پہلا خطبہ
بیشک ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے۔ ہم سب اسی کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی سے مغفرت مانگتے ہیں۔اور اپنے نفوس کی شرارت اور اپنے ہی برے اعمال سے پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دےسکتا۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اسی کے رسول ہیں، اللہ تعالی ان پر اور ان کے آل پر اور ان کے صحابہ پر لاتعداد رحمتیں اور سلامتی نازل فرما۔
حمد وثنا کے بعد!
اللہ کے بندوں! اللہ سے ڈرو جس طرح ڈرنے کا حق ہے؛ اور اللہ کا ڈر ہی ہدایت کا نور ہے، اور اس سے منہ موڑنا گمراہی کا راستہ ہے۔
اے مسلمانوں!
اللہ رب العزت نے مخلوق کو اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا ہے، اور وہ ان سے بے نیاز ہے مگر وہ مخلوق اس سے بے نیاز نہیں، اور مخلوق کے محتاج ہونے کی وجہ سے ان پر عبادت فرض کی ہے اور سب سے پہلا حکم ہی اللہ کی کتاب میں عبادت کا ہے۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
البقرة – 21
اے لوگوں اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے۔
اور رسولوں کو نیک عمل کرنے کا حکم دیااور فرمایا:
يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا
المؤمنون – 51
اے پیغمبر! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں۔
اور موسی علیہ السلام سے اللہ نے فرمایا:
إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي
طٰه -14
بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا عبادت کے لائق اور کوئی نہیں پس تو میری ہی عبادت کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ ۔
پیارے نبی محمدﷺ سے فرمایا:
بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ
الزمر – 66
بلکہ اللہ ہی کی عبادت کر اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا۔
اور ہر رسول نے اپنی قوم سے یہ بات کہی:
اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ
الاعراف – 59
تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود ہونے کے قابل نہیں۔
اور بنی اسرائیل سے بھی یہی وعدہ لیا گیا:
لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ
البقرة – 83
تم اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرنا۔
اور اللہ نے قریش کو بھی عبادت ہی کا حکم دیا:
فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ
قریش – 3
پس انہیں چاہیے کہ اسی گھر کے رب کی عبادت کرتے رہیں۔
اور اس فرمان میں مومنوں کو بھی یہی حکم دیا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ
الحج – 77
اے ایمان والو! رکوع سجدہ کرتے رہو اور اپنے پروردگار کی عبادت میں لگے رہو اور نیک کام کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ ۔
اور اللہ نے ہمارے نبی محمدﷺ کے صحابہ کی کثرت عبادت کا ذکر کیا، اور اس کا اثر ان کےاعضاء پر بھی ظاہر ہوا۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ
الفتح – 29
آپ انہیں دیکھیں گے رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالٰی کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے۔
اور بندے کا شرف اسی میں ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے، اور اس کی قدر و منزلت جانتے ہوئے سلیمان علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ انہیں نیک لوگوں میں سے بنادے۔
وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ
النمل – 19
اور مجھے اپنی رحمت سے نیک بندوں میں شامل کر لے۔
اور ہمارے نبی ﷺجب رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے:
أحقُّ ما قال العبد، وكلُّنا لك عبدٌ
رواه مسلم
بندے نے بہت ہی بہترین حق کی بات کہی ہے، اور ہم سب تیرے ہی بندے ہیں۔
اور ہر مسلمان فرض نمازوں میں اپنے رب سے سترہ (۱۷) مرتبہ صرف ایک اللہ کی عبادت کا معاہدہ کرتا ہے ،اور یہ اقرار کرتا ہے:
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
الفاتحة – 5
ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں ۔
اور ایک اللہ ہی کی عبادت جنت میں داخل ہونے کاواحد ذریعہ ہے۔
حدیث میں ہے:
جاء رجلٌ إلى النبي – صلى الله عليه وسلم – فقال: دُلَّني على عملٍ إذا عملتُه دخلتُ الجنةَ. قال: «تعبُدُ اللهَ لا تُشرِكُ به شيئًا»
متفق علیه
ایک شخص اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی: مجھے ایسا عمل بتائیے کہ اسے کرکے میں جنت میں چلا جاؤں۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا: اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں ۔
بندوں پر اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ان کے لئے مختلف قسم کی عبادات رکھی ہیں، انہیں ایک ایسی نماز عطا فرمائی کہ فرض کے بعد اس (تہجد)سے بہتر کوئی نماز نہیں۔
۱ـ فرض کے بعد سب سے افضل
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أفضلُ الصلاة بعد الفريضة: صلاةُ الليل»
رواه مسلم
فرض کے بعد سب سے افضل نماز تہجد ہے۔
۲ـ محبوب ترین عمل:
اور اللہ تعالی اسے پسند فرماتا ہے۔ نبی علیہ السلام کا فرمان ہے:
«أحبُّ الصلاةِ إلى الله: صلاةُ الليل»
متفق علیه
اللہ کے نزدیک سب سے محبوب ترین نماز رات کی نماز ہے۔
۳ـ تقوی کی علامت:
اور اخلاص سے تہجد پڑھنا تقوی کی علامت ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (15) آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ مُحْسِنِينَ (16) كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ
الذاریات – 15/17
بیشک تقوٰی والے لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہونگے۔ان کے رب نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا اسے لے رہے ہونگے وہ تو اس سے پہلے ہی نیکوکار تھے۔ وہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے ۔
۴: گناہوں کی بخشش کا سبب:
اس سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور خطائیں دُھل جاتی ہیں۔
نبی علیہ السلام نےسیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
«ألا أدلُّك على أبوابِ الخير؟ الصومُ جُنَّةٌ، والصدقةُ تُطفِئُ الخطيئَةَ كما يُطفِئُ الماءُ النارَ، وصلاةُ الرجلِ في جوفِ الليل» أي: تُطفِئُ أيضًا الخطيئةً كما يُطفِئُ الماءُ النار
رواه الترمذی
کیا میں آپ کو خیر کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، اور صدقہ خطاؤں کو بجھادیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور رات کے وقت آدمی کی نماز۔یعنی نماز بھی خطاؤں کو بجھادیتی ہے۔
۵ـ اللہ کی رحمت کا سبب:
اور یہ بندے کے لئے اللہ کی رحمت کا سبب ہے، فرمانِ نبوی ﷺ ہے:
«رحِمَ الله رجلاً قامَ من الليل فصلَّى»
رواه أبو داؤد
اللہ اس انسان پر رحم کرے جو رات کو اٹھا اور نماز پڑھی۔
۶ـ اللہ کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ:
اور تہجد ان عبادات میں سے ہے جو اللہ کی بھرپور نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لئے کی جاتی ہیں۔ ہمارے پیارے نبیﷺ راتوں کو اتنا قیام کیا کرتے تھے کہ ان کے قدم سُوج جایا کرتے تھے، اور یہ فرمایا کرتے تھے:
«أفلا أحبُّ أن أكون عبدًا شَكورًا؟»
کیا میں (تہجد کی صورت میں )اپنےرب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
۷ـ اللہ کا قرب حاصل کرنے کا وسیلہ:
وأقربُ ما يكونُ الربُّ من العبدِ في جوفِ الليل، قال – عليه الصلاة والسلام -:
اور بندہ سب سے زیادہ اپنے رب کے قریب رات کی تاریکی میں ہوتا ہے۔
۸ـ قبولیت کا وقت:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«فإن استطعتَ أن تكون ممن يذكُرُ اللهَ في تلك الساعة فكُن»
رواه الترمذی
اگر آپ اس گھڑی میں اللہ کا ذکر کرنے کی طاقت رکھتے ہیں تو ضرور کیجئے۔
۹ـ فتنوں سے حفاظت:
اور رات کی نماز اللہ کے حکم سے فتنوں سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔
حدیث میں ہے:
قالت أمُّ سلمة – رضي الله عنها -: استيقظَ رسولُ الله – صلى الله عليه وسلم – ليلةً فزِعًا يقول: «سُبحان الله! ماذا أنزلَ الله من الخزائِن؟ وماذا أُنزِلَ من الفتن؟ من يُوقِظُ صواحِبَ الحُجُرات؟» يُريدُ أزواجَه لكي يُصلِّين «رُبَّ كاسِيةٍ في الدُّنيا عارِيَةٍ في الآخرة»
رواه البخاری
ام سلمہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: اللہ کے رسول ﷺ ڈرتے ہوئے اٹھے اور یہ کہہ رہے تھے: سبحان اللہ! اللہ نے کیا خزانے نازل کئے ہیں؟ اور کتنے ہی فتنے بھی نازل ہوئے ہیں؟ ان حجرے والوں کو کون اٹھائے گا؟ یعنی ازواج مطہرات کو کون اٹھائے گا تاکہ وہ تہجد پڑھ لیں۔’’اس دنیا میں بہت سے لوگ جولباس میں ملبوس ہیں آخرت میں بے لباس ہوں گے‘‘۔
۱۰ـ دلوں کی راحت کا باعث:
اس میں شرحِ صدر ہے، آرام ہے اور دل کا سرور ہے۔
امام ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا:
“في صلاةِ الليل سرٌّ في طِيبِ النفس”
تہجد دلوں کی خوشی کا راز ہے۔
۱۱ـ جنت میں جانے کا سبب:
اور جنت میں جانے کا ایک سبب تہجد بھی ہے:
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (16) فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
السجدة – 16/17
ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کے خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وہ خرچ کرتے ہیں۔ کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ کر رکھی ہے جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے ۔
ترمذی کی حدیث ہے:
قال عبدُ بن سلامٍ – رضي الله عنه -: أولُ شيءٍ سمِعتُ النبي – صلى الله عليه وسلم – تكلَّم به حين قدِمَ المدينة: «يا أيها الناس! أفشُوا السلام، وأطعِموا الطعام، وصِلُوا الأرحام، وصلُّوا بالليل والناسُ نِيام؛ تدخُلوا الجنةَ بسلامٍ»
رواه الترمذی
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی علیہ السلام مدینہ آئے تو سب سے پہلے میں نے ان سے یہ بات سنی: اے لوگوں! سلام کو عام کریں، کھانا کھلائیں، صلہ رحمی کریں، اور رات کو نماز پڑھیں اگرچہ لوگ سو رہے ہوں تو آپ جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجائیں گے۔
۱۲ـ جنت میں اعلی مقام کی ضمانت(گارنٹی):
جس نے تہجد پڑھی وہ جنت کے اعلی مقامات میں ہوگا۔
نبی علیہ السلام کا فرمان ہے:
«إن في الجنةِ غُرفًا تُرَى ظهورُها من بُطونِها، وبُطونُها من ظهورِها» فقامَ أعرابيٌّ فقال: لمن هي يا رسول الله؟ قال: «لمن أطابَ الكلامَ، وأطعمَ الطعامَ، وأدامَ الصيامَ، وصلَّى بالليل والناسُ نِيام»
رواه أحمد
جنت کے کچھ کمرے ایسے بھی ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے نظر آتا ہے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتاہے۔تو ایک اعرابی نے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ یہ کن کے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: (ان مقامات کا مستحق وہ ہوگا) جو اچھی بات کہے گا، کھانا کھلائے گا، روزوں کا اہتمام کرے گا، اور رات کی نماز پڑھے گااگرچہ لوگ سو رہے ہوں ۔
اور اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ تہجد کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کریں تاکہ جنت میں اعلی مقام کا شرف مل سکے۔
اللہ عز وجل نے فرمایا:
وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا
الاسراء – 79
رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کریں، یہ زیادتی آپ کے لئے ہے عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا ۔
تو اس بنیاد پر نبی علیہ السلام تہجد کو کبھی نہیں چھوڑتے تھے چاہے وہ حضر(اپنے ہی علاقے) میں ہوں یا سفر میں۔
اور نبی علیہ السلام کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ آدھی رات یا اس سے کچھ زیادہ یا اس سے کچھ کم تہجد میں گزاریں۔
يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (1) قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا (2) نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا (3) أَوْ زِدْ عَلَيْهِ
المزمل – 1/4
اے کپڑے میں لپٹنے والے۔ رات (کے وقت نماز) میں کھڑے ہو جاؤ مگر کم ۔ آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کرلے۔ یا اس پر بڑھا دے۔
بخاری کی حدیث ہے:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں:
“وكان لا تشاءُ أن تراهُ من الليل مُصلِّيًا إلا رأيتَه”
رواہ البخاری
اوررسول اللہﷺ کی حالت یہ تھی کہ آپ جب بھی رات کو انہیں دیکھیں تو وہ نماز ہی پڑھ رہے ہوتے تھے۔
اور ابن عمر رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھتے:
أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ
الزمر – 9
قال: “ذاك عُثمانُ بن عفَّان”.
بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں)گزراتا ہو،آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو۔
اور فرماتے کہ یہ تو عثمان رضی اللہ عنہ کی صفات ہیں۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے مزید اس بارے میں یہ فرمایا:
“وذلك لكثرة صلاةِ أميرِ المُؤمنين عُثمان بالليل وقراءتِه، حتى إنه رُبَّما قرأَ القُرآنَ في ركعةٍ”
یہ فضیلت امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ کو تہجد اور تلاوت قرآن کا کثرت سے اہتمام کرنے کی وجہ سے ملی یہاں تک کہ کبھی کبھار تو وہ ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھ لیتے۔
اور سب سے محبوب ترین عمل وہ ہے جسے ہمیشگی سے کیا جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو، اور فرض نماز کے علاہ دیگر نمازیں گھر میں زیادہ افضل ہے۔
آپﷺکا فرمانِ مبارک ہے:
«خيرُ صلاةِ المرء في بيتِه إلا الصلاة المكتوبة»
متفق علیه
فرض نماز کے علاوہ آدمی کی نماز گھر میں زیادہ بہتر ہے ۔
جس طرح قیام اللیل مردوں کے لئے مسنون ہے بالکل اسی طرح خواتین کے لئے بھی مسنون ہے۔
بخاری و مسلم کی حدیث ہے:
طرقَ النبي – صلى الله عليه وسلم – ابنتَه فاطمةَ – رضي الله عنها – وزوجَها عليَّ بن أبي طالب – رضي الله عنه – ليلاً، وقال لهما: «ألا تُصلِّيَان؟»
متفق علیه
نبی علیہ السلام نے ایک رات اپنی پیاری صاحب زادی فاطمہ رضی اللہ عنھا اور ان کے زوج محترم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ان سے فرمایا: کیا آپ تہجد نہیں پڑھیں گے؟۔
امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“لولا ما علِمَ النبي – صلى الله عليه وسلم – من عِظَم فضلِ الصلاةِ في الليل ما كان يُزعِجُ ابنتَه وابنَ عمِّه في وقتٍ جعلَه الله لخلقِه سكَنًا، لكنَّه اختارَ لهما إحرازَ تلك الفضيلة على الدَّعَة والسُّكون”
اگر نبی علیہ السلام کو تہجد کی فضیلت کا علم نہ ہوتا تو اپنی بیٹی اور چچا کے بیٹے کورات کے وقت تکلیف نہ دیتے کیونکہ یہ وقت اللہ نے آرام کے لئے بنایا ہے، درحقیقت نبی ﷺ نے یہ چاہا کہ وہ دونوں بھی کچھ وقت کےسکون و آرام کو چھوڑ کر اس فضیلت کو ذخیرہ کرلیں۔
اور نبی علیہ السلام نے اس شخص کے لئے رحمت کی دعا کی ہے جو اپنے گھروالوں کو تہجد کے لئے اٹھاتا ہے۔
فرمانِ رسول ﷺ ہے:
«رحِمَ الله رجلاً قامَ من الليل فصلَّى وأيقظَ امرأتَه»
رواه أبو داؤد
اللہ اس آدمی پر رحم کرے جو خود بھی رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی اٹھاتا ہے۔
وكان عمرُ – رضي الله عنه – يُصلِّي من الليل ما شاءَ الله، حتى إذا كان آخرَ الليل أيقظَ أهلَه للصلاةِ ثم يقول لهم: الصلاةَ الصلاةَ، ويتلُو: وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا
طٰه – 132
اور عمر رضی اللہ عنہ اللہ کی توفیق کے مطابق تہجد پڑھتے رہتے یہاں تک کہ جب رات کا آخری وقت ہوتا تو اپنے اہل خانہ کو بھی نماز کے لئے اٹھا دیتے اور ان سے کہتے کہ نماز، نماز، اور سورت طہ کی یہ آیت پڑھتے: اور قیام اللیل نوجوان کے لئے بلندی کا وسیلہ ہے اور بزرگ کے لئے نور اور وقار ہے۔
جب عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نوجوان تھے اس وقت نبی علیہ السلام نے ان سے فرمایا تھا :
«نِعمَ الرجلُ عبد اللهِ لو كان يُصلِّي من الليل»
متفق علیه
عبد اللہ بہت اچھا انسان ہے کاش یہ تہجد پڑھتا ہو۔
ان کے بیٹے سالم فرماتے ہیں:
“فكان عبدُ الله بعد ذلك لا ينامُ من الليل إلا قليلاً”
اس کے بعد عبد اللہ رضی اللہ عنہ رات کو کم ہی سویا کرتے تھے۔
امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
“من كان يقومُ الليلَ يُوصَفُ بأنه نِعمَ الرجل”
جو بھی رات کا قیام کرے گا اسے اچھا انسان ہی شمار کیا جائے گا۔
اور نبی علیہ السلام نے جناب عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو قیام اللیل چھوڑنے سے ڈرایا،جبکہ وہ ابھی(نوجوان) لڑکے ہی تھے اور ان سے فرمایا:
«يا عبد الله! لا تكُن مثلَ فلانٍ؛ كان يقومُ الليلَ فتركَ قيامَ الليل»
رواه البخاری
اے عبداللہ! فلاں کی طرح مت ہوجانا، وہ تو تہجد پڑھتا تھا مگر اس نے چھوڑ دیا۔
اور سلف صالحین چھوٹے عمر سے ہی تہجد پڑھا کرتے تھے۔ ابراھیم بن شماس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“كنتُ أرى أحمدَ بن حنبل يُحيِي الليلَ وهو غلامٌ”.
میں احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو دیکھتا تھا کہ وہ کم عمر ی میں ہی رات کو زندہ(قیام اللیل) کیا کرتے تھے۔
اور رات کے مقام کی وجہ سے اللہ نے اپنی کتاب بھی رات میں نازل فرمائی۔اور رات میں اس کی تلاوت اللہ کی حفاظت کا سبب ہے،
نبی ﷺ نے فرمایا:
«وإذا قامَ صاحبُ القُرآن فقرأَه بالليل والنهارِ ذكرَه، وإذا لم يقُم به نسِيَه»
رواه مسلم
اگر صاحبِ قرآن رات دن اس کی تلاوت کرے تو اسے یاد رہے گا، ورنہ بھول جائے گا۔
اور وہ شخص بہت ہی زیادہ قابلِ رشک ہے جو رات کو قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
«لا حسَدَ إلا في اثنتَين: رجلٍ آتاه الله القُرآن فهو يقومُ به آناءَ الليل وآناءَ النهار، ورجلٍ آتاه الله مالاً فهو يُنفِقُه آناء الليل وآناءَ النهار»
متفق علیه
حسد صرف دو چیزوں میں جائز ہے: ایک وہ شخص جسے اللہ نے قرآن کی نعمت سے مالامال کیا ہو اور وہ راتوں کو قیام میں قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہو، اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال سے نوازا ہو اور وہ اسے دن رات (اللہ کی رضا کی خاطر) خرچ کرتا ہو۔
اور رات میں قرآن پڑھنے سے اسے سمجھنے اور اس میں غور کرنے میں مدد ملتی ہے۔
اللہ عز وجل نے فرمایا:
إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا
المزمل – 6
بیشک رات کا اٹھنا دل جمعی کے لئے انتہائی مناسب ہے اور بات کو بالکل درست کر دینے والا ہے ۔
اور رات کے وقت تلاوت کرنے کا زیادہ اجر ہے۔ اور تھوڑی تلاوت کرنے سے بندے کی غفلت دور ہوجاتی ہے، اور درمیانی تلاوت سے قانتین (فرماں بردار لوگوں ) کی صف میں شامل ہوجاتا ہے۔ اور زیادہ تلاوت کرنے سے ثواب کے خزانوں کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
«من قامَ بعشر آياتٍ لم يُكتَب من الغافِلين، ومن قامَ بمائةِ آيةٍ كُتِبَ من القانِتين، ومن قامَ بألفِ آيةٍ كُتِبَ من المُقنطَرين»
رواه أبو داؤد
جو شخص (رات کے قیام میں) دس آیتیں پڑھ لے وہ غافلوں کی لسٹ سے نکل جاتا ہے، اور جو سو آیتیں پڑھ لے وہ فرماں بردار لوگوں میں شمار ہوگا، اور جو زیک ہزار آیتیں پڑھے گا اس کا شمار خزانہ سمیٹنے والوں میں ہوگا۔
رات کے وقت دعا کی بھی بڑی فضیلت ہے:
«وفي الليلِ ساعةٌ لا يُوافِقُها عبدٌ مُسلمٌ يسألُ اللهَ خيرًا إلا أعطاه الله إياه»
رواه مسلم
رات کے وقت ایک گھڑی ایسی ہے کہ کوئی بھی مسلمان اس وقت اللہ سے بھلائی مانگتا ہے تو اللہ اسے ضرور نوازدیتا ہے۔
اور رات کے آخری تیسرے پہر ہمارا رب آسمانِ دنیا پر نازل ہوتا ہے(اس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا ، وہ اُسی طرح نزول فرماتا ہے جیسا اُس کی شان کے لائق ہے) اور فرماتا ہے:
«من يدعُوني فأستجيبَ له؟ من يسألُني فأُعطِيَه؟ من يستغفِرني فأغفِرَ له؟»
متفق علیه
کوئی ہے جو مجھے پکارے تاکہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ ، کوئی ہے جو مجھ سے مانگےتاکہ میں اسے عطا کروں؟ ، ہے کوئی جومجھ سے مغفرت مانگے تاکہ میں اسے بخش دوں؟ ۔
اور جو شخص رات کو اُٹھ کر ذکر(رات کو پڑھنے کی مسنون دعا) پڑھے اور دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، اور اگر نماز پڑھے تو وہ بھی قبول کی جاتی ہے۔جیساکہ بخاری میں نبی ﷺنے فرمایا کہ جو شخص رات کو اٹھتا ہے اور یہ پڑھتا ہے۔
«لا إله إلا الله وحده لا شريكَ له، له المُلكُ ولهُ الحمدُ، وهو على كل شيء قدير، الحمدُ لله، وسُبحان الله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حولَ ولا قوة إلا بالله، ثم قال: اللهم اغفِر لي، أو دعا استُجيبَ له، فإن توضَّأَ وصلَّى قُبِلَت صلاتُه»
رواه البخاری
اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، اور اللہ ہی کے لئے پاکیزگی ہے، اور اللہ کو سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور اللہ کے حکم کے بغیر نہ گناہ سے رُکنے کی (کسی کو) طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی (کسی کو) توفیق۔ پھر یہ کہتا ہے: یا اللہ! مجھے بخش دے یا کوئی دوسری دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، اور اگر وہ وضو کرکے نماز پڑھ لے تو اس کی نماز قبول کی جاتی ہے۔
اور رات کے اخری حصے میں دلوں کا تعلق (اللہ کی ذات کے ساتھ) زیادہ مضبوط ہوتا ہے، اور رات کی تاریکی میں ہر عیب اور نقص سے اللہ تعالی کی پاکیزگی بیان کرنا تقوی کی علامت ہے۔
اور بہتر یہ ہے کہ رات کی عبادت کا اختتام استغفار پر ہو۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے:
وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ
آل عمران – 17
اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں۔
“ونزلَت توبةُ الذين خُلِّفُوا في الثُّلُث الأخير من الليل”
رواه البخاری
اور جو لوگ (جہاد سے) پیچھے رہ گئے تھے ان کی توبہ بھی رات کو ہی نازل ہوئی۔
تہجد کا وقت ہر رات عشاء کی نماز کے بعد فجر تک ہوتا ہے، اور کم سے کم ایک رکعت ہے، اور زیادہ کی کوئی حد نہیں، اور افضل وقت رات کا آخری حصہ ہے۔
«صلاةُ آخر الليل مشهودةٌ»
رواه مسلم
رات کے آخری وقت کی نماز بہت اہم ہے۔
اور قیام اللیل کی اہمیت کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر سوتے رہ گئے تو دن میں اسے ادا کرلیں۔
مسلم کی حدیث ہے:
«من نامَ عن حِزبِه أو عن شيءٍ منه فقرأَه فيما بين صلاةِ الفجرِ وصلاةِ الظُّهر كُتِبَ له كأنَّما قرأَه من الليل»
رواه مسلم
جو شخص بھی تہجدسے سوتا رہ گیا اور فجر سے ظہر کی نماز کت درمیان اسے ادا کرلیا تو اس کا ثواب تہجد کے برابر ہی ہوگا۔
سونے کے وہ اذکار بھی (سنت سے) ثابت ہیں جو رات کو تہجد کے لئے اٹھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں، اور (مکمل رات کا) جاگنا قیام اللیل میں رکاوٹ بنتا ہے، اور اگر (پوری رات جاگنے کے باوجود) قیام کر بھی لے توخشوع و خضوع برقرار نہیں رہتا۔اور جو گناہ کرکے سوئے تو قیام کے لئے اس کا اُٹھنا مشکل ہے۔
اے مسلمانوں!
دنیا کا وقت بہت کم ہے، اور یہاں کچھ عرصہ گزارنا ہے، اور رات کی نماز، تلاوت، دعا، تسبیح اور استغفار کے ذریعہ مسلمان اپنی آخرت بہتر طریقے سے آباد کرسکتا ہے، اور ان عظیم اعمال صالحہ کو ہی اپنے رب سے ملاقات کے لئے ذخیرہ کرسکتا ہے، اور عقلمند وہی ہے جو رات کے آخری حصہ کو اپنے دین و دنیا کی اصلاح کے لئے غنیمت جانتا ہے۔
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی شیطان مردود سے۔
وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
الانسان – 25
اور اپنے رب کے نام کا صبح شام ذکر کیا کر۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآن کریم میں برکت عطا فرمائے، اور مجھے اور آپ کو آیات اور حکمت والی نصیحت سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے، میں جو کہہ رہا ہوں وہ آپ سن رہے ہیں، اور اللہ سے سب کے لئے ہر گناہ سے مغفرت مانگتا ہوں، آپ بھی مغفرت مانگیں،بیشک وہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے اس کی بھلائیوں پر، اور اس کی توفیق اور احسانات پر اسی کا شکر ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کی عظمت والی شان ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ ان پر اور انکی آل پر اور ان کے صحابہ پر بے شمار رحمتیں اورسلامتی نازل فرمائے۔
اے مسلمانوں!
جن کاموں سے رزق ملتا ہے: تہجد، سحری کے وقت کثرت سے استغفار، صدقہ دینا، اور صبح و شام اللہ کا ذکر۔
اور مومن کا شرف قیام اللیل میں ہے۔
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“إن الرجلَ ليَقومُ الليلَ فيجعلُ الله في وجهِه نورًا يُحبُّه كلُّ مسلم”
بیشک انسان رات کا قیام کرتا ہےاس کی وجہ سے اللہ اس کے چہرے کو نور سے منور کردیتا ہے جسے ہر مسلمان پسند کرتا ہے۔
اور قیام اللیل مشکل کام ہے، اور عبادات میں سب سے زیادہ اسے ہی چھوڑا جاتا ہے۔
“أولُ ما ينقُصُ من العبادة: التهجُّد بالليل”
عبادات میں سب سے پہلے تہجد کی ہی کمی ہوتی ہے۔
اور مومن رات کی ایک گھڑی تہجد کے لئے مقرر کرلیتا ہے، اور دن میں دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے۔
اور جان لیں کہ اللہ تعالی نے آپ سب کو اپنے نبی پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔اور قرآن مجید میں فرمایا:
إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الذِيْنَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيْمًا
الاحزاب – 56
اللہ تعالٰی اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو ۔
یا اللہ! اپنے نبی محمدﷺ پر رحمتیں اور درود نازل فرما، یا اللہ ! ہدایت یافتہ خلفاء ـ ابوبکر، عمر، علی عثمان رغی اللہ عنھم ـ سے بھی راضی ہوجا جنہوں نےحق کے ساتھ فیصلے کئے اور اسی کے ساتھ عدل کیا کرتے تھے، اور تمام صحابہ سے بھی راضی ہوجا، اور اپنے جود و کرم سے ان کے ساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہوجا، اے سب سے زیادہ کرم کرنے والے۔
یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ اور شرک اور مشرکو ں کو رسوا کردے، اور دین کے دشمنوں کو رسوا کردے، اور اس ملک اور تمام مسلم ممالک کو امن و سکون اور کا گہوارہ بنادے۔
یا اللہ! ہر جگہ کے کمزور مسلمانوں کی مدد فرما۔ یا اللہ! ان کا حامی و ناصر اور مددگارو معاون بن جا۔ یااللہ! انہیں ثابت قدم فرما دے، اور ان کے نشانوں کو درست فرمادے، اور ان سب کو تقوی پر متفق فرمادے۔
یا اللہ! جو بھی اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ برا ارادہ رکھے تو اسی کو اس میں پھنسادے، اور اس کا مکر اسی پر ڈال دے، اور اس کے دل میں (مسلمانوں کا ) رعب پیدا فرمادے۔
یا اللہ! یا رب العالمین ! ہمارے امام (امیر) کو ہدایت کی توفیق عطا فرما، اور انہیں اپنی رضا کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور انہیں عافیت اور شفا عطا فرما، اور تمام مسلمانوں کے امیروں کواپنی کتاب پر عمل کرنے اور شریعت کو نافذ کرنے کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ! بیشک ہم قول و عمل میں تجھ سے اخلاص کی دعا کرتے ہیں۔ یا اللہ! اپنے ذکر، شکر اور حسنِ عبادت پر ہماری مدد فرما۔
اللہ کے بندوں!
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
النحل – 90
اللہ تعالٰی عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے، وہ خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔
اللہ کا ذکر کریں جو عظیم و جلیل ہے وہ تمہارا ذکر کرے گا، اور اس کے احسانات اور نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں مزید دے گا، اور اللہ کا ذکر ہی سب سے بڑا ہے، اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
***