حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دوسرے خلیفہ راشد، عادل اور حق و باطل میں فرق کرنے والے “فاروق” تھے۔ نبی کریم ﷺ کی دعا سے اسلام لائے، جس سے دین کو تقویت ملی۔ آپ کی رائے وحی کے مطابق ہوتی، اور شیطان بھی آپ سے راہ بدل لیتا تھا۔ خلافت میں عدل و انصاف کی مثالیں قائم کیں، اور فجر کی نماز میں شہید ہوئے، نبی کریم ﷺ نے آپ کو شہداء میں شمار فرمایا۔
اسی سے متعلقہ
علماء و دینی مدارس کی اہمیت و مقام
علما و دینی مدارس کی اہمیت و مقام
برما کے مسلمانوں پر تشدد اور اصحاب الاخدود
برما کے مسلمانوں پر تشدد اور اصحاب الاخدود
بارش اللہ تعالیٰ کی جانب سے عظیم نعمت اور معرفتِ الہی کا سبب
بارش اللہ تعالیٰ کی جانب سے عظیم نعمت اور معرفتِ الہی کا سبب
مسلمانوں کی پستی کے اسباب اور علاج
مسلمانوں کی پستی کے اسباب اور علاج
نبی ﷺ اور بادلوں کا خوف
رسول اللہ ﷺ بادلوں کو دیکھ کر خوش ہونے کے بجائے فکرمند اور بے چین ہو جاتے تھے، اس خوف سے کہ کہیں یہ...
گناہوں کی بخشش توبہ و استغفار کے ذریعے
گناہوں کی بخشش توبہ و استغفار کے ذریعے
