جس طرح رمضان کے یہ چند دن (ایامِ معدودات) تیزی سے گزر گئے، اسی طرح ہماری پوری زندگی بھی لمحوں میں ختم ہو جائے گی۔ یہ فقرہ وقت کی اہمیت اور زندگی کی ناپائیداری کو بیان کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر دن کو قیمتی جانیں، نیکیوں میں لگیں، اور غفلت سے بچیں، کیونکہ زندگی بھی چند دنوں کی مہمان ہے۔
اسی سے متعلقہ
اخلاص نیت Part 2
اخلاص نیت Part 2
اہل حدیث وقت سے پہلے روزہ افطار کرتے ہیں؟
کیا اہل حدیث وقت سے پہلے روزہ کھولتے ہیں؟ مفتی طارق مسعود صاحب کے بے بنیاد الزام کی حقیقت جانیے...
عید کی تیاری میں رمضان نہ رہ جائے!
رمضان میں عید کی شاپنگ پر جانے کے حوالے سے شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟ رمضان میں ہی عید کی تیاری...
سجده: قربِ الہی کا بہترین ذریعہ
سجدے کی اصطلاحی تعریف وضع الجبهة على الأرض للعبادة ولا يكون هذا إلا لله تعالى ترجمہ : اسلامی شریعت...
نبی ﷺ اور بادلوں کا خوف
رسول اللہ ﷺ بادلوں کو دیکھ کر خوش ہونے کے بجائے فکرمند اور بے چین ہو جاتے تھے، اس خوف سے کہ کہیں یہ...
اخلاص اور استقامت
اخلاص اور استقامت
