ابرار کا انجام اور فجار کی نحوست
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ”
بے شک نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے۔
اسلام کا مقصد ہمارے سامنے بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و دانش اور جسمانی قوت عطا فرمائی تاکہ وہ خیر و شر میں فرق کر سکے اور اپنے عمل کا راستہ خود منتخب کرے۔ یہی دنیا دارالعمل ہے، جبکہ آخرت دارالجزاء ہے، جہاں قیامت کے دن ہر ایک کو اس کی کوشش کا بدلہ دیا جائے گا۔
اگر انسان بدی کا راستہ اختیار کرے تو قرآن مجید فرماتا ہے:
“وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ”
اور یقیناً بدکار دوزخ میں ہوں گے۔
برائی کرنے والے کے چہرے پر ایک عجیب نحوست اور سیاہی نمایاں ہو جاتی ہے۔ نیکی اور بھلائی کی طرف میلان کم ہو جاتا ہے اور دل سخت ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس نیک عمل انسان کو روحانی سکون، دل کی روشنی اور چہرے کی تازگی عطا کرتا ہے۔
یہودیوں کی وہ کون سی خوش فہمی تھی جس نے انہیں دھوکے میں رکھا؟ "فلاں…
مقرر کے مطابق اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلا اور سب سے بدترین فتنہ…
امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے "اہلِ حدیث" کے بارے میں کیا فرمایا؟…
جہنم میں عورتوں کی کثرت کس اعتبار سے ہوگی؟ جہنم میں عورتوں کی تعداد زیادہ…
نبی اکرم ﷺ نے غزوہ احد سے پہلے کیا خواب دیکھا اور اس کی تعبیر…