
ہمارے معاشرے میں تعویذ کی مختلف شکلیں رائج ہیں ، مثلا کچھ لکھ کر گلے میں لٹکا ، ہاتھ میں باندھ لینا ، یا جسم کے کسی عضو پر باندھنا ، یہ تعویذ عام طور پر کپڑے ، چمڑے وغیرہ میں لپٹے ہوتے ہیں ، بعض تعویذات کو کسی درخت وغیرہ پر باندھنے کا حکم دیا جاتا ہے یا بے آباد جگہوں میں باندھنے کا حکم دیا جاتا ہے ، تعویذ شرکیہ امور میں سے ایک ہے اس لیے اس سے بچنا بہت ضروری ہے البتہ بعض تعویذوں میں قرآن یآیات لکھی ہوتی ہیں جنہیں قرآنی تعویذ کہا جاتا ہے قرآنی تعویذوں کو شرک تو نہیں کہا جاسکتا لیکن کم سے کم اسے بدعت ضرور کہا جائے گا کیونکہ شرعی طور پر قرآن کو بطور تعویذ کے استعمال کرنے کی کوئی دلیل موجود نہیں ۔