حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دوسرے خلیفہ راشد، عادل اور حق و باطل میں فرق کرنے والے “فاروق” تھے۔ نبی کریم ﷺ کی دعا سے اسلام لائے، جس سے دین کو تقویت ملی۔ آپ کی رائے وحی کے مطابق ہوتی، اور شیطان بھی آپ سے راہ بدل لیتا تھا۔ خلافت میں عدل و انصاف کی مثالیں قائم کیں، اور فجر کی نماز میں شہید ہوئے، نبی کریم ﷺ نے آپ کو شہداء میں شمار فرمایا۔
اسی سے متعلقہ
ھم و حزن اور مستقبل کا خوف
اللہ کے نبی ﷺ اکثر اللہ تعالیٰ سے مختلف شرور و فتن سے پناہ مانگا کرتے تھے، اور ان میں سے ایک دعا یہ...
ظلم کے خلاف خاموشی بھی ایک جرم ہے
جب لوگ کسی ظالم کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو اس کا کیا نتیجہ نکلتا...
اہل ایمان کی صفات
اہل ایمان کی صفات
موت کی تمنا کے 6 خطرناک مقامات
موت کی تمنا کے 6 خطرناک مقامات
گناہوں پر ندامت اور استغفار
انبیاء کرامؑ معصوم ہونے کے باوجود کثرت سے استغفار کیوں کرتے تھے؟نبی کریم ﷺ ایک مجلس میں کتنی مرتبہ...
بارش کی برکت اور نبی ﷺ کا عمل
جب زمین بنجر اور بے جان ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل فرماتا ہے، جس سے وہی زمین سرسبز و...
