زندگی کی آخری سانس تک الله کی عبادت کرتے رہیں

پہلا خطبہ:

ہر طرح کی تعریف اللہ تعالی ٰ کے لئے ہے ،جو پکارنے والوں کی پکار کو قبول کرنے والا ہے،کوشش کرنے والوں کو ثواب سے نوازنے والا ہے،طلب کرنے والوں کو عطا کرنے والا ہے،رغبت کرنے والوں کو راضی کرنے والا ہے،ہلاک ہونے والوں کو بچانے والا ہےاور راہ پر چلنے والوں کو ہدایت دینے والا ہے ۔ عبادت کو اُسی کے لئے خالص رکھتے ہوئے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود ِ برحق نہیں ،اُس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ  اُس کے بندے ،رسول ، متقیوں کے امام اور خاتم الانبیاء ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا درود و سلام اور برکت نازل ہو آپ ﷺ اور آپ ﷺ کی آل  پر اور اصحاب ِ کرام  پر اور قیامت تک صحیح طریقے سے ان کی پیروی کرنے والوں پر۔

اما بعد!

اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اسی کی اطاعت کرو،اس سے ڈرو اور اُس کی نافرمانی نہ کرو اور جان لو!  تم سب کا معبود ایک اللہ ہی ہے  تو تم اس کی متوجہ ہوجاؤ اور اس سے گناہوں کی معافی مانگو ۔

مسلمانو! ہم ذی الحجہ کے دس انتہائی مبارک اور بابرکت ایام کے سائے میں رہے ہیں ۔ ہمیں کریمانہ نعمتوں اور عظیم رحمتوں کے نوازنے کے بعدیہ ایام جمع ہوکر گزرگئے ،اپنے خیموں کو لپیٹ لیا اور لوٹ گئے ۔ ہم نے اِن ایام میں جو عمل کیا وہ اُنہی پرڈال دیا۔ مبارک باد اور نعمتیں ہیں اُن کےلئے جو اِن میں کامیاب ہوئے اور ہلاکت و بربادی ہے اُن کے لئے جو ان ایام کی نعمتوں اور رحمتوں سے محروم رہے ۔

یاد رکھو! ان بابرکت دنوں کے ثمرات و اثرات سے ایک مسلمان کو جو اہم چیز حاصل کرنی چاہیئے وہ یہ ہے کہ نیک اعمال پر مداومت قائم رکھنا ۔وہ اطاعت کیا ہی عمدہ ہے کہ جس کے بعد اطاعتوں کا تسلسل ہو اور وہ نیکی کیا ہی بہترین ہے کہ جس کے بعد نیکیوں کی  قطار ہو۔ کتنا شاندار ہے نیکوں کا یکے بعد دیگرے انجام پانا جو آپس میں  ملی ہوئی ہوں اور جن کی کڑیاں باہم جڑی ہوں،بے شک یہی باقی رہنے والی نیکیاں ہیں۔

وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا

الکھف – 46

اور (ہاں) البتہ باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک از روئے ﺛواب اور (آئنده کی) اچھی توقع کے بہت بہتر ہیں۔

وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ مَّرَدًّا

مریم – 76

اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ﺛواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں۔

بے شک ہمیشگی والی اطاعت اور مسلسل عبادت ،اچھائی کی علامت ،توفیق کی  ضمانت اور قبولیت کی دلیل ہے ۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا ‎﴿٦٦﴾‏ وَإِذًا لَّآتَيْنَاهُم مِّن لَّدُنَّا أَجْرًا عَظِيمًا ‎﴿٦٧﴾‏ وَلَهَدَيْنَاهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا

النساء – 66/67/68

اور اگر یہ وہی کریں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یقیناً یہی ان کے لئے بہتر اور بہت زیاده مضبوطی والاہے۔اور تب تو انہیں ہم اپنے پاس سے بڑاثواب دیں۔اور یقیناً انہیں راه راست دکھا دیں۔

اللہ کے بندو! ہدایت کا راستہ نہ تو زمانے کے ساتھ خاص ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت زمین کے کسی حصے یا جگہ کے ساتھ محدود ہے ۔ حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے : اللہ تعالیٰ نے مومن کے عمل کے لئے موت کے علاوہ کوئی متعین وقت نہیں بنایا۔پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی :

وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ

الحجر – 99

اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے۔

اطاعت کے میدان وسیع ہیں جیسے نماز ،روزہ ،عمرہ ،قرآن مجیدکی تلاوت ،ذکر اور صدقہ ۔اور اللہ تعالیٰ نے کوئی فرض مقرر نہیں کیا مگر یہ کہ اس جیسی نوافل کو بھی مشروع کیا تاکہ اس کے ذریعے بندہ اجر و ثواب حاصل کرے او ر اپنے ٹھکانے کو بہتر کرے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ نفلی عبادت کے ذریعے میرا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ۔اور جب میں اس سے محبت کرنے لگو ں تو اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے  اور میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہےاور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے،اس کا قدم بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ۔اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں ضرور دوں گااور اگر میری پناہ میں آنا چاہے تو میں اُسے ضرور پناہ دوں گا۔

عمل ِ صالح پر مداومت اختیار کرنا خواہ وہ کم ہی کیوں نہ ہوبہت بہتر ہے برابر انجا م نہ دیئے جانے والے عمل سے خواہ وہ بہت زیادہ ہو۔سیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ  سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کےنزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے؟  تو آپ ﷺ نےفرمایا: جس پر سب سے زیادہ مداومت اختیار کی جائے خواہ مقدار میں کم ہی ہو۔متفق علیہ

جناب علقمہ رضی اللہ عنہ  نے ام المومنین سیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ آپ ﷺ کا عمل کیسا تھا؟ اور کیا آپ ﷺ نے کچھ دن مقرر کررکھے تھے؟ تو سیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:نہیں بلکہ آپ ﷺ کے عمل میں ہمیشگی ہوتی تھی۔اور تم میں سے کون ہے جو آپ ﷺ کے جیسی استطاعت رکھتا ہے ۔متفق علیہ

حافظ ِ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : عبادت میں  بہتر یہ ہے کہ میانہ روی اور پابندی کے ساتھ کیا جائے نہ کہ ایسی مبالغہ آرائی کے ساتھ جو عبادت کے ترک کرنے کا موجب بن جائے۔جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ تھکا ہارا مسافر نہ تو سفر طے کرتا ہے اور نہ ہی سواری کو باقی چھوڑتا ہے۔

اے اللہ ! تو ہمیں برائیوں سے بچنے اور بھلائیوں کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرما۔ہماری موت اس حال میں ہو کہ توہم سے راضی ہو۔

اے اللہ ! تو ہمیں قرآن کریم میں برکت عطا فرمااور نبی کریم ﷺ کے طریقے سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرما۔ یہ بات ہے جو میں آپ سے کہ رہا ہوں ۔ اور میں اپنے لئے ،آپ کےلئے اور تمام مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتاہوں تو تم بھی اُسی سے مغفرت طلب کرو وہی معاف کرنے والا  رحیم ہے ۔

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔اس کی نعمت سے نیکیا ں مکمل ہوتی ہیں اور اُس کے فضل سے برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا درود و سلام ہو مخلوق میں سے سب افضل و اشرف پر ،مکارم ِاخلاق  والی ان کی آل پر اور اصحاب اجمعین پر اورقیامت تک اچھی طرح اُن کی پیروی کرنے والوں پر۔

اما بعد!

مومنو اور اے مبارک حاجیوں! آپ انتہائی مفید اور پاکیزہ اسباق کے ساتھ حج کے مدرسے سے نکلے ہیں  آپ نے اس کے نہایت نیچے اور پیاس بجھا نے والے چشمے سے سیراب ہوئے ہیں ۔ آپ نے توحید پر مبنی اس عظیم شعار کو قائم ہوتے دیکھا ہےکہ وہاں صرف ایک اللہ کی عبادت کی جاتی ہے اور اس کے سوا کسی کو نہیں پکاراگیا۔اور اُسی عزوجل کے لئے طواف و قربانی کی جاتی ہے۔حج نے آپ کو اطاعت کے ساتھ صبر کرنے ،نفس کے خواہشات کے دلدل میں دھنسنے اور شیطان کے مکر  و فریب کے جال میں پھنسنے  سے بچنے کی تربیت کی ہے ۔اور اس کے بعد آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ نیک اعمال انجام دیتے رہیں۔احکامات پر استقامت برتیں اور ممنوعات سے دور رہیں۔

اللہ  تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ

ھود – 112

پس آپ جمے رہیئے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے۔

سفیان بن عبداللہ سقفی رضی اللہ عنہ   سے روایت ہے آپ بیان فرماتے ہیں   کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا کہ : اے اللہ کے نبی ! مجھے کوئی ایسی بات بتائیےکہ آپ ﷺ کے بعد کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے۔تو آپ ﷺ نے فرمایا: کہو   “میں اللہ پر ایمان لایا”اور اس پر جم جاؤ۔

ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ  نے ارشاد فرمایا: سیدھی راہ پر قائم رہو اور تم کماحقہ اس پر قائم نہ رہ سکو گے۔مسند احمد /ابن ماجہ۔

شیخ الاسلام ابن تیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سب سے بڑے شرف کی بات استقامت کو لازم پکڑنا ہے ۔اللہ سے رضا اور قبولیت طلب کرو،ہدایت اور دُرستگی کی امید رکھو۔نبی کریم ﷺ نے جناب علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم دُعا کرتے ہوئے یہ کہو”اے اللہ ! مجھے ہدایت دے اورمجھے سیدھتے راستے پر چلا”اور ہدایت سے صحیح راستے پر چلنے اور تیر کی طرح  سیدھا رہنے کو ذہن میں رکھو۔صحیح مسلم

درود و سلام نازل ہو ،رحمت و ہدایت اور دُرستگی اورنعمت پر  اللہ کے رسول محمد بن عبداللہ ﷺ پر۔ اے اللہ درود و سلام اور برکت نازل ہو آپ ﷺ پر اور آپ کی آل پر ،آپ ﷺ کے صحابہ کرام پر اور قیامت تک اچھے طریقے سے اِن کی پیروی کرنے والوں پر ۔

اے اللہ ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما،دین کے قلعے کی حفاظت فرما،اپنے مواحدین کی مدد فرما۔

اے اللہ ! اس ملک کو اور بقیہ تمام مسلمانوں کےممالک کو امن و استحکام والا بنادے۔

اے اللہ !غم زدہ مسلمانوں کے غم کو دور فرما،مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبت کو دور فرما،مقروضوں کے لئے قرض کی ادائیگی کے اسباب فرمااور ہمارے بیماروں اور بیمار مسلمانوں کو اپنی رحمت سے شفا بخش اے ارحم الراحمین ۔

اے اللہ ! محاذ اور سرحد پر ہمارے فوجی بھائیوں کی دُرستگی اور مدد فرما۔

اے اللہ ! تو اُن کا معاون و مددگار ہوجا،اُن کا موجد و پاسبان بن جا۔

اے اللہ ! تو ہمارے ملکوں میں ہماری حفاظت فرما،ہمارے اماموں اور حکمرانوں کی حفاظت فرما۔

اے اللہ ! حق ،توفیق اور دُرستگی سے تو ہمارے امام اور  حکمرانوں کی تائید فرما۔

اے اللہ ! تو ان کو اور ان کے ولی عہد کو اس چیز کی توفیق  دے جس میں ملک اور لوگوں کی بھلائی ہے۔

اے اللہ ! ہمارے لئے ایمان کو محفوظ فرمادے ۔

اے اللہ ! ہمارے لئے ایمان کو محبوب  فرمادے اور اُسے ہمارے دلوں میں مزین کردے ،کفر کو ،گناہوں کو، اور نافرمانی کو ہمارے نگاہوں میں ناپسندیدہ بنادے اور ہمیں ہدایت یافتہ بنادے۔

اے اللہ ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

اے للہ ہم نے اپنے نفس پر جو ظلم کیا ہےاگر تونے ہمیں نہ بخشا تو ہم بہت خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ عدل کا ، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ نیک سلوک کا حکم دیتا ہے  اور بے حیائی کے کاموں ،ناشائشتہ حرکتوں سے روکتا ہے ،وہ خود تمہیں نصیحت کرتا ہےتو تم نصیحت حاصل کرو اور اللہ کے عہد کو پورا کروجب کہ تم آپس میں قول و قرار کرو  اور قسموں کو ان کی پختگی کے بعد مت توڑو ،حالانکہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن ٹھراچکے ہو۔تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو بخوبی جانتا ہے ۔

خطبة الجمعة مسجد الحرام: فضیلة الشیخ  بندر بلیلة حفظه اللہ
 تاریخ 13 ذوالحجہ 1442هـ  بمطابق 23 جولائی 2021

مصنف/ مقرر کے بارے میں

فضیلۃ الشیخ بندر بلیلۃ حفظہ اللہ