خطبہ اول:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو مخلوقات کا علم رکھنے اور انہیں وجود بخشنے میں یکتا ہے۔ میں اس پاک پروردگار کی حمد بیان کرتا ہوں، ایسی حمد جس سے ہماری دنیا سنور جائے اور ہمیں آخرت میں سربلندی حاصل ہو۔ اے اللہ، تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے اور تو ہی تمام حمد و ثناء کا مستحق ہے ان نعمتوں پر جن کے بعد تو ہمیں پے در پے مزید نعمتوں سے نوازتا رہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے ہمیں اتنی نعمتیں عطا فرمائیں جنہیں ہم شمار نہیں کر سکتے اور ہم پر اتنے احسانات کیے جن کا ہم احاطہ نہیں کر سکتے۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہدایت اور نورِ حق کے ساتھ مبعوث فرمایا چنانچہ خیر عام ہو گئی اور چھا گئی۔ اے اللہ درود و سلام اور برکت نازل فرما ان پر، ان کی آل و اصحاب پر جو عظمت کی بلندیوں پر فائز ہیں اور تابعین پر اور ان لوگوں پر جو توفیق و درستی کی امید میں اخلاص کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلتے رہیں۔ اے اللہ قیامت کے دن تک ان سب پر کثرت سے سلامتی نازل فرما۔
اما بعد!
اللہ کے بندو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو کیونکہ جو شخص تقویٰ کو لازم پکڑتا ہے وہ دنیا میں سعادت مند اور کامیاب ہو جاتا ہے، اس کی روح اور اس کا دل پاکیزہ ہو جاتا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی درست بات کہا کرو، اللہ تمہارے اعمال سنوار دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس نے یقیناً بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی۔
مومنو! مسلم معاشروں کی سب سے نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ انفرادی کردار اور اجتماعی تعلقات کی رہنمائی میں دین کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ دین ہی ان کی انسانی اور معاشرتی اقدار کا سرچشمہ اور ان کے اعلیٰ اخلاقی اصولوں کا معیار ہے۔ اسلام صرف عقائد اور عبادات تک محدود نہیں بلکہ یہ زندگی کا ایک جامع نظام ہے جو زندگی کے مختلف شعبوں اور معاملات کے لیے شرعی اصول و ضوابط فراہم کرتا ہے۔ اور ہمارے موجودہ دور کی نمایاں خصوصیات میں سے ہے جدید ٹیکنالوجی، اس کی تیز رفتار ترقی، ساتھ ہی زندگی کے مختلف شعبوں میں ان سے بھرپور استفادہ کرنا۔ چنانچہ سوشل میڈیا کے ان ذرائع سے آج کوئی بھی گھر خالی نہیں بلکہ انسان سفر و حضر اور تمام احوال میں ان سے جڑا ہوا ہے۔
برادران اسلام! سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں میں سے ہے جو اس نے اپنے بندوں کو عطا فرمائی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ بندہ دل، زبان اور اپنے اعضاء و جوارح کے ذریعے اس کا شکر ادا کرے۔ اور نعمتوں کا شکر یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی رضا کے کاموں میں استعمال کیا جائے اور جو کچھ بھی شائع کیا جائے یا کہا جائے اس میں اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا احساس رکھا جائے کیونکہ وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ آنکھوں کی خیانت اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انسان کا ادب اور اس کا اخلاق اس کی سعادت اور کامیابی کی علامت ہے جبکہ انسان میں ادب و اخلاق کی کمی اس کی بدبختی اور تباہی کی نشانی ہے۔ دنیا و آخرت کی بھلائی ادب و اخلاق سے بڑھ کر کسی اور چیز کے ذریعے حاصل نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی اس بھلائی سے محرومی کا سبب بدخلقی اور بے ادبی سے بڑھ کر کوئی اور چیز ہو سکتی ہے۔ آج سوشل میڈیا پر آپ کو ایسی عجیب و غریب چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں جو باہمی تعلقات کو خراب کرتی ہیں، معاشرے میں محبت و الفت کے رشتوں کو توڑ دیتی ہیں۔ مثلاً لوگوں کے دین، ان کی عزت و آبرو، ان کی عقل و فہم اور مال و دولت پر طعن و تشنیع کی جاتی ہے پھر عوام ان باتوں کو لپک لیتی ہے اور کم ظرف و بے وقت لوگ انہیں بار بار دہراتے اور پھیلاتے ہیں۔ یوں افواہوں کی اشاعت، جھوٹی خبروں کی تشہیر اور بہتان تراشی کا سلسلہ چل نکلتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم جعلی پلیٹ فارمز اور فریب پر مبنی ویب سائٹس کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے مکمل احتیاط سے کام لیں جہاں فالتو، غیر معیاری اور شوروغوغا مچانے والے مواد کی بھرمار ہوتی ہے۔
مسلمانوں! لفظوں کی ذمہ داری بہت بڑی ہے، یہ ایک دو دھاری تلوار ہے اور ایک ایسا پیغام ہے جس کے دو متضاد نتائج ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو یہ چمکتا ہوا سورج ہے اور اگر چاہیں تو بھڑکتی ہوئی آگ، یہ حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن دلیل بھی ہے اور تیز دھار تلوار بھی، اور یہ بارانِ رحمت بھی ہے اور بری آفت بھی۔ الفاظ اگر آپ چاہیں تو عزت و احترام و شرافت کا مظہر ہیں اور اگر چاہیں تو یہ ایک خطرناک تیر بھی ہیں، یہ خوشی و مسرت کا باعث بھی ہیں اور ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ بھی۔ لفظ زبان پر شہد سے زیادہ شیریں بھی ہے اور تلوار کی ضرب سے زیادہ کاری بھی اور بسا اوقات ایک لفظ کا اثر تلوار کے وار سے کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ اور کتنے ہی ایسے الفاظ ہیں جو اپنے بولنے والے سے کہتے ہیں مجھے استعمال نہ کر، چھوڑ دے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ العَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ، لاَ يُلْقِي لَهَا بَالًا، يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَاتٍ، وَإِنَّ العَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ، لاَ يُلْقِي لَهَا بَالًا، يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ1
بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کی طرف وہ توجہ بھی نہیں دیتا لیکن اللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے۔ اسی طرح بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جسے وہ اہمیت نہیں دیتا لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے۔
چنانچہ انسان ان ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جو کچھ لکھتا ہے، کہتا ہے، پھیلاتا ہے یا دوسروں کے ساتھ شیئر کرتا ہے وہ سب ان اعمال میں شامل ہے جن کے بارے میں اس سے بازپرس کی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ2
انسان کوئی بات زبان سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگراں تیار موجود رہتا ہے۔
لفظ کی اہمیت اور اس کی سنگینی کی وجہ سے اسلام میں محض زبان سے ادا کیے جانے والے بعض الفاظ پر بھی سزائیں، حدود، تعزیرات اور گناہ مرتب ہوتے ہیں۔ جیسے کلمہ توحید اور شرک و کفر کی تردید، یا نکاح اور طلاق وغیرہ کے الفاظ کا استعمال۔ یہ ایسے ہیں کہ مجرد ان کی ادائیگی سے ہی احکام مرتب ہونے لگتے ہیں۔ اپنی زبان کو ایسی بات کہنے سے بچاؤ جس کی وجہ سے تم مصیبت میں پڑ جاؤ، بے شک مصیبت زبان سے نکلی ہوئی بات کے ساتھ آتی ہے۔
اور اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی مثلاً مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹر ایپلی کیشنز کو غلط کاموں میں استعمال کیا جائے جیسے جعل سازی کرنا، گمراہ کن معلومات پھیلانا، ویڈیوز میں مصنوعی تبدیلی کرنا، آوازوں کی نقل کرنا، دوسروں کی شناخت اختیار کرنا اور جھوٹ میں کسی کی طرف باتیں منسوب کرنا پھر انہیں سوشل میڈیا پر اور مختلف ویب سائٹس پر پھیلا دینا۔ یہ سب کام شرعاً حرام جھوٹ میں شامل ہے بلکہ یہ لوگوں کی عزت و آبرو اور نجی زندگی پر حملہ ہے اور باطل کو پھیلانے اور اسے فروغ دینے میں معاونت ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ! لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ, فَإِنَّهُ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتِهِمْ, يَتَّبِعُ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ, يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ3
اے وہ لوگو جو زبان سے اسلام لائے ہو لیکن ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کو اذیت نہ دو، انہیں عار نہ دلاؤ اور ان کے عیوب کے پیچھے نہ پڑو، کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیوب کے پیچھے پڑتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عیوب کے پیچھے پڑ جاتا ہے اور اللہ جس کے عیوب کے پیچھے پڑ جائے، اسے رسوا کر دیتا ہے، خواہ وہ شخص اپنے گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ بیت اللہ یعنی کعبہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: اے کعبہ تو کتنا عظیم ہے اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے لیکن ایک مومن کی حرمت اللہ کے نزدیک تجھ سے بھی بڑھ کر ہے۔
اسلامی بھائیو! اگر ہمارے اس دور میں جدید ٹیکنالوجی اللہ کی عطا کردہ ایک نعمت ہے تو اس کا غلط استعمال لوگوں، خاندانوں اور پورے معاشرے کے لیے ایک بڑی خرابی اور فساد کا سبب بھی ہے، کیونکہ اس کے غلط استعمال سے لوگوں کی راز داریوں کو پامال کیا جاتا ہے، دھوکہ دہی، افرا تفری پھیلائی جاتی ہے، باہمی اعتماد کو متزلزل کیا جاتا ہے، معاشرتی امن کو نقصان پہنچایا جاتا ہے اور فتنہ و فساد کو عام کیا جاتا ہے۔ لہٰذا خبردار خبردار، ایسی تصاویر اور ویڈیوز کو پھیلانے سے بچو جو جعلی اور من گھڑت ہوں یا جنہیں کسی شخص کی طرف منسوب کیا گیا ہو کیونکہ یہ جھوٹ پھیلانے، باطل کو عام کرنے اور لوگوں کے درمیان انتشار پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ4
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔
اور اللہ نے فرمایا:
إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُم مَّا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمٌ5
جب تم اسے ایک دوسرے سے اپنی زبانوں کے ساتھ لے رہے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں کچھ علم نہیں اور تم اسے معمولی سمجھتے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی تھی۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ6
آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کرتا پھرے۔
پس اے وہ شخص جو کوئی فرضی نام اختیار کیے ہوئے ہو اور اپنی اسکرین کے پیچھے چھپ کر معزز اور نیک لوگوں پر طعن کرتے ہو، اپنے پیدا کرنے والے رب اور اپنے حقیقی مالک کے حضور توبہ کرو اور جو کچھ تم لکھ رہے ہو انہیں اچھی طرح ناپ تول لو، اپنے دلوں کے غبار اور اپنی اذیت رسانی کو لوگوں سے دور رکھو۔
اللہ کا فرمان ہے:
وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا7
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر کسی جرم کے اذیت دیتے ہیں، انہوں نے یقیناً بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر لے لیا۔
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو قرآن و سنت میں برکت عطا فرمائے اور ان میں موجود آیات اور حکمت سے مجھے اور آپ کو نفع پہنچائے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے اور آپ سب کے لیے عظمت و جلال والے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کریں، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے شریعت کو مستحکم بنایا اور اسے واضح کیا اور اس شریعت نے ہماری امت کو دین و دنیا کی سعادت عطا فرمائی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ آپ پر درود و سلام اور برکت نازل فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفسوں کا تزکیہ کرنے اور ایمان سے انہیں زندہ کرنے والوں میں سب سے بہتر ہیں، اور درود و سلام ہو آپ کی آل و اصحاب پر جو اس امت کے سب سے پاکیزہ دل اور سب سے متقی لوگ تھے، اور ان پر بھی رحمت و سلامتی نازل ہو جو تا قیامت اچھی طرح ان کی پیروی کرتے رہیں۔
اما بعد!
اللہ کے بندو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، تقویٰ نے کتنے ہی لوگوں کو خشیت اور تعظیمِ الٰہی سے سرفراز کیا، نورانیت اور عاجزی عطا کی، اور اللہ کی قسم تقویٰ نے کتنے ہی لوگوں کے حالات اور ان کے انجام سنوار دیے۔
امت اسلامیہ! شریعتِ اسلامیہ اتحاد و اتفاق اور باہمی الفت و یکجہتی کی تعلیم لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والے جرائم بہت ہیں، مثلاً بلیک میل کرنا، کسی کی عزت اچھالنا، جھوٹی اور جعلی ویڈیوز پھیلانا، خوف و اضطراب پیدا کرنے والی افواہوں، بہتانوں اور جھوٹے الزامات کی تشہیر کرنا جو کہ نہ تو کسی باشعور اور سمجھدار انسان سے پوشیدہ ہے اور نہ ہی کسی پُر اعتماد داعی کو اس میں شک ہے۔ اسی طرح کمپیوٹرز اور موبائل فونز کو ہیک کرنا، مختلف پلیٹ فارمز، نیٹ ورکس اور جعلی پیغامات کے ذریعے فوری دولت مند بنانے کی جھوٹی لالچ دے کر مالی فراڈ کرنا، تجارتی دھوکہ دہی اور غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے لوگوں کے مال کو نشانہ بنانا، اور عام و ڈیجیٹل ذرائع استعمال کر کے مختلف طریقوں سے لوگوں کو دھوکہ دینا۔ اسی طرح مختلف انواع و اقسام کے سائبر حملے اور الیکٹرانک جرائم اور مصنوعی ذہانت سے متعلق جرائم جو اب عام لوگوں کی دسترس میں ہیں۔ اسی طرح تعصب اور نفرت کو ہوا دینا، الحاد اور فحش مواد پر مشتمل ویڈیوز پھیلانا۔ یہ تمام مختلف نوعیت کی مجرمانہ سرگرمیاں ہیں جو اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم ہر اس شخص کے مقابلے میں ایک سد بن کر کھڑے ہو جائیں جو قیادت، قومی شخصیات اور علماء کے بارے میں جھوٹی ویڈیوز یا من گھڑت اقوال کے ذریعے جھوٹ پھیلا کر صفوں میں دراڑ ڈالنے، تفرقہ اور بدنظمی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ان جدید ذرائع کے استعمال کے اہم اصولوں میں سے ہے کہ انہیں دین اور وطن کی خدمت اور اس کے امن و استحکام کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جائے۔ اسی تناظر میں غیرت مند اور انصاف پسند لوگ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثی دہشت گرد جماعت کی جانب سے کیے جانے والے مجرمانہ اور دہشت گردانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ یہ حملے شریعت اسلامیہ سے صریح تصادم ہیں، مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنا ہے اور بین الاقوامی اصول و قوانین اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اور ہمارا مکمل یقین ہے کہ حرمین شریفین کا امن اور ان کی حرمت ایک ایسی سرخ لکیر ہے جس سے کسی صورت تجاوز نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ مملکت سعودی عرب کو ہر قسم کی برائی اور ناگوار حادثے سے محفوظ فرمائے، اس کا امن و استحکام، خوشحالی اور ترقی ہمیشہ قائم رکھے، سازش کرنے والوں کی سازش اور حملہ آوروں کی جارحیت سے اسے دور رکھے اور تمام مسلم ممالک کو بھی ہر قسم کے شر و فساد سے محفوظ فرمائے، بے شک وہ خوب سننے والا اور دعائیں قبول کرنے والا ہے۔
یہ باتیں ہوئیں اور تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بھری کتاب میں اس کا حکم دیا ہے۔
اللہ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا8
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجا کرو۔
اے اللہ اپنے برگزیدہ نبی محمد پر رحمت و سلامتی نازل فرما اور ان کے جلیل القدر، نیک اور پاکیزہ صحابہ کرام ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سے راضی ہو جا اور ان تمام دس صحابہ سے راضی ہو جا جنہیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی گئی اور اپنے فضل و احسان و کرم سے ہمیں بھی ان کے ساتھ شامل فرما، یا عزیز یا غفار۔
اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، دین کی حفاظت فرما اور اس ملک کو امن و اطمینان، خوشحالی اور آسودگی عطا فرما اور تمام مسلم ممالک کو بھی امن و سلامتی نصیب فرما۔ اے اللہ ہمیں ہمارے وطنوں میں امن عطا فرما، اے اللہ ہمیں ہمارے وطنوں میں امن عطا فرما، ہمارے پیشواؤں اور حکمرانوں کو توفیق یاب کر، ہمارے سربراہ اور حاکم کی حق اور درستی کے ساتھ تائید فرما۔ اے اللہ ہمارے سربراہ خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کو ان تمام کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں اسلام کا غلبہ، مسلمانوں کی بھلائی اور بندوں اور ملک کے لیے خیر و ہدایت ہو۔ اے اللہ انہیں اسلام اور مسلمانوں کی مدد اور نصرت کا ذریعہ بنا۔ اے اللہ ہمارے امن کے محافظوں، دفاعی اہلکاروں اور ہماری سرحدوں پر اور مورچوں پر موجود فوجیوں کو توفیق یاب کر۔
اے اللہ تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو مغفرت سے نواز، ان کے دلوں کو باہم جوڑ دے اور انہیں سلامتی کی راہوں کی طرف ہدایت عطا فرما۔ اے اللہ پریشان حال لوگوں کی پریشانیاں دور فرما، مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبتیں ختم کر، قرض داروں کے قرض ادا کر، ہمارے اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفا یاب کر، ہمارے اور تمام مسلمانوں کے فوت شدگان پر رحم فرما۔ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
اے اللہ جو شخص ہمارے خلاف، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کسی برائی کا ارادہ کرے، اسے خود اس کی ذات میں مشغول کر دے، اس کی سازش اسی پر پلٹ دے اور اس کی تدبیر کو اس کی تباہی بنا دے، اے دعاؤں کو سننے والے۔ اے اللہ امت مسلمہ کو کتاب و سنت پر متحد کر دے، اے فضل و عطا اور احسان کے مالک۔ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔
تیرا رب جو عزت والا ہے، ان باتوں سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں اور رسولوں پر سلام ہو اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
خطبہ جمعہ، مسجد الحرام،
تاریخ 28 ربیع الثانی 1448 ہجری بمطابق 9 اکتوبر 2026 عیسوی،
خطیب: فضیلۃ الشیخ عبدالرحمن السدیس حفظہ اللہ،
____________________________________________________________________________
