خطبہ اول:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، ہم اسی کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں، اور اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ ہم اپنے نفس کی برائیوں اور برے اعمال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ1
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے، اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔
اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی سچی باتیں کیا کرو، تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناہ معاف فرما دے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پا لی۔
اما بعد!
ایمانی بھائیو! اللہ کا تقویٰ تمام وصیتوں میں سب سے اہم، اور سب سے بہتر، اور سب سے بلند اور برتر ہے۔ اگر تم تقویٰ سے مزین ہو جاؤ اور اسے اپنا لباس بنا لو، تو اپنے رب کے ہاں عزت پاؤ گے اور بلند مرتبوں تک پہنچو گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔
امت مسلمہ! اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی عظیم کتاب کے خزانوں میں ایسے احکام اور حکمتیں محفوظ کر رکھی ہیں جو عقلوں کے لیے اطمینان بخش، نفوس کے لیے باعثِ سکون، اور دلوں کے لیے شفا ہیں۔ اس کتاب میں انسان کی گزری ہوئی زندگی اور اس دنیا میں اس کے مختصر سفر کی پوری داستان بیان کی گئی ہے۔ اس وقت سے لے کر جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا، اور اس کی تخلیق و تشکیل سے لے کر اس وقت تک جب زمین پر اس کی مختصر زندگی کی مدت پوری ہو جائے گی۔ اس کے بعد اس کی دوسری ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کا بیان ہے، موت سے لے کر دوبارہ اٹھائے جانے تک، پھر حساب و کتاب اور اس انجام تک جس پر اس کی زندگی ختم ہوگی۔
اسی بیان کے اندر یہ حقیقت بھی واضح کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کس مقصد کے لیے پیدا کیا، اس کی سعادت اور بدبختی کے اسباب کیا ہیں، اور گزشتہ امتوں اور سابقہ قوموں کے حالات کیا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ قرآن کی آیات اور اس کی ہدایات کے ایک مربوط سلسلے میں بیان ہوا ہے، جو مومن کے لیے زندگی کا راستہ متعین کرتا ہے اور اس کے سوالات کے جوابات فراہم کرتا ہے۔
آئیے! قرآن مجید کی ایک عظیم سورت، سورہ ق پر غور کریں۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن اس سورت یا اس کے بعض حصوں سے خطبہ دیا کرتے تھے۔
حضرت ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
ا حَفِظْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ قَالَتْ وَكَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا2
میں نے سورہ ق صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جمعہ منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اس کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس عظیم سورت کی تلاوت پر اہتمام اس لیے تھا کہ اس میں بڑے عظیم معانی اور بلند مقاصد جمع ہیں۔ اس کا قرآنی اسلوب منفرد اور بیان نہایت دلنشین ہے۔ اس میں واضح دلائل قائم کرنے کے ساتھ ایسی نصیحتیں بھی ہیں جو انسان کو گناہوں سے روکتی ہیں، دلوں کو مہمیز کرتی ہیں، آنکھوں سے آنسو جاری کرتی ہیں، اور عزم و ہمت کو اللہ کے صراطِ مستقیم اور اس کی درست راہ کی طرف لے جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورت کا آغاز نہایت دلکش انداز میں فرمایا ہے جو دلوں کو اس کی عظمت کے سامنے ٹھہرنے پر مجبور کرتا ہے، اور عقلوں کو اس کے لطیف معانی پر غور و فکر کے لیے آزاد چھوڑ دیتا ہے۔ سورت کا آغاز حروف مقطعات میں سے ایک حرف سے ہوتا ہے، جس کے بعد ایک عظیم قسم آئی ہے، مگر اس کا جواب صراحتاً ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد فوراً ایک نہایت بنیادی مسئلے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور وہ ہے دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا اور آخرت کی زندگی۔
یہ دلکش آغاز اپنی ہیبت اور عظمت کے ذریعے دلوں اور روحوں کو متوجہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ق، بہت بڑی شان والے اس قرآن کی قسم ہے، بلکہ انہیں تعجب معلوم ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک آگاہ کرنے والا آیا، تو کافروں نے کہا کہ یہ عجیب چیز ہے، کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے؟ (پھر یہ واپسی دور از عقل ہے)۔ زمین جو کچھ ان سے گھٹاتی ہے وہ ہمیں معلوم ہے، اور ہمارے پاس سب یاد رکھنے والی کتاب ہے۔ بلکہ انہوں نے سچی بات کو جھوٹ کہا، جبکہ وہ ان کے پاس پہنچ چکی، پس وہ ایک الجھاؤ میں پڑ گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس عظیم حقیقت کو کائنات کے صفحات میں بکھری ہوئی اپنی قدرت کی روشن دلیلوں اور نشانیوں کے ذریعے ثابت فرماتا ہے۔ چنانچہ وہ فرماتا ہے: کیا انہوں نے آسمان کو اپنے اوپر نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے اور زینت دی ہے، اس میں کوئی شگاف نہیں۔ اور زمین کو ہم نے بچھا دیا اور اس میں ہم نے پہاڑ ڈال دیے ہیں، اور اس میں ہم نے قسم قسم کی خوشنما چیزیں اگا دی ہیں، تاکہ ہر رجوع کرنے والے بندے کے لیے بینائی اور دانائی کا ذریعہ ہو۔ اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا اور اس سے باغات اور کٹنے والے کھیت کے غلے پیدا کیے، اور کھجوروں کے بلند و بالا درخت جن کے خوشے تہہ بہ تہہ ہیں، بندوں کی روزی کے لیے، اور ہم نے پانی سے مردہ شہر کو زندہ کر دیا، اسی طرح قبروں سے نکلنا ہے۔
اس کے بعد سورت کا بیان کائنات کے مشاہدات سے انسانی تاریخ کے صفحات کی طرف منتقل ہوتا ہے، جہاں ان لوگوں کے انجام کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے جنہوں نے اللہ کی وحی کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّسِّ وَثَمُودُ٘ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَانُ لُوطٍ٘ وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ ۚ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ3
ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور رس والوں نے اور ثمود نے اور عاد نے اور فرعون نے اور برادرانِ لوط نے اور ایکہ والوں نے اور تبع کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی۔ سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا، پس میرا وعدہ عذاب ان پر صادق آ گیا۔
یوں سورت اپنے آغاز میں جس بنیادی حقیقت کو پیش کرتی ہے، اسے دوبارہ واضح کرتی ہے۔ اس کے بعد سورت اللہ تعالیٰ کے علم کے احاطے اور اس کی قدرت کے بیان کی طرف لے جاتی ہے۔ انسان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس کی زندگی ختم ہو جائے گی اور اسے آخرت کی دائمی زندگی کا سامنا کرنا ہوگا، جہاں عظیم حالات اور ہولناک مناظر پیش آئیں گے۔ اس کے بعد اس کا سفر یا تو ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کی طرف ہوگا یا دائمی بدبختی کی طرف۔
اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ٘ إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ4
ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں اور ہم اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔ جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے۔
اس میں ایمانی ہدایات، عمدہ ارشادات اور قرآنی تجلیات ہیں، جن کا اختتام ایسی نصیحت پر ہے جس سے دل لرز جاتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هُمْ أَشَدُّ مِنْهُم بَطْشًا فَنَقَّبُوا فِي الْبِلَادِ هَلْ مِن مَّحِيصٍ٘ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ5
اور ان سے پہلے بھی ہم بہت سی امتوں کو ہلاک کر چکے ہیں جو ان سے طاقت میں بہت زیادہ تھیں، وہ شہروں میں ڈھونڈتے ہی رہ گئے کہ کوئی بھاگنے کا ٹھکانا ہے۔ اس میں ہر صاحبِ دل کے لیے عبرت ہے، اور اس کے لیے جو دل سے متوجہ ہو کر کان لگائے اور وہ حاضر ہو۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآنِ عظیم میں برکتوں سے نوازے، اپنے نبی کریم کی سنتوں سے ہمیں فائدہ پہنچائے۔ میں وہ کہہ رہا ہوں جو تم نے سنا اور میں اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، یقیناً وہ بڑا بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
خطبہ ثانی:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، جو حمد کا مستحق، ثنا کے لائق ہے، جو بہت عطا کرنے والا اور پردہ پوشی کرنے والا ہے۔ ایسی حمد جو برستی رہے، اس کے پھل شیریں ہوں اور اس کا نور چمکتا رہے۔ درود و سلام ہو تمام مخلوقات کے سردار خاتم الانبیاء ہمارے نبی محمد پر، آپ کے پاکیزہ اور چنیدہ آل و اصحاب پر، اور قیامت تک درست طریقے سے ان کی پیروی کرنے والوں پر۔ جب تک بارش کے قطرے برستے رہیں، پانی بہتا رہے، بجلی چمکتی رہے اور اس کی روشنی دمکتی رہے۔ اے فضل و احسان کے مالک اللہ!
اما بعد!
اے ایمانی بھائیو! سورہ ق کے آخری حصے میں جو بیان آیا ہے وہ ایک اہم غیبی اور ایمانی حقیقت کی تاکید ہے، یعنی دوبارہ زندہ کیا جانا، قبروں سے اٹھنا اور آخرت کی دائمی زندگی۔ اس کا مقصد دل میں یہ بات راسخ کرنا ہے کہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان مومن کی زندگی کا بنیادی مسئلہ ہے۔ یہ ایمان انسان کی زندگی اور اس کے حالات پر خوشگوار اثرات ڈالتا ہے، اس کے نتیجے میں انسان کو دل کا سکون اور اطمینان نصیب ہوتا ہے، خواہ وہ زندگی کے نشیب و فراز، تیز رفتار تبدیلیوں اور مختلف پریشانیوں کے درمیان ہی کیوں نہ ہو۔ مومن زندگی کا سفر طے کرتا ہے، اس کے حالات کا سامنا کرتا ہے اور اس کا دل اللہ کی نگرانی کے احساس سے معمور ہوتا ہے۔ وہ خالق و مخلوق کے حقوق کا خیال رکھتا ہے، وہ دنیا کو اس نگاہ سے دیکھتا ہے کہ یہ سفر کا ایک پڑاؤ ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ6
بے شک ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے۔
اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الرُّجْعَىٰ7
یقیناً لوٹنا تیرے رب کی طرف ہے
چنانچہ مومن کی زندگی میں دنیا اور آخرت کی طرف دیکھنے اور ان کے لیے عمل کرنے کے معاملے میں ایک حقیقی توازن اور کمال کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کو ایک جامع اور ایمانی نصیحت پر ختم کیا ہے،
چنانچہ اللہ تعالی کا فرمایا ہے:
فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ8
پس یہ جو کچھ کہتے ہیں آپ اس پر صبر کریں، اور اپنے رب کی تسبیح تعریف کے ساتھ بیان کریں، سورج نکلنے سے پہلے بھی اور سورج غروب ہونے سے پہلے بھی۔ اور رات کے وقت بھی تسبیح کریں اور نماز کے بعد بھی۔
یہ منفرد قرآنی اسلوب میں عظیم ربانی منہج ہے: تو آپ قرآن کے ذریعے انہیں سمجھاتے رہیں جو میری وعید یعنی ڈرانے کے وعدوں سے ڈرتے ہیں۔
امت مسلمہ! مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ، ان دونوں مقدس شہروں اور حرمین شریفین کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کے نزدیک ہمیشہ سے عظیم حرمت اور بلند مرتبہ حاصل رہا ہے۔ اسی عظمت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے انہیں مامون حرم، محفوظ سائبان اور عبادت گزاروں، رکوع و سجود کرنے والوں اور تمام زائرین کے لیے پرسکون مقام بنایا ہے۔ بلکہ شریعت نے ان دونوں حرموں میں شکار کرنے اور درخت کاٹنے سے بھی منع فرمایا ہے، تاکہ یہ انسانوں اور جانوروں کے لیے امن و سلامتی کے محفوظ مقامات رہیں۔ تو ایسے میں ان میں رہنے والوں، یہاں آنے والوں، اور زائرین کو خوفزدہ کرنا کس قدر سنگین ہوگا۔
بے شک حوثی دہشت گرد جماعت نے، اور ان کے ہمنوا مجرم گروہوں نے، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنایا ہے، اور ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں جانوں کو نقصان پہنچایا گیا، لوگوں میں خوف و ہراس پھیلایا گیا اور زائرین و معتمرین کو قتل کیا گیا۔ یہ سب ایسے سنگین جرائم ہیں جنہیں اسلامی شریعت، روشن عقل، سلیم فطرت اور بین الاقوامی قوانین یکسر مسترد کرتے ہیں۔
چہ جائیکہ یہ سب ناکام کوششیں اور گھٹیا حرکتیں ہیں، تاریخ نے ان سب کو فسادیوں اور باغیوں کی فہرست میں درج کر لیا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم نے ان کے پیشرو اصحابِ فیل کی سرکشی اور فساد کو درج کر رکھا ہے اور ان کی شکست و نامرادی کی خبر دی ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ٘، أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ٘، وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ، ٘ تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ٘، فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ9
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا اس نے ان کی تدبیروں کو ناکام نہیں بنا دیا؟ اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے، جو ان پر کنکریلے پتھر پھینک رہے تھے، پھر انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی مانند کر دیا۔
اے اللہ! حوثی دہشت گرد جماعت اور اس کے مجرمانہ عزائم، اس کے مددگاروں اور حامیوں سے انتقام لے۔ اے اللہ! ہم ان کے شر کے مقابلے میں تجھے ہی اپنا محافظ بناتے ہیں، اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ اے اللہ! اس ملک کو امن و ایمان کا گہوارہ بنا دے۔ اے سب سے زیادہ عزت والے رب! اس سرزمین، یعنی مملکتِ سعودی عرب کی حفاظت فرما، جو ایمان کا مرکز، وحی کے نزول کی سرزمین اور مسلمانوں کی جائے پناہ ہے۔ اسے سازشیں کرنے والوں کی مکاری اور مکر کرنے والوں کی چالوں سے محفوظ رکھ۔
اے اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو اپنی حفاظت میں رکھ، اپنی توفیق سے ان کی مدد فرما، ان کی رہنمائی فرما اور ان کے معاملات میں ان کی درست سمت میں رہنمائی فرما، تاکہ وہ اس سرزمین میں، اپنے بندوں اور ملکوں میں سب سے بہتر خدمات انجام دے سکیں۔
اے تمام جہانوں کے رب! ہمارے لشکروں کی مدد فرما، ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما، ہماری افواج کو فتح و نصرت عطا فرما، ہمارے محافظوں کی حفاظت فرما، ہمارے علماء کی نگہبانی فرما اور ہمارے حکمرانوں کو حق کے مطابق عمل کرنے اور درست فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا کر۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ دے۔ اے اللہ! دنیا کے ہر خطے میں مسلمانوں کے حالات درست فرما، اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد فرما۔ اے زبردست قوت والے، اے غالب و قوی! اے ہمارے رب! ہماری دعاؤں کو قبول فرما، بے شک تو خوب سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ ہماری توبہ قبول فرما، یقیناً تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
لوگو! جمعہ کے دن اور دیگر تمام دنوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود و سلام بھیجا کرو جو تمام مخلوقات کے سردار اور قیامت کے دن اولادِ آدم کے پیشوا ہیں۔ اے اللہ! ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ کے اہل بیت پر، آپ کے معزز صحابہ پر رحمتیں اور برکتیں نازل فرما اور قیامت تک احسان کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر بھی رحمتیں نازل فرما۔
اللہ کے بندو! اپنے رب کے فضل و کرم سے اور زیادہ اس سے نعمتیں مانگو، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو اور ان نعمتوں کی حفاظت کرو۔ ہمارا رب ان باتوں سے پاک ہے جو لوگ اس کی شان میں بیان کرتے ہیں، اور تمام رسولوں پر سلام ہو، اور درست تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
خطبہ جمعہ، مسجد النبوی،
تاریخ 5 جمادی اول1448 ہجری بمطابق 16 اکتوبر 2026 عیسوی،
خطیب: فضیلۃ الشیخ الدکتور احمد بن علی الحذیفی حفظہ اللہ،
________________________________________________________________
