خطبہ اول:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندوں کو بھلائیوں کے موسموں سے نوازا، جو ان کے پاس ہر سال آتے رہتے ہیں۔ اس کے دنوں اور اوقات کو باقی تمام دنوں پر فضیلت دی، اس میں مخلوقات کے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کیا اور عمل کرنے والوں پر احسان کے بادل برسائے۔ تو عمل کرنے والوں کا اجر کتنا اچھا ہے۔ تاکہ اس کے ذریعے ان کے گناہوں کو بخشے اور ان کی خطاؤں کو معاف کرے اور تاکہ سلامتی والے گھر میں ان کا ثواب بڑھائے اور ان کے درجات بلند کرے۔ میں اس کی حمد بیان کرتا ہوں اور ایمان و اسلام کی نعمت پر اس کا شکر بجا لاتا ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، جو ہمیشہ وسیع نوازشوں والا اور بے بہا عطیات والا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، جو معزز رسولوں میں سب سے افضل ہیں۔ اللہ درود و سلام نازل کرے آپ پر، آپ کے آل و اصحاب پر اور ان لوگوں پر جو اچھی طرح ان کی پیروی کریں اور ان پر خوب سلامتی نازل کرے۔
اما بعد:
لوگو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو، صرف اسی کی عبادت کرو اور اس نے تمہیں جو نعمتیں دی ہیں ان پر شکر ادا کرو اور اس کی حمد و ثنا بیان کرو اور جان لو کہ تمہارے آنگن میں ایک معزز مہینہ اور عظیم موسم آیا ہوا ہے جس کے دو دن گزر چکے ہیں اور اس کے دن پے در پے گزر رہے ہیں اور وہ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔ وہ تیزی سے گزر رہا ہے جیسا کہ پچھلے سالوں میں گزرا تھا۔ وہ بہت ہلکا ہے مگر بہت بھلائیوں والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مہینوں کے مقابلے میں اسے شرف و عزت سے مختص کیا ہے اور مومنوں پر اس کے روزے فرض کیے ہیں۔ مومنوں پر اس سے بہتر کوئی مہینہ نہیں گزرا ہے اور نہ ہی منافقوں پر اس سے بدتر کوئی مہینہ گزرا ہے۔ ماہ رمضان مومنوں کے لیے غنیمت اور ان کا گواہ ہے اور منافقوں کے لیے حسرت اور ان کے خلاف گواہ ہے۔
اے اللہ کے بندو، رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی زندگی جفاکشی، اللہ کی طرف دعوت دینے، امور زندگی کو منظم کرنے، انسانیت کی اصلاح کرنے، امت کو سعادت مند بنانے اور انہیں جہنم سے بچانے اور نجات کے راستے کی طرف انہیں بلانے کی زندگی تھی۔ رات میں تہجد اور دن میں کام۔ ان کی زندگی سونے، سستی، کاہلی اور بے سود چیزوں پر شب بیداری کرنے کی زندگی نہیں تھی۔ اللہ آپ کی نگہبانی کرے، آپ جان لیں کہ روزہ صرف اس لیے مشروع کیا گیا ہے کہ تاکہ مومن تقویٰ سے آراستہ ہو۔ تقویٰ ایمان کی بنیادوں، اس کے تقاضوں اور قبولیت کے اسباب میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف متقین سے قبول فرماتا ہے۔
روزہ مومن کے اعضاء و جوارح کو اللہ کے محرمات سے روکتا ہے، چنانچہ وہ ظلم، دھوکہ دہی، فریب دہی، حقوق کو روکنے، حرام چیزوں کو دیکھنے، سننے جیسے ہر حرام کام کو چھوڑ دیتا ہے۔ وہ جھوٹ، غیبت، چغل خوری، گالی گلوچ جیسی ہر بات کو چھوڑ دیتا ہے۔ اگر کوئی اسے گالی دے تو کہتا ہے میں روزے سے ہوں اور گالی کا جواب گالی سے نہیں دیتا ہے۔ اس لیے اے روزہ دار، تیرے روزے کا دن اور روزہ نہ رکھنے کا دن دونوں برابر نہ ہوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ1
اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا ( روزے رکھ کر بھی ) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔
اللہ تم پر رحم کرے اور جان لو کہ روزوں میں دنیاوی و اخروی فوائد اور شرعی مقاصد ہیں۔ ان کے اندر نفس کو لذتوں سے بچانا، اسے پاک کرنا اور حیوانوں کی مشابہت سے اسے اوپر اٹھانا ہے۔ اور انسان کے اندر شیطان کے دوڑنے کے راستوں کو تنگ کرنا ہے، چنانچہ وہ اپنے نفس کی خواہش اور رغبت کے ساتھ بہتا نہیں چلا جاتا۔ اور جب مسلمان یہ جان لیتا ہے کہ روزہ تقویٰ کا سبب ہے تو وہ اپنے روزے کو مادی و معنوی اثرات سے بچانے کا حریص ہوتا ہے۔ مسلمان کو زیب دیتا ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے، اسے ناراض کرنے والی اشیاء، اس کی نافرمانیوں اور ہر اس چیز سے بچا رہے جو اس کے ایمان کو مجروح کرے اور ایسے ہی لوگوں کے لیے بلند درجات ہیں اور یہی لوگ جنت کے بالا خانوں میں امن و امان سے ہوں گے۔
اللہ مجھے اور آپ کو ان میں سے بنائے۔ اے اللہ کے بندو، اللہ کی نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرو۔ رمضان کی مہمان نوازی اچھی طرح کرو، اس کے شب و روز کا احترام کرو۔ اس میں اللہ کو اپنی طرف سے وہ دکھاؤ جس سے وہ تم سے راضی ہو جائے۔ اللہ تمہاری حفاظت کرے، اسے غنیمت جانو اور عبادت، کثرتِ نماز، قرأت قرآن، صدقہ، ذکر، لوگوں کو معاف کرنے، احسان، پاکیزہ بات اور بھلائی کرنے میں خوب محنت کرو۔ اور اپنے درمیان سے عداوت و دشمنی اور کینے کو ختم کرو کہ یہ چند گنے چنے دن ہیں۔ اپنی صحت سے اپنے مرض کے لیے، اپنی مالداری سے اپنے فقر کے لیے، اپنی جوانی سے اپنے بڑھاپے کے لیے اور اپنی زندگی سے اپنی موت کے لیے سامان لو۔ اللہ کے جھونکوں کے در پہ ہو، اس کے دروازے پر کھڑے ہو، وہ یقیناً بڑا بخشنے والا، بڑا کرم کرنے والا ہے۔ اس کے سامنے گڑگڑاؤ، وہ یقیناً بڑا شفیق، بڑا مہربان ہے۔ نجات کے راستے ڈھونڈو، سلامتی کے وسائل اختیار کرو، اللہ سے توفیق و مدد طلب کرو۔
اے اللہ، رمضان کا روزہ رکھنے، قیام کرنے اور اس کی حدود کی حفاظت کرنے کی توفیق دے۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو کریم و منان اور بہت فضل و احسان والا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی رحمن و رحیم ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی مخلوق میں اس کے برگزیدہ ہیں۔ اللہ درود نازل فرمائے ان پر اور ان کے آل و اصحاب پر اور ان لوگوں پر جو تا قیامت اچھے سے ان کی پیروی کریں۔
اما بعد:
اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اللہ کے لیے اپنی نیت کو خالص رکھے، اس سے اجر کی امید رکھے اور یاد رکھے کہ روزے کے کچھ آداب ہیں جن کا اتباع کرنا ضروری ہے اور روزہ توڑنے والی کچھ چیزیں ہیں جن سے بچنا واجب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار میں جلدی کرنے اور سحری میں تاخیر کرنے کی ترغیب دی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ2
“لوگ برابر بھلائی میں رہیں گے جب تک وہ افطار میں جلدی کریں گے۔
اے مسلمانو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس عظیم موسم میں جدوجہد سے کام لو۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ آئندہ سال اس موسم کو پائے گا یا نہیں۔ یہ گنتی کے چند دن ہیں، جن کی فضیلت و بھلائی سے وہی شخص محروم رہتا ہے جو حقیقت میں محروم ہے۔ تو کہاں ہیں ان میں نیک اعمال کی طرف جلدی کرنے اور سبقت کرنے والے اور انہیں غنیمت جاننے والے لوگ؟ اللہ تمہیں توفیق دے، بھلائی کی خوشبوؤں سے لطف اندوز ہو اور انہیں محسوس کرو اور جب بھی اللہ کی رحمت کے جھونکے چلیں، ان سے محظوظ ہو اور انہیں غنیمت جانو۔ یہ انتہائی فضیلت والے دن ہیں، ان جیسی مرغوب چیزیں نادر ہوتی ہیں۔ ان میں دعائیں قبول ہوتی ہیں اور مرادیں ملتی ہیں۔
اے اللہ کے بندو، ہمارے نبی اور شفیع پر بکثرت درود و سلام بھیجو، قیامت کے دن عظیم موقف میں جن کے پاس ساری مخلوقات جائیں گی۔ اور اے اللہ تو خلفاء راشدین سے، تمام صحابہ سے، تا قیامت ان کی اچھی طرح پیروی کرنے والے تابعین سے راضی ہو جا۔
اے اللہ، تو ان کی محبت سے ہمیں فائدہ پہنچا۔ اے اللہ، ان کے زمرے میں ہمارا حشر کر اور ان کی سنت اور طریقے سے ہمیں دور نہ کر، اے اکرم الاکرمین۔ اے اللہ، تو اسلام اور مسلمانوں کو تقویت دے اور اپنے فضل سے حق اور دین کی آواز بلند کر۔ اے اللہ، حق، توفیق اور درستگی سے ہمارے امام اور حاکم کی تائید فرما اور انہیں اس کام کی توفیق دے جو تجھے پسند ہو اور جس سے تو راضی ہو۔
انہیں نیکی اور تقویٰ کی راہ پر گامزن رکھ، انہیں نیک مشیرِ کار عنایت کر، ان کے ذریعے اپنے دین کو غلبہ دے اور اپنے کلمے کو بلند کر، انہیں اسلام اور مسلمانوں کا مددگار بنا اور ان کے ذریعے مسلمانوں کو حق و ہدایت پر متحد کر دے، اے رب العالمین۔ اے اللہ، تو انہیں، ان کے ولی عہد کو، ان کے بھائیوں اور مددگاروں کو حق و ہدایت اور ہر اس کام کی توفیق دے جس میں بندوں کی اور ملک کی بھلائی ہو۔
اے اللہ، مسلمانوں کے حکمرانوں کو اپنی کتاب اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ انہیں اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت بنا، انہیں حق پر متحد کر دے، اے رب العالمین اور مسلمانوں کے تمام سربراہان کو ان کاموں کی توفیق دے جن میں وطن اور اہل وطن کی بھلائی ہو۔ اے اللہ، ہمارے ملک اور مسلمانوں کے تمام ممالک پر پردہ ڈال دے۔
اے اللہ ہم تیری پناہ میں آتے ہیں، تیری خوشنودی کے ذریعے تیری ناراضگی سے، تیرے عفو کے ذریعے تیرے عذاب سے اور تیرے ذریعے تجھ سے۔ ہم تیری تعریف شمار نہیں کر سکتے، تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف کی ہے۔ اے اللہ، ہمیں ہمارے برے اعمال کی وجہ سے عذاب نہ دینا اور ہم میں سے بیوقوفوں کے کرتوتوں پر ہمیں نہ پکڑنا اور ہمیں فکر مند کرنے والے تمام امور میں ہمارے لیے کافی ہو جا اور ہمارے لیے معین و مددگار بن جا۔
اے اللہ، مسجد اقصیٰ کو آزاد کر دے، آزاد کرکے ہمیں ایسی خوشی عنایت کر جس سے ہمارے دل سرشار ہو جائیں۔ اے اللہ، ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں، تو بہت زیادہ مغفرت دینے والا ہے۔ تو ہم پر موسلادھار بارش نازل کر۔ اے اللہ، ہم پر موسلادھار بارش نازل کر۔ اے اللہ، ہم تیری ہی مخلوق ہیں، ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں اپنے فضل سے محروم نہ کر۔ اے ہمارے رب، ہم سے قبول فرما، بے شک تو ہی سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے اور ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
“سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين”۔
خطبۂ جمعہ — مسجد الحرام
تاریخ: 3 رمضان 1447ھ (بمطابق 20 فروری 2026ء)
موضوع: روزے کے مقاصد
خطيب: شیخ عبداللہ بن عواد الجہنی حفظہ اللہ
