یہ ایک انتہائی پُراثر اور ایمان افروز بیان ہے جو ہمیں موت کی اٹل حقیقت اور آخرت کی تیاری کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔ اس میں قرآن و حدیث کی روشنی میں زندگی کے آخری لمحات، موت کی سختی، اور ایک مومن اور کافر کے مختلف تجربات کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ خطبہ اس بات کی پُرزور یاد دہانی ہے کہ ہم دنیا کی عارضی زندگی پر ابدی زندگی کو ترجیح دیں اور اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے، اپنے اعمال کی اصلاح کرکے اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔
اسی سے متعلقہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الوداعی لمحات اور وصیتیں
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الوداعی لمحات اور وصیتیں
اللہ کا سب سے بڑا حق: صرف اسی کی عبادت
اللہ تعالیٰ کا بندوں پر سب سے پہلا اور سب سے بڑا حق یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، اس سے محبت...
نوجوانوں کی ذمہ داریاں
نوجوانوں کی ذمہ داریاں
بد اعمالی کا فریب
خطبہ اول: یقیناً ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے۔ ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اس سے مدد چاہتے ہیں،...
نبی ﷺ نے معاشرے کی اصلاح کیسے فرمائی؟
صحابہ کرام کی زندگی کا مقصد کیا تھا؟ نبی ﷺ نے لوگوں کے دلوں سے دنیا کی رغبت کیسے ختم فرمائی؟ نبی ﷺ...
مومن کا معاملہ – اللہ کی خاص قدر دانی
قال رسول الله ﷺ:“عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ...
مصنف/ مقرر کے بارے میں
الشیخ عبداللہ شمیم حفظہ اللہ
آپ نے کراچی کے معروف دینی ادارہ المعہد السلفی سے علوم اسلامی کی تعلیم حاصل کی اورالشھادۃ العالیہ کی سند حاصل کی، بعد ازاں اسی ادارہ میں بحیثیت مدرس خدمات دین میں مصروف ہیں، آپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں گریجویشن کیا، اب دعوت کی نشر و اشاعت کے حوالےسے سرگرم عمل ہیں اور المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی میں سینئر ریسرچ اسکالر اور الھجرہ آن لائن انسٹیٹیوٹ میں بحیثیت مدرس کام کررہے ہیں۔
