خطبہ اول:
یقیناً ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اس سے مدد طلب کرتے ہیں، اس سے مغفرت چاہتے ہیں، اپنے نفسوں کی برائیوں اور برے اعمال سے اس کی پناہ لیتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ1
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔
لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے۔ اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو، یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو، اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا، جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔
اما بعد!
میں خود کو اور تمہیں اللہ کے تقوی کی نصیحت کرتا ہوں جو کہ وہ سب سے بڑی چیز ہے جس سے خلوتیں معمور ہیں اور سب سے خوبصورت چیز ہے جس سے جلوتیں مزین ہیں۔ یہ فضیلتوں کے پانے کا سب سے قریب ترین ذریعہ اور عظیم ترین سبب ہے۔
اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے:
الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ ۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ۗ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ2
حج چند مہینے ہے، جو معلوم ہیں، پھر جو ان میں حج فرض کرلے تو حج کے دوران نہ کوئی شہوانی فعل ہو اور نہ کوئی نافرمانی اور نہ کوئی جھگڑا، اور تم نیکی میں سے جو بھی کرو گے اللہ اسے جان لے گا اور زاد راہ لے لو کہ بے شک زاد راہ کی سب سے بہتر خوبی (سوال سے) بچنا ہے اور مجھ سے ڈرو اے عقلوں والو!
ایمانی بھائیو! اللہ تعالی نے اپنی عظیم کتاب میں انبیاء و مرسلین کے جو سچے قصے بیان کیے ہیں ان میں نصیحت و عبرت کی مثالوں سے بھرے ہوئے سرسبز و شاداب میدان اور میٹھے چشمے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے:
لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ۗ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَىٰ وَلَٰكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ3
ان کے بیان میں عقل والوں کے لیے یقینا نصیحت اور عبرت ہے، یہ قرآن جھوٹ بنائی ہوئی بات نہیں بلکہ یہ تصدیق ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے کی ہیں، کھول کھول کر بیان کرنے والا ہے ہر چیز کو اور ہدایت اور رحمت ہے ایماندار لوگوں کے لیے۔
ان قرآنی قصوں اور ربانی واقعات میں سے وہ واقعہ بھی ہے جس کی طرف اللہ تعالی نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے ہاجر اور بیٹے اسماعیل کے ساتھ پیش آنے والے معاملے کے بارے میں اپنے اس قول سے اشارہ فرمایا ہے:
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ4
اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب! اس (جگہ) کو ایک امن والا شہر بنا دے اور اس کے رہنے والوں کو پھلوں سے رزق دے،
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ5
اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنادے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔
جب ابراہیم علیہ السلام نے ان دونوں کو اللہ کے حکم سے اس وحشت خیز بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا، اس عجیب واقعے کی تفصیل میں جس کی طرف قرآن میں اشارہ کیا گیا ہے
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے:
مَّا كَانَ بَيْنَ إِبْرَاهِيمَ وَبَيْنَ أَهْلِهِ مَا كَانَ، خَرَجَ بِإِسْمَاعِيلَ وَأُمِّ إِسْمَاعِيلَ، وَمَعَهُمْ شَنَّةٌ فِيهَا مَاءٌ، فَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تَشْرَبُ مِنَ الشَّنَّةِ، فَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبِيِّهَا، حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَوَضَعَهَا تَحْتَ دَوْحَةٍ، ثُمَّ رَجَعَ إِبْرَاهِيمُ إِلَى أَهْلِهِ، فَاتَّبَعَتْهُ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ، حَتَّى لَمَّا بَلَغُوا كَدَاءً نَادَتْهُ مِنْ وَرَائِهِ: يَا إِبْرَاهِيمُ إِلَى مَنْ تَتْرُكُنَا؟ قَالَ: إِلَى اللَّهِ، قَالَتْ: رَضِيتُ بِاللَّهِ، قَالَ: فَرَجَعَتْ فَجَعَلَتْ تَشْرَبُ مِنَ الشَّنَّةِ وَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبِيِّهَا، حَتَّى لَمَّا فَنِيَ المَاءُ، قَالَتْ: لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ لَعَلِّي أُحِسُّ أَحَدًا، قَالَ فَذَهَبَتْ فَصَعِدَتِ الصَّفَا فَنَظَرَتْ، وَنَظَرَتْ هَلْ تُحِسُّ6أَحَدًا، فَلَمْ تُحِسَّ أَحَدًا، فَلَمَّا بَلَغَتِ الوَادِيَ سَعَتْ وَأَتَتِ المَرْوَةَ، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ أَشْوَاطًا، ثُمَّ قَالَتْ: لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ مَا فَعَلَ، تَعْنِي الصَّبِيَّ، فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هُوَ عَلَى حَالِهِ كَأَنَّهُ يَنْشَغُ لِلْمَوْتِ، فَلَمْ تُقِرَّهَا نَفْسُهَا، فَقَالَتْ: لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ، لَعَلِّي أُحِسُّ أَحَدًا، فَذَهَبَتْ فَصَعِدَتِ الصَّفَا، فَنَظَرَتْ وَنَظَرَتْ فَلَمْ تُحِسَّ أَحَدًا، حَتَّى أَتَمَّتْ سَبْعًا، ثُمَّ قَالَتْ: لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ مَا فَعَلَ، فَإِذَا هِيَ بِصَوْتٍ، فَقَالَتْ: أَغِثْ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ خَيْرٌ، فَإِذَا جِبْرِيلُ، قَالَ: فَقَالَ بِعَقِبِهِ هَكَذَا، وَغَمَزَ عَقِبَهُ عَلَى الأَرْضِ، قَالَ: فَانْبَثَقَ المَاءُ، فَدَهَشَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ، فَجَعَلَتْ تَحْفِزُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو القَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ تَرَكَتْهُ كَانَ المَاءُ ظَاهِرًا». قَالَ: فَجَعَلَتْ تَشْرَبُ مِنَ المَاءِ وَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبِيِّهَا، قَالَ: فَمَرَّ نَاسٌ مِنْ جُرْهُمَ بِبَطْنِ الوَادِي، فَإِذَا هُمْ بِطَيْرٍ، كَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوا ذَاكَ، وَقَالُوا: مَا يَكُونُ الطَّيْرُ إِلَّا عَلَى مَاءٍ، فَبَعَثُوا رَسُولَهُمْ فَنَظَرَ فَإِذَا هُمْ بِالْمَاءِ، فَأَتَاهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ، فَأَتَوْا إِلَيْهَا فَقَالُوا: يَا أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، أَتَأْذَنِينَ لَنَا أَنْ نَكُونَ مَعَكِ، أَوْ نَسْكُنَ مَعَكِ، فَبَلَغَ ابْنُهَا فَنَكَحَ فِيهِمُ امْرَأَةً، قَالَ: ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: إِنِّي مُطَّلِعٌ تَرِكَتِي، قَالَ: فَجَاءَ فَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيْنَ إِسْمَاعِيلُ؟ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: ذَهَبَ يَصِيدُ، قَالَ: قُولِي لَهُ إِذَا جَاءَ غَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِكَ، فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَ: أَنْتِ ذَاكِ، فَاذْهَبِي إِلَى أَهْلِكِ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: إِنِّي مُطَّلِعٌ تَرِكَتِي، قَالَ: فَجَاءَ، فَقَالَ: أَيْنَ إِسْمَاعِيلُ؟ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: ذَهَبَ يَصِيدُ، فَقَالَتْ: أَلاَ تَنْزِلُ فَتَطْعَمَ وَتَشْرَبَ، فَقَالَ: وَمَا طَعَامُكُمْ وَمَا شَرَابُكُمْ؟ قَالَتْ: طَعَامُنَا اللَّحْمُ وَشَرَابُنَا المَاءُ، قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي طَعَامِهِمْ وَشَرَابِهِمْ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو القَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَرَكَةٌ بِدَعْوَةِ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ» قَالَ: ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: إِنِّي مُطَّلِعٌ تَرِكَتِي، فَجَاءَ فَوَافَقَ إِسْمَاعِيلَ مِنْ وَرَاءِ زَمْزَمَ يُصْلِحُ نَبْلًا لَهُ، فَقَالَ: يَا إِسْمَاعِيلُ، إِنَّ رَبَّكَ أَمَرَنِي أَنْ أَبْنِيَ لَهُ بَيْتًا، قَالَ: أَطِعْ رَبَّكَ، قَالَ: إِنَّهُ قَدْ أَمَرَنِي أَنْ تُعِينَنِي عَلَيْهِ، قَالَ: إِذَنْ أَفْعَلَ، أَوْ كَمَا قَالَ: قَالَ فَقَامَا .فَجَعَلَ إِبْرَاهِيمُ يَبْنِي، وَإِسْمَاعِيلُ يُنَاوِلُهُ الحِجَارَةَ وَيَقُولاَنِ:{رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ العَلِيمُ}7قَالَ: حَتَّى ارْتَفَعَ البِنَاءُ، وَضَعُفَ الشَّيْخُ عَنْ نَقْلِ الحِجَارَةِ، فَقَامَ عَلَى حَجَرِ المَقَامِ، فَجَعَلَ يُنَاوِلُهُ الحِجَارَةَ وَيَقُولاَنِ: {رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ العَلِيمُ}8
کہ جب ابراہیم علیہ السلام کے حکم سے ہاجر اور شیرخوار بیٹے اسماعیل کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوئے انہوں نے ان دونوں کو بیت اللہ کے پاس ایک بڑے درخت کے نیچے رکھا۔ اس وقت مکے میں نہ پانی تھا اور نہ کوئی فرد۔ ان کے لیے چمڑے کا ایک تھیلا چھوڑا جس میں کھجور تھی اور ایک مشکیزہ جس میں پانی تھا، پھر وہ واپس جانے لگے۔ ام اسماعیل یہ کہتے ہوئے ان کے پیچھے ہو لیں: “اے ابراہیم! کہاں جا رہے ہیں؟ اور ہمیں اس وادی میں چھوڑ رہے ہیں جس میں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی چیز۔” وہ ان سے بار بار کہہ رہی تھیں اور وہ پیچھے مڑ نہیں رہے تھے، آخر ام اسماعیل نے کہا: “کیا آپ کو اللہ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے؟” ابراہیم نے کہا: “ہاں۔” ام اسماعiel نے کہا: “تب وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔” پھر وہ لوٹ گئیں۔ ابراہیم چلتے رہے یہاں تک کہ جب کدا موڑ تک پہنچے جہاں وہ اسے نہ دیکھ سکتے تھے بیت اللہ کا رخ کیا پھر ان کلمات کے ساتھ دعا کی جنہیں اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہے: “اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی کچھ اولاد اس بے کھیتی کی وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسائی ہے، اے ہمارے پروردگار! یہ اس لیے کہ وہ نماز قائم رکھیں، پس تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں کی روزیاں عنایت فرما تاکہ یہ شکر گزاری کریں۔” پھر ان دونوں کے پاس ابراہیم علیہ السلام ایک زمانے کے بعد آئے، اسماعیل جو جوان ہو چکے تھے، جب ابراہیم آئے تو انہوں نے دیکھا کہ اسماعیل زمزم کے قریب ایک درخت کے نیچے تیر درست کر رہے ہیں۔ جب اسماعیل نے والد کو دیکھا ان کی طرف گئے اور ان دونوں نے ویسا ہی کیا جیسا بیٹے باپ کے ساتھ اور باپ بیٹے کے ساتھ کرتے ہیں۔ پھر کہا: “اے اسماعیل! مجھے اللہ نے ایک حکم دیا ہے۔” اسماعیل نے کہا: “آپ کے رب نے آپ کو جو حکم دیا ہے وہ انجام دیجیے۔” ابراہیم نے کہا: “تم میری مدد کرو گے؟” اسماعیل نے کہا: “میں آپ کی مدد کروں گا۔” ابراہیم نے کہا: “اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں یہاں پر ایک گھر بناؤں۔” اور قریب ہی ایک اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا، اس وقت ان دونوں نے گھر کی بنیاد اٹھائی۔ اسماعیل پتھر لاتے اور ابراہیم تعمیر کرتے اور وہ دونوں کہتے جاتے جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن حکیم میں بیان فرمایا ہے: “ہمارے پروردگار! تو ہم سے قبول فرما، تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔”
یہ ان قصوں میں سے ہے جو اللہ پر ایمان، اس کی سچی بندگی اور اس کے حکم کے آگے کمال تسلیم کے مفہوم سے معمور ہیں۔ قصے کے پہلے موقف میں اللہ کے حکم کی اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی جانب سے وہ عجیب فرمانبرداری تمہیں روکتی ہے جس میں ایسا ٹھوس ایمان اور ثابت یقین پایا جاتا ہے جسے نفس کے شکوک و شبہات اور وسوسے نہیں ہلا سکتے۔ تمہیں ہاجر علیہا السلام کی طرف سے اللہ کے حکم کے لیے ایک ایسے دل سے تسلیم و رضا حیرت زدہ کرتی ہے جس میں اطمینان بھرا ہوا ہے اور جو اللہ پر یقین سے آباد ہے اور یہ دراصل اللہ کی طرف سے بے آب و گیاہ وادی میں اپنے خلیل ابراہیم اور ان کے بیٹے اسماعیل کے ہاتھوں بیت معظم کی تعمیر کی تمہید تھی۔ اللہ تعالی نے اس کے بعد اپنے گھر کو لوگوں کے لیے مرجع اور جائے امن بنا دیا، توحید کے عظیم ترین مشاعر میں سے ایک مشعر بنا دیا اور خالص اللہ کی عبادت کے نشانات میں سے ایک نشان بنا دیا، لوگوں کے دلوں کو اس کا مشتاق بنا دیا اور انہیں پھلوں کی روزی دی کہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں، اپنے خلیل علیہ السلام کی دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے۔ دن اور صدیاں گزرتی رہیں اور ابراہیم خلیل علیہ السلام کی اذان دیہات و شہر میں گونج رہی ہے، “اور لوگوں کو حج کے لیے اذن عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں۔” یہ دیکھیے حاجیوں کے اولین گروہ اور قاصدین کے قافلے ان دنوں بیت اللہ کی طرف دور دراز مقام سے آ رہے ہیں تاکہ وہ اپنے فائدے دیکھیں، اپنے مناسک پورے کریں اور بیت عتیق کا طواف کریں، ان مقدس مقامات کی طرف آ رہے ہیں اور ان پر سکینت و ایمان کے بادل چھائے ہوئے ہیں، خوشحالی، فارغ البالی اور امن و امان کی نسیم نے انہیں ڈھانپا ہوا ہے۔ اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے: “اور جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے لیے جمع ہونے اور امن پانے کی جگہ مقرر کیا اور حکم دیا کہ جس مقام پر ابراہیم کھڑے ہوئے تھے اس کو نماز کی جگہ بنا لو اور ابراہیم اور اسماعیل کو کہا کہ طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے میرے گھر کو پاک صاف رکھا کرو۔” اللہ مجھے اور تمہیں قرآن عظیم میں برکتوں سے نوازے اور ہمیں اپنے نبی کریم کی سنتوں سے فائدہ پہنچائے، ان پر کامل ترین درود و سلام نازل ہو، میں وہ بات کہہ رہا ہوں جو تم نے سنا اور میں اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، یقینا وہ بڑا بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو برابر اپنے بندوں پر انعام و احسان فرماتا ہے اور اپنی خوشگوار نعمتوں کے سلسلے فضل و کرم کے ساتھ بڑھاتا ہے، اس نے آپ کو اپنی مہربانی سے طرح طرح کی نعمتیں عطا کیں اور اپنے جود و سخا سے آپ کو اس سے بھی زیادہ دیا جس کی آپ آرزو رکھتے ہیں اور اپنی عطا سے آپ کو وہ بخشا جو آپ کی خواہشات سے بڑھ کر ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِأَمْرِهِ ۗ9
اور اس نے تمھاری خاطر رات اور دن اور سورج اور چاند کو مسخر کردیا اور ستارے اس کے حکم کے ساتھ مسخر ہیں۔
اللہ کی رحمت و سلامتی ہو ہمارے سردار اور نبی محمد پر جو خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں، اللہ کی رسالتوں اور پیغامات کے پہنچانے والے ہیں اور رحمت و سلامتی ہو آپ کے آل و اصحاب، تابعین اور اولیاء سب پر ایسی رحمت و سلامتی جو روز قیامت تک باقی رہے اور ہمیں بھی اپنی معافی اور رضا کے ساتھ ان میں شامل فرما، اے سب سے زیادہ کرم کرنے والے! اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، کفر اور کافروں کو ذلیل کر دے اور اس مبارک ملک کو محفوظ، معمور اور سلامت رکھ۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، کفر اور کافروں کو ذلیل کر، اور اس مبارک ملک کو محفوظ، معمور اور سلامت رکھ، اے رب العالمین! اور یہی خیر تمام مسلم ممالک کو بھی عطا فرما۔
اے اللہ! اس ملک کو ہر سازش اور ہر مکر سے محفوظ رکھ جو حرمین کا مرکز، مسلمانوں کے دلوں کا ٹھکانہ اور ایمان کا گہوارہ ہے۔ اے اللہ اس کے حکمرانوں، اس کے علماء، اس کے عقیدے، اس کی مقدسات اور اس کی حرمتوں کی حفاظت فرما، اس کے فوجیوں کی حفاظت فرما، اس کی سرحدوں کی نگہبانی فرما۔
اے اللہ ہر زمانے اور ہر جگہ میں مسلمانوں کے حالات درست فرما، اے رب العالمین! کمزوروں سے مصیبت اور آزمائش دور فرما اور انہیں اپنے اور ان کے دشمنوں پر غلبہ عطا فرما، اے قوی، اے عزیز، اے متین! اے اللہ ہمارے حکمران، خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کو اپنی حفاظت اور نگرانی میں رکھ، انہیں اپنی پناہ میں رکھ اور انہیں ان کاموں کی توفیق دے جن میں بندوں اور ملک کی بھلائی ہو اور جن میں دنیا و دین کی بھلائی اور درستی ہے اور سب سے زیادہ کرم کرنے والے!
اے اللہ ہم تجھ سے وہ ساری بھلائیاں مانگتے ہیں جن کا علم تو رکھتا ہے اور ہم تیری پناہ چاہتے ہیں ہر اس برائی سے جس کا تو علم رکھتا ہے اور ہم تجھ سے اس چیز کی بخشش چاہتے ہیں جس کا علم تو رکھتا ہے، بے شک تو ہی غیبوں کا جاننے والا ہے۔ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ اے اللہ! ہم تجھ سے اس خیر کو مانگتے ہیں جو تو جانتا ہے،
اللہ کے بندو! اپنے رب کے فضل کو اس کا شکر ادا کر کے قائم رکھو اور اس کے احکام کی پیروی کر کے اس کی نعمتوں کو محفوظ رکھو اور اس کی دعا اور ذکر سے اپنی زبان کو تر رکھو۔ پاک ہے ہمارا رب جو عزت والا ہے ان باتوں سے جو مشرک لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں اور سلام ہو اس کے رسولوں پر اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔
خطبہ جمعہ مسجد النبوی
تاریخ: 14 ذی قعدہ 1447 ہجری | 01 مئی 2026 عیسوی
خطیب: فضیلت الشیخ ڈاکٹر احمد بن علی الحذیفی
_________________________________________________________________
