جس طرح رمضان کے یہ چند دن (ایامِ معدودات) تیزی سے گزر گئے، اسی طرح ہماری پوری زندگی بھی لمحوں میں ختم ہو جائے گی۔ یہ فقرہ وقت کی اہمیت اور زندگی کی ناپائیداری کو بیان کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر دن کو قیمتی جانیں، نیکیوں میں لگیں، اور غفلت سے بچیں، کیونکہ زندگی بھی چند دنوں کی مہمان ہے۔
اسی سے متعلقہ
اخلاص نیت Part 3
اخلاص نیت Part 3
درگزر کی حد کیا ہے؟
یہودیوں نے نبی کریم ﷺ کو “السام علیکم” کہا —آپ ﷺ نے کیا جواب دیا؟حضرت عائشہؓ نے بھی...
اب پاکستان چھوڑ دیں!؟
کفار ممالک کی ظاہری ترقی اور دنیا داری پر بحیثیتِ مسلمان ہمارا کیا رویہ ہو؟ موجودہ حالات میں...
فضولیات سے اجتناب
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ...
دنیا کی حقیقت اور آخرت کی تیاری
کیا ہم نے کبھی چاند کے گھٹنے بڑھنے سے اپنی زندگی کے انجام پر غور کیا؟کیا جنازے ہمیں اپنی موت کی یاد...
علم کیا ہے؟
علم کیا ہے؟
