“میرے والدین چاہتے ہیں کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں، کیا میرے لیے ان کی بات ماننا ضروری ہے؟” یہ سوال بہت سے گھروں میں اختلاف، کشیدگی اور ٹوٹتے ہوئے رشتوں کا سبب بن جاتا ہے۔ بعض لوگ والدین کی اطاعت کے نام پر فوراً طلاق دے دیتے ہیں، جبکہ بعض بیوی کی حمایت میں والدین سے تعلقات خراب کر لیتے ہیں۔ حالانکہ اسلام دونوں انتہاؤں سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ شریعت نے والدین کے حقوق بھی بیان کیے ہیں اور بیوی کے حقوق بھی، اس لیے اس مسئلے کا فیصلہ جذبات، دباؤ یا معاشرتی روایات سے نہیں بلکہ قرآن و سنت کے اصولوں کی روشنی میں ہونا چاہیے۔
اسی لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ والدین کے حکم پر بیوی کو طلاق دینا کب درست ہے اور کب نہیں۔ اس حوالے سے درج ذیل بنیادی شرعی اصول رہنمائی فراہم کرتے ہیں:
1- بلاوجہ طلاق دینا دراصل شیطان کے مقصد کو تقویت دینا، اللہ کی عطا کردہ نعمت کی ناشکری کرنا اور ایک بے قصور عورت پر ظلم کرنا ہے، جو قطعا جائز نہیں۔1
2- اگر بیوی میں کوئی واضح شرعی یا اخلاقی عیب ہو (جس کی اصلاح ممکن نہ ہو) اور والدین طلاق کا حکم دیں، تو بیٹے پر ان کی اطاعت واجب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کو ان کے والد (سیدنا عمرؓ) کے کہنے پر بیوی کو طلاق دینے کا حکم فرمایا تھا۔2
3- اگر بیوی بے قصور ہو اور والدین کسی غلط فہمی یا محض ذاتی عناد کی بنا پر طلاق کا دباؤ ڈالیں، تو بیٹے کے لیے طلاق دینا جائز نہیں، کیونکہ یہ ظلم ہے، نیز خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں ہے۔3
4- اگر والدین کا کوئی مطالبہ یا حکم شریعت کے خلاف بھی ہو، تب بھی ان کے ساتھ بدتمیزی، سخت لہجہ یا بے ادبی اختیار کرنا قطعا جائز نہیں؛ بیٹے پر لازم ہے کہ ادب و احترام برقرار رکھتے ہوئے حکمت اور نرمی کے ساتھ انہیں سمجھانے کی کوشش کرے۔ اسی طرح والدین کے کسی غلط رویے کی وجہ سے بہو کو یہ حق نہیں مل جاتا کہ وہ شوہر کو ان کے خلاف بھڑکائے یا تعلقات خراب کرنے کا سبب بنے؛ بلکہ اصلاح، صبر اور خیرخواہی کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔4
خلاصہ
مندرجہ بالا اصولوں سے واضح ہوتا ہے کہ والدین کے کہنے پر بیوی کو طلاق دینے کا کوئی ایک حکم نہیں جو ہر صورت پر لاگو ہو، بلکہ ہر معاملہ اس کی شرعی حقیقت کے مطابق دیکھا جائے گا۔ اگر والدین کا مطالبہ کسی معتبر شرعی وجہ پر مبنی ہو تو اس کی اطاعت کی جائے گی، لیکن اگر وہ محض غلط فہمی، ذاتی پسند و ناپسند یا ناانصافی کی بنیاد پر ہو تو ایسی صورت میں بے قصور عورت کو طلاق دینا جائز نہیں۔
لہٰذا ایک مسلمان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ والدین کے ساتھ ادب، احترام اور حسنِ سلوک میں کوئی کمی نہ آنے دے، بیوی کے حقوق بھی پوری دیانت داری سے ادا کرے، اور ہر فیصلہ جذبات یا خاندانی دباؤ کے بجائے قرآن و سنت کی روشنی میں کرے۔ یہی وہ متوازن راستہ ہے جو والدین کے حقوق، میاں بیوی کے تعلق اور اللہ تعالیٰ کی رضا، تینوں کی حفاظت کرتا ہے۔
_________________________________________________________________________
