اگر ہمارا روزہ ہمیں برائی، گناہوں اور لغو باتوں سے نہیں روک سکتا، تو کیا اللہ کو ہمارے صرف بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت ہے؟رمضان میں جب اللہ تعالیٰ روزانہ کثرت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتے ہیں، ہم اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنی نجات کے لیے کتنی فکر اور دعا کرتے ہیں؟کیا ہمارا روزہ صرف ظاہری اعمال تک محدود ہے یا یہ ہماری تنہائیوں میں بھی اللہ کا خوف (تقویٰ) پیدا کر رہا ہے، جو روزے کا اصل مقصد ہے؟ جب دنیا کی ایک امانت میں خیانت کی سزا جہنم کی گہرائیوں میں ہمیشہ کا عذاب ہے، تو کیا ہم اس مہینے کو آخرت کی فکر، اللہ کی رحمت حاصل کرنے اور اس کے عذاب سے بچنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟
اسی سے متعلقہ
دعوت و عمل میں اخلاص
دعوت و عمل میں اخلاص
غزوہ خندق اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی استقامت اور حکمت عملی
اس غزوے کے دوران مسلمانوں کو کن کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑا؟ یہودی قبیلے “بنو قریظہ”...
اللہ تعالیٰ کسی کا عمل ضائع نہیں کرتا۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: “اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ...
ماہِ رمضان اور زکوۃ کی ادائیگی
پہلا خطبہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو سننے والا، جاننے والا، نہایت بردبار، عظمت والا ہے۔ جسے...
خفیہ نکاح کی شرعی حیثیت
خفیہ نکاح کی شرعی حیثیت
مطالعہ سیرت سے پہلے کی بنیادی باتیں
سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ صرف واقعات جاننے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک عملی، ایمانی اور فکری سفر ہے۔اس...
مصنف/ مقرر کے بارے میں
الشیخ خالد حسین گورایہ حفظہ اللہ
آپ نے کراچی کے معروف دینی ادارہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی سے علوم اسلامی کی تعلیم حاصل کی اورالمعہد الرابع مکمل کیا، بعد ازاں اسی ادارہ میں بحیثیت مدرس خدمات دین میں مصروف ہیں، آپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں گریجویشن کیا، اب دعوت کی نشر و اشاعت کے حوالےسے سرگرم عمل ہیں اور المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی میں نائب المدیر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔
