیں اور امن کے بگاڑ میں ساری برائیاں اکٹھی ہوتی ہیں۔ ہم اللہ سے عافیت مانگتے ہیں۔ اور امن کمالِ اسلام میں سے ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
عَنْ دِينِهِ وَيُوضَعُ الْمِنْشَارُ عَلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ فَيُشَقُّ بِاثْنَيْنِ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ مَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ زَادَ بَيَانٌ وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ8
اللہ یہ دین ضرور مکمل کرے گا اس حد تک کہ اگر کوئی مسافر صنعاء سے حضر موت کا سفر کرے گا تو اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہوگا اور نہ کوئی اپنی بکریوں کے لیے بھیڑیے کا خوف کرے گا۔
اور یہ چیز اسلام کے شروع دور میں ہی پوری ہو گئی۔
اور نبی ﷺ نے عدی بن حاتمؓ سے کہا:
يَا عَدِيُّ هَلْ رَأَيْتَ الْحِيرَةَ قُلْتُ لَمْ أَرَهَا وَقَدْ أُنْبِئْتُ عَنْهَا قَالَ فَإِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتَرَيَنَّ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنْ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ9
“اگر تمہاری زندگی کچھ اور لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ایک عورت حیرہ شہر یعنی عراق سے روانہ ہوگی، بیت اللہ کا طواف کرے گی، اسے اللہ کے سوا کسی کا بھی خوف نہیں ہوگا۔” عدی نے کہا: میں نے عورت کو دیکھا کہ وہ حیرہ سے سفر کر کے آ رہی ہے یہاں تک کہ بیت اللہ کا طواف کر رہی ہے اور اسے سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہیں۔
اور یہ اس عام امن میں سے ہے جس سے انسانیت بہرہ مند ہوئی۔
اور اللہ کے نبی ﷺ جب نئے چاند کو دیکھتے تو کہتے:
اللَّهُمَّ أَهْلِلْهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ10
“اے اللہ اسے ہم پر امن و ایمان اور سلامتی و اسلام کے ساتھ نکال۔
اسلام کے شعائر امن کے سائے ہی میں قائم ہو سکتے ہیں۔ نمازیں مکمل امن کی صورت میں ہی قائم کی جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے میں فرمایا:
حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ٘ فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا ۖ فَإِذَا أَمِنتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ11
نمازوں کی حفاظت کرو بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لیے باادب کھڑے رہا کرو۔ اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل ہی سہی یا سوار ہی سہی، ہاں جب امن ہو جائے تو اللہ کا ذکر کرو جس طرح کہ اس نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی جسے تم نہیں جانتے تھے۔
اور امن کے ساتھ ہی زکوٰۃ وصول کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے حج کے امن کے سلسلے میں فرمایا:
فَإِذَا أَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ12
پس جب تم امن کی حالت میں ہو جاؤ تو جو شخص عمرے سے لے کر حج تک متمتع کرے، پس اسے جو قربانی میسر ہو اسے کر ڈالے۔
اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حرمت والے گھر میں داخل ہونے والوں کے امن کے سلسلے میں فرمایا۔
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ٘ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا13
اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، جو تمام دنیا کے لیے برکت و ہدایت والا ہے، جس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، مقامِ ابراہیم ہے، اس میں جو آ جائے امن والا ہو جاتا ہے۔
اور ابراہیم خلیل علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی کہ ان مشاعرِ مقدسہ کو امن و سکون والا بنا دے اور یہاں پھلوں کی روزی دے۔
اللہ نے فرمایا:
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ14
اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے پروردگار اس شہر کو امن والا بنا دے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے پناہ دے۔
اللہ تعالیٰ نے عمرہ کرنے والوں پر امن کی نوازش کی:
لَّقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ ۖ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِن شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ15
یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خواب سچا دکھایا کہ ان شاء اللہ تم یقیناً پورے امن و امان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہو گے، سر منڈواتے ہوئے اور سر کے بال کترواتے ہوئے، چین کے ساتھ، نڈر ہو کر۔
اس سلسلے میں نصوص بہت ہیں اور جنت امن کے ساتھ ہی خوشگوار ہوگی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً16
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ۔
اور امن صدا شکر کو واجب کرتا ہے تاکہ اللہ اور بھی نوازے اور نافرمانیوں اور گناہوں سے بچنے کو واجب کرتا ہے جو کہ عقوبتوں کے نزول کا سبب ہوتے ہیں۔ نعمتوں کی جب شکر گزاری کی جاتی ہے تو نعمتیں ٹھہر جاتی ہیں اور جب ناشکری کی جاتی ہے تو بھاگ جاتی ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ17
اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بے شک میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآنِ عظیم میں برکتوں سے نوازے، ہمیں سید المرسلین کے طریقے اور درست باتوں سے فائدہ پہنچائے۔ میں اپنے لیے، آپ کے لیے اور مسلمانوں کے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں، یقیناً وہ بڑا بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں جو متقیوں کا کارساز ہے۔ میں اپنے رب کی حمد بیان کرتا ہوں اور شکر گزار بندوں کی طرح ان نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہوں جنہیں ہم جانتے ہیں اور جنہیں نہیں جانتے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ بڑی قوت و طاقت والا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے سچے رسول ہیں۔ اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر اور آپ کے تمام آل و اصحاب پر درود و سلام اور برکت نازل فرما۔
امّا بعد!
اللہ تعالیٰ کا شکر اور ذکر ہمیشہ کرتے ہوئے تقویٰ اختیار کرو۔ بے شک ہمارا رب تعالیٰ اس بات کا سب سے زیادہ حقدار ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے، اس کی نافرمانی نہ کی جائے، اسے یاد رکھا جائے، اسے بھلایا نہ جائے، اس کا شکر ادا کیا جائے، اس کی ناشکری نہ کی جائے۔
مسلمانو! تم بابرکت دنوں اور فضیلت والے اوقات کا استقبال کر رہے ہو، لہٰذا ان میں نیک اعمال جمع کرو اور جس قدر ہو سکے طاعتوں کو موت سے پہلے اپنے لیے آگے بھیجو۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُم مُّلَاقُوهُ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ18
اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہو اور ایمان والوں کو خوشخبری سنا دو۔
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا ۚ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ19
اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ثواب میں بہت زیادہ پاؤ گے۔ اللہ سے معافی مانگتے رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
اور اے ابنِ آدم! جب تک تم صحت اور عافیت میں ہو اور نیک عمل کی طاقت رکھتے ہو تو آخرت کے لیے عمل کرتے رہو۔
ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالفَرَاغُ20
دونعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے ، صحت اور فراغت ۔
اور نبی ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ مُعَافًى فِي جَسَدِهِ عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا21
تم میں سے جو شخص اپنے گھر میں امن کے ساتھ صبح کرے، جسمانی طور پر تندرست ہو اور اس کے پاس اس دن کی خوراک ہو تو گویا اس کے لیے پوری دنیا جمع کر دی گئی ہے۔
اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو۔
اے اللہ! محمد ﷺ اور آلِ محمد پر رحمت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر درود نازل فرمایا، بے شک تو قابلِ تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اور محمد ﷺ اور آلِ محمد پر برکت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، بے شک تو قابلِ تعریف اور بزرگی والا ہے اور بہت ساری سلامتی نازل کر۔
اے اللہ! خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان اور علیؓ سے راضی ہو جا اور تمام صحابہ کرام سے اور ان لوگوں سے جو قیامت تک ان کی پیروی کریں اور ہمیں بھی اپنی رحمت سے ان میں شامل فرما، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت و غلبہ عطا فرما۔ کفر، کفار، شرک اور مشرکین کو ذلت و رسوائی دے۔ اے اللہ! اپنے دین، اپنی کتاب اور اپنے نبی محمد ﷺ کی سنت کی ہر زمان و مکان میں مدد فرما، انہیں غلبہ عطا فرما، اے عظمت و جلال کے مالک۔
اے اللہ! رب العالمین، ہر مسلمان مرد اور عورت کے معاملات کی خود نگرانی فرما۔ اے اللہ! ہمارے اور تمام مسلمانوں کے فوت شدگان کی مغفرت فرما، ان کی نیکیوں کو کئی گنا کر دے، ان کی خطاؤں سے درگزر فرما اور ان کی قبروں کو منور فرما۔
اے اللہ! ہمارے اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرما۔ پریشان حال مسلمانوں کی پریشانیاں دور فرما، مقروضوں کے قرض ادا فرما۔ اے اللہ! اپنی رحمت سے ہماری، ہماری اولاد کی اور تمام مسلمانوں کی حاجات پوری فرما، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
اے اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان، اس کے ساتھیوں اور اس کے لشکروں سے محفوظ فرما اور تمام مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! اس ملک کی حفاظت فرما جو اسلام کا قلعہ اور مسلمانوں کے لیے نمونہ ہے۔ اے اللہ! ہماری دعا قبول فرما۔
اے اللہ! اس مبارک ملک کو، اس کی سرحدوں، اس کے لشکروں، اس کی عزت، اس کی نعمتوں، اس کے امن اور اس کے ایمان کے ساتھ حفاظت فرما۔ اسے سرکشوں کی سرکشی اور شرپسندوں اور ظالموں کے شر سے محفوظ رکھ۔ اے اللہ! اس ملک، مملکتِ سعودی عرب کو کافروں کی چال اور ان کے شر سے محفوظ رکھ اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو کافروں کے شر سے محفوظ رکھ۔
اے اللہ! خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی حفاظت فرما۔
اے اللہ! اہلِ فلسطین کے مومنین کے لیے آسانی فرما۔ اے اللہ! فلسطین کو ظالم قابضین کے تسلط سے نجات فرما۔ اے اللہ! اہلِ فلسطین کے مومنین کے لیے آسانی فرما اور ان کے لیے راستہ نکال دے اور انہیں ان کے شرپسند لوگوں کے شر سے محفوظ رکھ اور ان کی پریشانیاں اور تکلیفیں دور فرما۔ انہیں رزق، لباس، غذا اور علاج مہیا کر دے اور انہیں ان کے نفسوں کے حوالے نہ کر کہ وہ عاجز ہو جائیں اور نہ لوگوں کے حوالے کر کے وہ ضائع ہو جائیں۔
اللہ کے بندو! اللہ کا کثرت سے ذکر کرو اور اس کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں مزید عطا فرمائے گا اور یقیناً اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔
خطبہ جمعہ:مسجد النبوی
موضوع: اسلام اور امن و امان
خطیب: فضیلت الشیخ ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی
تاریخ: 21 ذوالقعدہ 1447ھ / 08 مئی 2026ء
____________________________________________________________________________
- (سورۃ النسآء:36)
- (سورۃالأحزاب:06)
- (سورۃ التوبہ:120)
- (سورۃ النسآء:59)
- (سورۃ الانعام:82)
- (سورۃ الرعد:29)
- (سورۃ النحل:87)
- (صحیح بخاری:3852)
- (صحیح بخاری:3595)
- (جامع ترمذی:3451)
- (سورۃ البقرۃ:239)
- (سورۃ البقرۃ:196)
- (سورۃآل عمران:97)
- (سورۃ ابراہیم:35)
- (سورۃ الفتح:27)
- (سورۃ البقرۃ:208)
- (سورۃ ابراھیم:07)
- (سورۃ البقرۃ:223)
- (سورۃ المزمل:20)
- (صحیح بخاری:6412)
- (جامع ترمذی:2346)
