پہلا خطبہ:
تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو مخلوقات کا رب ،تمام جہانوں کا مالک اور بلند درجات والا ہے۔ میں اُس پاک ذات کی حمد بیان کرتاہوں اور اُس کا شکر بجالاتاہوں،وہ بھلائیوں کو عام کرنے والا اور برکتیں عطا کرنے والا ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ،اُس کا کوئی شریک نہیں ،وہ حمد ،عظمت و کرم والاہے۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں ۔ اُن کے ذریعے نعمتیں پوری ہوئی،مصیبتیں چھٹ گئیں اور رحمتیں نازل ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ درود و سلام اور برکت نازل فرمائےآپ ﷺ پر،آپ ﷺ کے چنیدہ و سردار اہلِ خانہ پر ،آپ ﷺ کے سبقت و مرتبے والے صحابہ کرام پر، تابعین پر اور اُن لوگوں پر اُن کی اچھی طرح اتباع کریں جب تک کہ زمین و آسمان باقی رہیں۔
اما بعد!
لوگو! میں آپ کو اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کےتقویٰ کی وصیت کرتاہوں۔اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ۔آپ اللہ کا تقویٰ اختیار کریں،جو اپنے رب کے ساتھ اچھا گمان کرے گاتو اُس کا رب اُس کے گمان کو رد نہیں کرے گا۔ جو اُس کی نعمتوں کا شکر ادا کرے گاتو وہ اُسے اپنا فضل مزید عطا کرے گا۔اور جو اُس پر توکل کرے گا تو وہ اُس کے لئے کافی ہوگا۔اور جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوگا اُس کے دشمن رسواہوں گے ۔اور جسے اللہ تعالیٰ چھوڑ دے گا تو اُسے اُس کے قرابت دار اور دوست کوئی فائدہ نہ د ے سکیں گے۔
اے اللہ کے بندے! تو اس بھلائی کو انجام دینے کی کوشش کرجو تجھے خوش کرے ۔ دن گزر جائیں گے اور لوٹ کر نہیں آئیں گے اور جان لے کہ بھلائی کرنے والے اُس خیر میں جیتے ہیں جو اُنہوں نے مانگا بھی نہیں ، اور ایسے شر سےمحفوظ رہتے ہیں کہ جس سے اُنہوں نے اپنے آپ کو بچایا نہیں۔ اور اُن کے لئے ایسی دُعا بلند ہوتی ہےجسے اُنہوں نے سنا نہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت کرے ۔آپ کےلئے یہ کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کسی محاذ پریا کسی محاذ کی تلاش میں دیکھے ، اور جو نیک اعمال کرے اور ایمان والا بھی ہو تو نا اُسے ناانصافی کا کھٹکا ہوگانہ حق تلفی کا ۔
مسلمانوں کی جماعت! دنیا قدموں سے طے کی جاتی ہے جبکہ آخرت کے سہراؤں کو دلوں کے ذریعے طے کیا جاتاہے۔ دلوں میں آسان اور نرم چیز کی طرف میلان ہوتا ہے اور بھوجل اور دشوار گزار چیز سے نفرت ہوتی ہے۔ چاق و چو بند آدمی پنے نفس کو بلندیوں تک لے جاتاہے اور اُسے اتنا رام کرلیتا ہے کہ انسان اپنے مقاصد کا عادی بن جاتا ہے اور پہاڑوں کی بلندیوں پر اُس کی نظر ہوتی ہے۔یہاں تک کہ جب وہ عزت کو پہچان لیتا ہے تو ذلت سے نفرت کرنے لگتا ہے ۔اور جب روح کی لذت کو چکھ لیتا ہے تو جسم کی لذت کو حقیر جاننے لگتاہے ۔ فرمان ِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا
الاسراء – 19
اور جس کا اراده آخرت کا ہو اور جیسی کوشش اس کے لئے ہونی چاہیئے، وه کرتا بھی ہو اور وه باایمان بھی ہو، پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدردانی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا و آخرت کی جستجو میں ایمان کے نشانات
فکر کی حد بندی نہیں کی جاسکتی اور نہ زبان خاموش رہ سکتی ہے اور نہ اعضاء رک سکتے ہیں ،چنانچہ اگر اُنہیں بڑے کاموں میں لگائیں گے تو چھوٹے کاموں میں لگائے جائیں گے۔ اور اگر اُن کا استعمال خیر میں نہیں کیا گیا تو وہ شر کی طرف مڑ جائیں گے۔ پا ک ہے وہ ذات جس نے اپنے بعض بندوں کو ملاقا ت سے پہلے اپنی جنت دکھادی اور اس دارِ عمل میں اُن کے لئے جنت کے دروازے کھول دئے ۔چنانچہ اُس نے اُنہیں جنت کی وہ آسائش ، ہوا اور خوشبو عطا کی کہ وہ جنت کی طلب اور اُس کی طرف سبقت لے جانے کے لئے اپنی طاقتیں لگا دی ہیں۔یہا ں تک کہ بعض سلف نے کہا: کہ مجھ پر کچھ ایسے اوقات گزرتے ہیں کہ میں کہ اُٹھتا ہوں اگر جنت والے ایسی حالت میں ہیں تو ضرور خوشگوار زندگی میں ہیں۔
ہاں! اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت کرے۔ بڑا فرق ہے اُس شخص کے درمیان جو جسم کو آرام دے اور دل کو تباہ کرے۔ اور اُس شخص کے درمیان جو جسم کو تھکائے اور دل کو سعادت سے ہمکنار کرے۔ جنت کو ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا گیا ہے جہنم کو شہوتوں سے۔
مسلمانوں کی جماعت! کس چیز نے اِن برگزیدہ لوگوں کو آمادہ کیا کہ یہ وہ باتیں کریں جو اُنہوں نے کہی ہیں۔اور کسی چیز نے اُن کے اندر یہ بلند عظائم جگائے۔ بے شک وہ ایمان کی چاشنی ہے ۔ایمان کی چاشنی سے بہراور ہونا اورعبادت کی لذت سے لطف اندوز ہونا ۔
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایمان کی چاشنی اور اُس کا ذائقہ ہےجو دلوں سے ویسے ہی چکھا جاتا ہے جیسے اشیائے خوردو نوش کا ذائقہ زبان سے چکھا جاتاہے۔ ایمان دلوں کی غذا و خوراک ہے ،جیسے کھانا پینا جسموں کی غذا و خوراک ہے۔ جسم جب صحت مند ہوتا ہے تو اُسے کھانے پینے کا ذائقہ ملتا ہے اور جب بیمار ہوتا ہے تو اپنے نفع بخش چیز کا ذائقہ محسوس نہیں کرتاہے ۔بلکہ بسا اوقات ایسی چیز کو میٹھا سمجھنے لگتا ہے جو اُس کےلئے نقصان دے ہے۔اسی طرح دل بھی جب گمراہ کن خواہشات اور حرام شہوات سے محفوظ ہوتاہے تو اُسے ایمان کی چاشنی ملتی ہے۔مگر جب بیمار پڑ جائے تو اُسے ایمان کی چاشنی نہیں ملتی۔ بلکہ وہ اُن خواہشات ،بدعات ،گناہوں اور منکرات کو میٹھا سمجھنے لگتا ہے جن میں اُس کی بربادی ہے۔
بھائیو! ایمان کی چاشنی کا مطلب ہے طاعتوں سےلطف اندوز ہونا ، اللہ عزو جل اور اُس کے رسول ﷺ کی خوشنودی میں مشکلات کو برداشت کرنا اور اُس کے دنیاوی ساز و سامان کو فوقیت دینا ۔ایمان کی چاشنی اور عبادات کی لذت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب اور پسندیدہ اور ظاہری و باطنی اقوال میں سے شرعی واجبات کو انجام دیتے ہوئے نفس کو سکون اور دل کو خوشی حاصل ہو اور سینے میں کشادگی محسوس ہو۔
یہ چاشنی ایسی ہےجو ایک شخص سے دوسرے شخص میں ،ایک حالت سے دوسری حالت سے مختلف ہوتی ہے اور طاقت و کمزوری اور آنے و جانے کے اعتبار سے تغیر پذیر ہوتی ہے ۔ وہ ذات پاک ہے جس نے لوگوں کی ہمتوں میں اتنا فرق رکھا ہے کہ آپ دو ہمتوں کے درمیان مشرق و مغرب جتنا فاصلہ محسوس کریں گے ۔
اللہ کے بندو! ایمان کی چاشنی اللہ تعالیٰ کی طاعت پر ثابت قدم رہنے کی کنجی ہے۔اور عبادت کی لذت فتنوں کے سامنے ڈٹے رہنے کاراز ہے۔بھائیو! جب دل کے ساتھ ایمان کی بشاشت مل جاتی ہےاور وحی کے نور سے بصیرت لبریز ہوجاتی ہے تو اُس میں یہ چاشنی ظاہر ہونے لگتی ہے اور اُس میں یہ سعادت دکھنے لگتی ہے۔بھائیو! دنیا کی لذتیں بدمزہ کرنے والی چیزوں سے ملی ہوئی ہیں۔جبکہ نیک عمل کی لذت خالص ہے ،نیک عمل کی لذت میں کوئی اکتاہٹ نہیں ہے۔بندہ جتنا نیک عمل کرے گا اُسے اتنی ہی زیادہ لذت و سعادت حاصل ہوگی۔ہوسکتاہے کہ دنیا کی لذت بندے کو آخرت کی لذت سے محروم کردے لیکن نیک عمل کی لذت دنیا و آخرت دونوں میں حاصل ہونے والی ہے۔
مسلمانو! رہی بات اُن اسباب کی جن سے چاشنی حاصل ہوتی ہےتو اُن میں اولین اور اہم ترین سبب دل کو پاکیزہ و پاک کرناہے ۔سو جس نے گندے برتن سے پانی پیا وہ ہرگز اپنی مطلوبہ چاشنی کو نہیں پاسکتا۔لیکن اگر اُس نے پہلے اُس برتن کو پاک و صاف کیا اور پھر اُس میں پانی اُنڈیلاتو وہ پوری مٹھاس اور مکمل چاشنی کو پائےگا۔اسی طرح وہ دل جو معاصی کی گندگی اور گناہوں ،شہوتوں سے آلودہ ہوگا وہ اُس وقت تک ایمان کی مٹھا س نہیں پائےگا جب تک اُسے پاک و صاف نہ کرلیا جائے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس نے بھی اُنہیں انجام دیا اُس نے ایمان کا ذائقہ چکھا ۔
جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرے کہ اُس کےسوا کوئی معبود ِ برحق نہیں ،خوشی خوشی اپنے مال کی زکوٰۃ دے اور اپنے نفس کو پاک کرے۔
اور نبی کریم ﷺ کی دُ عامیں آیا ہے: اے اللہ ! تو میرے نفس کو تقویٰ عطاکر اور اُسے پاک کر ،تواُسے سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے۔تو اُس کا کارساز و مالک ہے۔صحیح مسلم
بشر بن حارث کہتے ہیں کہ : بندہ اُس وقت تک عبادت کی چاشنی نہیں پاسکتا جب تک کہ وہ اپنے ہوش و حواس کے درمیان آہنی دیوار کھڑی نہ کرلے ۔
مسلمان بھائیو! تزکیہ بئیں طور ہوگا کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے ہوئے ،اپنی پوری قوت و طاقت سے براءت کا اظاہر کرتے ہوئےظاہر و باطن میں اللہ تعالیٰ کے فرائض کو انجام دے اور سنت کو لازم پکڑے ۔ اور اُن میں سب سے پہلی چیز اللہ عزوجل کی توحید ،اس کے لئے اخلاص، اُس پر سچاتوکل ،اُس پر بھروسہ اورا ُس سے مدد طلب کرنا ہے۔اُس سے محبت ہو ،اُسےہمیشہ یاد کیا جائے،اُس کی جناب میں ہمیشہ محبت و راحت محسوس ہو۔اور اُسے محبت ،ڈر، اُمید اور توکل سے اس طرح خاص کیا جائے کہ وہ پاک ذاتی بندے کی فکر اُس کے عظائم اور اُس کے ارادوں پر چھائی رہے۔ بندہ جس قدر اپنے رب تعالیٰ سے قریب ہوگا اُسی قدر بندے کی آنکھ کو اپنے رب سے ٹھنڈک ملے گی۔ اور جس کی آنکھ اپنے رب سے ٹھنڈی ہوگی تو اُس سے ہر آنکھ ٹھنڈی ہوگی۔اور جس کی آنکھ ٹھنڈی نہیں ہوگی تو اُس کی جان افسوس کے مارے ہلاک ہوجائےگی،اور جس کا دل اپنے رب سے جڑ گیا وہ اُس کی طاعت میں اور اُس کے احکام کی بجا آوری میں ایسی لذت پائے گا کہ جس کے برابر کوئی لذت نہیں ہوگی۔
بھائیو! تزکیہ میں سے یہ ہے کہ بندہ گناہوں سے توبہ کرنے میں اپنے رب سے حد درجہ جدو جہد کرے،اپنے آپ سے جدوجہد کرے ،بکثرت توبہ و استغفار کرے ،اپنی قوت و طاقت سے برات کا اظہار کرے اور اپنے رب سے ایمان ، توفیق و دُرستگی مانگے ۔ بندے میں اللہ تعالیٰ کی بندگی اور محتاجگی جتنی زیادہ ہوگی اتنا ہی وہ اپنے نفس کو حقیر اور چھوٹا جانے گا۔اورا ُس کا دل صرف اپنے ربِ تعالیٰ سے جڑے گا۔یہی وجہ سے کہ کچھ نیک لوگ اپنے آپ پر نفاق سےڈرتے تھے۔
مقرب بن عبد اللہ بن ثقیل کہتے ہیں کہ میں رات سوتا ہوا گزاروں اور صبح شرمندہ ہوکر کروں،یہ میرے لئے اس بات سےزیادہ محبوب ہے کہ میں رات قیام کرتاہوا گزاروں اور مغرور ہو کرصبح کروں،کیوں کے مغرور شخص کا عمل اوپر نہیں چڑھتا۔اور اللہ تعالیِ کے نزدیک گناہ گاروں کی چیخ وپکار ،تسبیح کرنے والے مغرور لوگوں کی نغمہ سرائی سے زیادہ محبوب ہے۔اللہ تعالیِ کے نزدیک سب سے محبوب دن وہ دن ہے جس پر عاجزی اور محتاجی چھائی ہوئی ہو۔وہ اپنے رب کے سامنے سر جھکائے رہتا ہو ،حیا اور شرمندگی کی وجہ سے اُس کی طرف اپنا سر نہ اُٹھاتا ہو۔
لذت ومٹھاس کے عظیم اسباب میں سے دُعاہے ،دُعا ایسا ہتھیار ہے جو کبھی کند نہیں پڑتا۔ حدیث میں آیا ہے: اے اللہ میں تجھ سے ایسی نعمت مانگتاہوں جو کبھی ختم ہونے والی نہ ہو،اور ایسی آنکھ کی ٹھنڈک مانگتا ہوں جو منقطع نہ ہو۔مسند احمد
بندہ بکثرت تدبر کے ساتھ قرآن پڑھے،فرائض کے بعد نوافل کے ذریعے اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرے،اللہ کے ذکر پر مداومت اختیارکرے ،خواہشِ نفس کے غلبے کے وقت اللہ تعالی کی پسندیدہ چیزوں کونفس کی پسندیدہ چیزوں پر ترجیح دے،اللہ تعالی کے فضل ،احسان ،نوازش اور انعام کا مشاہدہ کرے، سحراور نزول الہی یعنی اللہ تعالی کے نزول کے وقت کو غنیمت جانے ،نیک اور برگزیدہ لوگوں کی صحبت میں رہے ،جو بندہ اپنے نفس کا خیر خواہ ہے وہ یہ بات اپنے ذہن میں رکھے کہ وہ نماز ، روزہ ، صدقہ،احسان ،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر،حصولِ علم، لوگوں کے ساتھ بھلائی ،اچھے لوگوں کی صحبت ،علم کے حلقوں اور ذکر کی مجلسوں میں حاضری کی شکل میں جو متنوع عبادات انجام دیتا ہے وہ ایسی طاعتیں ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی طلب کی جاتی ہے۔اور یہ بھی ذہن میں رکھے کے اُن عبادات کو اللہ تعالیٰ پسند کرتاہے اور اُن سے راضی ہوتاہے اور یہ عبادات اُسے ربِ تعالیٰ کےقریب کریں گی۔
بندہ جتنی عبادت کی چاشنی چکھے گا عبادت کی طرف اُس کا میلا ن اتنا یقینی ہوگا۔اس معاملے میں بندے الگ الگ ہیں، کوئی نماز میں اپنے آپ کو پاتا ہے تو دوسرا روزے میں، تیسرا صدقات میں اپنے آپ کو پاتا ہے تو چوتھا علم کے حصول اور اُس کی نشر و اشاعت میں اور پانچواں قیام اللیل میں ۔ یہ بندہ ذکراور یکسوئی، گریہ زاری اور دُعا میں مشغول ہےتو وہ بندہ صلہ رحمی ،بھلائی ،غرباء کے ساتھ احسان کرنے اور یتیموں کی دیکھ بھال اور سرپرستی کرنے میں ہے۔ اور آپ کو معلوم ہے کہ شریعت کے تقاضے بہت ہیں تو نفس آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے رہتے ہیں، اسی لئے آپ محنت کریں ،عمل کریں اور تیار رہیں۔ ہرایک کے لئے وہ کام میسر ہے جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیاہے۔
بھائیو! جن عظیم ترین چیزوں سے ایمان کی چاشنی اورعبادت کی لذت حاصل کی جاتی ہے اُن میں سے اعمال ِ قلب اور خصوصاً محبت ورضا پر پری توجہ دینا ہے۔ صحیحین میں ہے کہ تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جن لوگوں میں وہ خصلتیں پائیں گئیں تو اُنہوں نے ایمان کی چاشنی پالی۔ پہلی یہ کہ جسے اللہ اور اُس کا رسول باقی ہر کسی سے بڑھ کر محبوب ہوں۔ دوسری یہ کہ وہ جب کسی سے محبت کرے تو اللہ ہی لئے کرے اور تیسری خصلت یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے اُسے کفر سے بچالیا تو وہ دوبارہ کفر کی طرف پلٹنے سے اُسی طرح نفرت کرے جیسے اِس بات سے نفرت کرتاہے کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے۔
محبت کی نشانیوں اور سچی محبت کے دلائل میں سے یہ کہ محبوب سے قریب ہونا بلکہ اس کی قربت میں لذت و چاشنی محسوس کرناہے۔ اسی لئے محبت کرنے والوں کے سردار اور عبادت گزاروں کے امام ہمارے پیارے نبی کریم محمد ﷺ نے فرمایا: اے بلال! نماز کے ذریعے ہمیں راحت پہنچا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے بتلایا کہ آپ ﷺ کی آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں ہے کیونکہ آپ ﷺنماز میں راحت ،چاشنی اورسکون پاتے ۔ اس لئے کہ نماز میں قیام ،رکو ع اور سجود کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے قربت ہوتی ہے ۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِب ۩
العلق – 19
خبردار! اس کا کہنا ہرگز نہ ماننا اور سجده کراور قریب ہو جا۔
محبت کرنے والے کی راحت اور آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں ہے اور جو غافل اور منہ موڑنے والا ہے تو اِس میں اُس کاکوئی حصہ نہیں۔
اللہ کے بندو! عظیم محبت سے عظیم شوق پیدا ہوتاہے اور دنیامیں عظیم ترین لذت یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے لئے مشاق ہوں جیسے آخر ت میں عظیم ترین لذے سے اللہ ذوالجلال کے معزز چہرے کا دیدار۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے اپنی دُعا میں اِن دونوں کو جمع فرمایا:
وَاَسْئَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ اِلَی وَجْھِكَ وَالشَّوْقَ اِلَی لِقَاءِكَ
اورمیں تجھ سے تیرے میزز چہرے کے دیدار لذت اور تیری ملاقات کا شوق طلب کرتاہوں۔ مسند احمد ،سنن نسائی
بعض سلف کہا کرتے تھے کہ: دنیا کی سب سے اچھی چیز اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت ہے اور آخرت کی سب سے اچھی چیز اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے۔بعض نیک لوگ کہتے : دنیا والوں کے مساکین دنیا سے نکل گئےمگر اُنہوں نے اُس کی سب سے اچھی چیز کو چکھا ہی نہی۔جب اُن سے پوچھا گیا کہ دنیا کی سب سے اچھی چیز کیا ہے؟تواُنہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی معرفت ،اُس کی محبت اور اُس کا ذکر۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ
الزمر – 9
بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو، (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہو سکتے ہیں) بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔ (اپنے رب کی طرف سے)۔
دوسرا خطبہ:
ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو ہر نفس اور اُس کی کمائی کا نگہبان ہے۔اسی لئے کسی کواُس سے بے نیازی نہیں۔ میں اُس پاک ذات کی حمد بیان کرتا ہوں اور خلوت و جلوت میں اُس کا شکر بجالاتا ہوں اور میں ظاہر و باطن میں حق و یقین کی گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کےسوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اُس کا کوئی شریک نہیں ۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار و نبی کریم محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کما حقہ جہاد کیا اور کمزور و سست نہیں پڑے۔
اللہ تعالیٰ درود و سلام اور برکت نازل فرمائے آپ ﷺ پر، آپ کے اہلِ خانہ و صحابہ کرام پر جو ہمارے قدوہ و پیشوا ہیں۔ پھر تابعین پراور اُن لوگوں پرجو ان کا اچھی طرح اتباع کریں تاقیامت ۔ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ سلامتی نازل فرمائے۔
اما بعد!
مسلمانو! ایمان کی چاشنی اور لذت میں سے اللہ تعالیٰ کے دین پر ثابت قدم رہنا ہے۔بندہ برابر عبادات کی ادائیگی کرتارہتا ہےاور نیک اعمال بکثرت کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اُس کی لذت اسی محنت میں ہوتی ہے ۔اور یہاں تک کہ آپ اُسے دیکھیں گے کہ اپنے وقت کے کسی حصے کے ضائع ہونے اورعبادت میں سستی ہونے پرافسوس و ندامت محسوس کرتا ہے۔اسی طرح اُس کے آثار میں سے مزید طاعت کی خواہش کرنا ہے ،چنانچہ نماز اُس کی آنکھ کی ٹھنڈک بن جاتی ہے ،روزہ اُس کا سامانِ لطف بن جاتاہے ،ذکر اُس کاانیس اور قرآن کریم اُس کاہم نشین بن جاتاہے ۔
چاشنی کے عظم ترین اثرات میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے بہتر زندگی عطا فرماتاہے۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
النحل – 97
جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔
اس لئے وہ لوگوں میں سب سے اچھی زندگی والا ،سب سے کشادہ سینے والا،سب سے مضبوط دل والااور سب سے شاداں نفس والا ہوتاہے۔اُس پر نعمت کی تازگی نمایاں رہتی ہے۔
دینی بھائیو! جب یہ ایمان کی چاشنی ہے اور اُس کے حاصل کرنے کے یہ اسباب وآثار ہیں تو آپ جان لیں کہ اس کے حصول سے روکنے والی چیز معاصی اور گناہ ہیں۔ گناہ وہ دبیز پردہ ہیں جو ایمان کی چاشنی اور عبادت کی لذت کو روک دیتا ہےکیوں کہ اُن کی وجہ سے سنگدلی ،سخت مزاجی اور بے رخی پیدا ہوتی ہے۔یہاں تک کہ بعض سلف نے کہاکہ: اللہ تعالیٰ کسی شخص کو سنگدلی سے بڑی سزا نہیں دی ہے، بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جنہوں نے اپنی نگاہوں کو بے لگام چھوڑاتو وہ بصیرت کے نور سے محروم کردی گئیں،یا اپنی زبان کو بے لگام چھوڑا تواپنےدل کی صفائی سے محروم کردیئے گئے۔یا کھانے میں شبہ کیا تو اُن کے سینے تاریک ہوگئے،قیام اللیل اور مناجات کی لذت سے محروم کردئےگئے۔
ذوالنون رحمہ اللہ نے فرمایا: جیسے جسم جب بیمار ہوتا ہے تو کھانے کی لذت نہیں پاتاہے اسی طرح دل گناہوں کی موجودگی میں عبادت کی چاشنی نہیں پاتاہے۔
اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے۔آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور جان لیں کہ کبھی غم ،اُداسی و تنگی فوری سزا ہوتی ہے اور اللہ کی طرف متوجہ ہونا اور اُس کی طرف رجوع کرنا،اُس سے راضی ہونا،اُس کی محبت سے دل کا لبریز ہونا،اُس کا ذکر کرنااور اُس کی معرفت سے خوش ہونا ،اِس کا فوری ثواب جلد ملنے والی جنت اور معزززندگانی ہےجس کے برابر کوئی زندگانی نہیں ۔اور معاصی اور گناہوں کے چھوڑنے میں دلوں کی زندگی ہے،تو جب دل زندہ ہوں گے توانسان ایمان کی چاشنی اور عبادت کی لذت سے محظوظ ہوگا۔
ہم اپنے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ سےڈریں اور اُس کے لئے اخلاص برتیں ،جب اُس سے ڈریں گے تو اُس کی انسیت حاصل ہوگی۔سو اُنسیت میں رہنے والوں کی زندگی کی لذت کاکیا کہنا۔اور ہائے وحشت میں رہنے والوں کا نقصان۔
میں اپنی بات کہتاہوں ، آپ نبی کریم ﷺ پر درود وسلام پڑھیں۔ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
الاحزاب – 56
اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔
یا اللہ! محمد اور آل محمد پر درود نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر درود نازل کیا ، بیشک تو تعریف کے لائق اور بزرگی والا ہے۔ یا اللہ! محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی، بیشک تو تعریف کے لائق اور بزرگی والا ہے۔
یا اللہ! محمد اور آل محمد پر درود نازل فرما جیسے تو نے آل ابراہیم پر درود نازل کیا ، اور محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما جیسے تو نے آل ابراہیم پر جہانوں میں برکت نازل کی، بیشک تو تعریف کے لائق اور بزرگی والا ہے۔
اے اللہ تو اپنی رحمتیں اپنی برکتیں سید المرسلین،امام المتقین خاتم النبین ،اپنے بندے اور رسول ﷺ پر نازل فرما جو خیر کے امام اور خیر کے قائد ہیں رسول ِ رحمت ہیں ۔ اے اللہ ! انہیں مقام ِ محمود سے نواز جسے سے اگلے اور پچھلے اُن پر رشک کریں اور اے اللہ تو راضی ہوجاان کے چاروں خلفاء راشیدین، ہدایت یافتہ سربراہان ابو بکر ،عمر ،عثمان ،علی سےاورتمام صحابہ اور تابعین سے اور ان سے جو دُرست طریقے سے قیامت تک اُن کی پیروی کریں ۔یاکریم یا وہاب۔
اے اللہ ! تو اسلام کو اور مسلمانوں کو عزت و عظمت عطا فرما۔
اے اللہ ! تو اسلام کو غالب کردے اور مسلمانوں کی مدد فرما۔اور شرک و مشرکین کو ذلیل و رسوا کردے اور دین ِ اسلام کے دشمنوں کو نیست و نابود کردے۔
اے اللہ! تو ہمیں ہمارے وطنوں میں امن عطا فرما۔
اے اللہ ! تو ہمارے امام کو توفیق عطا فرمااور اپنی توفیق سے اُن کی تائید فرما۔
اے اللہ ! تو ہمیں ہر طرح سے عافیت عطا فرما۔
اے اللہ! ہم تجھ سے کوڑ کی بیماری سے اور دوسری بُری بیماریوں سے پناہ مانگتے ہیں۔
اے اللہ ! تو بے نیاز ہے اور ہم تیرے محتاج ہیں ،ہم پر رحم فرما اور ہم پر بارش نازل فرما۔
اے اللہ ! ہم پر بارش نازل فرما۔
اے اللہ ! ہم تیری مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں ،ہمیں ہمارے گناہوں کی وجہ سے اپنی رحمت سے محروم نہ کر۔
اے اللہ ! ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائی عطا فرما اور جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔
اے اللہ ! تو اس ملک کو امن و اطمنان ، ہمدردی و سخاوت ، اتحاد و بھائی چارے سے بھر دے اور اسی طرح باقی تمام مسلم ممالک کو بھی ۔
اے اللہ ! ہم تجھ سے سوائے خیر کے اورکسی چیز کا سوال نہیں کرے تو ہمیں خیر عطا فرما۔اور جس چیز کا تجھ سے سوال نہیں کرتے اس کی ابتلاء سے محفوظ فرما۔ اور سلامتی ہو بیغمبر علیہ السلام پر اور سب طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔
خطبة الجمعة مسجد الحرام: فضیلة الشیخ صالح بن حمید حفظه اللہ
14جمادی الآخرة 1442هـ بمطابق 11 جنوری 2022