پہلا خطبہ :
ہر طرح کی تعریف اللہ کے لئے، جو اس کی ہدایت کو لے، اس کی اطاعت کرے، اور اس سے ڈرے انہیں عزت دینے والا ہے، اور جو اس کے ذکر سے اعراض کرے، اس کے حکم کی مخالفت کرے، اور اس کی نافرمانی کرے انہیں ذلیل کرنے والا ہے، میں اللہ سبحانہ کی تعریف کرتا ہوں، اور اس کی بھر پور نعمتوں اور نوازشوں پر شکر بجالاتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ اس کے بندے اور منتخب و پسندیدہ رسول ہیں۔
اللہ درود و سلام نازل کرے آپ ﷺ پر ، آپ ﷺ کے آل، اور آپ ﷺ کے برگزیدہ اصحاب پر، اور تابعین اور ان کی اچھے سے پیروی کرنے والوں پر، جب تک دن ورات کی آمد ورفت ہو۔
اما بعد!
اللہ کے بندو! اللہ کا تقوی اختیار کرو، اللہ کا تقوی کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے، فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَيُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ لَا يَمَسُّهُمُ السُّوءُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
الزمر – 61
اور جن لوگوں نے تقوی اختیار کیا انہیں اللہ تعالیٰ ان کی کامیابی کے ساتھ بچا لے گا، انہیں کوئی دکھ چھو بھی نہ سکے گا اور نہ وہ کسی طرح غمگین ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ اُنہیں دنیا میں نافرمانیوں سے بچائے گا، اور آخرت میں سزاؤں سے محفوظ رکھے گا۔
اے مسلمانو! ہمارا رب مخلوقات کا خالق ہے۔
قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ
طه – 50
جواب دیا کہ ہمارا رب وه ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت، شکل عنایت فرمائی پھر راه سجھا دی۔
ہر نفس کو اس کی مصلحت و منفعت کے حصول، اور مضرت و مفسدت کو دور کرنے کی راہ سجھائی، اسی وجہ سے انسان فطری طور پر مصائب سے بچتا ہے، اور تکلیف، خطرات، شر وہلاکت سے دور رہتا ہے۔
پر ہیز اور بچاؤ کی بہت سی شکلیں ہیں، انسان اپنے جسم کو لاحق ہونے والی بیماریوں اور مصیبتوں سے بچتا ہے، جیسے گرمی و سردی۔ اور اعضاء وجوارح کو خاص طور پر کان اور آنکھ کو تکلیف سے دوچار کرنے والی چیزوں سے کنارہ کش رہتا ہے، اور کبھی وہ بعض کھانے پینے کی چیزوں کو مصلحت کی بنا پر چھوڑ دیتا ہے، جیسا کہ وہ مضر صحت گوشت کو کھانے سے باز رہتا ہے۔
اے بھائیو! گرچہ غذائی پر ہیز کے مختلف فوائد ہیں، اور وہ مؤثر آزمودہ علاج ہے لیکن کچھ ایسے ہیں جن کا ارادہ کمزور ہو جاتا ہے اور عزم ماند پڑ جاتا ہے تو وہ ان کھانوں اور پسندیدہ چیزوں کو چھوڑنے پر قادر نہیں ہیں جن سے انہیں لگاؤ ہے اور جن کی انہیں عادت پڑگئی ہے، اور جسے چھوڑنے کی انہیں نصیحت کی گئی ہے اس سے بھی باز رہنے کی سکت ان میں نہیں ہے، اس کی انہیں رغبت ہے ، وہ اسے کھانے سے دور نہیں رہ سکتے ، اس صورتِ حال میں اسے اپنے نفس اور اس کی برائیوں سے جہاد کی ضرورت ہے تاکہ ضرر رساں اور موذی اشیاء سے دور رہے۔ اس طرح کی بات ان سے کی جائے گی جنہیں ایسی چیزوں کو استعمال کرنے کی لت لگ گئی ہے جو ان کی صحت کو بگاڑتی اور نقصان پہنچاتی ہے جیسے سگریٹ نوشی، یا اس سے بھی بھیانک چیزوں کے استعمال کی انہیں عادت لگ گئی ہے جیسے شراب و منشیات اور ان کے علاوہ خبیث چیزیں۔ ان سے کہا جائے گا: اگر تم اپنے بدن کی سلامتی، اپنی صحت کی حفاظت اور اپنی خیریت کی بقاء کے لئے کوشاں ہو تو ضروری ہے کہ اپنے نفس سے جہاد کرو، اور اس زہر اور آفت سے اس کی حفاظت کرو، اور ضرر رساں بیماریوں، برائیوں اور گناہوں سے اسے بچاؤ، اور ہم سے ہمارے رب کا قول نہیں او جھل ہونا چاہیئے:
وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ
البقرۃ – 195
یہ آیت کریمہ ثابت کرتی ہے کہ جو چیز آدمی کے دین یا دنیا میں نقصان کا سبب ہو وہ اس نہی میں داخل ہے، اور ہر چیز جو بدن کو نقصان پہنچائے ممنوع ہے۔
اللہ کے بندو! ہم میں سے کچھ ہیں جو جسمانی پر ہیز کے لئے کوشاں ہیں، اور اس پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں، اس کے جزئیات کے بارے میں پوچھتے ہیں اور اگر ان کے پاس کسی تجربے کا ذکر ہوتا ہے کہ کھانے پینے کی کچھ نوعیت ہے جس میں بدن کے لئے صحت بخش فائدہ اور منفعت ہے تو وہ اس کی طرف لپک پڑتے ہیں اور اس کے حصول میں مقابلہ آرائی کرتے ہیں، اور جب ایسے کھانے پینے کا ذکر ہوتا ہے جس میں بدن کے لئے خطرہ اور نقصان ہے تو اس سے بچتے ، دور رہتے، اور اس سے ڈراتے ہیں۔اور کبھی کبھار بندہ ایسی سخت پر ہیز اپناتا ہے جس کے لئے وہ شدید مشقت جھیلتا ہے تاکہ وہ لاحق ہونے والی بیماری کو دور کر سکے۔ جسمانی پر ہیز سے اس طرح کے تعامل پر کوئی اعتراض نہیں ، اور نہ ہی اس میں کوئی حرج ہے، بلکہ یہ ان امور کے قبیل سے ہے جنہیں شریعت نے حلال کیا ہے جیسے امراض سے بچاؤ اور علاج کے اسباب کو اختیار کرنا، اور یہ اللہ پر توکل کے منافی نہیں ہے، لیکن جو چیز اپنی طرف متوجہ کرتی، غور و فکر پر ابھارتی اور تعجب کی دعوت دیتی ہے وہ یہ کہ اس طرح کا تعامل اور کوشش اس سے زیادہ مناسب ولا ئق پر ہیز چیز سے بچنے کا جتن نہ کیا جائے، حماد بن زید رحمہ اللہ نے کہا: مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو نقصان کی بنا پر کھانوں سے پر ہیز کرتا ہے وہ عذاب کے خوف سے گناہوں کو کیسے نہیں چھوڑتا”۔
اور عبد اللہ بن شہرمہ رحمہ اللہ نے کہا: مجھے تعجب ہے لوگوں پر جو بیماری کے ڈر سے کھانے سے پر ہیز کرتے ہیں، اور آگ کے ڈر سے گناہوں سے پر ہیز نہیں کرتے”۔ اور ابن القیم رحمہ اللہ نے کہا: (بندے کے لئے سب سے نقصان دہ چیز غفلت برتنا، اپنا محاسبہ نہ کرنا، خود کو بے مہار چھوڑ دینا، معاملات میں سہولت پسندی (طبی) اور انہیں جیسے تیسے چلا دینا ہے، اور اس کا نتیجہ ہلاکت ہے، اور یہی دھوکے میں رہنے والے کا حال ہے کہ : انجام سے اپنی آنکھوں کو بند کر لیتا ہے، حالت کو جیسے تیسے چلا لیتا ہے، معافی پر تکیہ کر کے نفس کے محاسبہ اور انجام پر نظر رکھنے سے غافل ہوتا ہے، جب اس کی یہ حالت ہو تو گناہوں میں پڑنا اس کے لئے آسان ہو جاتا ہے، ان سے مانوس ہو جاتا ہے، اور انہیں چھوڑنا اس کے لئے کٹھن ہو جاتا ہے، اگر وہ ہوش کے ناخن لیتا تو جان جاتا کہ پر ہیز کرنا یکلخت چھوڑنے اور مانوس و معتاد کو ترک کرنے سے آسان ہے۔
برادران اسلام! ہم نے اپنی صحت کی حفاظت کے لیے کھانے میں پر ہیز کو آزمایا، اور ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ پر ہیز علاج سے بہتر ہے، لیکن اے کاش کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت ، اپنی جانوں کو بچانے، اپنے صحائف اعمال کی سلامتی کے لئے گناہوں اور معاصی سے پر ہیز کرتے۔ ہمیں جاننا چاہئے کہ اگر گناہوں کے چھوڑنے کا مقصد صرف یہ ہوتا کہ اس بھیانک وحشت سے بچا جائے جسے گنہگار اپنے دل میں محسوس کرتا ہے ۔ اگر تمہیں گناہوں نے وحشت زدہ کر دیا ہے تو تم انہیں چھوڑ دو اوراُن سے دور ہو جاؤ۔
اللہ کے بندو! گناہ اور معاصی دلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں جس طرح زہر جسموں کے لئے نقصان دہ ہیں، یہ جب بھی قابض ہوں گے آدمی کو ہلاک کر دیں گے ، ان کا حال حساس بیماریوں جیسا ہے ، ضروری ہے کہ ہم ان سے اور ان کے اسباب سے دور رہ کر اپنا بچاؤ کریں۔ اورگناہوں میں جن سے بچنے اور دور رہنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ان میں سر فہرست گناہ ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک اور توحید کے منافی امور۔ اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَىٰ ۚ
الزمر – 17
اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وه خوش خبری کے مستحق ہیں۔
تو ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ یہ بتوں کی عبادت سے بچے، اور شرک میں پڑنے سے دور رہے، اللہ کے ماسوا کسی کی بھی عبادت سے کنارہ کش رہے، اور اسی نے مومن نوجوانوں کو مجبور کیا کہ غار میں پناہ لیں، کیونکہ وہ اپنے دین میں فتنہ کے خوف کے سبب اپنی قوم سے بھاگے، اس میں تاکید ہے کہ حتمی طور پر فطرت کی حفاظت کی جائے، اسے انحراف سے بچایا جائے، احتیاط برتی جائے اور ایسی شرعی تدبیروں کو اختیار کیا جائے جو فاسد عقائد، منحرف افکار، غلط طرز عمل، اور برے اخلاق سے بچاتی ہیں، تاکہ بندہ صراط مستقیم اور سیدھے منہج پر قائم رہے۔
اور وہ دشواری جس سے آج مسلم نوجوان دوچار ہیں اور جو ان کی نفسیات، سماج، اخلاق، روش سے جڑی ان کی شخصیت کو منہدم کرنے کا کام کرتی ہے وہ ہے گھٹیا، فتنہ پرور ، ہمہ جہت گناہ آلو د ویب سائٹس کو دیکھنے کی لت لگنا، جو ان کے مستقبل کو برباد کر سکتی اور ان کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، لیکن ماں، باپ اور مربیوں، سب سے امید ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں ، اور جو امانت ان کے سپرد کی گئی ہے اُسے ادا کریں ، اور اپنے ماتحتوں، اور جن پر انہیں اللہ نے نگہان بنایا ہے ان کے بارے میں اللہ سے ڈریں ، تو ان کی فکر کریں، اور ان کو ان بھیانک خطروں اور قاتل بیماریوں سے بچانے، ان کی حفاظت کرنے اور انہیں دور رکھنے کی مسلسل کوشش کریں، اس طرح کہ ان پر نرمی برتیں اور ان کے لئے کثرت سے دعا کر کریں کہ اللہ انہیں ہدایت دے اور ان کی اصلاح فرمائے، ساتھ ہی پند و نصیحت ورہنمائی کا التزام کریں جو ان کے اندر دینی شعور کو تقویت دے اور ذاتی تحفظ کو مضبوط بنائے، یہاں تک کہ انہیں ادراک ہو جائے اور اس کے اضرار کی یقینی معرفت ہو جائے، تاکہ وہ ہر ایسی چیز سے تعلق ختم کرنے میں جلدی کریں جو انہیں راہ راست سے دور کر دے، اور ہر ایسے راستے کو چھوڑ دیں جو گمراہی اور انحراف تک انہیں پہنچادے۔ اسی طرح ترجیحات میں سر فہرست اور مسلم گھرانے کے لئے سب سے بڑی حفاظتی ذمہ داری اور وسلامتی کا کاز ہے نئی نسل کو ان الحادی افکار سے بچانا جو سوشل میڈیا اور معاصر تکنیکی وسائل و مختلف ویب سائٹس کے ذریعہ سرایت کر چکے ہیں۔
اللہ کے بندو! غلطیوں اور ہلاکت خیز اشیاء سے بچنے کا راستہ یہ کہ اللہ نے جس کی حفاظت کا حکم دیا ہے اس کی حفاظت کی جائے، متفق علیہ حدیث میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا:
مَن يَضْمَن لي ما بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ، أَضْمَنْ لَه الجَنَّة
جو شخص مجھے اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان اور ٹانگوں کے درمیان کی ضمانت دے دے میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ تو گناہ کرنے اور حرام میں پڑنے سے زبان کی حفاظت کی جائے گی، اس کی حفاظت سے بندہ اپنے آپ کو ہلاکت اور خسارہ میں گرنے سے محفوظ رکھے گا، اسی طرح نبی اکرم ﷺنے زبان کی آفت کی سنگینی بیان کرتے ہوئے کہا:
وهل يَكبُّ النَّاسَ فِي النَّارِعلى وجوههم، أوعلى مناخرهم، إِلَّا حصائد ألسنتهم
لوگوں کو(جہنم کی)آگ میں چہروں یا نتھنوں کے بل ان کی زبانوں کی وجہ سے ہی گھسیٹا جائے گا۔
اور شرمگاہ کی بھی اسی طرح حفاظت کی جائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ
المعارج – 29
اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
اسی لئے زنا سے منع کیا گیا، اور اس کے قریب ہونے سے بھی، اس سے قریب ہونا اس کے وسائل وذرائع میں پڑنا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ
الاسراء – 32
اور زنا کے قریب نہ جاؤ۔
یعنی اس کے مقدمات میں سے کسی کو کر کے تھوڑا بھی قریب نہ جاؤ، گرچہ اس کا تصور کر کے ہی کیوں نہ ہو، تو بندے کا حرام سننے اور حرام دیکھنے سے بچنا مقصود ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بانسری کی آواز سنی تو اپنی انگلیوں کو کانوں میں کر لیا، اور راستے سے ہٹ گئے، اور اپنے غلام نافع سے پوچھا: کیا تمہیں سنائی دے رہی ہے؟ انہوں نے کہا : نہیں، تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی انگلیاں کانوں سے ہٹائیں اور کہا: میں نبی ارکرم ﷺ کے ساتھ تھا تو آپ ﷺ نے اسی جیسا سنا، پھر ایسا ہی کیا۔
اور وکیع رحمہ اللہ نے کہا: ہم سفیان ثوری رحمہ اللہ کے ساتھ عید کے دن نکلے تو انہوں نے کہا: آج کے دن سب سے پہلا کام ہم یہ کریں گے کہ اپنی نگاہوں کو پست رکھیں گے۔
میں وہی کہہ رہا ہوں جو آپ نے سنا، اورمیں اپنے لئے اور آپ کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
دوسرا خطبہ :
ہر طرح کی تعریف اللہ کے لئے جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، جو اس سے امید رکھے گا اور اس کی پناہ میں آئے گا وہ نامراد نہ ہو گا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اس اکیلے کے علاوہ کوئی معبود حقیقی نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول، اور چنندہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے آل و اصحاب اور ان سے محبت کرنے والوں پر درود وسلام نازل کرے۔
اما بعد!
اے اللہ کے بندو! اپنے مومن بندوں کے تئیں اللہ کی محبت یہ ہے کہ اسے ہر اس چیز سے بچاتا ہے جو اس کے بدن کو نقصان دے، نیز دنیا کے فتنوں سے اسے محفوظ رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی حدیث میں ہے کہ:
إن الله يحمي عبده المؤمن الدنيا وهو يحبه، كما تحمون مريضكم الطعام والشراب، تخافون عليه
یقینا ًاللہ اپنے مومن بندے کو دنیا سے روکتا ہے حالانکہ وہ اس سے محبت کرتا ہے، جس طرح تم اپنے مریض کو کھانے پینے سے روکتے ہو کہ تمہیں ڈر رہتا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے:
إذا أحب الله عبدا حماه الدنيا كما يظل أحدكم يحمي سقيمه الماء
اللہ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس سے دنیا کو روک لیتا ہے جس طرح تم اپنے مریض کو پانی پانی سے روکے رہتے ہو۔
مسلمانو! ہمارے لئے جس کی حفاظت کی کوشش ہونی چاہیئے وہ ہے ہمارے اعضاء و جوارح، ہمیں گناہوں سے انہیں روکنا ہے، ان کی حفاظت کرنی ہے، اور انہیں بچانا ہے کہ ان برائیوں کو قبول نہ کریں جن سے ان کا سامنا ہو، تا کہ وہ ان سے مانوس نہ ہوں اور ان کے عادی نہ بن جائیں،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ
البقرۃ – 93
اور بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔
اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جو اپنے دل کی حفاظت نہیں کرے گا اور اسے آفتوں سے نہیں بچائے گا جس طرح اپنے بدن کو امراض سے بچاتا ہے وہ گناہوں کا عادی ہو جائے گا یہاں تک کہ وہ انہیں پسند کرنے لگے گا،انہیں چھوڑنا اس کے لئے مشکل ہو جائے گا، تو وہ اسے کج روی، ہلاکت و ندامت میں دھکیل دیں گے، اللہ کی پناہ۔
اور یہ یادہانی مناسب ہے کہ اعمال واقوال کی استقامت خیالات کی نگرانی اور حفاظت سے پیدا ہوتی ہے، اللہ کے بندے، ہر مفید و نافع عمل میں اپنے وقت کو لگا کر دل کو اس کی غذا اور خوراک فراہم کریں، اور اسی میں اسے مشغول رکھیں، پھر یہ ہو گا کہ جو چیز تمہارے عقل پر چھائے گی اورجس میں تم خود کو مشغول رکھو گے وہ اچھے خیالات اور پاکیزہ افکار ہوں گے۔ اسی طرح برے خیالات سے بچو، نہ انہیں اپنے دل میں لاؤ، نہ ان کی طرف توجہ دو، اور نہ ان کے رو میں بہہ جاؤ، کیونکہ دل کی زمین میں یہ شیطان کے بیچ ہیں، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ برے خیالات کو روکنا ارادے اورعزم کو روکنے سے زیادہ آسان ہے، پس تم پر لازم ہے کہ اس طرح کے خیالات کے وقت شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرو، اور اللہ کی طرف متوجہ ہو، اور اس کے ذکر سے اپنی حفاظت کرو، اور شیاطین کے شر سے اس کی پناہ میں آجاؤ، کیونکہ بنی آدم کے لئے اس کا خطرہ اور اذیت بہت سخت ہے، فرمان ربانی ہے :
إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ
الاعراف – 201
لوگ پر ہیز گار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر دیکھنے لگتے ہیں)۔
اور فرمان الہی ہے:
وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ ﴿٩٧﴾ وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحْضُرُونِ
المؤمنون – 97/98
اور کہو کہ اے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
یقینا اس کی حاضری ہلاکت، اور اس کی دوری برکت ہے، کیونکہ یہ شر وفساد سے جدا نہیں ہوتا، تو تم اپنے رب کی پناہ میں آجاؤ کہ شیطان تمہارے کسی بھی معاملے میں تمہارے پاس حاضر ہوں، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے بتلایا ہے :
إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَأْنِهِ، حَتَّى يَحْضُرَهُ عِندَ طَعَامِه
شیطان تم میں سے ہر ایک کی ہر حالت میں اس کے پاس حاضر ہوتا ہے حتی کہ کھانے کے وقت بھی۔
اللہ کے بندو! درود و سلام بھیجو متقین میں سب سے بہتر، اور موحدین و مخلصین کے امام پر جیسا کہ رب العالمین نے حکم دیا اور فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
الاحزاب – 56
الله تعالى اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو)۔
اے اللہ! درود و سلام نازل فرما محمد ﷺ پر ، اور ان کے آل پر، جیسا کہ تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آل ابراہیم علیہ السلام پر بھیجا۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت دے، اور کفر اور کافروں کو ذلیل کر ، دین کے دشمنوں کو برباد کر دے، اور بلادِ حرمین کو اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں سے محفوظ رکھ۔
اے اللہ! اسے اور تمام مسلم ملکوں کو امن واطمنان، ترقی اور وسعت والا بنا۔
اے اللہ! ہم سے مہنگائی، وہا، بیماریاں، سود، زلزلے، آزمائشیں، اور ظاہر وباطن برے فتنے دور کر دے، خاص طور پر اس ملک سے اور تمام مسلم ملکوں سے۔
اسے اللہ!تو مدد فرما ہمارے مظا بھائیوں کی، تیرے راستے میں جہاد کرنے والوں کی، اور حدود کی حفاظت اور بارڈر پر متعین سپاہیوں کی۔
اے اللہ! ان کے لئے تو معاون مدد گار ، حامی و ناصر بن جا۔ وطنوں اور گھروں میں ہمیں امن نصیب کر ، اور ہمارے ائمہ اور ولی امر کی اصلاح فرما، اور ہماری باگ ڈور اسے سونپ جو تجھ سے ڈرنے والا، خوف کھانے والا، اور تیرے خوشنودی پر چلنے والا ہو، اے رب العالمین۔
اے اللہ! ہم تجھ سے تیری رحمت کو واجب کرنے والی چیزوں کا اور تیری بخشش کے یقینی ہونے کا، اور ہر نیکی میں سے حصہ پانے کا اور ہر گناہ سے سلامتی کا، جنت کی کامیابی، اور جہنم سے آزادی کا سوال کرتے ہیں۔
اے اللہ! ہم تجھ سے تیری رحمت کو واجب کرنے والی چیزوں کا اور تیری بخشش کے یقینی ہونے کا، اور ہر نیکی میں سے حصہ پانے کا اور ہر گناہ سے سلامتی کا، جنت کی کامیابی، اور جہنم سے آزادی کا سوال کرتے ہیں۔
اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
اے ہمارے رب! شیطان کی وسوں اور ان کی حاضری سے تیری پناہ چاہتے ہیں. اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، تو ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔
خطبة الجمعة مسجد الحرام: فضیلة الشیخ فیصل الغزاوي حفظه اللہ
27 جمادی الثانی 1444 ھ بمطابق 20 جنوری 2023