احکام و مسائل

ایمان کی حقیقت اور اس کی پختگی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جانثار صحابہؓ نے محض اس “جرم” پر سخت تکالیف برداشت کیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے تھے۔ لیکن ایمان جب دلوں میں راسخ ہو جائے، اللہ کی معرفت نصیب ہو جائے، آخرت کی حقیقت کا شعور جاگ جائے اور انسان یہ جان لے کہ دنیا فانی اور دھوکے کا سامان ہے تو پھر وہ سب سے بڑی طاقت کے سامنے بھی ڈٹ جاتا ہے۔

ایمان محض تمناؤں اور زبانی دعووں کا نام نہیں، جیسا کہ فرمایا گیا:
ليس الايمان بالتحلى ولا بالتمنى
بلکہ ایمان وہ ہے جو دل میں قرار پکڑ لے اور عمل اس کی تصدیق کرے:
ولكن ما وقر في القلب وصدقه العمل

پس ایمان کی اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ دلوں میں اتر کر عمل کے ذریعے ظاہر ہو۔ یہ ایمان انسان کو قربانی، ثابت قدمی اور اللہ کے راستے میں استقامت عطا کرتا ہے۔

الشیخ عبید الرحمان حفظہ اللہ

Recent Posts

کیا قبر میں پیارے نبیﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟

کیا قبر میں سوالات کے دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟ کیا…

2 days ago

اسباب اختیار کرتے ہوئے یہ غلطی ہرگز نہ کریں!

اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…

7 days ago

منافقین کی صفات اور نفاق کا ظہور

مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…

1 week ago

اللہ کے اسماء وصفات کی معرفت

 خطبہ اول: یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے،…

1 week ago

چند جامع نصیحتیں

 خطبہ اول: تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو بقا و ابدیت میں منفرد ہے۔…

1 week ago

مہنگائی کیوں؟

قدرتی وسائل سے بھرپور پاکستان معاشی بحران کا شکار کیوں ہے؟ ہماری بدحالی کی بنیادی…

1 week ago